مسلمانوں کےباہمی حقوق:۶ جنازے کے پیچھے چلنا

(Abdul Bari Shafiq, )

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ ؓ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: ’’حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ :قِيلَ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ‘‘۔ ( صحیح مسلم:کتاب السلام، باب مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ رَدُّ السَّلاَمِ.ح:۵۷۷۸)
ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا :’’ایک مسلمان کادوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں ،پوچھا گیا اے اللہ کے رسول ﷺوہ کون سے حقوق ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’جب تم کسی مسلمان سے ملو تو اس کو سلام کرو، جب وہ تم کو دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرو،جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو اچھی نصیحت کرو،جب وہ چھینک کے بعد ا لحمدللہ کہے تو اس کی چھینک کا جواب میں ’’یرحمک اللہ‘‘ کہواور جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرواور جب وہ فوت ہوجائے تو اس کی نماز جنازہ میں شریک ہو۔

تشریح : مذکورہ حدیث مبارکہ کا آخری ٹکڑایہ ہے کہ ’’ جب ہمارے مسلمان بھائی ؍بہن میں سے کسی کی وفات ہوجائے تو اس کی نماز جنازہ میں شریک ہونا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پربنیادی حق ہے ۔

لوگوں پر اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھنا فرض ِ کفایہ ہے ۔اگر کچھ لوگ نماز جنازہ پڑھ لیں تو سب کے ذمہ سے فرضیت ساقط ہوجائے گی، بصورت دیگر پورا معاشرہ وسماج ،پورا گائوں وبستی ،پوراقریۃ وشہر کے افراد گنہ گارہوں گے ۔

نماز جنازہ میں شرکت کے بے شمار فضائل وفوائدہیں،کچھ تو اپنے اور کچھ میت کے حق میں ۔ اگر کوئی مسلمان کسی کی نماز جنازہ میں شریک ہوتاہے تو اسے ایک قیراط اور اگر تدفین میں بھی شریک ہوتا ہے تو اسے دو قیراط ثواب سے نوازا جاتاہےاور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابرہوتاہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ : ’’ مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا وَيَفْرُغَ مِنْ دَفْنِهَا ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ مِنَ الأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ‘‘( بخاری :۴۷)
اسی طرح میت کے حق میں بندہ دعائیں، سفارش اور ا س کی مغفرت کے لیے اپنے پروردگار سے گریہ وزاری کرتاہےنیز تمام مردو وخواتین ،مومنین ومصلحین (زندہ ومردہ )کے حق میں دعائیں کرتاہے :جیساکہ نبی ﷺ نے یہ دعاسکھلائی ہے کہ :﴿اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا ، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا ، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا ، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإِسْلاَمِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الإِيمَانِ ، اللَّهُمَّ لاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلاَ تُضِلَّنَا بَعْدَهُ﴾ (صحيح ابن ماجه:1498)جنازہ میں شرکت کے فوائد کے متعلق اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی کے جنازہ میں سو آدمی شریک ہوں اور وہ میت کے حق میں سفارش کریں توان کی سفارش قبول کی جاتی ہے ۔ : ’’ما من ميِّتٍ تُصلِّي عليه أمَّةٌ من المسلمين يبلغون مائةً . كلُّهم يشفعون له ، إلَّا شُفِّعوا فيه‘‘(صحيح مسلم:947)ایک دوسری حدیث میں ہے کہ’’ اگر چالیس ایسے افراد جو اللہ کے ساتھ اس کی الوہیت وربوبیت میں کسی کو شریک نہ کرتے ہوں جب وہ کسی کے جنازہ میں شریک ہوتے ہیں اور اس میت کے حق میں اپنے رب سے دعائیں کرتے ہیں تو ان کی سفارش ضرور قبول کی جاتی ہے ‘‘۔(صحيح مسلم:948)اور ایک روایت میں ہے کہ’’ اگر کسی میت کی خیروبھلائی پر دو شخص بھی گواہی دے تو وہ اللہ کی رحمت سے جنت کا مستحق ہوگا ‘‘۔(صحيح البخاري:1368)

اس لیےہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے باہمی حقوق کو سمجھتے ہوئے اس کے ادائیگی کی حتی المقدور کوشش کرنی چاہئے ،میت کےاہل خانہ کے غم میں شریک ہوکر ان کی تعزیت کرنا چاہئے ۔ اسی طرح میت کے پیچھے چلنا اور جنازہ وتدفین میں شریک ہوکر خود بھی کارخیر سے مالا مال ہونا چاہئے، میت کے حق میں بھی دعائے خیر کرنا چاہئے ۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ہمیں رسول اللہ ﷺ نے سات چیزوں کا حکم فرمایا: ’’ جنازے کے پیچھے چلنے کا، مریض کی عیادت کرنے کا، دعوت قبول کرنے کا، مظلوم کی مدد کرنے کا، قسم پوری کرنے کا، سلام کا جواب دینے کا اور چھینکنے والے کے جواب میں ’’یرحمک اللہ‘‘ کہنے کا۔‘‘اسی طرح جنازے میں شرکت کرنے اور کندھا دینے والے افراد کو چاہئے کہ سنت نبویہ کی اتباع وپیروی کرتے ہوئے جلدی اور تیز قدموں سے چلیں ۔نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایاکہ : " أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابك ‘‘ جنازہ لے کر جلدی چلو، کیونکہ اگر وہ جنازہ نیک (آدمی کا) ہے تو (اس کے لئے) بھلائی ہے لہٰذا اسے نیکی و بھلائی کی طرف (جلد) پہنچا دو اور اگر وہ ایسا نہیں ہے تو اسے (جلد سے جلد) اپنی گردنوں سے اتار کر رکھ دو‘‘ ۔ (بخاری ومسلم)

تجہیزوتکفین کی ادائیگی کے بعد مسلمان مرد جنازہ کو تابوت میں رکھ کر قبرستان لے جائے ۔ویسے مرد کو کفن میں لپیٹنے کے بعد تابوت پر رکھ کربغیر چادر سے ڈھکے بھی قبرستان لے جا سکتے ہیں اور چادر سے ڈھک کر لے جانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے البتہ عورت کے حق میں بہتر ہے کہ تابوت پر پردہ ڈال کر لے جایا جائے کیونکہ وہ ستر کی چیز ہے ۔جنازہ عورت کا ہو تو اسے اجنبی مرد بھی کندھا دے سکتا ہے البتہ عورت جنازہ کو کندھا نہیں دے گی اور نہ ہی جنازہ کے پیچھے چلے گی۔ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ نُهِينَا عَنْ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا(صحیح البخاری: 1278)ترجمہ: ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں ( عورتوں کو ) جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا مگر تاکید سے منع نہیں ہوا۔

مرد حضرات خواہ پیدل ہوں یا سوار بہتر ہے کہ وہ جنازے کے پیچھے چلیں کیونکہ جنازہ کی اتباع یعنی پیچھے چلنے کا حکم ہے ، بخاری کے الفاظ ہیں ۔ إِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ(صحیح البخاری: 5651)ترجمہ: جب وہ بیمار ہو جا ئے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جا ئے تو اس کے پیچھے (جنازے میں) جاؤ۔تاہم پیدل کے لئے جنازہ کے آگے چلنا بھی جائز ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : الرَّاكِبُ يسيرُ خلفَ الجَنازةِ ، والماشي يَمشي خلفَها ، وأمامَها ، وعن يمينِها ، وعن يسارِها قريبًا مِنها (صحيح أبي داود:3180)ترجمہ: سوار آدمی جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل لوگ اس کے پیچھے ، آگے ، دائیں اور بائیں اس کے قریب قریب چلیں۔جنازہ کے ساتھ چلتے ہوئے خاموشی اختیار کی جائے ، بعض لوگ کلمہ شہادت اور بلند آواز سے ذکر کرتے ہیں جوکہ دین میں نئی ایجاد ہے ۔ صحابہ کرام جنازہ کے پیچھے آواز بلند کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۔كان أصحابُ النَّبيِّﷺيكرهونَ رفعَ الصَّوتِ عند الجنائزِ .(أحكام الجنائزللالبانی : 92)ترجمہ: نبی ﷺ کے اصحاب جنازہ کے پیچھے آواز بلند کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۔ شیخ البانی نے کہا کہ اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔اسی طرح جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونا مستحب ہے اور جب جنازہ قبرستان میں رکھ دیا جائے تو بیٹھا جائے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : إذا رأيتمُ الجنازةَ فقوموا ، فمن تَبِعَهَا فلا يقعدْ حتى تُوضعَ .(صحيح البخاري:1310)ترجمہ: جب تم لوگ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جو شخص جنازہ کے ساتھ چل رہا ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے۔

اسی طرح کتاب وسنت کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ میت کو غسل دینا ،اچھے سے اچھا لباس پہنانا،اس کے پیچھے چلنا ،اس کی نما ز جنازہ میں شرکت کرنا ،اس کے نقائص وعیوب پر پردہ پوشی کرتے ہوئے بھلائیوں کا تذکرہ کرنا ، اس کے حق میں دعائے خیر کرنا اور تدفین وغیرہ میں شامل ہونا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر بنیادی حق ہےجب کہ اگر یہ فریضہ کچھ لوگ اداکردیں تو میت کا واجبی فریضہ ادا ہوجائے گا اور جنازہ وتدفین میں شریک افراد دوقیراط ثواب سے مالا مال ہوجائیں گے بصورت دیگر ثواب کے علاوہ پورا معاشرہ وسماج گنہگار ہوگا ۔

لہذا کتاب وسنت کی روشنی میں ہمیں اپنے میت کے ساتھ عزت واحترام کا معاملہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ حسن سلو ک اور اس کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے مذکورہ تمام فریضے کی بحسن وخوبی انجام دہی کرتے ہوئے دو قیراط ثواب سے مالامال ہونے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔

اللہ ہمیں اپنےمیت کے ساتھ حسن سلو ک کرنے ان کے جنازہ وتدفین میں کثرت سے شریک ہونے کی توفیق دے اور اپنے تمام فوت شدہ اخوان واحباب نیزاعزہ واقارب ،اساتذہ وطلبہ اور تمام مومنین مردوخواتین کے حق میں دعائے خیر کرنے کی تو فیق بخشے ۔آمین !

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Bari Shafiq

Read More Articles by Abdul Bari Shafiq: 114 Articles with 68513 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Dec, 2018 Views: 454

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ