تعلیم کے ساتھ ساتھ سیر و تفریح

(Tariq moeen, Karachi)
تعلیم کے ساتھ ساتھ سیر و تفریح بھی ضروری ہے

کچھ نہیں کرسکتے تو باہر نکلو، دنیا کو دیکھو ،اس سے سیکھو، کائنات کی بناوٹ پر غور کرو۔ سیرو سیاحت کیلئے گاڑی نہ ہو تو پیدل نکل پڑو۔ کتنی ہی ایسی مثالیں ہیں کہ کسی نے ہزاروںمیل کاسفر اکیلے طے کرلیا ۔ کسی نے دنیا کا گرم ترین صحرا پیدل عبور کرلیا، کوئی ہمالیہ کی چوٹی سر کربیٹھا۔ سیاحت نہ ہوتی تو انسان کبھی نہ جان پاتا کہ کاغان میں جھیل سیف الملوک اپنے روح پرور مناظر صدیوں سے بکھیر رہی ہے،، اگر سیاحت نہ ہوتی تو کوئی نہیں جان پاتا کہ سطح سمندر سے 8000 ہزار میٹرز کی بلندی پر ہمالیہ، ہندوکش، کے ٹو اور راکا پوشی کے پہاڑ صدیوں سے برف کی چاندی سے ڈھکے ہوئے ہیں اور صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے دیگر ممالک کی بھی ایسی مثالیں ہیں اگر سیاحت نہ ہوتی تو شاید زمین پر انسان تو ہوتے مگر کوئی بھی کسی تک رسائی حاصل نہ کر پاتا۔

حتیٰ کہ آج کی دنیا کی سپر پاور امریکہ بھی ایک سیاح نے دوران سیاحت دریافت کیا۔ آج انسان جو اتنا علم رکھتا ہے ساری دنیا کے چپے چپے کو چھان مارا ہے اس میں سیاحت کا بڑا ہاتھ ہے، اور وہ جو علم کے حصول میںسیر وسیاحت کرتے ہیں ، وہ واقعی مسائل کی بہت سی چوٹیا ں سر کرلیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سال میں ایک بار سیاحت کے لیے نکلنا دل و دماغ پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ اسی لیے بہت سے تعلیمی ادارے اپنے طلبہ کو سیروسیاحت کیلئے دور دراز مقامات پر لے جاتے ہیں۔ جہاںنئی جگہ کی سیر، اس کو دیکھنا، اور وہاں جانے سے قبل خوش اور پرجوش ہونا، یہ سب طلباکی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی بہت سے فوائد ہیں جیسے کہ
دماغ ہو جا تا ہے فریش
بہت ساری ریسرچز سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اگر کوئی شدید ذہنی دباؤ کا شکار شخص کسی جگہ کی سیر کے لیے نکلے تو اس کے ذہنی تنائو میں 80 فیصد سے زائد کمی آجاتی ہے۔ نئی جگہوں کو دیکھنا، اور نئے لوگوں سے ملنا ڈپریشن میں کمی لاتاہے ۔

صحت اچھی رہتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ سیاحت کے لیے نکلتے ہیں ان کے دل کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے اور وہ مارے خوشی کے زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ اس طرح بہت سے امراض سے اس کا پیچھا چھوٹ جاتا ہے۔

ذہنی کارکردگی میں اض
سیاحت دل کے ساتھ ساتھ دماغی کارکردگی میں بھی اضافہ کرتی ہے اور آپ کا دماغ پہلے کے مقابلے میں فعال اور چیزوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔آپ اپنے اسائنمنٹس زیادہ دلچسپ بنا سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے تھیسس وغیرہ میں سفر کے دوران ہونے والے تجربات کا ذکر بھی کر سکتے ہیں۔

کچھ بےخوفی بھی ہونی چاہئے
مختلف جگہوں کی سیر اور نئے تجربات کرکے آپ کے خوف میں کمی آتی ہے۔ آپ دنیا کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیر و تفریح کے دوران آپ جتنے زیادہ نئے تجربات کرتے ہیں اور مختلف چیلنجز کو قبول کرتے ہیں، اتنا ہی آپ نڈر ہوتے چلے جاتے ہیںاور آپ زندگی کے دیگر مسائل کا بھی بے خوفی سے سامنا کرتے ہیں۔

تخلیقی صلاحیت میں اضافہ
پڑھائی کرکرکے اور کتابی کیڑا بننے کے باوجود آپ کی تخلیقی صلاحیتوںمیںاضافہ نہیں ہورہا تو آپ کو سیروسیاحت کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ سیاحت آپ کی تخلیقی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ آپ شاعر ہوں، ادیب ہوں، مصور ہوں یا فوٹوگرافر ہوں یا کوئی اور تخلیقی کام کرتے ہوں، قدرتی مناظر کی سیاحت آپ کے ذہن کے نئے دریچے وا کرتی ہے اور آپ کی تخلیقی صلاحیت بہتر ہوتی جاتی ہے، جس کا اثر آپ کے اکیڈمک کیریئر پر بھی پڑتاہے۔

مشکلات کا سامنا
اگر آپ کسی اجنبی جگہ پر جا رہے ہیں، خاص طور پر اپنی ثقافت اور روایات سے بالکل مختلف کسی نئے ملک میں، تو یہ سیاحت آپ کے اندر مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور آپ مختلف مسائل اور مشکل حالات کا منطقی حل نکالنے کے قابل ہوں گے۔

دوستی میں بہتری
اگر آپ اپنے ہم جماعت یا اسکول گروپ کے ساتھ سفر کر رہے ہیں تو اس سے اور وہ پہلے سے موجود محبت اور خلوص میں اضافہ ہوگا اور تمام افراد پہلے کے مقابلے میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہوجائیں گے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔

تجربات سے فائدہ اٹھانا
نت نئے لوگوں سے ملنا، ان کی کہانیاں سننا، ان کے رہن سہن کا مشاہد ہ کرنا اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھانے سے آپ کی ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتاہے۔ دنیا سمجھنے کا موقع ملتاہے۔ اگر آپ ان کی لینگویج سمجھیںیا نہیں ، لیکن باڈی لینگویج سمجھ میں آتی ہے۔

نت نئے مقامات سے آگاہی
جب بھی سیروسیاحت کا نام آتا ہے تو عام طور پر لوگوں کے ذہن میں سرسبز پہاڑوں، برف پوش چوٹیوں اور ٹھنڈے موسم کا تصور ابھرتا ہے۔ ایسا ہر جگہ نہیں بلکہ ہمارے ہاں ایسا تصور پایا جاتا ہے کہ سیاحت تو صرف ”پربت کی اور“ ہوتی ہے۔ جبکہ سیاحت تو سیاحت ہوتی ہے۔ یہ ہر طرف ہوتی ہے۔ یہ دیکھنے والے کی نظر میں ہوتی ہے۔اس لیے ملک سے باہر نہیںجاسکتے ہو ں لاہور، ملتان، بہاولپور، چولستان، رحیم یارخان یا سکھر کی سیر کر آئیں۔

کلچر سے آگاہی
نت نئے مقامات کے سفر کا مطلب ہے نت نئے لوگوںسے ملاقات، ان کے رسوم ورواج سے آگاہی اور مزے مزے کے کھانے۔ آپ جب سفر سے لوٹیں گے تو آپ کے پاس بہت سارا مواد ، تصویریں اور سیلفیز ہوں گی جو آپ سب سے شیئر کریں گےاور اپنے تازہ دم دماغ سے ایک نئے جذبے کے ساتھ اپنی تعلیم شروع کریںگے ، آپ دیکھیںگے کہ آپ کے اندر مثبت تبدیلی آچکی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq moeen

Read More Articles by Tariq moeen: 2 Articles with 2738 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Dec, 2018 Views: 791

Comments

آپ کی رائے