کیلشیم کے انسانی جسم پر اٖثرات

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:رابعہ شبیر
کیلشیم کا شمار منرلز یا قدرتی معدنیات میں کیا جاتا ہے۔ جسم میں کیلشیم کی کل مقدار کا تقریباً %66 ہڈیوں میں پایا جاتا ہے جو کہ انسانی ڈھانچے کی اصل بنیاد ہیں۔ہڈیوں میں کیلشیم، کیلشیم کاربونیٹ اور فاسفیٹ جیسے کمپاؤنڈز کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ انسانی جسم میں کیلشیم کل انسانی وزن کا تقریباً ایک فیصد حصہ بنتا ہے اور خون میں اسکی مقدار 100-90 ملی گرام فی لیٹر ہے۔ کیلشیم یوں تو کم مقدار میں چاہیے لیکن اسکی موجودگی انسانی جسم کے متوازن طریقے سے کام کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انسانی جسم میں ہڈیوں اور دانتوں دونوں کی بناوٹ اور پائیداری میں کیلشیم بہت ضروری عنصر ہے۔ خون جمنے کے عمل جسے(cloting) کہا جاتا ہے جو کہ زخم یا انجری کی صورت میں خون کے زیادہ بہہ جانے سے ہونے والے نقصان کو روکتا ہے ۔کیلشیم کی کمی پٹھوں کے کھچاؤ کا باعث بنتی ہے جو بعد ازاں پٹھوں کے مسلسل درد کا باعث بنتا ہے۔ مزید یہ کہ انسانی جسم میں ہونے والے کیمکل ری ایکشنز کو تیز کرنے والے اینزائمز کو ایکٹو کرنے کے لیے کیلشیم کی ہی ضرورت ہوتی ہے اگر کیلشیم کو مناسب مقدار میں نہ لیا جائے تو ان اینزائمز کی کارکردگی پر برا اثر پڑتا ہے۔

کیلشیم کی کمی کی وجہ سے انسانی جسم پرہونے والے اثرات:
انسانی جسم کیلشیم کی کمی کے باعث بہت سی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔کم عمر بچوں میں ہڈیوں میں ٹیڑھے پن اور بڑوں میں معمولی دباو سے ہڈیوں کا ٹوٹ جانا کیلشیم کی کمی کے اثرات ہیں اگر بچوں کو کیلشیم مناسب مقدار میں نہ دیا جاے تو ان کا قد نہیں بڑھ پاتا۔کیلشیم کی کمی کی وجہ سے گوائیٹر جیسی بیماری ہو سکتی ہے۔مزید براں کیلشیم کی کمی سے موٹاپا،دل کا دورہ، چھاتی میں درد،پٹھوں میں کھچاؤ،تھکاوٹ، سکن کا خشک ہونا،ناخنوں کا خراب ہونا،خارش اور دانتوں کا خراب ہو جانا شامل ہے۔
غرضیکہ کیلشیم کی کمی انسانی صحت پر برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ کیلشیم کی کمی کو دور کرنے یا انسانی جسم میں اسکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قدرتی طور پر موجود اجناس، جس میں کیلشیم کافی مقدار میں پایا جاتا ہے استعمال کرنی چاہیے۔دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء کا استعمال بہت فائدہ مندہے۔اس کے علاوہ انڈے کی زردی،پھلیاں اور پتوں والی سبزیوں میں بھی اسکی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ کم عمری میں جب نشوونما تیز ہوتی ہے اور ہڈیاں بھی تیزی سے بڑھتی ہیں تو کیلشیم کی ضروریات بڑھ جاتی ہیں۔

اسی طرح حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو بھی کیلشیم کی بہت ضرورت ہوتی ہے اگر کیلشیم سے بھرپور خوراک کا مناسب استعمال کیا جائے تو دودھ پلانے سے ہونے والی کیلشیم کی کمی کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔کیلشییم سے بھرپور غذائی اجزاء کا استعمال بے حد ضروری ہے تا کہ اسکی کمی سے ہونے والی بیماریوں سے بچا جا سکے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 520123 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Dec, 2018 Views: 1551

Comments

آپ کی رائے