منی لانڈرنگ، چنے اور خان کا عزم

 پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اورسابق صدر آصف علی زرداری نے گھوٹکی کے علاقے خان گڑھ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’ اسلام آباد میں بہرے گونگے اور اندھے رہتے ہیں‘‘جناب آج سے چار ماہ قبل تک شاید ایسا ہی تھا جب واقعی اس شہر اقتدار میں اندھوں کا راج تھا۔ کئی دہائیوں سے ملک کو لوٹنے والوں کی شہنشاہیت تھی جنہوں نے اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لیے دوسروں کی کرپشن پر بھی آنکھیں بند کر رکھی تھیں لیکن آج نہ صرف اسلام آباد میں آنکھیں رکھنے والوں کی حکومت ہے بلکہ اس حکومت نے ماضی قریب کی حکومتوں کی ہوشربا کرپشن کی داستانیں عوام کے سامنے لاکر ان کی آنکھیں بھی کھول دی ہیں۔ پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنے اپنے دور حکومت میں ملکی وسائل اور اثاثوں کو سائنٹیفک طریقوں سے لوٹا اور کرپشن کو باقاعدہ ایک فن کا درجہ دیا۔ جو اس فن میں جتنا مشاق تھا وہ ''بادشاہ'' کا اتنا ہی منظور نظرتھا۔ماضی میں دونوں نے ہی ایک دوسرے کی کرپشن کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا لیکن اب جب قانون کے ہاتھ دونوں ہی کی شہ رگ پر جا پڑے ہیں تو اب دونوں کہیں کہیں اکٹھے ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ سندھ کو ہی دیکھ لیں وہاں کئی دہائیوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ وزارت اعلی کی کرسی پرعبداﷲ شاہ ہوں، قائم علی شاہ ہوں یا مراد علی شاہ سب جانتے ہیں کہ اصل حکم آصف علی زرداری کا ہی چلتا رہتا ہے چنانچہ منی لانڈرنگ پر جے آئی ٹی کی حالیہ رپورٹ پر اکثر خواتین و حضرات چنداں حیران نہیں ہوئے رپورٹ میں سندھ کے ترقیاتی بجٹ کو لوٹنے اور صنعتی یونٹوں کو بیمار ظاہر کرکے اپنے اپنوں کو ہی بیچنے کی تفصیلات کچھ لوگوں کے لیے خفیہ سہی لیکن نئی ہرگز نہیں۔ اس ساری صورتحال میں ایک بات تو بہت واضح نظر آ رہی ہے اور وہ ہے کہ حکومت و عدلیہ پہلی مرتبہ ملک میں سے کرپشن کی جڑیں ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور لگتا یہی ہے کہ ملک کے دوسرے طاقتور ادارے بھی ان کے ہم آواز ہیں شاید ہمیں سمجھ آ چکی ہے کہ جب تک ملک سے کرپشن، دھاندلی اور سیاسی غنڈہ گردی کو لگام نہیں ڈالی جائے گی تب تک ترقی کا خواب دیکھنا حماقت کے زمرے میں ہی آئے گا۔وطنِ عزیزپاکستان اپنے قیام سے ہی گوں ناگوں اندرونی وبیرونی مسائل اور سازشوں کا شکار رہا ہے.جن پر اس کالم میں بات کرنے کی فی الحال ضرورت نہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے اورآج جو ہو رہا ہے اسکی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے جیسا کہ اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ وطن عزیز بے شمار مسائل اور سازشوں میں گھرا رہا اور بجائے اسکے کہ یہاں صرف تعمیری امور پر توجہ دی جاتی ہمیں سازشوں اور مسائل کا چومکھی مقابلہ کرنا پڑا.مقام صد افسوس تو یہ ہے کہ جس طرح درخت کو کاٹنے کیلئے درخت کی اپنی شاخ معاون ہوتی ہے اسی طرح مملکتِ خداداد کو اندرونی مفاد پرستوں نے پے درپے نقصانات پہنچائے بدقسمتی سے ہماری قوم کا راہبروں کے روپ میں راہزنوں سے پالا پڑتارہا اور کمال مہارت کیساتھ ملک و قوم کے اثاثے لٹتے رہے صد شکر کہ اب قوم کو ایک ایسا لیڈر نصیب ہواہے جس کے بارے میں قوم کو قوی امید ہے ہے کہ وہ ان کی بگڑی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جس کے بارے میں قوم بلامبالغہ یہ سمجھتی ہے کہ وہ نہ صرف مخلص ہے بلکہ دیانت دار بھی ہے۔اندرون و بیرون ملک ثقہ تجزیہ نگاروں کی متفقہ رائے ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے کرپشن کی تمام اقسام پر جس طرح مضبوط ہاتھ ڈالا ہے اس سے پہلے اس کا تصور بھی نہیں تھاآج ایک ایک کر کے کرپشن کی تہہ درتہہ پرتیں کھولی جا رہی ہیں تو اس کے پیچھے وہ سیاسی و غیر سیاسی مکروہ چہرے سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے پاکستان کو لوٹ کا مال سمجھ کر خوب کھایا۔اسی سلسلے میں گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کے خلاف ملکی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن کرنے جارہے ہیں میڈیا کی خبریں کے مطابق اسلام آباد میں وزیراعظم آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق پاکستان سے سالانہ 10 ارب ڈالر کی منی لانڈنگ ہو رہی ہے، منی لانڈرنگ کے خلاف ملکی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن کرنے جارہے ہیں، اسی لئے سندھ سے کل سے چیخیں آنا شروع ہوگئی ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے کرنسی باہر سمگل ہو رہی ہے، کرنسی کی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو بہتر شرائط پر قرضہ دے گا، تاہم آئی ایم ایف کے پاس جانے کی کوئی جلدی نہیں ہے، آئی ایم ایف کا رویہ ہم سے مختلف تھا ایک وجہ سیاسی تھی اب وہ ہماری بات سمجھ رہے ہیں، حکومت نے مشکل فیصلے کرلیے ،اب آگے آسانیاں ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کیسواتمام طاقتوں کے ساتھ معاملات بہتر ہو رہے ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے پروگرام پرعمل درآمد ہمارے مفاد میں ہے، آرمز کے خلاف کارروائی نیشنل ایکشن پروگرام کا حصہ ہے۔امیدِ واثق ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے تمام وعدوں کو پورا کریں گے اگرچہ اس میں خاصا وقت درکار ہے اور وزیر اعظم کے پاس جادوکی کوئی چھڑی نہیں بلا شبہ اس ملک کو اس حال تک پہنچانے والے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے بلکہ لوہے کے چنے بننے کی اپنی سی بھرپورکوششیں کر رہے ہیں مگر وزیر اعظم عمران خان بھی عزم صمیم کیساتھ وکٹ سنبھالے ہوئے ہیں اور قوم کو وکٹری سٹینڈ پر پہنچا کر ہی دم لیں گے. ہماری صلاح ہے کہ عوام کوبھی صبر سے کام لیں اور فی الحال پٹرولیم مصنوعات میں تقریبا پندرہ روپے تک کمی کی خوشخبری کو نئے سال کا تحفہ سمجھ کر انجوائے کریں نئے سال کے شروع میں ہی عوام کے لئے یکم جنوری سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے پٹرول اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے یقینا عوام کو ریلیف ملے گا نوید تو یہ سنائی گئی تھی کہ پٹرول گیارہ روپے کم کیا جائے گا لیکن تقریبا پانچ روپے کمی کی گئی ہے بیرکیف کمی تو ہوئی تو جناب صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے دھیرج رکھئیایک مرتبہ منی لانڈرنگ اور کرپشن کا بے کل اونٹ احتساب کے پہاڑ کے نیچے آجانیں دیں پھرمزید خوشخبریاں بھی ملتی رہیں گی.


 

Fahmida Butt
About the Author: Fahmida Butt Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.