سر میں ابھی کنواری ہوں!

(Prof. Niamat Ali Murtazai, )

وہ کاشف کی پانچ سال پرانی شاگردہ تھی۔آج بازار میں ایک دکان میں اچانک اس کی نظر کاشف پر پڑی تو فوراً اس کی طرف لپک آئی۔اتنے تپاک سے ملی کہ وہ شاگرد نہیں بلکہ کوئی پرانی دوست لگ رہی تھی۔ اس نے کہا سر میں ابھی کنواری ہوں، آپ کب فری ہوتے ہیں میں گھر آؤں گی۔ اسے باتوں باتوں میں یہ دھیان بھی نہ رہا کہ کاشف کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہے اور اس کی شادی ابھی کچھ ماہ پہلے ہی ہوئی ہے اور ابھی فریقین شک شبہ کی کیفیت سے مکمل آزاد بھی نہ ہوئے تھے۔

تہمینہ شروع ہی سے بہت بے باک سی لڑکی تھی۔اس میں مشرقی لڑکیوں والی ہچکچاہٹ کم دیکھنے کو ملتی تھی۔وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔لاڈ پیار بھی اس معاملے میں بنیادی رول پلے کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کی طبیعت بھی کھلی ڈھلی ہوتی ہے۔ بات دل میں رکھنے کی بجائے زبان پے رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔تہمینہ بھی ایسے لوگوں میں سے واقع ہوئی تھی۔شکل وصورت کے لحاظ سے درمیانے درجے میں تھی۔نہ اس قدر حسین کہ شہر دیوانہ ہو اور نہ اس قدرغریب کہ کسی کا دیکھنے کو دل ہی نہ چاہے۔ اس کے چہرے پر کشش کے کچھ عناصر ضرور جلوہ گر تھے۔اور محبت تو ان باتوں سے ویسے ہی آزاد ہے۔

حسنِ اتفاق سے تہمینہ کو کس سے اور جس کو تہمینہ سے محبت ہوئی وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا ممیرا کزن آصف تھا۔اتفاق سے آصف کو بھی قدرت نے بہن بھائیوں کے بندھنوں سے آزاد ہی رکھا تھا۔ دونوں کی رہائش بھی ایک ہی محلے میں تھی اور دونوں ہم عمر ہونے کے ساتھ ساتھ ہم مزاج بھی تھے۔دل کے کھرے ، زبان کے نڈرے۔دل و زبان کی یکجائی کسی کسی کو ملتی ہے۔دونوں کو ایک دوسرے کی یہ عادت بہت پسند تھی۔

بی اے کی تیاری کے لئے جب تہمینہ نے کاشف صاحب کے پاس اکیڈمی رکھی تو اسے لانے اور لے جانے کی ذمہ واری آصف کے ملتجی کندھوں پر ہی آئی۔تہمینہ کی کلاس کی لڑکیاں اکثر تعجب کا اظہار کرتیں کہ تہمینہ کو کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اپنے کزن کے ساتھ ایسے پھرتی ہے جیسے۔۔۔۔۔۔۔تہمینہ کو یہ باتیں اتنی بری نہ لگتیں کیونکہ وہ اصل بات بھی جانتی تھی اور اسے کسی کا ڈر بھی مارا نہیں تھا۔لیکن جب کاشف صاحب نے خود ایک دن اسے ایسی باتوں پر کچھ سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے انہیں صاف صاف بتا دیا کہـــ اس کی آصف سے منگنی ہو چکی ہے ااور وہ جلد ہی ا شادی بھی کرنے والے ہیں۔ ان کے درمیان کسی قسم کاکوئی غلط تعلق ہرگز نہیں ہے۔ یہ اس کی مجبوری ہے کہ آصف کے علاوہ اسے اکیڈمی لانے اور لیجانے والا کوئی نہیں ہے۔کاشف صاحب ان باتوں سے کافی زیادہ مطمئن ہو گئے تھے۔اور کچھ ہی دنوں بعد ان کو سرکاری ملازمت ملنے سے انہیں کسی دوسرے شہر جانا پڑا۔

ایک دن آصف تہمینہ کو اس کے گھر ڈراپ کرنے لگا تو اسے پتہ چلا کہ اس کے ماں باپ بھی تہمینہ کے گھر آئے ہوئے ہیں۔اس نے تہمینہ سے جانے کی اجازت چاہی تو اس نے اسے اندر آنے کو کہا۔ وہ اندر گئے تو دونوں کے والدین ان کی شادی کی تاریخ طے کرنے کی باتیں کر رہے تھے۔یہ باتیں گھر میں ویسے بھی کچھ دنوں سے چل رہی تھیں۔ دونوں کے والدین بھی ان کی محبت اور قربت سے خوش تھے اور ان کو جلد ہی ازدواجی زندگی میں اکٹھا کر دینا چاہتے تھے۔کیونکہ زمانے کی زبان کو کون روک سکتا ہے۔

زمانے کی زبان کو کوئی نہیں روک سکتا تو زمانے کی چال کو بھی کوئی نہیں روک سکتا۔گھر میں انتہائی خوشی اور شادمانی کا سماں تھا۔دونوں خاندانوں کو ایک دوسرے سے بہتر مل بھی نہ سکتا تھا۔اور سب سے بڑی بات کہ لڑکی لڑکا ایک دوسرے کو حد سے زیادہ چاہتے تھے۔

ابھی دل مستقبل کے جھولے میں بیٹھے کا سوچ ہی رہے تھے کہ قسمت نے اپنا ستم کر دکھایا۔اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ آصف سمجھا کوئی دوست یا رشتہ دار آیا ہو گا ۔اس نے دروازہ کھولا۔تین آدمی، پنٹ شرٹ پہنے، آنکھوں پر کالی عینکیں لگائے ،زبردستی اندر گھس آئے۔انہوں نے اندر آتے ہی ریوالور نکال لیے۔ آدمیوں کے ہینڈزاپ کروادیے،اور خواتیں سے کہا کہ جو کچھ پہنا ہے اتار دیں اور جو کچھ رکھا ہے خود ہی نکال کے ان کے حوالے کر دیں۔یہ تو کوئی فلمی سین کی کیفیت بن گئی تھی لیکن یہ حقیقت تھی کوئی خواب یا ڈرامہ نہ تھا۔گھر میں سناٹا چھا گیا۔ موبائل بھی انہوں نے اپنے قبضے میں لے لئے۔ اور تمام افرا د کو خوب ڈرا دیا۔سب سہم گئے۔دو افراد لوٹنے میں مصروف رہے اور ایک گھر والوں پر ریوالور تانے کھڑا رہا۔

کوئی آدھ گھنٹے تک انہوں نے اپنا کام تسلی سے کیا۔ زیورات اور قیمتی چیزیں ایک تھیلے میں باندھ کر جب وہ جانے لگے تو آصف نے ان میں سے ایک کا ریوالور چھیننے کی ناکام کوشش کی۔انہوں نے اس پر فائر کر دیا پھر دوسرا فائر کیاکو کہ آصف کے دل کے قریب لگا اور وہ ڈکیت فرار ہو چکے تھے۔ آصف زمین پے گرا آخری سانسیں لے رہا تھا اور اس کے چاہنے والے خاص طور پے تہمینہ اس کے جسم سے لپٹ کے نا قابلِ بیان انداز میں رو رہی تھی۔خون بہہ رہا تھا اور آصف کا وجود ٹھنڈا ہو رہا تھا۔کچھ ہی دیر میں واویلا سن کے آس پاس کے لوگ بھاگے آئے تھے۔ انہوں نے آصف کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہسپتال لے جانے کی سبیل کی لیکن قدرت آصف کی زندگی مکمل کر چکی تھی۔

مرنے والوں کے ساتھ مرا تو نہیں جاتا، لیکن مرنے والوں کو اپنی زندگی میں رکھا تو جا سکتا ہے۔ تہمینہ نے اسی لمحے زندگی بھر کا قصہ تمام کر دیا تھا کہ وہ اب زندہ رہے گی صرف اور صرف آصف کی منگیتر بن کر وہ اسی کی رہے گی چاہے اس سے اس جہان میں ملے۔اس دنیا کی تنہائی آصف کی یاد سے بہلائے گی۔لیکن وہ کنواری ہی رہے گی۔

کاشف اور تہمینہ کی اس واقعہ کے بعد کبھی ملاقات تو نہ ہو سکی،لیکن کاشف کو پتہ چل گیا کہ تہمینہ کیساتھ ایسا ہو چکا ہے۔کاشف کی بیوی کو جب ان ساری باتوں کا علم ہوا تو اس نے کاشف سے کہا کہ آپ تہمینہ کو گھر بلائیں ۔ میں اسے اپنی چھوٹی بہن بنانا چاہوں گی اور اس کے غم میں شرکت کر کے اپنے حصے کاغم بانٹنا چاہوں گی۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 41109 Print Article Print
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 156 Articles with 134928 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More

Reviews & Comments

Language: