ہم بھی سمجھدار ہیں

(Maryam Wazeer, )

تمام لوگوں کو آواز آرہی ہے؟ بتائیں؟ بتائیں سمجھ آرہی ہیں ؟ کوئی ایک بتا دیں. پوچھنے والی نے شان بے نیازی سے پوچھا. تمام شرکاء سننے میں اس قدر مگن تھے کہ "جی ہاں" ، یا" ہاں سمجھ آرہا ہے" یا نہیں آیا"، بولنا ہی بھول بیٹھے تھے.
پھر ایک وجہ یہ بھی تھی کہ تمام مائیک بند ہوتے تھے کلاس کے دوران، اس کو فوراً کھول کر جواب دیا جاسکتا ہے، یہ بات شاید آخر تک کچھ لوگ سمجھ نہیں پائے.
شروع کے چند دن مائیک کھولے بھی رہے مگر جو انواع واقسام کی باتیں سننے کو ملیں،توبہ توبہ، کہیں منے کے ابا کو بچے سنبھالنے کا کہا جارہا ہوتا، کہیں منے کو "سمجھایا" جارہا ہوتا کہ "میں ابھی کلاس لے رہی ہوں" . منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنستے، ایک دن خود ہمارا مائیک غلطی سے کھولا رہ گیا، مزے سے فروٹ چاٹ کہتے ہوئے اس کی تعریف و توصیف کرنے لگے. جو پوری کلاس میں سنا بھی گیا اور پوچھا بھی گیا کہ، "کیا ہے اس قدر مزے کا کہ کوئی حد نہیں!"
یہ اوپر جو بتایا گیا ہے وہ زوم پر لی گئی موبائل گرافکس کورس کی کلاس کا ایک مختصر سا منظر ہے. کل بارہ دن، 40 منٹ کی کلاس کا دورانیہ "بہت اچھے" طریقے سے استعمال کیاجاتا رہا . جب کبھی کوئی بات سمجھ نہیں آتی تو اس کلاس کے لئے بنائے گئے واٹس ایپ گروپ میں پوچھ لی جاتی جہاں دیگر افراد بھی بہت" فراخدلی" سے مدد کر دیتے.
سیکھنے سکھانے کے اس عمل کا دائرہ کار صرف خاتون سے خواتین تک تھا. مزید سمجھانے کے لیے عرض کیے دیتے ہیں کہ فی میل اونلی گروپ تھا یعنی صرف خواتین کے لیے ہی ان کلاسز کا انعقاد کیا گیا تھا.

آن لائن موبائل گرافکس کورس کا اشتہار بالکل اتفاقاً کسی دوست کی فیس بک سے ادھر ادھر چھلانگیں لگاتے ہوئے نظر سے گزرا اور چھٹ پٹ کرنے کا سوچ بھی لیا .اشتہار دوبارہ غور سے پوری آنکھیں کھول کر دیکھا تو اندازہ ہوا، ارے کورس تو دو دن بعد شروع ہورہا ہے.دل و دماغ میں بے شمار سوالات، خدشات، خواہشات، تمنائیں کلبلانے لگیں . فیس کی ادائیگی کب اور کس طرح ہوگی؟ دیگر "معمولاتِ زندگی" کو کس طرح سنبھالا جائے گا؟ آن لائن کلاس کس طرح ہوگی؟ ( کہ کبھی آن لائن کلاسز نہیں لیں تھیں نا) کتنے دورانیہ کی ہوگی؟ وقت کون سا رکھا جائے گا؟اور بھی بہت سی فکرات، پریشانیاں لاحق ہو گئیں.
خیر معمولی سی فیس موبی کیش کے ذریعے ادا کی گئی. یہ الگ داستان ہے کہ کس طرح جا کر فیس ادا کی کہ قرب و جوار میں موبی کیش نام کی بلا نہیں ہے. خیر پھر واٹس ایپ گروپ جس میں "ہم" سمیت مختلف شہروں سے کلاس کے شرکاء شامل تھے، کلاس کے متعلق معلومات دی گئیں کہ دو اوقات کار میں کلاس ہوسکتی ہے رات اور صبح میں سے جو جس وقت لینا چاہیے کلاس لے سکتے تھے. 40 منٹ کی کلاس، میٹنگ ایپ "زوم" پر ہوگی.
جس کسی کو بھی کلاس لینی ہو، "مشورہ مفت ہے" کہ مصداق؛ برائے مہربانی فون میموری خالی رکھیے، ورنہ.. آگے خود سمجھدار ہیں آپ! تو اس کلاس میں مختلف ایپز متعارف کروائے گئے اور ڈاؤن لوڈ بھی کیے گئے کیونکہ کام سمجھا کر "ہوم ورک " (اف، اف یہاں بھی ہوم ورک) اور مشق کرنے کی تاکید کی جاتی(کام سے بچنے کے لیے تو یہ کررہے ہیں اوپر سے اور کام اور ان کی مشق) ، گروپ میں نشاندہی بھی کی جاتی کہ کہاں کس چیز کی کمی و زیادتی ہے. (یعنی اجتماعی بےعزتی، سب کے سامنے، اوئی اللہ! )
ایسے ایپ بتائے گئے جو آف لائن بھی کام کرسکیں، پاکستان میں لوڈشیڈنگ کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے.
اس میں فوٹو ایڈیٹنگ (تراش خراش) کے حوالے سے بتایا گیا، کہ کسی تصویر کو ایڈیٹ کرکے کس طریقے سے اور کتنی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے(یوں سمجھیں اب آیا نا، اونٹ پہاڑ کے نیچے، گن گن کر دشمنوں سے بدلے لیے جاسکتے ہیں ) . ڈیزائننگ (تزئین و آرائش) ایک دلچسپ کام، اس کے لے سوچ کو کھلا چھوڑ دیں تو کوئی بھی چیز کیا سے کیا بن جائے گی. بقول شاعر :
جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے.
باقی اردو لکھائی کے لیے کیا کیا درکار ہوگا وہ بھی بتایا گیا. کیونکہ انگریزی فونٹ کے بارے میں کوئی بھی ایپلیکیشن آسانی سے مل بھی جاتی ہے اور طریقہ کار بھی سمجھ آجاتےہیں مگر یہاں اس خوبصورت، اچھی، معصوم و بےضرر زبان "اردو" کے حوالے سے کام کرنے کا طریقہ کار بتایا گیا. جو ہر لحاظ سے فائدہ مند رہا. (سمجھداروں کے لیے)
آخری کچھ دنوں میں ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیزائننگ کے حوالے سے سمجھایا گیا.
دنیا میں ہر لمحہ کوئی کہیں کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے اور کہیں کوئی کچھ سیکھا رہا ہوتا ہے(محنتی ، سمجھدار لوگوں کی کمی تھوڑی ہے دنیا میں ) .لیکن آن لائن دنیا میں کام کرنے کے لیے "موبائل گرافکس" کا جاننا بے حد ضروری ہے، اس لحاظ سے "موبائل گرافکس کورس "وقت کی اہم ضرورت ہے. جہاں ہر انسان امیر بننے کے لیے کوشاں ہے وہیں اس طرح کے کورسز بے حد قدروقیمت کے حامل ہیں.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Wazeer

Read More Articles by Maryam Wazeer: 6 Articles with 4151 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jan, 2019 Views: 392

Comments

آپ کی رائے