وردی،کرسی اور خدائی

(Naseem Ul Haq Zahidi, Lahore)

سلطان راہی ایک فلم میں آدھی رات کو عدالت کی دیوار پھلانگتے ہوئے پکڑا جاتا ہے۔۔وجہ پوچھی تو کہنے لگا انصاف لینا آیا ہوں ،اسے بتایا گیا کہ عدالت تو دن کے وقت لگتی ہے ۔سلطان راہی نے وہاں جو ڈائیلاگ بولا دل کو چھو گیا ’’ظلم تو چوبیس گھنٹے ہوتا ہے اور انصاف صرف دن کو ملتا ہے یہ کہاں کا قانون ہے‘‘ وردی میں بڑی طاقت ہے وہ سرگنگارام ہسپتال کے گیٹ نمبر 2کا سیکورٹی گارڈ پہنے یا پھر پنجاب کی بہترین محافظ فورس ڈولفن کا جوان پہنے یہ اتنی طاقت ور ہے کہ اس کے سامنے عام انسانوں بالخصوص غریبوں کی حیثیت کیڑوں مکوڑوں سے زیادہ نہ ہے ۔غریب سے بڑا کوئی اجڈ،بدتمیز نہیں ہوتا کیونکہ وہ غریب ہوتا ہے چند روز قبل ایک عزیزہ کی تیمارداری کے لیے بمعہ اہل وعیال سرگنگارام ہسپتال (گائنی سیکشن )جانے کا اتفاق ہوا رات کا وقت تھاگیٹ نمبر 3بند ہونے کی صورت میں گیٹ نمبر 2 سے اندر جانے لگا تو سگریٹ کا کش لیتا ہوا جلاد نماسیکورٹی گارڈ ایک دم گیٹ کے سامنے نمودار ہوا اور کہنے لگا کہ اوئے موٹر سائیکل پچھے کر !عرض کی کہ جناب دوسرے لوگ بھی تو اندر جارہے ہیں یہ بات سنتے ہی وہ بدتمیزی پر اتر آیا کہنے لگا میری مرضی جس کو چاہوں اندر جانے دوں جس کو چاہوں نہ جانے دوں اس کو یہ احساس بھی نہیں تھا کہ ساتھ خواتین اور بچے ہیں اتنے میں ایک بزرگ جو کی کسی مریض کے تیماردارتھے میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا ایک پچاس روپے دو۔ میں نے بزرگ سے کوئی بات پوچھے بغیر پچاس روپے دئیے ،بزرگ اسی سیکورٹی گارڈ کو ایک طرف لیکر گئے ایک منٹ سے پہلے واپس پلٹے تو ساتھ سیکورٹی گارڈ نے انتہائی مودبانہ لہجے میں کہا جناب موٹر سائیکل ایتھے گیٹ دے نال لادئیو میں ایندا خیال رکھا دا،بزرگ میرے پاس آئے اور حسرت بھری تکلیف زدہ مسکراہٹ مسکراتے ہوئے کہنے لگے ،بیٹا صرف پچاس روپے کی بات ہے اس کے بعد بلڈوزر بھی اندر لے جاؤ اب احساس ہوا کہ ہسپتالوں سے نومولود بچے کیسے اغواء ہوتے ہیں ۔پچھلے دنوں ٹی وی پر ایک دل سوز خبر دیکھنے کو ملی کہ ڈولفن پویس کا ایک اہلکار فلمی سین کی طرح سبزار میں ایک نیم پاگل کو سرعام گولیاں مار کر مار رہا ہے ۔اوردوسری طرف پولیس کا ایک اعلیٰ افسر میڈیا کی ذریعے عوام کویہ بتا رہا ہے کہ اس نیم پاگل شخص کے ہاتھ میں چاکو تھا اور وہ راہگیروں کو زخمی کر رہا تھا چلو مان لیا کہ وہ راہگیروں کو زخمی کر رہا تھا مگر پولیس ٹریننگ میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انتہائی ناگزیر حالت میں گولی پاؤں پر چلائی جاتی ہے ۔مگر یہ دل آویز نصیحتیں اور وصیتیں لکھنے اور پڑھنے کی حد تو ٹھیک ہیں مگر آج تک ان پر عمل کرنے والا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا یہاں سارے قانون صرف غریبوں ،بے بسوں اور لاچاروں پر لاگو ہوتے ہیں۔آٹھ ربیع الاول کو(اہل تشیع جشن عید شجاع )کے جلوس کے سلسلہ میں دربار سے لیکر سیکرٹریٹ تک سارے راستے بند تھے ہر طرف خار دار تاریں لگی ہوئیں تھیں۔ ایک ضروری کام سے واپس مزنگ کی طرف آرہا تھا کہ سیکرٹریٹ کے بالمقابل والا راستہ جوآئی جی آفس ،جاتاہے کھلا تھا ہاں البتہ پولیس اہلکار موجود تھے ایک بزرگ رکشہ والاجیسے ہی اس طرف جانے کے لیے مڑا تو اس کے رکشے کے ساتھ خاردارتار اٹک گئی بزرگ جیسے ہی رکشے سے نیچے اتر کرخاردار تار ٹھیک کرنے لگا وہاں موجود ایک وردی والے محافظ نے اس کے منہ پر تھپڑرسید کرنے شروع کردئیے دل تو چاہا کہ اس وردی والے سے پوچھوں کہ اس کا قصور یہ ہے کہ یہ غریب ہے بوڑھا ہے بے بس ہے لاچار ہے اور تمہارے پاس کسی کی تذلیل کرنے کا کسی کی عزت نفس مجروح کرنے کا کسی کو سرعام تھپڑ مارنے کا لائسنس ہے ۔اس بوڑھے رکشے والے کہ ہچکیاں نہیں رک رہیں تھیں اس وردی والے کو تو کچھ نہ کہہ سکا مگر بزرگ کے آنسو پونجھنے کے لیے آگے بڑھا تو بزرگ نے یہ کہہ کر پیچھے کردیا ’’واہ نی غریبیے تیرا ککھ رہوے‘‘ای ملک صرف چوراں تے ڈاکوں دا اے۔ یہاں قانون تو صدیوں پہلے اور ہمیشہ کی طرح امیر کے در کی لونڈی ہے ۔یہ ایک غریب کا بیٹا اور دوسر انیم پاگل تھا اس کا مرجانا ہی بہتر تھایہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس ایک وقت کا کھانا میسر نہیں ہوتا جن لوگو ں کے پاس عمربھر ایک چادر ہوتی ہے۔زندہ رہتے ہوئے اوپر اوڑھے رکھتے ہیں اور مرنے پر اسی کا کفن دیدیا جاتا ہے ۔سچ بات تو یہ ہے کہ یہ ملک کبھی بھی غریبوں کا تھا ہی نہیں بلکہ وڈیروں ،سرمایہ داروں،بااثر افراد کی ذاتی جاگیرتھی جاگیر ہے اور جاگیر رہے گی۔جس ملک میں امیروں کے لیے قانون کچھ ہو اور غریبوں کے کچھ ہو وہاں بے بسوں ،لاچاروں کے حقوق کا محافظ کون ہو سکتا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں یہ امراء شہر پہلے غریبوں سے اناج چھینتے ہیں پھر انکے آگے روٹی پھینک کر انکے مسیحا بن جاتے ہیں یہ لوگ معاشرہ کا سب سے بڑا ناسور ہیں ۔آج ایک چپڑاسی سے لیکر ایک مسجد کا مولوی اور پھر اقتدار کی اعلیٰ کرسی تک سب بکتا ہے سب کی بولیاں لگتی ہیں ۔ایک چپڑاسی پانچ سو روپے میں وہ کام کرواسکتا ہے جو ایک پڑھا لکھا عام انسان سوچ بھی نہیں سکتا یہاں چند ٹکوں کے خاطر ملاں کے فتوؤں میں روز شریعت کا کاروبار ہوتا ہے ،یہاں ایک ڈاکو، چور ،زانی ،شرابی کو بچانے کے لیے قانون دان دلیلوں کے انبار لگا دیتے ہیں ۔یہاں ملک چوروں ،غداروں کو ہار ڈالے جاتے ہیں اور قوم کے معماروں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ،یہاں نبیؐ سے عشق کے دعویدار اپنی ذاتی تشہیر کی خاطر سینکڑوں دیگیں چڑھا دیتے ہیں مگر نبیؐ کی سنت پر عمل کرکے ایک غریب ،بیمار ،بھوکے ہمسائے کو ایک وقت کی روٹی نہیں کھلا سکتے ۔جب کہ حد یث مبارکہ ہے ۔حضرت جابر بن عبداﷲ ؓ سے روایت ہے کہ رسول مقبولؐ نے ارشاد فرمایا ’’بھوکے مسلمان کو کھانا کھلانا مغفرت کو واجب کرنے والے اعمال میں سے ہے ‘‘یہاں ایک ایم پی اے ،ایم این اے پارٹی ٹکٹ کے حصول کے لیے کروڑوں روپے دیتا ہے پھر جن غریبوں کے ووٹ سے کامیاب ہوتا ہے ۔ کسی ایک غریب بیٹی کے سر پر چادر نہیں دے سکتا ۔سوچنے والی بات ہے کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کی تعبیر کے لیے قائد اعظم ؒ نے انتھک محنت کی،کئی ماؤں نے اپنے لختائے جگروں کو قربان کردیا ،کئی سہاگنوں نے اپنے سہاگ اس پاک خطے کے حصول پر قربان کر دئیے ،ہزاروں بہنوں ،بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہوئیں تب جاکر یہ پاکستان بنا ۔ہائے افسوس یہ میرا وطن!ہندوؤں، سکھوں،اور فرنگیوں کی قید سے آزاد ہوکر وڈیروں،جاگیرداروں،سرمایہ داروں کے ہاتھ آگیا ۔المیہ یہ ہے یہاں چور کی گواہی چور دیتا ہے ۔وطن عزیز کی جیلوں میں جاکر دیکھیں کہ ستر فیصد لوگ بے گناہ جن کا سب سے بڑا گنا ہ غربت ہے، روٹی کے چور قید ہیں ۔یہاں لوگ انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں کی سیڑھیاں چڑھتے اترتے لقمہ اجل بن جاتے ہیں مگر انصاف نہیں ملتا ۔انصاف میں تاخیر بے انصافی کو جنم دیتی ہے ۔پاکستان میں کئی ایسے خاندان بھی ہیں جو عدالتوں میں گذشتہ ستر سالوں سے پیشیاں بھگت رہے ہیں جبکہ مقدمات کی پیروی کرتے کرتے انکی نسلیں ختم ہوگئیں لیکن تاحال فیصلہ نہیں ہوسکا ۔۔۔۔آخر میں وری اور کرسی والوں سے اتنہا ہی کہنا ہے کہ آپ خدا مت بنا کریں ۔۔۔ایک خدا ہزاروں سالوں سے مصر کے عجائب گھر میں خدا سے سرکشی کی وجہ سے عبرت کا نشان بنا ہوا ہے’’بے شک اﷲ تمام جہانوں کا بادشاہ اور سلطان ہے‘‘

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Naseem Ul Haq Zahidi

Read More Articles by Naseem Ul Haq Zahidi: 95 Articles with 40210 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Nov, 2018 Views: 342

Comments

آپ کی رائے