بدھا کے دیس میں قسط نمبر 6

(Raina Naqi Syed, Riyadh)

رامبودا آبشار

رامبودا آبشار Ramboda Falls
یہ آبشار سری لنکا کی 11ویں اور دنیا کی 729 ویں بڑی آبشار ہے۔اگرچہ یہ بہت اونچی نہیں لیکن اپنے دلفریب نظاروں کی بنا پر سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔گاڑی سے اتر کر کچھ دیر کچے ٹریک میں چلنے کے بعد ایک دم جب اس پر نظر پڑی تو ہم سب کچھ دیر کے لئے مبہوت ہو گئے۔ درختوں اور سبزے سے گھری ہوئی یہ آبشار بلاشبہ خالق کائنات کی بہترین صناعی کی گواہی دے رہی تھی۔یکایک میری نظر آبشار کے آخری سرے پربننے والی قوس و قزح پر پڑی جوسورج کی شعاعوں کے منعکس ہونے کی وجہ سے نظر آ رہی تھی،کیا دل کو چھو لینے والا منظر تھا!!! کافی دیر آبشارکے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم نے چارو ناچار واپسی کا رخ کیا۔اور ایک اورحسین یاد کو اپنے کیمرے اور دل کے نہاں خانوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئےبند کر لیا۔

نوارہ علیا Nuwara Eliya
شام کے قریب ہم نوارہ علیا پہنچ گئے ۔آج Araliya Green Hills میں ہماری بکنگ تھی۔ استقبال کے لئے معمول سے بھی کچھ زیادہ مردانہ و زنانہ باوردی سٹاف موجود تھا۔ شاید اسی کی وجہ یہ ہو کہہم ان کے رائل سوئٹ کے مہمان تھے۔ شیطان نے احساس تفاخر میں مبتلا کرنا چاہا مگرہم فوراً اس احساس کو جھٹک کر عاجزی کے ساتھ اندر داخل ہو گئے۔ چونکہ یہ ایک ٹھنڈی جگہ تھی اس لئے جوسز کی بجائے کافی اور ہاٹ چاکلیٹ سے ہماری تواضع کی گئی ۔ ایک باوردی سمارٹ سی خاتون نے ہم سے ہمارے پاسپورٹ لئے اور دس منٹ میں ضابطے کی تمام کاروائی مکمل کرنے کے بعد ہمیں کمروں تک چھوڑنے کے لئے ہمراہ ہو لی ۔
اپنےشاہی کمروں میں داخل ہوئے تو شام ہو چکی تھی۔ سب آرام کے لئے لیٹ گئے قدرے خنکی کا احساس ہوا تو ہیٹنگ لگا لی۔ بھوک نے اٹھنے پر مجبور کیا تو ڈنر کا ارادہ کیا۔حسب معمول ڈائینگ ہال میں انواع و اقسام کے کھانے ہمارے منتظر تھے۔خوب سیر ہو کر کھایا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ ہلکی پھلکی واک کےلئے باہر لان میں نکلےخوشگوار سی ٹھنڈ ک تھی ۔۔ کچھ دیر کے بعد اندر کا رخ کیا۔کمرے میں آ کر اگلی صبح کی تیاری کی ،سب کے لئے گرم کپڑے اور سویئٹر نکالے جن کو ساتھ لانے کی ہمارے ٹور مینجر نے ریاض میں ہی ہدایت کر دی تھی۔ کچھ ہی دیر میں سب لمبی تان کر سو گئے۔یقین کیجیے سری لنکا کے قیام کے دوران ہر رات اتنی اچھی نیند آئی کبھی زندگی میں نہ آئی تھی۔

اگلی صبح حسب معمول فجر کے بعد سیر کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔یہاں ہوٹل کے ساتھ کسی جنگل یا باغ کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ سارا کا سارا شہر ہی ایک دل کش باغ ہے۔ہوٹل کے آس پاس لمبی واک کی،انگریزوں کے دور کے بنے ہوئےگولف کورس کی سیر کی۔بلاشبہ یہ شہر ہر لحاظ سےمثالی تھا۔ اور اس کے حسنِ بے مثال کی خوب حفاظت بھی کی جا رہی ہے۔ پورے شہر میں کوڑا تو درکنار،اتنے زیادہ درختوں کے ہوتے ہوئے بھی کوئی پتہ تک سڑک پر گرا نظر نہ آیا۔۔

ایک معمر خاتون کو دیکھا کہ وہ راستوں کی صفائی میں مشغول تھیں۔۔ آہ ہ ہ۔۔۔۔کچھ لوگوں کے لئے ضروریاتِ زندگی کا حصول بھی کس قدر مشکل ہوتا ہے ۔ ہیں تلخ بہت بندہِ مزدور کے اوقات۔۔ہمیں دیکھ کروہ مسکرائیں تو مجھے بہت اچھا لگا کہ صبح کی سردی اور اس عمر کی مزدوری نے بھی ان کو بدمزاج نہ ہونے دیا ۔۔۔اِس قوم کے رویّے مجھے حیران در حیران کئے جاتے تھے۔۔۔لاشعوری طور پرمیرے اندر ایک تقابل سا ہونے لگتا کہ ہم کن بد اخلاقیوں اور پستیوں میں گم کردہہیں!!

تکبر، تعصب،حسد،کام چوری و کاہلی، ظاہری و باطنی گندگی،بیہودہ گوئی،ظلم و زیادتی، جھوٹ، قتل و غارت گری ۔۔کون کون سی ضلالت کا شکار نہیں۔۔ہمارے مذہب کی تعلیمات کچھ اور ہیں، جبکہ ہماری منزل اور ہمارا مقصود کچھ اور ہے۔۔دیکھائیں زمانے کو ہم بھی کہیں سے ہیں مسلم لگتے!!!

چلیں، یہ نوحہ پھر کریں گے۔۔ابھی آپ کو نوارہ علیا کی سیر کراتے ہیں۔یہ پہاڑی و سیاحتی شہر چاروں اطراف سے تاحدِ نگاہ چائے کے باغات میں گھرا ہوا ہے اور یہاں کی آبشاریں اس کے حُسن میں مزید اضافہ کردیتی ہیں۔ نوارہ علیا کا مطلب ہے "روشنی کا شہر"۔ کہا جاتا ہے کہ اپریل میں اس شہر کا حُسن جوبن پر ہوتا ہے کیونکہ ہر طرف پھول کھلے ہوتے ہیں اور اپریل میں مختلف ثقافتی تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ ہمیں تو جون میں بھی بے شمار پھولوں کے ساتھ یہ نہایت حسین لگ رہا تھا اب پتہ نہیں اپریل میں اس کے حسن کا کیا عالم ہوتا ہو گا!!
اس شہرکو لِٹل انگلینڈ بھی کہا جاتا ہے اور یہاں پر جگہ جگہ برطانوی سلطنت کے آثار دیکھے جاسکتے ہیں کیونکہ اس شہر کی خوبصورتی اور موسم کو دیکھتے ہوئے سری لنکا پر اپنے دور حکومت کے دوران انگریزوں نے یہاں اپنی رہائش گاہیں بنائیں اور یہ عمارات اب بھی اُسی شان و شکوہ کے ساتھ محفوظ ہیں۔ انگریزاس شہر میں سیر و تفریح، ہاتھیوں،ہرن اور دوسرے جانوروں کے شکار اور پولو، گولف یا کرکٹ کھیلنے کے لئے ٹھہرتے تھے۔

اردگرد کے دلکش اور دل کو چھوتے ہوئےمناظر نے صبح کی سیر کا لطف دوبالا کردیا۔ نہایت پرسکون اور صاف ستھرا یہ شہر،اپنے حسین نظاروں کی بنا پر پاکستان کے ناردن علاقوں سے کافی مشابہت رکھتا ہے۔

لیکن ٹھہرئیے!! جو صفائی اور سیاحوں کے لئے سہولیات میں نے یہاں دیکھیں ،ان کی تو دور دور تک پاکستان کے کسی سیاحتی مقام سے کوئی نسبت نظر نہیں آتی۔ یہ بتاتی چلوں میں ہرگز ان لوگوں میں سے نہیں جو بات بات پر اپنے وطن کا تقابل دوسرے ممالک سے کر کے اس میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں۔ بلاشبہ ہمارے ہاں نوارہ علیا سے کہیں زیادہ قدرتی نظاروں سے مالامال علاقے موجود ہیں مگر بدقسمتی سے صفائی کا فقدان،کھانے پینے کی unhygienic اشیاء(کسی مقام پر چلے جائیں سب سے پہلے آپ کا پیٹ خراب ہو جائے گا اور باقی دن آپ سیر کرنے کی بجائے ٹائلٹ کے چکر ہی لگاتے رہیں گے یا واپسی کی راہ پکڑیں گے)، بد حال سڑکیں(اور کئی جگہ پر تو سڑک نام کی چیز موجود ہی نہیں) اور سیاحوں کے لئے ناکافی سہولیات نے ان مقامات کے قدرتی حسن کو ماند کر دیا ہےاور حالات بہتر ہونےکی بجائے بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔۔

پندرہ سال پہلے جب سوات اور ناران وغیرہ جانا ہوا تو سڑکوں اور صفائی کے حالات گذشتہ سال کی نسبت سے بہتر تھےجب میرا دوبارہ وہاں جانا ہوا۔ خاص طور پر شوگراں میں گھنے جنگل کے ساتھ گھاس کے وسیع میدان کا بالکل سامنے برف پوش پہاڑوں کا نظارہ ایک حسین یاد کی مانند ذہن کے نہاں خانوں میں تازہ تھا۔مگرگذشتہ سال کے ٹرپ میں شوگراں کا جو حال دیکھا،زمین آسمان کا فرق پیدا ہو چکا تھا۔جنگل کی جگہ بے ڈھب اور بے ھنگم قسم کی دکانیں اور ہوٹلز اُ گ چکے تھے، جا بجا کیچڑ اور گندگی کے ڈھیرنمایاں تھے۔ دنیا بھر کے ممالک اپنے جنگلات کی حفاظت کرتے ہیں مگر ہمارے ہاں نجانے کس طرح ان کابے دردی سے صفایا کر دیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ۔۔

شوگراں ہی کی مانند ناران اور کالام کے بازار میں کوڑا کرکٹ اور بہتے ہوئے گندے پانی کی وجہ سے چلنا دوبھر تھا،کالام کےدریا اور قریبی جنگل میں ٹنوں کوڑا کرکٹ پڑا ہوا تھا،سیف الملوک تک پہنچنے والا راستہ ایک بد ترین ٹریک بن چکا تھا۔جیپ کے سفر کےدو گھنٹے کے مسلسل دھکوں کے بعد جب میں وہاں پہنچی تو وہاں پھیلی ہوئی گھوڑوں کی لید کی بو اور جھیل کےکنارے پر کوڑےکے انبار دیکھ کر طبیعت اس قدر مکدر ہوئی کہ فوراً واپسی کا ارادہ کیا۔

اس سب صورت حال کا ذمہ دار حکومت اور عوام دونوں ہیں۔ناران کے ایک دکاندار سے میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ اپنی دکانوں کے باہر فاصلے فاصلے پر کوڑا پھینکنے کے لئے ڈرم وغیرہ رکھ دیں تو صفائی کی صورت حال بہت بہتر کی جا سکتی ہے۔ آگے سے کمال بے نیازی سے جواب دیا گیا کہ آج خاکروب نہیں آیا اس لئے صفائی نہیں ہوئی۔

اپنے حصے کی ذمہ داری کو پس پشت ڈال کرحکومت اور دوسرے لوگوں کو مورد الزام ٹہرانا ہمارا قومی شعار بن چکا ہے۔ کاش ہمیں ہم میں وہ سوک سینس پیدا ہو جائے، جس کی تلقین ہمیں ہمارا مذہب بھی کرتا ہےجس میں ڈسپلن جزو اول اور صفائی نصف ایمان ہے۔ مگر ہم اپنی بے روح عبادتوں سے جنت کا ٹکٹ پکا کرنے میں اس قدر مصروف رہتے ہیں کہ دین کی اصل روح پر کبھی غور ہی نہیں کرتے۔۔۔۔۔بلاشبہ " ا ن الله لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا بانفسهم"

خیر ہم تو اس وقت نوارہ کی بات کر رہے تھے، وطن کی محبت میں جذباتی ہو کر میں کہیں اور نکل گئی۔۔۔اس شہرکی دنیا بھر میں مقبولیت کی ایک اور بڑی وجہ نوارہ علیا سے ایلا شہر تک جانے والی ٹرین ہے۔ جنوبی پہاڑوں کے بادلوں، چائے کے باغات اور سرنگوں کے اندر سے گزرتی ہوئی ٹرین کے اِس سفر کو دنیا کا خوبصورت ترین ریلوے سفر بھی قرار دیا جاتا ہے۔ مگر اپنے ٹور پیکج کی وجہ سے ہمیں ٹرین میں سفر کر نے کاموقع نہ مل سکا۔کافی دیر تک شہر میں گھوم پھر کرحسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہوٹل واپس ہوئے اور ناشتے کے بعد پھر باہر نکل گئےکیونکہ ہم یہاں کی تازہ ہوا اور سرسبز مناظر سے جی بھر کر لطف اٹھانا چاہتے تھےمگر کیا ہے کہ جی تو بھرا نہیں مگر واپسی کالمحہ آن پہنچا۔

نوارہ علیاخوبصورت آبشاروں اور قدرتی جھیلوں کا خطہ ہے۔ بلکہ ایک جھیل کے بارے میں معلوم ہوا کہ اتنی دلکش ہے کہ اس کا نام ہی "جنت الدنیا" یعنی دنیا کی جنت رکھا گیا ہے۔ ہم وقت کی کمی کے سبب نوراہ علیا کے بہت سے حسین مقامات دیکھنے سے محروم رہ گئے۔آپ بھی اگر میری طرح فطرتی مناظر کے دلدادہ ہیں تو نوارہ علیا میں دو یا تین دن رک کر اس شہر کو ضرور ایکسپلور کریں۔۔

گاڑی میں بیٹھ کر سفر شروع ہوا۔ شہر کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوتےہوئے ایک موڑ کاٹنے کے بعد ایکدم "وہ" سامنے آئی تو دل دھک سےرہ گیا ۔۔میں اس کے حسنِ لازوال کو دیکھ کر مبہوت ہو گئی۔۔ وہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ دعوتِ نظارہ دی رہی تھی ۔۔اس کےکرشماتی حسن کاکوئی ثانی نہ تھا۔۔بلاشبہ وہ قدرت کی صناعی کا شاہکار تھی۔۔

جی وہ"گریگری جھیلLake Gregory " تھی جس کی مسحور کن خوبصورتی نےہمیں ششدر کر دیا۔۔۔چاروں اطراف وسیع سبزہ زار ،درختوں اور پہاڑوں کے بیچوں بیچ صبح کی دھوپ میں اس کا چمکدار نیلگوں مکھڑا۔۔یقین کیجیے آنکھیں چندھیا گئیں۔۔۔۔الفاظ اس کی دلکشی کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔انتہائی صاف ستھرا سبزہ زار اور صبح کی کرنوں میں دُھلی ہوئی جھیل، جس میں سفید بطخوں کی شکل کی بنی کشتیاں،رنگ برنگے پیرہنوں میں یہاں وہاں بکھرے سیاح۔۔۔ گر فردوس برروئے زمیں است ،ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است۔۔۔ امیر خسرو نے اگرچہ یہ شہرہ آفاق شعر اس جگہ کی مدحت میں نہ کہا تھا مگر میرے ذہن میں ضرورگونجنے لگا۔

دل نے کہا یہاں زندگی نہ سہی کم از کم صبح سے شام تو کر دیں !! لیکن ڈرائیور نے یاد دلایا کہ ہماری آج سہ پہر کی رافٹنگ کے لئے بکنگ ہے اس لئے رکنا محال ہے۔۔دل پر ایک پتھر رکھ کر آگے روانہ ہوئی مگراس ارادے کے ساتھ کہ اگر زندگی نے مہلت دی تو دوبارہ ضرور آؤں گی اور فرصت سے جھیل سے خوب رازو نیاز کروں گی۔۔۔
جاری ہے۔ ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raina Naqi Syed

Read More Articles by Raina Naqi Syed: 8 Articles with 5743 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Nov, 2018 Views: 690

Comments

آپ کی رائے