ارے ابن آدم کہاں کھو گئے ہو۔۔؟

(AHSAN IQBAL, ABBOTTABAD)

اس رب ذولجلال کا بے شمار شکریہ کہ جس نے ہمیں ایک ایسی زندگی عطا کی جو ان گنت نعمتوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن اسکی قدر و قیمت باور کرانے کے لئے اللہ نے اس نعمت کو سلب کرنے کا بھی ذکر کیا ۔کہ ہر ذی روح کو موت آئے گی۔کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ لوگ تو مر رہے ہیں لیکن وہ خود نہیں مرےگا۔ہر ایک سانس کے گزرنے سے وہ زندگی اپنی انتہا کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہر شخص کی جتنی زندگی گزر چکی وہ تو گزر چکی لیکن نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے،اس کا کوئی علم نہیں رکھتا۔اور نہ کسی کو اس بات کی کوئی خبر ہے کہ کتنی سانسیں گزر چکی اور کتنی باقی ہیں۔ کوئی کسی سفر پر جا رہا ہے معلوم نہیں کہ واپسی بھی ہو گی یا نہیں۔ کسی نے کوئی منصوبہ بندی کی لیکن خبر نہیں کہ اسکی اپنی زندگی کی منصوبہ بندی ہو چکی ہے۔ کوئی بہت بڑا تاجر ہے لین دین کرتا ہے لیکن اسے کوئی یہ نا بتا سکا کہ کسی تاجر نے اسکے لئے بھی سفید لباس چند پیسوں میں خرید کر اپنی دکان مین محفوظ کر کے رکھا ہوا ہے۔کوئی گلوکار گاتا ہے لیکن خبر نہیں کہ اگلے چند لمحوں میں اسکا بھی مرثیہ شروع ہونے والا ہے۔ کوئی لقمہ اٹھاتا ہے لیکن پھر دنیا دیکھتی ہیکہ وہ لقمہ اسکے منہ تک بھی نہیں پہنچ پاتا کہ وہ اس دنیا کو چھوڑ کر اس جہاں کی طرف چلا جاتا ہے جہاں سے معجزوں کے بغیر زمانے کی آنکھ نے کسی کو لوٹتے ہوئے نہیں دیکھا۔ لقمہ تو بہت بڑی چیز ہے سانس لینے والے کوبھی یہ خبر نہیں کہ اسکا لیا ہوا سانس بھی واپس ہوگا یا نہیں۔ اگر ہم یہ بات ذہن میں سوچیں کہ دنیا کا کوئی لمحہ ایسا نہیں کہ جس میں کسی ذی روح کی روح نہ قبض کی جاتی ہو ۔اور ہم ہر وقت موت کے منہ میں ہیں۔ تو شاید یہ تصور ہمیں اپنی موت کی یاد دہانی کرانے میں ہمارا مدد گار بن جائے ۔ ہر شہر و دیہہ میں قبرستان موجود ہیں ۔ جنکی بیا بانی ہمیں پکار کر کہتی ہے:
ارے ابن آدم کہاں کھو گئے ہو
کہاں رہ گئے ہو ،کہاں سو گئے ہو

اور اھل قبور ہمیں جھنجوڑ رہے ہوتے ہیں کہ ہمبھی کبھی تمہاری طرح ہی قبروں کے پاس سے گزرا کرتے تھے۔لیکن پھر ایک دن اچانک ہم نے اپنی تمام چیزوں کو خیر آباد کہا اور ان قبروں کے بیچ اپنا ایک ٹھکانہ بنا لیا۔اور آج تم ہمارے پاس سے گزر رہے ہو۔قبرستانوں میں بعض قبروں پرآخری آرام گاہ کامختصر سا جملہ لکھا ہوتا ہے۔لیکن کون جانتا ہیکہ کتنی ہی آرام گاہیں عذاب گاہوں میں تبدیل ہو چکی ہوتی ہیں۔ان قبرستانوں میں ہمیں بوڑھے بھی ملیں گے اور جوان بھی،بچے بچیاں بھی۔غرض ہر عمر کا فرد انفرادیت اختیار کر کے ان قبرستانوں میں آجاتا ہے۔ جو انسان اپنی زندگی کے جس مرحلے میں ہے اسے اسی مرحلے کا کوئی انسان ان قبرستانوں میں ضرور ملے گا۔اگر کوئی جوان ان قبروں کی طرف جائے تو اسے جوان کی تربت بھی نظر آئے گی جو اسے پکار کر کہہ رہی ہوتی ہے ذرا سنبھل جا میں بھی عمر کے اسی مرحلے میں پہنچا تھا کہ میرا بلاوا آگیا ۔ کوئی بوڑھا جائے تو اسے بھی یہ پکار ملے گی۔کوئی عورت جائے اسے بھی یہ پکار ملے گی اور کوئی بچہ جائے تو اسے بھی یہ پکار ملے گی۔

ہم موت سے بچ نہیں سکتے لیکن نہ جانے ہم پھر بھی اس حقیقی گھڑی کو یاد کرنے سے غافل کیوں رہتے ہیں۔ہم اپنےمستقبل کے بارے میں اتنے منصوبے بناتے ہیں لیکن ہم نے اپنے رخصت ہونے کے دن کے بارے میں نہیں سوچا کہ اسکے لئے بھی کوئی تیاری کر لی جائے تا کہ وہ سفر بھی ہمارا آسان ہو جائے۔ہماری تمام تر کوششیں بس دنیاوی زندگی کے لئے ہیں۔ یہ وہ زندگی ہے کہ جب حضرت نوحؑ جن کی عمر ایک ہزار تین سو اسی سال بنتی ہے اتنی لمبی عمر کے بعد جب ان کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپؑ سے پوچھا گیا کہ زندگی کو آپ نے کیسا پایا۔۔۔؟انہوں نے کہا ایک گھر کی مانند پایا جس کے دو دروازے ہوں ایک سے انسان داخل ہو اور دوسرے سے نکل جائے۔ یہ وہ زندگی ہے جس کی ابتدا اذان سے اور انتہا نماز پر ہوتی ہے۔لیکن اسکے باوجود کتنے ہی لوگوں کی زباں سے یہ جملہ سننے کو ملا کہ یہ چند دن کی زندگی ہے مزے سے گزارو ۔ لیکن کوئی ان سے یہ پوچھے کہ جب چند دن کی زندگی میں مزے کر لوگے تو دائمی زندگی میں کیا کرو کے۔ جب کوئی موت کی بات کرتا ہے تو کہتے ہیں ہمیں بھی موت یاد ہے موت کو کب کوئی بھول سکتا ہے۔لیکن جب انکی حالت کو دیکھا جاتا ہے تو بے اختیار زباں پر آتا ہے کہ ایسے جیا کرتے ہیں کیا کبھی مرنے والے۔نہ جانیں ہمیں کیا ہو گیا ہم کس غلط فہمی میں گم ہیں۔ اپنی زندگی ایسے گزار رہے ہیں جیسے اس رب ذولجلال کو ہم نے کوئی حساب ہی نہ دینا ہو۔ نہ ہماری زبان سے کوئی محفوظ ہےنہ ہاتھ سے ۔ کسی کو تکلیف پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے ضائع نہیں ہونے دیتے۔ لیکن ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دن اس حقیقت کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا۔ ملک الموت ہماری انتظار میں ہے۔ اسکی طاقت کے بارے میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ ملک الموت کے پاس ایک برچھی ہے جو کہ مشرق و مغرب تک پھیلی ہوئی دنیا میں جب بھی کسی بندے کی زندگی ختم ہوتی ہےتو وہ اس برچھی کو اسکے سر پر مارتا ہےاور کہتا ہے کہ اب تیرے ساتھ موت کا لشکر بڑھا دیا گیا ہے۔ جب ہم ہر وقت موت کی لپیٹ میں ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اوقات کار میں سے اپنے رب کی رضا کے لئے اور اپنے ہمیشہ کے سفر کے لئے کچھ نہ کچھ سامان کر لیں۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں بہت دیر ہو جائے۔ اور پھر سوائے رسوائی کے کچھ ہاتھ نہ آئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AHSAN IQBAL

Read More Articles by AHSAN IQBAL: 20 Articles with 13269 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Dec, 2018 Views: 197

Comments

آپ کی رائے