یہ نوحے کب بند ہوں گے؟

(Sami Ullah Malik, )

ان دنوں یکطرفہ اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کے ترانے بجائے جارہے ہیں۔سکھوں کی دیرینہ ومقدس خواہشات کی تکمیل میں کرتارپورسرحد کھولنے کاجشن منایاجارہاہے اور کہیں سینہ پھلاکرزلمے خلیل زادکے توسط سے قصر سفیدکے مغرورفرعون کے خط کاتذکرہ کرکے اپنی سیاسی بصیرت اور پالیسیوں کی کامیابیوں کاتذکرہ ہورہاہے اور قوم کے سامنے یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ پاکستان اب امریکاکی جنگ کبھی بھی نہیں لڑے گا لیکن احکام کی فوری تعمیل کیلئے شاہ محمودقریشی کے دورۂ کابل یاتراکی خبریں منظرعام پرآرہی ہیں لیکن کسی کویہ خبر نہیں کہ پچھلے چندمہینوں سے مقبوضہ کشمیر میں قیامت صغریٰ اورظلمتوں کے المناک نوحے کب بندہوں گے۔دنیامیں سب سے بڑی جمہوریت کاجھوٹادعویٰ کرنے والے مودی نے چھ ماہ پہلے راتوں رات مقبوضہ کشمیرمیں حالات کوسدھارنے کے بہانے گورنرراج نافذکردیااورگزشتہ چاردہائیوں میں آٹھویں مرتبہ یہ گورنرراج جیساشرمناک عمل دہرایاگیاہے اور اب ہرآئے دن بھارتی درندوں کی اندھادھند فائرنگ سے سینکڑوںمعصوم اوربیگناہ بچے،عورتیں ،بوڑھے اور نوجوان شہیدکر دیئے گئے ہیں لیکن یوں معلوم ہوتاہے کہ میرے رب نے عیش و نشاط میں ڈوبے پتھردل مسلمانوں اوربالعموم عالم اسلام کے سربراہوں سے احتجاج کی توفیق ہی سلب کرلی ہے۔

ادھردوسری طرف ہندوکو ہندو ہونے پر فخر ہے،سکھ اپنے سکھ ہونے پر ناز کرتا ہے،یہود کو اپنی یہودیت پرگھمنڈ ہے اور اب عیسائی اپنی عیسائیت مسلمانوں پر غالب کرنے کی فکر میں ہیں اور ایسے میں ہم مسلمان اپنی قوتِ ایمانی چھوڑ رہے ہیں اور ادیانِ عالم میں اپنی بے بسی کا رونا رو رہے ہیں۔ شائد اس دنیا میں ہم ایسی کم مائیگی کا شکار ہیں جس کی اجازت نہ ہمیں دین اسلام دیتا ہے اورنہ ہی ملی غیرت ۔ سبب اس کا یہ ہے کہ ہماری عقل و دانش ''امریکی و افرنگی'' ہے اور ہمارامیڈیاشب وروزلبرل اورسیکولر تعلیمات کی تبلیغ کررہاہے ۔ ہندو مت کے مطابق اپنے روزو شب گزاررہے ہیں۔چند پراگندہ ذہن کے لوگوں نے ہم ہندی روایات میں ڈوبے ہوں کوباقاعدہ ''زنار'' پہنا دی ہے۔ان کے قلم کے منہ میں اللہ اللہ ہے اوردل میں رام رام کاراگ بسا ہوا ہے۔ان کے اس نام نہاد حسنِ اخلاق نے ہماری بیباکی دباکررکھ دی ہے،حق سے گریزاور''ظلمتوں''سے محبت ہمارا و طیرہ ہو گیا ہے اور ہم اپنا تشخص ہی نہیں اپنا ثبات بھی کھوچکے ہیں لیکن ان تمام حرکات کے باوجودہم پاکستان کو''ریاست مدینہ''بنانے کادعویٰ بھی کررہے ہیں اوراس کیلئے''یوٹرن''کوبھی اپنی سیاسی بصیرت اورپاکستان کی ترقی وکامیابی سے تعبیرکررہے ہیں لیکن پتہ نہیں کشمیرکوفراموش کرکے کب تک اپنے ضمیرکی کسک کودباسکیں گے؟

ادھرمقبوضہ کشمیرمیں بھارتی قابض درندہ صفت فوج نے کشمیری خونِ مسلم کی ارزانی کے عمل میں مزیدشدت پیداکردی ہے۔گزشتہ دنوں میں مقبوضہ وادی کے ضلع شوپیاں میں سرچ آپریشن کے بہانے چادراورچاردیواری کی حرمت کوپامال کرتے ہوئے بھارتی فوجی گھروں میں گھس گئے اور مقابلے کاڈرامہ رچاتے ہوئے چارکشمیری نوجوانوں کوبیدردی سے گولیوں کی بوچھاڑسے شہید کردیا۔اسلام آبادڈسٹرکٹ میں تحریک حریت جموں وکشمیرکے سنیئررہنماء میرحفیظ اللہ کوبھی انہی بھارتی فوجی قابض درندوں نے گھرمیں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کرکے شہیدکردیاتھا۔ شہیدرہنماء گزشتہ ماہ ہی جیل سے رہاہوئے تھے۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیروادی میں نام نہاد پنچائت کادوسرامرحلہ بھی ایک عجیب تماشہ کامنظر پیش کرکے اپنے انجام کوپہنچ چکاہے۔اس موقع پرمشترکہ حریت قیادت کی اپیل پرانتخابی حلقوں میں مکمل ہڑتال کے نتیجے میں انتخاب کاایک اور بھارتی ڈھونگ پوری طرح بے نقاب ہوچکاہے۔انتہائی سرکاری دباؤ کے باوجودووٹرکی عدم دلچسپی نے سارابھونڈہ پھوڑدیاکہ امیدوارصرف اپنے ہی ووٹ سے کامیاب ٹھہرے ۔
بھارتی احوال سے واقف اندرکے بھیدیوں نے بھارتی سفاکیت اورمسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے دستاویزی ثبوت پیش کئے ہیں۔کتاب و سنت کی اشاعت کے عالمی ادارے دارالسلام میں ریسرچ اسکالرکی ذمہ داریاں نبھانے والے محسن فارانی نے ان دستاویزی ثبوتوں کے ایک جائزے میں لکھاہے:بیگناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے سفاک ہندوؤں کی کہانیاں یوں تو عالمی میڈیا کے غیرجانبدارادارے منظرعام پرلاتے رہتے ہیں مگران کے اندرسے جوحقائق سامنے آتے ہیں ،ان کی معصومیت بلاشبہ سب سے بڑھ کرہے۔سرینگرپولیس ہیڈکوارٹرمیں لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے شعبے کے سربراہ محمدمقبول شیخ کانٹرویوایک بھارت کے ایک ہندی اخبارمیں شائع ہواجس میں مقبول شیخ نے بتایا کہ 1989ء میں تحریک آزادیٔ کشمیرکے آغازکے بعدسے اس کے شعبے میں بارہ ہزارسے زائدلاشیں موصول ہوئیں جن میں بھاری اکثریت کشمیری مسلمانوں کی تھی۔ان کا پوسٹ مارٹم ان کی نگرانی میں ہوا،مقبول شیخ کے بقول روزمرہ کے اس معمول نے اسے بڑی حد تک ایک بے حس انسانی جسم میں تبدیل کردیا اور اس کے اندرلطیف انسانی جذبات ختم ہوگئے ہیں اوراب اسے معمولی نیندکیلئے بھی ادویات کاسہارالیناپڑتاہے اوراب وہ ملازمت چھوڑنے کا خواہش مند ہے مگراپنے بچوں کی پرورش کیلئے کوئی دوسراذریعہ نہ ہونے کی بناء پرمجبوراًیہ کام کررہا ہے۔وہ لہورستی لاشیں دیکھ دیکھ کرتنگ آچکاہے اوردعاگو ہے کہ دنیاکے اس بدقسمت خطے میں پائیداربنیادوں پرامن قائم ہوجائے۔

مقبول شیخ نے اپنے انٹرویومیں کہا: میں اب کوئی کام خوشی سے نہیں کرسکتاکیونکہ پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ جسم کوبارباراندرسے کھولناپڑتاہے۔ تحریک آزادیٔ کشمیرکے آغازسے قبل خود کشی یاقتل کے اکادکاواقعات میں مرنے والوں کی لاشوں کاپوسٹ مارٹم کرناہوتاتھامگرپچھلے چند برسوں سے توروزانہ درجنوں انسانی لاشیں لائی جاتی ہیںاوراکثراوقات تو پورے پورے فوجی ٹرک بھرکرلاشیں اسپتال میں لائی جاتی ہیں جبکہ مرنے والوں کی اکثریت کمسن کشمیری بچوں اور نوجوانوں کی ہوتی ہیں اوراکثراوقات مرنے والے ایک ہی خاندان کے ہوتے ہیں۔ مقبول شیخ نے دلگیرہو کربتایا:میں اپنی زندگی سے اتنابیزارہوچکاہوں کہ بعض اوقات خون سے بھرے ہاتھوں کے ساتھ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کھانے میں شریک ہو جاتاہوں اورجب میرے بچے یاددلاتے ہیں کہ آپ نے ہاتھ دھوئے ہیں نہ خون آلودکپڑے تبدیل کئے ہیں تب میں اس طرف توجہ دیتاہوں،اس سے آپ میری ذہنی کیفیت کااندازہ لگاسکتے ہیں۔میرے بچے مجھ سے خوفزدہ ہیں اورمیں اپنے بیوی بچوں سے نگاہیں ملاتاہواگھبراتاہوں ۔

13/اکتوبر2018ء کوانڈیانیشنل سینٹردہلی میں سابق نائب صدرحامدانصاری کی زیرصدارت بھارتی فوج کے سابق وائس چیف آف سٹاف جنرل ضمیرالدین شاہ کی کتاب ''سرکاری مسلمان''کی رونمائی ہوئی۔انہوں نے بھارتی ریاست گجرات کے مسلم کش فسادات (فروری مارچ2002ء) کے بارے میں چشم کشاانکشافات کئے ہیں۔اس گھناؤنے المیے میں اس وقت کاوزیراعلیٰ اورآج کاوزیراعظم نریندر مودی پوری طرح ملوث تھا۔ ضمیرالدین شاہ اپنی کتاب میں تحریرکیاہے:''20فروری2002ء کومیں تین ہزارفوجی لیکرجودھ پورسے احمدآبادایئرفیلڈ پہنچ گیاتھالیکن وزیر اعلیٰ مودی نے ہمیں تین دن تک ایئرفیلڈسے باہرآنے اورفوج تعینات کرنے کی اجازت نہیں دی ،ان تین دنوں میں بھارتی غنڈوں نے پولیس کی سرپرستی میں کھلی چھٹی پاکرپورے گجرات میں مسلمانوں کے خون وآگ کی ہولی کھیلی اورہزارون مسلمان بچوں عورتوں ،مردوں اوربوڑھے ضعیف افرادکوانتہائی بیدردی سے شہیدکردیا،سینکروں مسلمان زندہ جلاکرشہیدکردیئے گئے، ہزاروں مسلمان خواتین اوربچیوں کی عصمت دری کی گئی''۔

مودی جیسے درندے کی خباثت دیکھئے کہ جنرل ضمیرالدین شاہ کے تین ہزارفوجیوں کے ساتھ احمدآبادپہنچنے اوروزیردفاع جارج فرننڈس کی موجودگی میں فسادیوں کوگولی مارنے کاحکم دیااورگاڑیاں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن تین دن بعداس یقین دہانی کوعملی شکل دی جب ''خونی ہندو درندے فسادی'' مسلمانوں کی جانی ومالی اورعزت وآبروکابے بہانقصان پہنچا چکے تھے۔ضمیرالدین شاہ نے اپنی کتاب میں لکھاہے:''اس یقین دہانی کے ذریعے مجھے بیوقوف بنایا گیا جس سے مسلمانوں کے بارے میں انتہاء پسندہندوؤں کی ذہنیت کااندازہ لگایاجاسکتاہے، اگرفوج کوبروقت کرداراداکرنےدیاجاتاتوفسادپر قابوپایاجاسکتاتھا''۔ہندوافسروں کی مسلمان ساتھیوں کے بارے میں چالبازی''بغل میں چھری منہ میں رام رام''کی عکاسی کرتی ہے۔جنرل ضمیر الدین شاہ لکھتے ہیں:''سرکاری افسر(مسلمان)کسی بھی عہدہ پرہو،وہ بے بس ہوتاہے،یہ بڑالمیہ ہے کہ کوئی مسلمان اپنی وفاداری اورحب الوطنی ثابت نہیں کرسکتا۔ہندوسرکاری افسرجو ملازمتوں میں رفقائے کارہوتے ہیں،بظاہراچھے روّیے کامظاہرہ کرتے ہیں مگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پران کے خلاف زہراگلتے ہیں''۔

مئی کے شروع کے دن تھے جب نسیمہ بانونے اپنے بیٹے توصیف شیخ کوموبائل فون پرکہاتھااپنے راستے پرقائم رہنا،میں تمہاری کامیابی کیلئے دعاگو ہوں،خداتمہاراحامی وناصرہو۔ اس وقت بھارتی فوجی مجاہدتوصیف شیخ کے بہت قریب پہنچ چکے تھے ،اس سے چندہی لمحے پہلے اس 23سالہ کشمیری مجاہدنے اپنی والدہ کوفون پرکہاتھا:دعاکریں میری شہادت قبول ہو۔پھربھارتی فوج کے آپریشن کے بعدتوصیف شیخ کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی تھی۔اس نے کشمیرکی آزادی کیلئے اپنی جان نثارکردی تھی۔غم وغصہ میں مبتلانسیمہ بانونے جرمن نیوزایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کشمیرکی جدوجہدآزادیٔ میں کشمیری تب تک اپنی جانیں قربان کرتے رہیں گے جب تک وہ آزادی حاصل نہیں کرلیتے۔اپنے جوان بیٹے کی قربانی دینے والی اس عظیم خاتون کے یہ الفاظ حریت پسندوں کانیاولولہ دیتے رہیں گے۔

بھارتی درندہ صفت فوج کاظلم جوں جوں بڑھاتاہے،آزادی کے ولولے اورقوی ہوتے جاتے ہیں۔ مقامی لوگ لڑائی کی جگہ جمع ہوکرفوجیوں پرپتھرپھینکناشروع کردیتے ہیں اوراس طرح وہ مجاہدین کووہاں سے بچ نکلنے میں مدددیتے ہیں۔تحریک آزادیٔ کوکچلنے کیلئے بھارتی فورسزنے گزشتہ ماہ ''آپریشن آل آؤٹ''شروع کیاتھااورآغازستمبر2018ء تک وادیٔ کشمیر میں350سے زائد حریت پسندشہیداوردرجنوں گرفتارکئے جاچکے تھے۔کلگام میں شیخ خاندان کے دوافرادنے بڑی بہادری کے ساتھ بزدل بھارتی فورسزسے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ کشمیری خاندانوں کی قربانیوں کی بے مثال حکایات ہیں۔ابھی جانے اورکتنے خاندان فوجی درندوں کی گولیوں سے شہید ہوں گے۔

جولائی 2016ء میں برہان وانی کی شہادت کے بعدقابض بھارتی فوج کے خلاف ہتھیاراٹھانے والے نجاہدین کی تعدادمیں کہیں زیادہ اضافہ ہواہے۔حریت پسند رہنماء یٰسین ملک نے جرمن نیوز ایجنسی کوبتایاکہ آج کے نوجوانوں میں اس سے کہیں زیادہ غصہ ہے جوبیس سال پہلے ہماری نسل کے نوجوانوں میں تھا۔ایک اندازے کے مطابق 1980ء کی دہائی کے بعدسے 45ہزارسے زائدکشمیری بھارتی غاصب درندوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔گزشتہ ماہ ڈاکٹرعبداالمنان وانی بھی پاکبازشہدائے کشمیرکے گروہ میں شامل ہوگئے ۔وہ ارضیات میں پی ایچ ڈی کرچکے تھے اورعلی گڑھ یونیورسٹی میں ابھی ان کی تعلیم کاسلسلہ جاری تھاکہ 5جنوری2018ء کویونیورسٹی سے غائب ہوگئے ۔ جہاد آزادی کاجذبہ انہیں وادیٔ کشمیرمیں کھینچ لایاتھا، جہادکشمیرمیں ان کی شمولیت بھارتی ہندوراج کیلئے انتہائی پریشانی کاباعث بنی۔وہ آٹھ ماہ بھارتی قابض فوج کے خلاف برسر پیکار رہے اور11اکتوبرکوشاٹھ گنٹرہندواڑی کے ایک معرکے میں شہادت پاکرسرخرو ہوئے ۔اکتوبرکے تیسے ہفتے میں وادی میں 25حریت پسند مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا۔ قصاب صفت مودی کے زیرقیادت برہمنی سامراج نے ایک طرف بھارتی مسلمانوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے تودوسری طرف مقبوضہ جموں وکشمیرکے مسلمانوں کے جان ومال اور آبرو سے کھیلنے کیلئے وحشی بھارتی درندوں کوکھلی چھوٹ دے رکھی ہے مگر اقوام متحدہ اورانسانی حقوق کی علمبرداراورٹھیکیدارمغربی ممالک اس سفاکیت اوربربریت پرخاموش کیوں ہیں اورکب تلک ان کی یہ بے حسی قائم رہے گی۔

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں پاکستان کی حق خودارادیت کی حمائت میں پیش کردہ قرارداداتفاق رائے سے منظورہوگئی ہے ۔جنرل اسمبلی میں 83ممالک نے پاکستان کے ساتھ قراردادپیش کی ۔آئندہ ماہ توثیق کیلئے 93اراکین جنرل اسمبلی میں پیش کی جائے گی اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہاہے کہ قراردادمیں جموں وکشمیراور فلسطین کے عوام کے حق خودارادیت کی حمائت کی گئی ہے۔پاکستانی سفیرکاکہناتھاکہ قراردادمقبوضہ علاقوں کی آزادی کی سفارش کرتی ہے جس کی اس بارریکارڈ ملکوں نے تائید کی۔ جنرل اسمبلی سے بھی حالیہ بھارتی بربریت،درندگی وسفاکیت کی روشنی میں مظلوم عوام کی بہتراورمؤثراندازمیں حمائت یقینی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 459 Articles with 141549 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Dec, 2018 Views: 427

Comments

آپ کی رائے