تین ماہ اور دس دن کی کارکردگی

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات سے قبل تین ماہ اور دس دن کا پلان عوام کے سامنے رکھ ا تھا جس کو اُس وقت مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ خورشید شاہ نے اس کو پری پول دھاندلی قرار دیا تھا جب کہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان نیٹو کے اس کمانڈر کی طرح ہیں جو نو ایکشن ٹاک اونلی یعنی عمل نہیں باتیں کرتا ہے جب ان کا سو دن کا پلان دیکھا تو ہنسی آئی کیوں کہ نقل کے لئے بھی عقل چاہیے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے وقت جب سابق وزیراعلیٰ صوبہ خیبر پختون خوا پرویز خٹک سے پوچھا گیا کہ عمران خان نے خیبر پختون خوا میں تین سو ساٹھ ڈیموں کی تعمیر کا پلان بنایا تھااور یہ بھی کہا تھا کہ جس سے نہ صرف لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ بجلی کی اضافی پیداوار دیگر صوبوں کو بھی برآمد کی جائے گی تو پرویز خٹک نے اس کے جواب میں کہا کہ خان صاحب کو ٹیکنیکل باتوں کا علم نہ تھا۔اس پر پروگرام کا اینکر پرسن کافی دیر تک اُن سے یہ بات منواتا رہا کہ وہ خود اپنی زبان سے یہ اقرار کرے کہ وہ محض سیاسی بیان تھا۔ خیر اس قسم کے پلان ہوں یا بیان ہوں ، ان تمام کا مقصد عوام سے ووٹ بٹورنا ہوتا ہے۔ ماضی میں بعض جماعتیں روٹی کپڑا اور مکان اور بعض لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات کے بیانات و اعلانات سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچیں۔ بے چارے عوام دل فریب بیانات و اعلانات کے جھانسوں میں آجاتے ہیں اور اپنا قیمتی ووٹ دکھائے جانے والے سبز باغات کی نذر کرلیتے ہیں۔ ان تمام باتوں کا مدعا صرف یہ ہے کہ پلان اور سیاسی بیان میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔پلان کا اعلان کرتے وقت زمینی حقائق و وسائل کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور ٹائم فریم اس کا اہم جز ہوتا ہے جب کہ سیاسی بیان کسی بھی وقت داغا جاسکتا ہے اور اُس سے اسی طرح انکار بھی ممکن ہوتاہے۔

پچیس جولائی کے انتخابات میں جب پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی تو ان کو ابتدائی دنوں میں حکومت بنانے میں مشکلات کا سامنا درپیش ہوا۔ خیبر پختون خوا کے علاوہ وفاق اور صوبہ پنجاب میں انہوں نے بڑی تگ و دو سے حکومتیں بنائیں۔ چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں سے ایک ایک نشست کے لئے اتحاد کیا۔ اس کے بعد مخالف جماعتیں متحرک ہو گئیں اور ایسے سیاسی رہنما بھی سرگرم رہے جو انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئے۔ ابتدائی ایام میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان اتحاد کی فضا بنتی اور ٹوٹتی رہی ۔ مولانا فضل الرحمن کی آل پارٹیز کانفرنس سے اُمیدیں بھی بر نہ آئیں۔ جب تمام حزب اختلاف کی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر صدارتی انتخاب تک متحد نہ ہو سکیں تو انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے سو دن کے پلان کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع کر دیا۔ بالآخر عمران کی حکومت کے تین ماہ اور دس دن پورے ہوگئے جن کا سرسری جائزہ ملاحظہ ہو ۔ اس عرصے میں ایسے بیانات اور اعلانات سامنے آئے جو کہ نہ صرف متنازع رہے بلکہ اُن پر حکومت کو اپنا مؤقف تبدیل کرنا پڑا، یعنی یو ٹرن لینا پڑا۔ جب یوٹرن کو ماضی کی طرح آڑے ہاتھوں لیا گیا تو وزیراعظم عمران خان کو یہاں تک کہنا پڑا کہ حالات کے مطابق یوٹرن نہ لینے والا کبھی کامیاب لیڈر نہیں ہوتا ہے۔

اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالنے سے قبل عمران خان کی جانب سے ماضی کی حکومتوں کو عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور کنٹینر پر جوش میں آکر یہاں تک کہہ ڈالا تھا کہ ٓائی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر وہ خودکشی کرنے کو ترجیح دیں گے۔ بے شک حکومت کرنا پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب کانٹوں بھرا تاج پاکستان تحریک انصاف نے سر پر رکھا تو عوام کو بدحال معیشت سے متعلق بتایا جانے لگا حالاں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں وہ بار ہا یہ دعویٰ کرتے چلے آرہے تھے کہ اُن کے پاس معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا پلان موجود ہے۔ تین ماہ اور دس دن گزرجانے کے باوجود ایسا کوئی پلان ابھی تک نظر نہیں آیا البتہ اس کے برعکس ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ، یعنی 142 روپے تک پہنچ گئی۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق ڈالرکا ایک سو چالیس روپے سے اوپر ہوجانا دراصل ائی ایم ایف کی شرائط میں سے ایک ہے۔ بقول غالبؔ۔
کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالب ؔ
شرم مگر تم کو نہیں آتی

پس حکومت ابتداء میں آئی ایم ایف کے پاس کھلم کھلا جانے سے گریز کرتی رہی اور عوام کا دھیان بٹانے کی غرض سے وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں اور بھینسوں کی نیلامی کا ڈرامہ رچایا گیا لیکن چند کروڑ روپوں سے مسئلہ حل نہ ہوا اور حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اس پر حزب اختلاف اور عوام نے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم عمران خان کو اپنے کئے گئے وعدے یاد دلائے۔ یہی وجہ تھی کہ عمران خان کو کہنا پڑا کہ قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کا بار انہیں ورثے میں ملا ہے اور اگر فوری قرض نہ لیا جاتا تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا۔

سی پیک کے حوالے سے جب حکومت کا یہ مؤقف سامنے آیا کہ وہ دوبارہ چین سے معاملات طے کرنا چاہتی ہے اور منصوبوں کا از سر نو جائزہ لے گی تو اس معاملے نے ایک متناز ع شکل اختیار کرلی۔ شاید اسی وجہ سے پاکستان میں تعینات چینی سفیر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اور چند دن بعد آرمی چیف دورہ چین پر بھی گئے۔ جب کہ یکم نومبر سے وزیر اعظم نے چین کا پانچ روزہ دورہ کیا۔ اس قبل وزیراعظم نے اپنا پہلا سورہ سعودی عرب کیا اور وہاں سے واپسی پر اعلان کیا کہ سعودی عرب اَب سی پیک میں تیسرا شراکت دار ہے۔ حکومت کی جانب سے اس اعلان کو پارلیمان میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ اس شراکت داری سے چین کو آگاہ کیا گیا ہے یا نہیں ؟ تاہم حکومت کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھااور نہ ہی چین کی جانب سے پذیرائی کا کوئی عندیہ دیا گیا۔ اسی ضمن میں سعودی وفد نے گودار کا دورہ کیا لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ البتہ حکومت کی جانب سے ایک نیا مؤقف سامنے آیا کہ سعودی عرب سی پیک کا حصہ نہیں ہوگاجب کہ وہ مخصوص منصوبوں میں سرمایہ کر سکتا ہے۔

تین ماہ اور دس دنوں میں احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی کا رُکن بنایا گیا جس کو مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ توہین رسالت کے کیس میں آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف ملک بھر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تو وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں احتجاج کرنے والوں کو سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ ’’ وہ ریاست سے نہ ٹکرائیں اور ریاست کو مجبور نہ کریں کہ وہ ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے‘‘۔ لیکن بعد میں اپنے اس سخت مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ ڈی پی او پاکپتن اور آئی جی اسلام آباد کے تبادلوں پر عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹس لیے تو حکومتی ذمہ داران نے اپنے قائد کی طرح معافی نامے یوٹرن کی صورت میں جمع کروائے۔ عمران خان نے چھ ماہ تک غیر ملکی دورے نہ کرنے پر نہ صرف یوٹرن لیا بلکہ سرکاری جہاز کا استعمال کرکے ایک مزید یوٹرن لیا ، شاید اس کی وجہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا وہ بیان ہو ، جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے سفر پر خرچ پچاس سے پچپن روپے فی کلو میٹر آتا ہے۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں قارئین خود فیصلہ کریں کہ تین ماہ اور دس دن میں عمران خان حکومت کی کارکردگی کیا رہی ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 124248 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Dec, 2018 Views: 1235

Comments

آپ کی رائے
Great Suggestions for Govt.
By: Hameed, Karachi on Dec, 06 2018
Reply Reply
0 Like
Thank You.
By: Shoukat Ullah, Bannu on Dec, 07 2018
0 Like