کانگریس کی واپسی

(Ghulam Ullah Kyani, Islamabad)

 بھارت کی پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج میں مودی کی لہر بکھر جانے اور کانگریس کی واپسی نے سب کو حیران کر دیا ہے۔اسمبلی انتخابات(ودھان سبھا)کو سیمی فائنل سمجھا جا رہا ہے۔ چھتیس گڑھ میں کانگریس نے 90میں سے 68نشستیں لے کر بی جے پی کو 15تک محدود کر دیا۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس نے 230میں سے 114پر قبضہ کر لیا۔ بی جے پی نے 109حاسل کیں۔ میزورم میں 40میں سے بی جے پی کو صرف ایک سیٹ ملی۔ تلنگانہ میں بھی بی جے پی کو 119میں سے بھی صرف ایک سیٹ مل سکی۔ راجھستان میں بی جے پی کو 200میں سے 73پر کامیابی ملی۔ مگر یہ کانگریس کی 99کے مقابلے میں کم ہیں۔

اس سیمی فائنل میں کانگریس اور اس کی اتحادیوں کی کامیابی نے فائنل کیلئے نئی پیشن گوئیاں شروع کی ہیں۔ کیوں کہ عام انتخابات چند ماہ بعد ہونے والے ہیں۔ اپریل یا مئی 2019کو متوقع انتخابات میں بی جے پی کا سورج کیسے غروب ہو گا، اس بارے میں تجزئے ہو رہے ہیں۔ مودی اور امیت شاہ کے گٹھ جوڑ نے گزشتہ کئی برسوں سے ہندو انتہا پسند ی کو عروج بخشا۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی زوال پذیر ہونے والی ہے۔ اس کے پتے نظر آ چکے ہیں۔ اس کے پاس عوامی فلاح کا کوئی پتہ نہیں بچا۔ اس کے نعرے مذہبی منافرت اور شر پسندی کے ہیں۔ بی جے پی عوام میں بے نقاب ہو چکی ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ نفرت اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے سہارے زندہ رہنے والی پارٹی اب انجام کو پہنچنے والی ہے۔ راجھستان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ بی جے پی کے گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ اب یہ تینوں اس کے ہاتھ سے نکل گئے۔ ان تینو ریاستوں کے سیاسی اثرات پڑوس میں گجرات، مہاراشٹر، جھارکھنڈ، اتر پردیش، ہریانہ، ہی نہیں بلکہ بہار، اتر کھنڈ، ہماچل پردیش، اور مغربی ریاستوں آسام، ارونا چل پردیش، منی پور اور تری پورہ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ کانگریس صرف تین ریاستوں شمال میں پنجاب، جنوب میں کرناٹک اور مغرب میں میزورم تک ہی محدود ہو گئی یھی۔ ان میں ہی اس کی حکومت قائم ہو سکی تھی۔ مگر اب اس کی ساکھ میں بہتری کا تاثر پھیل چکا ہے۔ را ہول گاندھی منظر پر آ رہے ہیں۔ ان کی اپوزیشن سے لوگ قدرے متفق ہو رہے ہیں۔ تین ریاستٰ ہاتھ سے نکنے کے بعد بھی بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی 19ریاستوں پر حکومت قائم ہے۔ مگر پانچ اسمبلی انتخابات کو فلم کا ٹریلر سمجھا جاا رہا ہے۔ شاید عوام جان چکے ہیں کہ بی جے پی کے پاس انہیں دینے کے لئے کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں۔ یہی کانگریس کی واپسی کی وجہ بن رہی ہے۔ اس سے پہلے کانگریس میزورم اور کرناٹک میں بھی کامیابی حاصل کر چکی ہے۔

مدھیہ پردیش، راجھستان اور چھتیس گڑھ میں کون وزیراعلیٰ ہو گا۔ اس بارے میں راہول گاندھی ہی فیصلے کریں گے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ پارٹی کی شکست پر غور کر رہے ہیں۔ جن تین بڑی ریاستوں کو کانگریس نے بی جے پی سے چھین لیا، ان کی کل 65لوک سبھا یا پرلیمنٹ کی نشستیں ہیں جن میں سے 2014کے انتخابات میں بی جے پی نے 62پر کامیابی حاسل کی۔ پارٹی کی فکر مندی میں ان سیٹوں کے ہاتھ سے نکل جانے کا خدشہ بڑھ گیا ہو گا۔ مگر اس بار سونیا گاندھی کی سرپرستی میں راہول گاندھی نے دھواں دھار انتخابی مہم چلائی۔ ان کے مقابلے میں مودی اور امیت شاہ ریاستی مشینری کے ساتھ میدان میں تھے۔ مگر عوام نے انہیں قبول نہ کیا۔ اس سے پہلے بی جے پی نے کانگریس مکت بھارت مہم شروع کی تھی اور ملک سے کانگریس کا صٖایا کرنے کا اعلان کیا۔۔اس کی یہ مہم کامیاب رہی۔ اس کے جواب میں کانگریس نے سواش بھارت ابھییان مہم شروع کر دی ہے کہ ملک کو بی جے پی سے صاف کیا جائے۔ بدترین شکست کے باوجود نریندر مودی نے پاکستان کے ساتھ تناؤ کو جاری رکھا ہوا ہے۔ 13دسمبر 2001کو بھارتی پارلیمنٹ پر نام نہاد حملہ ہو اتھا۔ اس کے اب 17سال ہو گئے ہیں۔ اس حملے کی آڑ میں بھارت نے پاکستان پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی اور ایسا ماحول بنا لیا تھا۔ کیوں کے اس وقت کی فضا ایسی تھی جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ طالب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ ملک میں تباہی مچا دی۔ بھارت بھی اسی طرح پاکستان کے خلاف کارروائی چاہتا تھا۔ مگر حالات اس کی خواہش کے مطابق نہ بن سکے۔ بھارتی حکمرانوں کو ہمیشہ اس کا ارمان رہا اور وہ ہاتھ ملتے رہ گئے۔ اس بار بھی مودی نے پارلیمنٹ پر حملے کے دن کو پاکستان دشمنی کے لئے بروئے کار لایا۔ جب کہ حقائق سامنے آ چکے ہیں کہ یہ حملہ دنیا کو افغان طرز پر پاکستانپر حملہ کرانے کے لئے تیار کرنا تھا۔ مگر بھارت اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔ جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے وہ بھی پاکستان اور مسلمانوں کے بارے میں مکاری سے کام لیتی ہے۔ وہ کھل کر ہندو انتہا پسندی کے بجائے منہ میں رام رام اور بغل میں چھری والا کھیل کھیلتی ہے۔ بابری مسجد کی شہادت اور مسلمانوں کی غرب، تنازعہ کشمیر کا حل نہ ہونا اس کی چند مثالی ہیں۔ تا ہم بھارتی سیاست کے اتار چرھاؤ مین پاکستان کے لئے کئی سبق ہیں۔ پاکستان بھارت کی الجاھؤ ڈپلومیسی کا شکار ہوئے بغیر دنیا کو اپنے موقف کے قریب لانے کی کوشش تیز کرے تو زیادہ بہتر ہو سکتا ہے کیوں کہ بھارتی جھانے میں آ کر پاکستان نے ہمیشہ نقصان ہی اٹھایا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 589 Articles with 231188 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
15 Dec, 2018 Views: 390

Comments

آپ کی رائے