نواز شریف کے عروج و زوال کی کہانی، تاریخی کی زبانی

(Ghulam Murtaza Bajwa, Sialkot)

اگر ہم تاریخ سے سبق سیکھنے پر آمادہ ہوں تو ہمیں عدالتی اور سیاسی عمل کو مصنوعی طور پر متاثر کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ عدالت کو ایک فیصلہ دینا ہے۔ یہ ایک قانونی عمل ہے جسے اپنے فطری بہاو کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ عدالت کے فیصلے سے کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ملک کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا۔ سیاسی فریق اس سے اگر سیاسی فوائد کشید کرنا چاہیں تو انہیں بھی روکا نہیں جا سکتا۔ اسے عوام پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ عدالتی فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ عدالت میں ایک طرف پاناما کا مقدمہ ہے اور دوسری طرف تحریکِ انصاف کے پارٹی فنڈز کا۔ دونوں بہت اہم ہیں۔ یہ فیصلے عدالت کی ساکھ، سیاسی راہنماوں کے مستقبل اور قومی اداروں کی شہرت پر غیر معمولی اثرات مرتب کریں گے۔ تاہم سیاسی عمل ان فیصلوں کے باوصف آگے بڑھے گا۔ میرا احساس ہے کہ اس کے فطری بہاوکو مصنوعی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ناکام ہو گی۔

اس وقت ن لیگ کی سیاسی قوت، ان کے مخالفین کو خائف کیے ہوئے ہے۔ ان کا تمام تر انحصارعدالتی فیصلے پر ہے۔ وہ اب عدالت پر اپنا دباو بڑھانا چاہتے ہیں۔ پہلے بھی وہ یہی کہتے ہیں کہ اگر ان کا دباونہ ہوتا تو یہ پیش رفت بھی نہیں ہونی تھی۔ گویا اس میں عدالت کا کوئی حصہ نہیں، یہ احتجاجی سیاست کا کمال ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت وہ عدالت سے اپنی مرضی کا فیصلہ لینا چاہتے۔ جج صاحبان کے یہ ریمارکس حوصلہ افزا ہیں کہ وہ شواہد اور قانون کے تحت فیصلہ کرتے ہیں، ٹی وی کے ٹاک شوز دیکھ کر نہیں۔ میرا خیال ہے کہ جب کوئی سیاسی جماعت یہ کہتی ہے کہ وہ سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کی پشت پر کھڑی ہے تو عدالت عظمیٰ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہیں یہ تاثر زائل کرنا چاہیے کہ عدالت اس معاملے میں کوئی فریق ہے۔ سیاست ایک بے رحم کھیل ہے۔ اس میں افراد سے لے کر اداروں تک، سب کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اہل سیاست کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ عدالت کو سیاست میں گھسیٹیں۔ جب عدالتیں انصاف کرتی ہیں تو پوری قوم ان کی پشت پر کھڑی ہو جاتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ 25 دسمبر 1949 کو لاہور میں پیدا ہونے والے نواز شریف، محمد شریف اور ان کی اہلیہ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں، ان کے والد ایک دولت مند صنعتکار تھے جنہوں نے اتفاق اور شریف گروپ کی بنیاد رکھی۔’’شریف خاندان ایک پدر شاہی اور قدامت پسند خاندان ہے‘‘۔ 1930 کی دہائی میں صنعتکاری کا رخ کیا، اْس وقت بمشکل چند مسلمان گھرانوں کا صنعتکاری میں نام تھا۔اسٹیل کے کاروبار میں قدم رکھنے کے بعد شریف خاندان نے مستقبل کی طرف دیکھنا شروع کیا، اس وقت صنعتکاری میں ایک گروپ بٹالا تھا جبکہ دوسرے شریف خاندان، اِن کی کہانی مفلسی سے امارت کی جانب سفر کے جیسی ہے، 6 سے 7 بھائی جو جاتی امراء سے لاہور آئے اور سخت محنت سے عروج حاصل کیا'۔سینئر تجزیہ کار ، صحافیوں کا کہنا تھا کہ 1947 تک شریف اپنا نام قائم کرچکے تھے، جہاں تک قدیم لاہور کی بات ہے، 1947 میں بھی شریف خاندان کی پہچان دولت مند، خاندان اور صنعتکاروں کے حوالے سے کی جاتی تھی۔گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ حاصل کرنے سے قبل نواز شریف نے سینٹ اینتھنز ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی جس کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اپنی قانون کی ڈگری حاصل کی۔سکول کے دنوں سے ہی نواز شریف کی کوئی گہری دوستیاں نہیں تھی، ان کی رہائش سرکلر روڈ کے علاقے میں موجود محلہ رام گلہ میں تھی۔تقسیم ہند کے کچھ عرصہ پہلے شریف خاندان ماڈل ٹاؤن منتقل ہوگیا، نواز شریف اپنے سکول کے لڑکوں کی نسبت محلے کے لڑکوں کے ساتھ زیادہ گھلا مِلا کرتے، ان کے مشاغل میں کرکٹ کھیلنا، فلمیں دیکھنا اور گاڑی ڈرائیو کرنا شامل تھا۔گورنمنٹ کالج لاہور میں نواز شریف خواجہ آصف کے دوست تھے تاہم ان کے زیادہ تر اچھے دوست زمانہ طالب علمی کے نہیں، اسی سے پدر شاہی خاندانی سیٹ اپ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جب آپ اپنے گھر کے قریب یا خاندان سے قریب رہنے والے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں۔ میاں شریف کی موجودگی میں نواز شریف کا سکول کے لڑکوں سے دوستی کرنا، کلاسیں چھوڑنا اور اس قسم کے غل غپاڑے کا حصہ بننا ممکن نہیں تھا۔بعد ازاں نواز شریف اپنے خاندان کے بااثر اتفاق گروپ کا حصہ بن گئے جو چینی، اسٹیل اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں دلچسپی رکھتا تھا۔

ایک رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز اس دور میں کیا جب شریف خاندان کے اسٹیل کے کاروبار سمیت کئی صنعتوں کو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قومیا (نیشنلائز) لیا تھا۔1976 میں نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی جو اْس وقت پنجاب میں کافی مقبول سیاسی جماعت تھی۔جب بھٹو نے ان کی صنعت کو نیشنلائز کردیا تو شریف خاندان کا اس پر گہرا اثر پڑا ،سیاست میں اپنا مقام بنانے کا سوچنا شروع کردیا، بھٹو کے خلاف دشمنی پال لی، یہ سننے میں خود غرضی جیسا محسوس ہوتا ہے لیکن نواز شریف کے والد نے انہیں اس لیے سیاست میں دھکیلا کیونکہ انہوں نے ایسا نہیں سوچا تھا کہ وہ کاروبار کریں گے۔جنرل ضیاء الحق کی حکمرانی میں نواز شریف پہلے بطور وزیر خزانہ پنجاب کابینہ کا حصہ بنے اور 1981 میں انہوں نے پنجاب مشاورتی بورڈ میں شمولیت اختیار کی۔نواز شریف کے ایک دور کے ماموں، جن کا نام حسن تھا، نے سیاست میں نواز شریف کی رہنمائی کرنے اور انہیں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ غلام جیلانی خان نے نواز شریف کو پنجاب حکومت کا وزیر خزانہ بنایا اور اپنے ایک خدمت گار، بریگیڈیئر قیوم کو ہدایت دی کہ وہ نواز شریف کو اپنی نگرانی میں رکھیں۔جس کے بعد 1985 میں نواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے جبکہ 1988 میں مارشل لاء کے اختتام پر وہ دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب بنے، اگست 1988 میں ضیاء الحق کی موت کے بعد پاکستان مسلم لیگ دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اور پاکستان مسلم لیگ کا چارج نواز شریف نے سنبھال لیا ۔ ماہر ین کا کہنا ہے کہ نواز شریف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار تھے، 1984 میں انہیں اچانک ہی پنجاب کی صوبائی حکومت کا حصہ بنادیا گیا۔ضیاء کی فوجی حکومت کا بنیادی مقصد بینظیر بھٹو کے مقابلے کے لیے متبادل قیادت کو سہارا دینا تھا، نواز شریف کو بعد ازاں پاکستان کے سب سے طاقتور صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ بنادیا گیا، پنجاب کے کاروباری اور تجارتی طبقے کی نمائندگی کی اور پنجاب کی سول اسٹیبلشمنٹ، جس میں بیوروکریسی اور عدلیہ شامل تھی، کی مدد سے سیاسی عروج پر گئے۔

1990 کے دوران نواز شریف نے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے سربراہ کی حیثیت سے عام انتخابات کی مہم چلائی، اس تصویر میں نواز شریف، خاقان عباسی اور شیخ رشید کو مری کے ایک جلسے میں آئی جے آئی کے حامیوں کے نعروں کا جواب دیتے دیکھا جاسکتا ہے۔نواز شریف 1991 میں فوج کے تشکیل کردہ دائیں بازو کے اتحاد، جس کا نام اسلامی جمہوری اتحاد تھا، کے سربراہ کی حیثیت سے پہلی بار وزیراعظم بنے، لیکن جلد ہی صدر غلام اسحٰق خان کے ساتھ ان کے اختلافات کا آغاز ہوگیا کیونکہ وہ تمام طاقت پر قبضہ چاہتے تھے، اختیار کی یہ جنگ ان کے زوال کا سبب بنی اور ایک کمزور بغاوت نے ہی صدر اور وزیراعظم دونوں کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا۔نواز شریف ریاست کے دیگر ستونوں کے سامنے آنے کی وجہ سے دونوں بار اپنی مدت پوری نہ کرسکے، پہلی بار صدر اور دوسری مدت میں فوج کے سامنے، ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ وہی فوج تھی جو ان کے سیاسی عروج کی ذمہ دار تھی'۔'1991 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے خلاف نواز شریف کی کامیابی کی بڑی وجہ انہیں سول اور فوجی قیادت سے حاصل ہونے والی حمایت تھی۔

'آئی جے آئی کا قیام اور فنڈنگ آئی ایس آئی نے کی تھی، جس کی تصدیق اصغر خان کیس کی رولنگ کے دوران سپریم کورٹ نے کی۔ فوج اس بات کے لیے تیار نہیں تھی کہ ان کی پہلی حکومت کی برطرفی کے بعد پی پی پی کو اقتدار میں واپس آنے کی اجازت دے۔

اپنی مدت ملازمت میں نواز شریف نے جوہری پالیسی کا اعلان کیا جس کا مقصد ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کی ترقی کو جاری رکھنا تھا۔انہوں نے پاکستان کے پہلے ماس روڈ نیٹ ورک، موٹروے کے منصوبوں کا بھی آغاز کیا۔وزیراعظم نواز شریف کی پہلی مدت اْس وقت اچانک ختم ہوئی جب صدر غلام اسحٰق خان نے اپریل 1993 میں قومی اسمبلی کو تحلیل کردیا۔ایک ماہ بعد مئی 1993 میں نواز شریف اقتدار میں اس وقت واپس آئے جب سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا صدارتی حکم غیر آئینی قرار دیا۔1993 میں نئے انتخابات کروا کر نواز شریف، اقتدار پیپلزپارٹی کی بینظیر بھٹو کو کھو بیٹھے اور اپوزیشن کا کردار سنبھال لیا۔'1993کے انتخابات میں بینظیر بھٹو کی اقتدار میں واپسی فوج کی جانب سے نواز شریف کی حمایت کے خاتمے کا نتیجہ تھی، اس کی ایک اور وجہ آئی جے آئی کی علیحدگی تھی۔دوسری بار پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے نواز شریف کے دور کا آغاز 1997 میں اس وقت ہوا جب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔اپنی دوسری مدت ملازمت میں بھی انہوں نے عدلیہ کے ساتھ کشیدگی کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ نومبر 1997 میں ایک سماعت کے دوران ان کے حامیوں کی بڑی تعداد نے عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کے لیے سپریم کورٹ پر دھاوا بول دیا.اس افراتفری کے دور میں وزیراعظم نواز شریف نے صدر فاروق لغاری کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو معزول کردیا گیا.میوزیکل چیئرز کا یہ کھیل بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کی برطرفی کے بعد بھی جاری رہا جس کی وجہ ان کا صدر اور چیف جسٹس کے مدمقابل آجانا تھا.دکھائی دینے لگا کہ نواز شریف فوج کی حمایت واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، جس کا اثر 1997 کے انتخابات میں نظر آیا جب وہ تاریخی تین چوتھائی اکثریت سے کامیاب ہوئے، لیکن اس اتحاد کی مدت بہت کم تھی۔

دسمبر 1997 میں وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان صرف اس صورت میں جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے (سی ٹی بی ٹی) پر دستخط کرے گا جب بھارت بھی اس پر دستخظ کرتا ہے.بعد ازاں 28 مئی 1998 میں پاکستان نے پہلا کامیاب جوہری تجربہ جبکہ 30 مئی کو دوسرا تجربہ کیا گیا.1999 میں نواز شریف کے فوج کے ساتھ تعلقات پھر خراب ہوگئے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہیں طے شدہ حملوں سے آگاہ نہیں کیا گیا اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اکیلے فیصلے کیے. 2ماہ بعد کارگل کے معاملے پر نواز شریف کی حکمت عملی پر آرمی، نیوی اور ایئرفورس تینوں کے ساتھ ان کے تعلقات شدید متاثر ہوئے.صورتحال اس وقت مزید ابتر ہوگئی جب اکتوبر 1999 میں وزیراعظم نواز شریف نے چیئرمین آف دا جوائنٹ چیفس اور چیف آف آرمی اسٹاف کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی. بغاوت کے ڈر سے وزیراعظم نواز شریف کے احکامات پر ایئرپورٹ بند کرکے جنرل پرویز مشرف کے طیارے کو کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی.تاہم جنرل پرویز مشرف کے نواب شاہ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ جرنیلز کو ملک سنبھالنے کا حکم دیتے ہوئے نواز شریف کو برطرف کردیا۔

بغاوت کے بعد 'اغواء ، اقدامِ قتل، ہائی جیکنگ، دہشت گردی اور کرپشن' کے الزمات میں نواز شریف کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوا جہاں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی.سعودی عرب کی مدد سے کیے گئے ایک معاہدے کے تحت نواز شریف اگلے 10 سال کے لیے ملک سے جلاوطن ہوگئے.کئی سال کی جلاوطنی کے بعد اگست 2007 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا کہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف پاکستان آنے کے لیے آزاد ہیں۔ اگلے ماہ نواز شریف جلاوطنی کاٹ کر اسلام آباد پہنچے مگر انہیں طیارے سے اترنے نہیں دیا گیا اور پھر کچھ دیر بعد جدہ ڈی پورٹ کردیا گیا، جس کے بعد وہ نومبر میں سیاست میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آئے۔2008 سے 2013 کے درمیان نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت قائم کی۔اگست 2008 میں اتحادی حکومت نے مشرف کے احتساب کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ اسی سال مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ججز کی بحالی سے پیپلز پارٹی کے انکار پر یہ اتحاد بکھرگیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے نواز شریف اور شہباز شریف کو فروری 2009 میں عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ نواز شریف کو اپنے گھر پر نظربند کرنے کی زرداری کی کوششوں کے بعد اگلے ماہ نواز شریف نے ’’لانگ مارچ‘‘ شروع کیا تاکہ برطرف ججز کو بحال کروایا جا سکے۔

اپریل 2010 میں اٹھارہویں ترمیم منظور کی گئی جس سے تیسری بار وزیراعظم بننے پر عائد پابندی ختم کر دی گئی، یوں نواز شریف تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔مئی 2013 میں نواز شریف کو تیسری دفعہ وزیر اعظم منتخب کیا گیا، مگر انتخابات میں دھاندلی اور فراڈ کے الزامات لگے۔ شریف حکومت نے کراچی میں پاکستان رینجرز کے تحت آپریشن شروع کیا جس کا مقصد سب سے بڑے شہر سے جرائم اور دہشتگردی کا خاتمہ تھا۔جولائی میں چینی وزیرِاعظم لی کی چیانگ کے دورے کے بعد یہ اعلان کیا گیا تھا کہ چین پاکستان میں ساڑھے 31 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔نومبر 2013 میں وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں 9 اعشاریہ 59 ارب ڈالر کی لاگت سے ایٹمی بجلی گھر کے منصوبے کی تعمیر کا آغاز کیا۔2014 کے اواخر میں نواز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے 2013 کے انتخابات میں فراڈ کے الزامات پر شدید احتجاج کا سامنا کیا۔4 اپریل 2016 کو پاناما پیپرز لیک میں وزیرِ اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو دو آف شور کمپنیوں کا بینی فیشل مالک قرار دیا گیا۔اکتوبر 2016 میں پاناما پیپرز کیس سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت آیا تاکہ شریف خاندان پر منی لانڈرنگ اور ٹیکس بچانے کے حوالے سے تحقیقات کی جا سکیں۔فیصلہ سنانے کے بعد سپریم کورٹ نے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کا حکم دیا، جس نے نواز شریف کو کیپیٹل ایف زیڈ ای نامی ایک دبئی میں قائم کمپنی کا چیئرمین پایا اور انہیں نااہل قرار دے دیا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Murtaza Bajwa

Read More Articles by Ghulam Murtaza Bajwa: 253 Articles with 96375 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2018 Views: 237

Comments

آپ کی رائے