قادیان براستہ کرتار پور

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)
قادیان ( مشرقی پنجاب ) جہاں سے امت مسلمہ کے سینےمیں جھوٹی نبوت کا خنجر گھونپا گیا ، وہ کرتار پور سے محض ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے اور قادیانیوں کا یہ کہنا ہے کہ اب وہ سالانہ جلسے میں شرکت کے لیے یہی راستہ اپنائیں گے ۔

پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے باہمی رضا مندی سے سکھوں کے مذہبی مقام ڈیرہ بابا صاحب واقع کرتار پور( جو کہ پاکستان کی حدود میں آتا ہے) کو کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس حوالے سے 27 نومبر کو بھارت میں اس راہدری کے افتتاح کی تقریب منعقد کی گئی جب کہ 28 نومبر کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب نےایک تقریب میں ا س کوریڈور کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ 2019 میں یہ راہدری فعال ہوجائے گی ۔

کرتار پور میں واقع ڈیرہ بابا صاحب کی ایک تاریخی حیثیت ہے اور یہ سکھوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ سب سے پہلی بات کہ یہ سکھوں کا سب سے پہلا گورداورہ ہے ۔اس کی دوسری تاریخی اور سکھوں کے لحاظ سے مذہبی اہمیت یہ ہے کہ سکھ مت کے بانی جناب بابا گرو نانک صاحب نے اپنی زندگی کے 12 اور بعض روایات کے مطابق 18 سال یہاں گزارے، یہاں انہوں نے سخت ریاضتیں اور تزکیہ نفس کیا اور سکھ مت کی تبلیغ کی، یہیں ان کا انتقال ہوا اور اسی گوردوارہ میں ان کا مزار ہے۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ مقام سکھوں کے لیےوہی حیثیت رکھتا ہے جو مسلمانوں کے لیے مدینہ کی ہے۔

کسی بھی مذہب یا فرقے کے افراد کو ان کی مذہبی رسومات اور مذہبی مقامات سے روکنا جائز نہیں ہے۔ اس کوریڈور کے فعال نہ ہونے کے باعث بھارت سے آنے والے سکھ زائرین پہلے واہگہ کے راستے لاہور آتے تھے، اس کے بعد وہ ایک طویل سفر کرکے نارووال اور وہاں سے کرتار پور جاتے تھے، اس میں ان کا اچھا خاصہ وقت اور سرمایہ لگ جاتا تھا۔ اب اس کوریڈور کے کھولنے کے بعد سکھ زائرین محض چند گھنٹے کے سفر کے بعد براہ راست ڈیرہ بابا صاحب تک پہنچ سکیں گے، علاوہ ازیں پاکستان اور بھارت کی حکومتیں باہمی رضامندی سے یہ بھی طے کررہے ہیں کہ اس راہدری کے ذیعے زائرین کو ویزہ فری داخلہ دیا جائے یعنی زائرین کو یہاں آنے کے لیے پیشگی ویزہ لینے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ یہاں ضروری کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد پروانہ راہدری حاصل کرسکیں گے۔اس لحاظ سے سرحد کے دونوں جانب بسنے والے سکھ برادری کے افراد کے لیے اس کوریڈور کا کھلنا خوش آئند ہے۔

یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ جب کہ تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔وہ رخ قادیانیوں سے متعلق ہے۔ بظاہر تو اس کوریڈور کو سکھوں کے لیے کھولا گیا ہے لیکن قرائین سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ اس ساری تگ و دو کا مقصد قادیانیوں کو خوش کرنا ہے اور ان کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس کوریڈور کے کھلنے سے سکھوں سے کہیں زیادہ قادیانی افراد کو خوشی ہے۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کوریڈور کے کھلنے سے ان کو بھی قادیان تک رسائی آسانی سے حاصل ہوجائے گی کیوں کہ قادیان ( مشرقی پنجاب ) جہاں سے امت مسلمہ کے سینےمیں جھوٹی نبوت کا خنجر گھونپا گیا ، وہ کرتار پور سے محض ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے اور بعض ایسی خبریں بھی سننے میں آئی ہیں کہ قادیانیوں کا یہ کہنا ہے کہ اب وہ سالانہ جلسے میں شرکت کے لیے یہی راستہ اپنائیں گے ۔

اگر ہم عمران خان صاحب کی اقتصادی کونسل میں قادیانی مبلغ عاطف میاں کی بحیثیت مشیر تعیناتی ، قادیانیوں سے یکجہتی کے لیے لمس یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کو ربوہ لے جانا، نوجوت سنگھ سدھو کی قادنیوں کے جلسے میں شرکت اور وہاں کی گئی تقریر اورنوجوت سنگھ سدھو کی اگست میں پاکستان آمد سے لے کر کوریڈور کے افتتاح تک ساری باتوں کا بغور جائزہ لیں تو بہت سی باتیں سامنے آتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ عمران خان صاحب کی حکومت ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت قادیانیت ، لبرل ازم ، سیکولر ازم کو فروغ دینے اور دینی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔آسیہ مسیح کی سپریم کورٹ سے ایک سنوائی کے بعد ہی رہائی اور اس کو نام تاحال ای سی ایل میں نا ڈالنا اور علامہ خادم رضوی اور تحریک لبیک پاکستان کے خلاف کریک ڈائون ، پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی خاتون رکن اسمبلی کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی قرارداد پیش کرنااسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

نوجوت سنگھ سدھو کو ذاتی حیثیت میں بلایا جاتا ہے، ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ ، وزارت یا ذمے داری نہیں ہے اور نہ وہ بھارتی حکومت کی نمائندگی کرنے تقریب حلف برداری میں آئے تھے، بلکہ وہ عمران خان صاحب کے ذاتی دوست کی حیثیت سے اس تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ اب ایسے بندے کو یہ پیشکش کرنا یا کہنا کہ ہم کرتار پور بارڈر( جوکہ ایک بین الاقوامی بارڈر ہے) کھولنا چاہتے ہیں لیکن آپ کی حکومت نہیں مان رہی۔ کیا یہ بات کرنا درست تھا؟؟ اگر ہمارے یہاں سے کوئی فرد ذاتی حیثیت میں کسی تقریب میں جاتا اور اس سے ایسی بات کی جاتی تو ہمارا کیا رد عمل ہوتا؟ زیادہ دور نہ جایئے ابھی کچھ دن پہلے ہی شاہد آفریدی نے کشمیر کے حوالے سے ایک متنازع بیان دیا تو ساری قوم نے اس کی تکلیف کو محسوس کیا تھا۔

پھر تقریب حلف برادری بھارت واپسی پرسدھو کےر سارے بیانات اور پریس کانفرنس چیک کریں، ان سے جب بھی پوچھا گیا کہ پاکستانی آرمی چیف سے گلے کیوں ملے تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجھے کرتار پور بارڈر کھولنے کی پیشکش کی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک کی کسی سرحد کو کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ حکومت کرتی ہے فوج نہیں،اگر کوئی ملک کوئی کسی پڑوسی ملک کے ساتھ اپنا کوئی بارڈر کھولنا چاہے تو اس کی پیش کش بھی حکومت کرتی ہے اور یہ کام وزارت خارجہ کے توسط سے ہوتا ہے۔ تو پھر آرمی چیف نے سدھو کو یہ آفر کیوں کی؟ اصولی طور پر یہ کام وزیر اعظم صاحب یا شاہ محمود قریشی صاحب کو کرنا چاہیے تھا۔

اس کے بعد یہ بھی خیال رہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میںملوث رہا ہے، وہ ہمیشہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور یہ کام وہ بہت عرصے سے کررہا ہے، سقوطإ ڈھاکہ میں بھی بھارت کا ہاتھ تھا، اس سے بھی قبل بھی اگرتلہ سازش کیس سامنے آچکا تھا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد یہ بھی واضح ہوا کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان میں دہشت گردی کی واداتوں بالخصوص پاکستان بحریہ کے جوانوں اور ان کے اڈوں پر حملوں کا ماسٹر مائنڈ کلبھوشن ہی تھا۔ حال ہی میں چینی سفارتخانے پر ہونے والے دہشت گردی کے حملےمیں بھی بھارت کا ہاتھ تھا۔تو کیا بھارت اس کاریڈور کے کھلنے اور ویزہ فری ہونے سے فائدہ نہیں اٹھائے گا؟؟ کیا وہ اپنے جاسوسوں کو اس راستے سے پاکستان میں داخل نہیں کرے گا؟

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے خلیفہ مرزا طاہر انگریزوں کے وفادار، ہندوئوں کے حامی اور تقسیم ہند ، قیام پاکستان کے مخالف رہے ہیں، تقسیم کے فارموے ابتدائی فارمولے میں موجودہ مشرقی پنجاب کا ضلع گورداس پور مسلمان آبادی کی اکثریت کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہونا تھا، اس ضلع کی اہمیت یہ ہے کہ بھارت کے پاس کشمیر جانے کے لیے یہ واحد زمینی راستہ تھا۔ قادیانیوں کی پوری کوشش ہے کہ ان کی اپنی ایک ریاست ہو،اس لیے مرزا طاہر اورسر ظفر علی خان نے حکومت برطانیہ کو یہ باور کرایا کہ ہمیں مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے بلکہ اس ضلع میں تو احمدی ( قادیانیوں) کی اکثریت ہے ، ان کا خیال تھا کہ اس طرح ان کو بھی ایک الگ ریاست مل سکے گی ، ان کو ریاست تو نہ مل سی لیکن ان کی اس بات کو بنیاد بنا کر آخری وقت میں گورداس پور کو پاکستان میں شامل نہیں کیا گیا اور اس طرح انڈیا کو کشمیر تک زمینی راستے تک رسائی دی گئی۔ تقسیم ہند کے وقت مرزا طاہر نے قادیانی ریاست کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کو خصوصی طورپر اپنا ہدف بھی قرار دیا تھا، لیکن اللہ نے ان کو اس ارادے میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ او ر موجودہ حکومت کی قادیانیت نوازی کو سامنے رکھتے ہوئے بجا طور پر یہ کہا جاسکتا کہ کرتار پور کاریڈور کو کھولنے کا مقصد سکھ برادری کو ان کے مقدس مقام تک رسائی دینا نہیں بلکہ اس کی آڑ میں قادیانیوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ اوپر بیان کی گئی ہندوستان اور قادیانیوں کی اس تاریخ کوسامنے رکھتے ہوئے سنجیدہ حلقے بجا طور پر اس کوریڈور کے کھلنے پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس بارڈو کو کھولا ضرور جائے لیکن ویز ا فری قرار نہ دیا جائے اور ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ یہ کاریڈور صرف سکھ زائرین کے لیے ہی ہو اور اب زائرین کی نقل و حرکت بھی صرف بابا گورو نانک صاحب کے ڈیرے تک ہی محدود ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Ullah Shaikh

Read More Articles by Saleem Ullah Shaikh: 525 Articles with 1072471 views »
سادہ انسان ، سادہ سوچ، سادہ مشن
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More
30 Nov, 2018 Views: 1569

Comments

آپ کی رائے