ایسا بھی ہوتا ہے (ونس اگین) آخری حصہ

(Abdul Kabeer, Okara)
انسان کو انسان نہیں بلکہ اس انسان سے وابستہ امیدیں دکھ دیتیں ہیں

انسان کو انسان نہیں بلکہ اس انسان سے وابستہ امیدیں دکھ دیتیں ہیں۔انس کو بھی عنایہ سے وابستہ امیدیں دکھ دے رہیں تھیں ۔" پچھلے کچھ دنوں سے تمہارا رویہ بدلا بدلا سا ہے، خیریت تو ہے " ؟ ڈنر کے بعد جب وہ اپنے کمرے میں لیٹا فضا میں گھور رہا تھا تب اس کی امی جان نے سوال کیا؟ نہیں کیا ہونا ہے میرے رویے کو ؟ سب ٹھیک تو ہے ۔ انس نے امی جان کو تسلی دینے کی کوشش کی۔"ٹھیک ہے بیٹا تمہاری مرضی ، اگر نہیں بتانا چاہیے۔"نہیں امی جان ایسی کوئی بات نہیں ہے ، آپ مطمئن رہیں ۔آپ کا بیٹا بالکل ٹھیک ہے ۔ اچھا چلو چھوڑو۔ بیٹا اب تو تم نے جاب پر جانا سٹارٹ کر دیا ہے ۔ میری چاند سی بہو کب گھر کب لاؤ گے ؟ جواب میں انس کا قہقہہ لگایا۔ امی جان آ پ فکر ہی نا کریں۔امی جان بھی جواباً مسکرائی اور واپس چلی گئی۔"چاند جیسی بہو امی جان کے لیے لانی ہے " وہ دل ہی دل میں سو چنا شروع ہو گیا۔عنایہ بھی تو چاند سی ہے ۔ وہ الگ بات ہے اس کے ڈر نے ایک ہونے سے پہلےہی جدا کر دیا ۔ عنایہ کو دیکھ کر تو چاندسفارش والا گیت تو لب پر یوں ہی چلاآتا تھا جیسے وہ گیت بنا ہی عنایہ کے لیے ہو۔ ہاں وہ محبت کرتی ہو گی اب بھی۔ لیکن مجھے نہیں لگتا اب۔ جس غصے کے ساتھ وہ مجھے اگنور کر رہی ہے لگتا ہے اس کی میرے لیے چاہت سے بڑھ کر غصہ زیادہ غالب آتا جا رہا ہے۔ چلو کوئی بات نہیں اس نے فیصلے ہی فاصلے بڑھانے والے کیے ہیں تو اب کیا کر سکتا ہوں؟ انس خیالوں کے گھوڑ ے خوب دوڑ ا رہا تھا۔انس تو کیا کر سکتا ہے ؟ اس نے سوچا۔ میں اسے پل پل یاد کرتا ہوں۔ اس کی باتوں کو محسوس کرتا ہوں ۔ ایسے لگتا ہے جیسے کہ ابھی اس کی کھلکھلاتی آواز مجھے سنائی دے گی۔ ابھی اس کے میسج سے میرے موبائل پر کپکپاہٹ (Vibrations) طاری ہو جائے گی ۔ اچھا اس کو اتنا ہی کھو جانے کا ڈر تھا تو وہ میری زندگی میں آئی کیوں؟ انس بھول گیا تھا تو اگر اس کی تقدیر میں کسی سے ملنا لکھا تھا وہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اسے شخص سے نامل پاتا ۔
٭٭٭
"کہنے کو تو نظر انداز (Ignore) کرنا ایک چھوٹا سا لفظ ہے نا"عنایہ نے سوچا۔ کیا وہ بھی ایسا کر رہی ہے ۔ وہ خلا میں گھورتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ اسے رخسانہ کی کہی باتیں اب بھلی لگ رہی تھیں ۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اسے ٹھنڈے دماغ سے سوچنا چاہیے ۔دل و دماغ نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ چلو آخری موقع دیتے ہیں ۔عنایہ نے اس پر پوزل پر غور کیاجو اس کے لیے آیا تھا۔پر پوزل پر غور کرنا فی الحال بعد کا کام ہے ابھی انس کو تو دیکھ لو۔ عنایہ نے فیصلہ کیا۔ اگلے دن عنایہ سے یونیورسٹی پہنچتے ہی رخسانہ کو اپنے ساتھ لیااور ہادیہ کے سر پر کھڑی ہو گئی ۔ ہادیہ کا طائرانہ جائزہ لیا۔تو رخسانہ لوگ آج کل بہت تیز نہیں ہوتے جار ہے بھلا۔ عنایہ نے رخسانہ کو کندھے مارتے ہوئے ہادیہ کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ وہ کیسے ؟ رخسانہ نے ناسمجھی کا اظہار کیا۔ دیکھو نا کلاس فیلو ہماری ہے اور سیریں کہیں اور کر رہی ہے کیوں ہادیہ ؟ ایسی کلاس فیلو کا ہمیں کیا فائدہ۔ عنایہ نے پہلی دفعہ ہادیہ بات کی اور پہلی بات میں ہی دل کی بھڑاس نکال لی۔ یادیہ اس کی بات کو کچھ سمجھ گئی اور اس کے سینئر ہونے کا لحاظ کیا اور صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔ ہادیہ میں نے سوچا کہ تم نے تو بات کرنی نہیں تو کیونکہ تمہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔ عنایہ شائد بات مکمل کر دیتی مگر رخسانہ نے اسے آنکھوں کےاشارے سے منع کر دیا۔ رخسانہ زبردستی مسکرا دی اور اور اپنا اور عنایہ کا تعارف ہادیہ سے کروایا۔ کسی بھی ہیلپ کی ضرورت ہو تو بلا جھجک رابطہ کرنا ہادیہ۔ یہ کہہ کر رخسانہ نے ہادیہ کو اللہ حافظ کہا اور تقریباً کھینچتے ہوئے عنایہ کو وہاں سے لے گئی ۔
٭٭٭
انس بیٹا ! امی جان نے گھر آتے ہی انس کو طلب کر لیا ۔ان کی آنکھوں میں آج خوشی کی عجیب سی چمک تھی۔ انس نے سوچا کہ ضرور کوئی "چاند " سی بہو پھر سے امی جان ڈھونڈ کر آئی ہیں ۔ بہت ساری "چاند" کو انس نے ریجیکیٹ کر دیا تھا وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ چاند سی نہیں تھی وجہ یہ تھی اسے کسی اور کو چاند سی جیسا فرض کر لیا تھا۔ اس نے ریاضی کی مساوات کی طرح جو شے موجود نہ ہو اسے فرض کر لیا تھا۔بیٹا آج تمہارے ابوجان اپنے پرانے دوست سے برسوں بعد ملے۔ اچھا امی جان ! یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔ انس نے بھی پر جوش ہونے کی اچھی اداکاری کا مظاہر ہ کیا ۔بیٹا پوری بات تو سن لو ، امی جان نے محبت سے ڈانٹا۔ جی جی امی جان ! فرمائیے ! فرمائیے ! خاد م خاموش ہے ! انس نے ایک بار پھر اچھی اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ "آج وہ کچھ ایکسٹرا ہی خوش تھا"۔ نا جانے کیوں اک بے وجہ سی خوشی اسے برسوں بعد نصیب ہوئی تھی۔ وہ بے سبب کی مسکراتاجا رہا تھا۔ اس نے سنا کہ امی جان کہہ رہی تھیں کہ تمہارے ابو جان کے پرانے دوست کی ایک بیٹی ہے اور وہ یونیورسٹی پڑھ رہی ہے ۔ اور تم بھی ابھی دو دو کام کر رہے ہوں اور یونیورسٹی میں بھی ٹانگیں پھنسائی ہوئی ہیں اور جاب بھی کر رہے ہوں تو تمہارے پاپا نے سوچا ہے کہ بچہ اب بڑا ہو گیا ہے تو اس کا ویاہ یونیورسٹی کے چاند سے کر دیں ۔انس کو یاد تھا کہ اس نے زور کا قہقہہ بھی لگایا اور میں سوچو ں گا کہہ کرفریش ہونے کا کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ رات کو تصور میں یونیورسٹی کے چاند کو دیکھنے کی کوشش کرتا رہا ۔ لیکن اس کا تصور ہٹ ہٹا کر عنایہ چاند کی طرف چلا جاتا تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا کہ عجیب رشتہ ہے کہ ادھر دیکھنا تک گوارا نہیں اور ادھر اس کے علاوہ کسی کو سوچنا گوارا نہیں ۔
٭٭٭
آج بہت دنوں بعد عنایہ کو انس یونیورسٹی میں نظر آیا ۔اکیلا گھوم رہا تھا ۔ اس کی نگاہیں کہہ رہی تھیں کہ جیسے اس کو کسی کی تلاش ہے ۔ عنایہ کےتو وہم و خیال میں بھی نہیں تھا کہ انس وہاں اپنے "چاند " کو ڈھونڈ رہا ہے جو اس کے بابا نے اس کے لیے ڈھونڈا ہے ۔ ہادیہ سے ایک دو ملاقات ہوئی اور وہ، رخسانہ اور عنایہ آپس میں گھل مل گئی تھیں۔ باتوں باتوں میں پتہ چل گیا تھا کہ ہادیہ کی انس سے اچانک ملاقات ہوئی تھی کیونکہ وہ اس کی سیٹ پر بیٹھا ۔ ہادیہ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ انس نا جانے کس کے خیالوں میں کھویا کھویا رہتا ہے ۔ عنایہ نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس سے پوچھ ہی لیا کہ کہیں تم اسے پسند تو کرنے لگ پڑی ہو ۔اگر کرنے لگ پڑی ہو تو تو سوچنا بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رخسانہ نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا اور کہا ! عنایہ تم بھی نا پاگلوں جیسی باتیں کرتی ہوں ۔ یادیہ کو آج غصہ آ گیا تھا۔ عنایہ دیکھو! آپ ہر دفعہ لمٹ کراس کرتے ہوں لیکن میں "اگنور"کر دیتی ہوں لیکن آج وضاحت کر دینا چاہتی ہوں ۔ یہ جو آپ انس کے ساتھ مجھے ہمیشہ ٹیگ کرتی رہتی ہوں یہ صرف آپ کی سوچ ہے ۔ میرا اور اس کا تعلق صرف کلاس فیلوز کی حد تک ہے ۔ ویسے بھی میری انگیجمنٹ ہو چکی ہے ۔ ڈگری مکمل ہوتے ہی میری شادی ہے ۔ آپ دونوں ضرورآنا میری شادی میں ۔ تو محترمہ عنایہ مہربانی آئندہ گریز کیجیے گا۔ہادیہ نے عنایہ کو بظاہر تو غصہ دلا یا مگر عنایہ کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے وہ غصے سے جوا ب دے یا اسے شکریہ بولے ۔ بس یہی وہ لمحات تھے اور پھر نہ جانے آنسو کہاں سےآ گئے اور پھر آنسوؤں نے معلاملے کو سنبھال لیا۔ عنایہ رئیلی سوری ! میں کچھ زیادہ ہی غصے میں بول گئی ۔ پلیز عنایہ مجھے معاف کر دینا۔ رخسانہ مجھے لیکچر اٹینڈ کرنا ہے تو عنایہ کو دیکھ لینا۔ ہادیہ نے معذرت کی اور وہاں سے چلی گئی۔ایک تو تمہارے آنسوؤں کا پتا نہیں چلتا ، رخسانہ چو نکہ ساری بات سمجھ گئی تھی، عنایہ کو کہنی ماری۔ اسے یاد آیا کہ ٹریننگ کے دنوں میں لوٖڈشیڈنگ ہونے پر وہ کاغذ کے پنکھے بناتی تھی اور پھر عنایہ کو ان پنکھوں سے مارتی تھی۔ وہ دن بھی بہت کمال کے ہوا کرتے تھے۔ عنایہ نے بھی جلدی سے آنسو صاف کیے اور دل میں آنسوؤں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایک بار اسے بچا لیا۔
٭٭٭
گھر کو لائنٹنگ سے رنگا رنگ اور خوبصورت کر دیاگیا تھا۔ عنایہ آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ عنایہ آج بہت خوش بھی تھی اور مگر ساتھ ہی اس کے دل میں برسوں پرانے رشتے سے بچھڑنے کا غم بھی بہت تھا۔ اسے وہ دن یاد آ رہے تھے جب وہ بچپن میں گڑیا گڈے کا کھیل کھیلتے تھے۔ جب گڑیا اپنے گھر سے رخصت ہوتی تھی تو عنایہ رو پڑا کرتی تھی۔ باقی سہیلیاں اس کا مذا ق اڑایا کرتی تھیں۔ عنایہ کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہونے کی عادت تھی اور پھر خود ہی مان جانے کی عادت تھی۔ بارات میں آنے میں کچھ وقت باقی تھا۔ اسے باقی سارے انتظامات کو دیکھنا تھاکیونکہ وہ دلہن کی بہترین دوست جو تھی۔ جی تو اس دن رخسانہ کی شادی کا دن تھا۔ کچھ دنوں تک عنایہ کے گھر میں بھی شہنائیاں بجنی تھیں۔ مگر اس کی بہترین دوست آج اپنی زندگی کی نئی انننگ کا آغاز کرنے جا رہی تھی۔ وہ انہیں خیالوں میں گم تھی اور رخسانہ نے اسے آواز دی۔ یار ماشا اللہ !آج تو غضب ڈھا رہی ہیں آپ ! عنایہ نے آنسوؤں کو چھپانے کی ناکا م کوشش کی ۔ جب دونوں سہیلیوں کے آنسوؤں کا سمندر تھما تو عنایہ نے پوچھا کہ آج نہیں کرو گی کوئی نصیحت!بس کرو پگلی اور کتنا رولاؤں گی۔ عنایہ کے دماغ میں کچھ الفاظ گھومنا شروع ہو گئے" میرے بعد کس کو ستاؤ ں گے " دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں ، رونے والوں سے ہسی اچھی نہیں " رخسانہ جی ! عنایہ نے رخسانہ کو جی لگا کر چھیڑا! رخسانہ نےبھی آنسو پونچھ کر عنایہ کو بھی جی لگا کر جواب دیا۔ میں آپ کے بعد کس کو ستاؤں گی؟ اوہ بد تمیز ! تم نے یہ غزل کب سے سننا شروع کر دی تو اس کے بول مجھے سنا رہی ہوں ؟میں بھی کہوں کے کہیں سنے ہیں یہ الفاظ ! عنایہ نے سوچنے والے انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ تھینک یو رخسانہ جی ! آ پ نے یاد کروادیا۔ اب میں کل سے سنا کرو گی۔ کیا نام تھا بھلا غزل کا ؟ خبردار اگر سنی تو؟ رخسانہ نے مصنوعی غصے کا اظہار کیا۔ ویسے آپ زیادہ ذور ڈالتی ہو تو بتا دیتی ہوں کہ غزل کا نام "یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے " ہے ۔ ویسے میں نے زیادہ زور ڈالا تو نہیں تھا۔ عنایہ نے کہا اور دونوں نے زور دار قہقہہ لگایا۔ رخسانہ کی عادت تھی وہ ایسے ہی کہہ کر کوئی بھی بات بتا دیا کرتی تھی۔میڈم جی ! ایک بات کہوں ویسے ؟ عنایہ نے رخسانہ کو پھر چھیڑا۔جی بچے بولو! رخسانہ نے بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا تھا۔ آپ ویسے اچھی بہت ہو ۔ عنایہ نے کہا اور ایک دفعہ پھر دونوں کی مسکراہٹیں قابل دید تھیں۔
٭٭٭
کبھی کبھی انسان سب رشتوں کے پاس ہونے کے باوجود کسی کی کمی محسوس کرتا ہے۔ پتا ہے ایسا کب ہوتا ہے ؟ انس یونیورسٹی کے آخری دنوں میں کیفے ٹیریا میں بیٹھا ہادیہ سے ڈسکس کر رہا تھا۔ یادیہ انس کو اپنی شادی کا دعوت نامہ دے چکی تھی۔ ہادیہ نے سوالا ً انس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ جب کسی کی عادت ہو جائے تب۔ محترم ایک بات آپ بتائیں مجھے؟ یہ جو ساری گول مول فلسفے مجھے بیان کرتےرہتے ہیں کیا میں ان کا سبب جان سکتی ہوں ؟ ہادیہ نے انس نے سوال کیا؟ انس نے مسکراہٹ پر اکتفا کیا اور پھر آہستہ سے بولا ۔ جان کر آپ کیا کر سکیں گے، مجھے لگتا ہے کہ بس افسوس ہی کریں یا شکر کریں گے۔ کچھ بتاؤں گے بھی یابس فلسفے اور کہانیاں ہی بیان کروں گے۔ ہادیہ نے تنک کر کہا۔ آپ کو فلسفہ اور کہانیاں ہی لگے گی ۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ خدا اور محبت کے ڈرامےمیں صرف محبت کی داستاں ہے ۔ باقی سارے بجلی چو ر ہیں کیا ؟ جواب میں زور دار قہقہہ سننے کو ملا اور پھر دونوں مسکرانے لگ گئے ۔ویسے میری کہانی تو بہت لمبی ہے مگر اس کا آغاز اور انتہا ایک ہی انسان ہے اور وہ ہے عنایہ ۔
٭٭٭
کانوں میں ہینڈز فری لگائے یونیورسٹی کے لان میں غزل سنتے ہوئے عنایہ رخسانہ کو مس کر رہی تھی اور اس کی جھیل سی آنکھوں سے آنسوؤں رواں دواں تھے۔ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ اس کے سامنے کب سے ہادیہ اس کے سامنے آکر بیٹھ گئی۔ ہیلو عنایہ !ہادیہ نے جب عنایہ کے کندھوں کو زور سے ہلایا تو اسے عنایہ اک دم سے دنیا میں واپس آگئی۔ کیا ہوا عنایہ تم رو کیوں رہی ہوں ؟ ہادیہ نے بے تابی سے پوچھا؟ یار تم تو ایسے پوچھ رہی ہوں جیسے تمہیں کسی بات کا پتہ نہیں ہے ؟ ہاں مجھے واقعی ہی نہیں پتا ۔ ہادیہ نے صاف گوئی کی ۔ یار میں رخسانہ کو مس کر رہی ہوں ۔ عنایہ نے دکھ اور غصے کے ملے جذبات سے کہا۔ اچھا!!!! میں تو سمجھی کہ۔۔۔۔ ہادیہ نے بات جان بوجھ کر آدھی چھوڑ دی۔ نہیں کیا سمجھا آپ نے ؟ عنایہ نے بے رخی سے سوال کیا ؟ یار آج ہم لڑے گے بالکل نہیں ۔ آؤ کینٹین سے کچھ ٹھنڈا لیتے ہیں تاکہ تمہارا دماغ ٹھنڈا ہو۔ عنایہ بے دلی سے اس کے ساتھ چل پڑی ۔
٭٭٭
انس کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔ آج اس کی سہر ا بندی کا دن تھا۔ بابا جان کی پسند کی ہوئی چاند سی بہو کی آج گھر میں آمدہونی تھی۔ بابا جان جب کوئی فیصلہ کر لیتے تو ان کے فیصلےکو تبدیل کرنا ناممکن تھا۔ انس نےبہت تگ ود کی کہ وہ ان کا فیصلہ بد سکیں لیکن نا سود۔ ایک دفعہ امی جان چاند سی بہو کی تصویر بھی لے کر آئی لیکن انس نے دیکھے بغیر واپس کر دی کہ جب کسی نے میری سننی نہیں ہے تو فائدہ۔میرا بھی تو کوئی حق ہے اپنی زندگی میں کوئی فیصلہ کرنے کا یا نہیں ۔انس پتر ! تمہارا حق شائد والدین کے حق کے بعد ہے نا۔ تیرے ماں باپ کا بھی حق ہے تیرے اوپر کہ کوئی نہیں ، بابا جان نے جب یہ بات کہی تو اس کے بعد اس نےبلا چوں چراں کیے شادی کے لیے رضا مندی کا اظہار کر دیا تھا۔ اب جس سے بھی شادی ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔ ہاں عنایہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی نہیں پوری ہوئی تو مر جاؤ کیا ؟ اس نے سو چا تھا۔ ہادیہ نے عنایہ اور انس کے درمیان ربطہ کروانے کی کوشش کی مگر دونوں نےیہ کہہ کر اسے ٹال دیا کہ ان کے گھر والوں نے ان کی شادی فکس کر دی ہے ۔ اب بات کو بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔
٭٭٭
عنایہ کو ہرایک پل یاد آ رہا تھا کہ انس کے ساتھ گزرا ۔ اس نے انس کو نظر انداز کرنےاور اپنی انا کو سلامت رکھنے کا پورا حق ادا کر دیا تھا۔انسان کبھی نا کبھی دل کے ہاتھوں مجبو ر ہو ہی جاتا ہے ۔عنایہ کو موقع ملا تھا پھر سے انس سے بات بڑھانے کا مگر اس کی انا آڑے آگئی اور انا پرستی کے چکر میں آج وہ دن آ ن پہنچا تھا جس دن اس نے بھی رخسانہ کی طرح بابل کے گھر کو خیرآباد کہنا تھا۔
٭٭٭
انس نے نکاح ہو گیا تھا ۔نکاح نامے پر اس کے سائن لیے جا رہے تھے ۔انس روبوٹ کی طرح سارے سائن کیے جا رہا تھا۔ انس پوری کوشش رہا تھا کوئی اس کے اندر روتا ہوا انس کو پہچان نہ لے ۔ وہ کچھ حد تک کامیاب رہا تھا۔ سائن کرتے وقت اس نے غور ہی نہیں کیا دلہن کا کیا نام لکھاہوا ہے ۔انس اور دلہن کے گھروالوں کے چہروں پر مسکرا ہٹ تھی۔ وہ کوئی معمولی مسکراہٹ نہیں تھی ۔ اس مسکراہٹ میں بھی کچھ خاص بات تھی۔
٭٭٭
ہادیہ کو جب انس اور عنایہ کے بارے پتا چلا تو اس نے ان دونوں کو ملانے کا سوچ لیا تھا۔ ہادیہ نے پہلے دن جب انس کو دیکھا تو وہ اسے وہ بہت اچھالگا تھا لیکن جب وہ پہلے دن کینٹین سے کسی کو دیکھ کر اچانک اٹھ کر چلا گیا تو اسے بہت دکھ ہوا۔ وہ اسے جاننا چاہ رہی تھی۔ جب تک ہادیہ نے انس کو جانا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ انس کو چاہنے کے باوجود اس نے کبھی اس سے اظہار نہیں کیا۔ اس کی کوئی منگنی نہیں ہوئی تھی اور شادی والی بات اس نے عنایہ کو جان بوجھ کر کی تھی تاکہ عنایہ کو پتا چل سکے کہ کوئی ان دونوں کی محبت کے درمیان کوئی نہیں آسکتا اور نہ آیا ہے چاہے ہادیہ خود ہی کیوں نہ ہو۔
٭٭٭
کہتے ہیں تقدیر بدلتی ہے دعاؤں کے اثر سے۔ انس نے بھی سوچا کہ چلو تقدیر میں لکھا تھا کہ ہمارا تعلق ختم ہو جائے ۔یہ سوچتے ہوئے تقدیر کے ایک پہلو کو بھول گیا تھا کہ تقدیر میں لکھا تھا وہ اس کی ملاقات عنایہ سے ہوئی تھی۔ کبھی اس نے یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کی تقدیر میں یہ لکھا ہوگا کہ وہ رو رو کر عنایہ کو اپنی دعاؤں میں مانگے گا۔ انس نے رو رو کر دعاؤں میں مانگا ضرور تھا مگر پھر نا امید ہو گیا تھا ۔لیکن تقدیر ہمیشہ انسان کو سر پرائز دیتی ہے ۔انس کے لیے بھی ایک سر پرائز تھا۔
٭٭٭
شادی کی پہلی سالگرہ پر انس نے دوست احباب سب کو انوائٹ کیا تھا ۔وہ اس وقت اپنے دوست سے محو گفتگو تھا۔ یار میں نے سوچا بھی نہیں بھی تھا اور قسمت میرے ساتھ اتنی مہربان ہو سکتی ہے ۔ اللہ تعالی مجھ پر اتنا ترس کریں گے۔ جبکہ میرے والدین بھی میرے مخالف تھے ۔ لیکن ان کی اطاعت کرنا میرا حق تھا۔ رب کی ذات نے بہت کرم کیا ہے ۔ جب اللہ پاک کسی بندے کی سننے پر آتے ہیں نا ایسے اسباب پیدا فرماتے ہیں کہ انسان خود حیران ہوجاتا ہے ۔ میرے لیے خوشیوں کی بہار کا سبب بھی ایک ایسا شخص بنا جس کے متعلق مجھے وہم و گمان بھی نہیں تھا۔
٭٭٭
ہادیہ کے والد انس کے بابا جان کے دوست تھے۔ ہادیہ کے والد ہادیہ کا رشتہ انس سے کروانا چاہتے تھے لیکن ہادیہ نے ساری حقیقت اپنے والد کو بیان کر دی تھی۔ہادیہ کے والد عنایہ کے والد کے کاروباری دوست تھے۔ انہوں نے کاروباری سلسلے میں انس کے بابا جان کو عنایہ کے بابا جان سے متعارف کروایا تب انکشاف ہوا کہ وہ میٹرک کے کلاس فیلو رہےبعد میں تیز رفتار دنیا کی بھیڑ میں گم ہو گئے تھے۔
٭٭٭
شادی کی رسوما ت میں انس کا کردار بےجان تھا لیکن چونکہ وہ اداکاری کرنے میں ماہر تھا تو اس دن بھی خوب اداکاری کا مظاہر ہ کیا تھا ۔ دلہن کی رخصتی ہوئی ۔ بارات گھر پہنچی ۔ شاندار استقبال ہوا۔ "چاند سی بہو" لانے کی خواہش انس کے والدین کی آج پوری ہو گئی تھی۔ اس نے والدین کی خواہش پر اپنی چاہت کو قربان کر دیا تھا۔ رات کے دس بج چکے تھے۔ انس نے بھی دوستوں سے اجازت چاہی کیونکہ وہ تھک چکا تھا۔ دوستوں کی بیزار کن باتوں سے اور دماغ سوچ سوچ کر تھک گیا تھا۔ بے دلی سے دلہن کے کمرہ میں گیا۔ وہ اسے ڈسپلن کے بہت سے قوانین بتانا چاہ رہا تھا اور یہ بھی بتانا چاہ رہا تھا ۔ اس مقصد کے لیے عروسی لباس میں گھونگھٹ کےپیچھے چھپی دلہن کے پاس بیٹھا۔ بہت جی کڑا کرکے اس نے گھونگھٹ اٹھایا۔جب گھونگھٹ اٹھایا تو دولہا اور دولہن کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔ انس کی دلہن کوئی اور نہیں بلکہ عنایہ تھی۔
٭٭٭ختم شد٭٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Kabeer

Read More Articles by Abdul Kabeer: 25 Articles with 24794 views »
I'm Abdul Kabir. I'm like to write my personal life moments as well social issues... View More
31 Dec, 2018 Views: 434

Comments

آپ کی رائے