مسنگ پرسنز؟

(Bilal Shoukat, Lahore)

مسنگ پرسنز کا معاملہ بہت حساس ہے بلکل ننگی تلوار کی طرح, لہذا اس کو اپنے ہاتھ میں لیکر لہرانے سے بھی گریز کرنا چاہیے تاکہ اس کی حقیقت اور اہمیت پر شکوک و شبہات اور سوالات و اعتراضات کا جواز نہ نکلے۔

سیاسی, عصبی اور بیرونی ایجنڈوں کی پرورش کے لیئے بھی مسنگ پرسنز کا معاملہ پروپیگیٹ کرنا اور پروپیگنڈا مشینری کی حمایت میں حد تجاوز کرنا بھی قطعی قانونی, شرعی اور اخلاقی طور پر جائز نہیں۔

مسنگ پرسنز مسنگ پرسنز کی گردان ہی کافی نہیں بلکہ ان کی مجموعہ لسٹ تیار کرواکر مدعی تنظیمیں عدالت عالیہ اور میڈیا کا دروازہ کھٹکھٹائیں لیکن یہ کیونکہ ممکن ہو جب مدعی خود واقف ہیں کہ ان کی لسٹ میں 90% مسنگ پرسنز دراصل خودساختہ ہیں جو اپنے گھناؤنے مقاصد کی تکمیل کی خاطر خود روپوش ہوئے ہیں اور جن کے اہل و عیال اس پر مطمئن ہیں۔

جبکہ 10% پر یہ خود مشکوک ہیں کہ آیا وہ بھی مسنگ پرسنز ہی ہیں یا کسی خفیہ ذاتی مقصد کی خاطر تتربتر ہوئے بیٹھے ہیں پر چلو ہم نہیں ہوتے مشکوک بلکہ ہم یقین کرلیتے ہیں کہ باقی کہ 10% واقعی مسنگ پرسنز ہیں تو ان 10% کے ناموں کی تفصیل کے ساتھ پٹیشن کیوں نہیں دائر کرتے مسنگ پرسنز کے ہمدرد؟

اور اگر واقعی وہ 10% مسنگ پرسنز ہیں تو حکومت سے پہلے, اداروں سے پہلے مدعیان ان افراد کا شجرہ نصب اور کاروبار, پیشہ اور مصروفیات کی تفصیل خود پبلک کردیں جو مصدقہ ہو تو عوام بھی ان مسنگ پرسنز کی مدعی بن سکے ورنہ صرف مسنگ پرسنز کی گردان کرلینے سے کوئی بھی یقین تو دور سننے کی کوشش بھی نہیں کرے گا بے بنیاد الزام اور من گھڑت کہانیاں ہیں یہ۔

میں مسنگ پرسنز مطلب جو واقعی مسنگ پرسنز ہیں کی تلاش بسیار اور ان سے انصاف کا قائل اور حمایتی ہوں پر میں عقل کا اندھا اور بیوقوف نہیں کہ صرف سنی سنائی سن کر ملکی اداروں اور حکومت کے خلاف بولنا لکھنا شروع کردوں۔

مسنگ پرسنز کی گردان منظور پشتین نے بھی بہت کی تھی پر جب اعلی عدلیہ نے لسٹ مانگی کہ آپ ناموں کی لسٹ اور ثبوت دیں تو ہم ان کی تلاش میں انصاف کے تقاضے پورے کریں گے تو منظور پسکین کی ہوائیاں اڑ گئی تھیں اور وہ دن اور آج کا دن, لسٹ دینا تو دور ابھی تک لسٹ تیار بھی نہیں ہوسکی منظور سے, کیونکہ مسنگ پرسنز کا شوشہ ہی وہ واحد شوشہ رہ گیا ہے اب ملک دشمن اور علیحدگی پسند گروہوں کے پاس حکومت پر اور اداروں پر کیچڑ اچھال کر ان کو انڈر پریشر لانے کا اور اپنے سلیپرز سیلز اور ایکٹو عسکری افراد کی طرف سے دیہان ہٹانے کا۔

مسنگ پرسنز دراصل ایک سٹفڈ ایشو ہے, جس میں غبارے کی طرح بس ہوا ہی بھری ہوئی ہے اور یہ غبارہ جتنا بلند ہوگا اتنا ہی محفوظ رہے گا کہ جیسے ہی یہ کسی منصف کی دسترس میں آیا تو بس ایک سوئی اور ہوا گل ہوجانی اس غبارہ نما ایشو میں سے اور پیچھے بس چوں ں ں ں کا شور اور مرجھایا ہوا غبارہ ہی رہ جانا ہے اسی لیئے سب مدعیانِ مسنگ پرسنز بس سڑکوں اور چینلز پر بیٹھ کر پانی میں مدھانی پھیرنے تک محدود ہیں پر اعلی عدلیہ کا رخ بمع لسٹ اور ثبوت کوئی نہیں کرتا۔

اکثر یہی دیکھنے, سننے اور پڑھنے میں آیا باقی واللہ عالم بلصواب۔

نوٹ: میرے موقف سے کسی کا متفق ہونا لازم نہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Bilal Shoukat

Read More Articles by Bilal Shoukat: 7 Articles with 2426 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Nov, 2018 Views: 337

Comments

آپ کی رائے