ڈی جی آئی ایس پی آرکا بیانیہ،نوجوانوں کے لئے پیغام

(Mehr Basharat Siddiqui, )

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کاکہنا ہے کہ ترقی ہماری منزل ہے اور ہم اسے حاصل کرکے رہینگے، ملکی استحکام، حفاظت کے لئے پاک فوج بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی، ایک ڈرون واپس نہیں جا سکتا تو سرجیکل سٹرائیکس کرکے بھارتی کمانڈوز کیسے واپس جا سکتے ہیں۔ بھارت کو بتانا چاہتے ہیں باتوں سے سرجیکل سرائیک نہیں ہوتا۔ اتحاد، تنظیم، یقین محکم پر چل کر ہم آگے بڑھ سکتے ہیں، سیاسی استحکام ہو گا تو جمہوریت آگے چلے گی اور پاکستان آگے بڑھے گا، پچھلے دو دہائیوں میں مشکل سفر طے کیا ہے دہشتگردی کے خلاف جنگ بہت مشکل سفر تھا، آپریشن ردالفساد میں بہت پیش رفت ہوئی ہے اس کا مقصد ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی ہے، نئی جنگ جہالت کیخلاف، تعلیم، صحت اور روزگار کیلئے ہے، اب ہم دہشتگردی سے متاثر لوگوں کی بحالی کی جنگ لڑ رہے ہیں، فوج کوئی ایسا کام نہیں کرے گی جو پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ہو، پاک فوج میں احتساب کا نظام انتہائی سخت ہے، بھارت ہمیشہ مذاکرات سے بھاگا ہے وہ مذاکرات کی طرف آئے، باتوں سے سرجیکل سٹرائیکس نہیں ہوتی، ایک جنگ سے رویہ نہیں بدلا تو سو جنگوں سے کیسے بدلے گا، پاکستان نے ہمیشہ امن کی خواہش کی ہے اور وہ خطے میں امن چاہتا ہے، جنگ کی دھمکیوں سے مسئلے حل نہیں ہوں گے، اگر بھارت نے جنگ کی تو پاک فوج بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور ایک مستحکم افغانستان ہی مستحکم پاکستان کے لئے بہتر ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے جائے تو ترقی کا عمل جاری و ساری رہے، افغانستان میں نئی قیادت آتی ہے تو ترقی اور بحالی کے لئے بڑھنا ہو گا، فوجی عدالتوں میں 646 کیسز مکمل ہو چکے ہیں، فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے فیصلہ حکومت کا ہو گا، میڈیا پر سنسرشپ کی باتیں غیر ملکی میڈیا کیوں اٹھاتا ہے، جتنا پاکستان میں میڈیا آزاد ہے کسی ملک کا نہیں، پی ٹی ایم کے جھنڈ ے تلے جائز مطالبات پر کوئی اعتراض نہیں، ردالفساد میں پیشرفت ہوئی ہے اس کے ذریعے پاکستان میں قانون کی بالا دستی دیکھ رہے ہیں، بہت سی قوتیں پاکستان میں عدم استحکام کی کوششیں کرتی ہیں، کلبھوشن کا معاملہ عدالت میں ہے اس پر ردعمل نہیں دے سکتا۔ اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے عسکری قیادت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے کی استطاعت دی۔ پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اور عوام کے بھی شکرگزار ہیں۔ آپریشن شیر دل 2008 میں شروع ہوا۔ جنرل کیانی سے شروع ہونے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ کو جنرل باجوہ آگے لے کر چل رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ بہت مشکل کام تھا، 5000 خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشنز کیے۔ 2700 کلومیٹر باڑ لگا رہے ہیں، 900کلومیٹر تک لگا دی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کامیاب بنائی۔ آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری جس کا مقصد ایک ریاستی عملداری اور قانون کی بالا دستی والا ملک ہو اس آپریشن کے تحت 35 ہزار غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا۔ دہشتگردی کے سامنے ڈٹ کرکھڑے رہنے پر خیبر پختونخوا اور فاٹا کے عوام کو سلام پیش کرتے ہیں۔ فاٹا کے عوام مشکل میں رہنے کے بعد دلبرداشتہ ہیں اب ہم نے ان کی آباد کاری کے ساتھ ساتھ سہولیات فراہم کرنی ہیں۔ فاٹا میں ڈھانچہ جاتی ترقی ہو چکی ہے لیکن اس کا فائدہ عوام کو پہنچانے کے لئے ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔ ہم نے کنیٹک مرحلے کے ذریعے تمام دہشتگرد مار دیئے اب ترقی کی جنگ ہے جس کے تحت فاٹا میں تعلیم، صحت کی سہولیات سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جانی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ ہماری 2611 کلومیٹر طویل سرحد ہے اگر اس میں امن نہیں ہوگا تو پاکستان میں بھی پائیدار امن نہیں ہو سکتا اور پاکستان سے زیادہ افغانستان میں امن کی خواہش کسی اور ملک کی نہیں۔ افغان مصالحتی عمل میں پاکستان اور حکومت پاکستان اپنا کردارادا کر رہی ہیں۔ افغانستان میں اگر افغان عوام کے زیر قیادت حکومت اور امن آتا ہے تو بہتر ہوگا تاہم اگر امریکہ افغانستان سے جائے تو وہ غیر مستحکم افغانستان چھوڑ کر نہ جائے بلکہ وہ ترقیاتی عمل کو مکمل کرے۔ کیونکہ غیر مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی طرف سے بیانات کا دفتر خارجہ نے جواب دیدیا۔ بھارت ہمیشہ پاکستان کے سلوگن سے اپنے انتخابات لڑتا ہے اور ایسی باتیں ان کے سیاسی انتخابات کی ہیں۔ پاکستان نے اپنے ملک کے مفاد میں جو کرنا ہے کرے گا۔ ہمیشہ جنگ کی بات بھارت نے کی نہ کہ پاکستان نے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی۔ بھارتی دھمکیوں کا اثر پاکستان اور انڈیا کے ساتھ ساتھ خطے کے امن پر بھی پڑتا ہے۔ حالات بہتری کی طرف جا رہے تھے تو بھارت نے سیاہ چن کر دیا، ہمیشہ حکومت پاکستان نے امن کی بات کی ہے۔ کوئی بھی ریاست جنگ کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی اور نہ ہی ان سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ جنگ ہوئی تو پاکستان کی مسلح افواج اس کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور وہ اس کا بھرپور جواب دیں گی۔ بھارتی وزیر اعظم کا خود کہنا ہے کہ سرجیکل سٹرائیک کو ہمارے ملک کے لوگ نہیں مانتے تو یہ بالکل ٹھیک ہے کہ ایک چیز جو ہوئی نہیں اس کو لوگ کیسے مانیں گے۔ جب بھارت کا ایک ڈرون واپس نہیں جا سکتا تو پھر سرجیکل سٹرائیک کرکے کمانڈوز کیسے سرحد پار سے واپس جا سکتے ہیں۔ بھارت میں انتخابات پاکستان مخالف بیانات پر لڑے جاتے ہیں۔ جھوٹ کے کوئی پاؤں ہوتے نہیں۔ انہوں نے آج تک اپنے عوام کو تو ثبوت دیئے نہیں پھر باتوں سے سرجیکل سٹرائیک کیسے ہوتے ہیں۔ بھارت ہمیشہ ڈائیلاگ سے بھاگا ہے۔ سوشل میڈیا ایک طاقتور ہتھیار بن کر سامنے آیا ہے، بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے بارے میں آگاہی نہیں ہے۔ ہمارا مذہب کہتا ہے کہ جس کی تصدیق نہ ہو اس کو آگے نہ کریں لیکن سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے مواد فارورڈ کر دیا جاتا ہے۔ اس میڈیا پر پاکستان مخالف طاقتیں ان پیغامات کو فروغ دے رہی ہیں جو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کر سکیں، تصادم کرا سکیں۔ پاکستان کی دشمن قوتیں باہر بیٹھ کر پاکستان مخالف بیانیہ دینے کی کوشش کر رہی ہیں حالانکہ پاکستان میں استحکام آرہا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا میں عدم استحکام سمیت وہ باتیں آئی ہیں جو ہوئی نہیں ہوتیں۔ ہماری نوجوان نسل کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سوشل میڈیا کی برائیوں سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو تیار اور مورال بلند کرنے میں میڈیا نے ہمارا ساتھ دیا۔ پاک فوج کے زیر انتظام جتنے بھی فلاح کے منصوبے ہیں ان میں ایک انچ بھی سرکاری زمین کا اور ایک پیسہ دفاع کے بجٹ کا استعمال نہیں ہوتا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے 6 ہزار سے زائد شہداء ہیں جن کے لواحقین کی تمام دیکھ بھال ہم کرتے ہیں۔ ایک ملین کا پیکیج ایک شہید کے لئے کچھ نہیں۔پاک فوج نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دنوں میں جمہوریت کی جتنی حمایت کی اسے اتنی کبھی بھی شاید نہ رہی ہو۔ وہ فوج جس نے عوام کی حمایت سے قربانیاں دے کر کامیابیاں حاصل کی ہوں وہ کبھی ایسا کام نہیں کر سکتی جو اس ملک کو ترقی کی راہ سے ہٹا کر کسی دوسری راہ پر لے کر جائے۔ 2018 تبدیلی کا سال ہی تھا کیونکہ الیکشن سے تبدیلی آئی ہے۔ ہم سب مل کر ایساکام کریں جو پاکستان کے عوام کے لئے بہتر ہو۔ پاک فوج کا احتساب کا نظام بہت سخت ہے۔ فوج کا ادارہ ایسا ہے جو تنہائی میں رہتا ہے اور اس کا احتساب اور رہن سہن کا نظام کسی کو نظر نہیں آتا گزشتہ دو سال میں 412 افسران جن میں سیکنڈ لیفٹیننٹ سمیت ہر رینک کا افسر شامل ہے ان کے خلاف کارروائی ہوئی اور ان کو اس کی خلاف ورزی کے مطابق سزائیں بھی ہوئیں۔ جیل کی سزائیں بھی ہوئی ہیں اگر پاک فوج کے احتسابی نظام کا آدھا بھی دوسرے اداروں میں شروع ہو جائے تو نظام بہتر ہو جائے گا۔ سزا کے ساتھ ساتھ عملدرآمد بھی کرایا جائے۔ اے ایس ایف دیگر سکیورٹی اداروں کی طرح منظم ہے۔ کلبھوشن کیس آئی جے سی میں چل رہا ہے۔ اس پر ردعمل نہیں دے سکتے تاہم دیکھیں گے کہ اس میں کونسا فیصلہ آتا ہے اور حکومت پاکستان کیا لائحہ عمل طے کرتی ہے۔ کلبھوشن کی رحم کی اپیل آرمی چیف کے پاس ہے۔ ہمارا ایمان، تنظیم اور یقین محکم کا جذبہ ہے ہمیں اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اتفاق اتحاد اور اعتماد سے ہم لوگ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ہماری زندگیاں پاکستان کی عوام کے لئے وقف ہیں اور ہم وہ ہر کام کریں جو اس ملک میں استحکام لائے ہم قوم کو مایوس نہیں کرینگے۔ اندرونی خطرات کا بھی دفاع کریں گے، انہوں نے کہا کہ ترقی ہماری منزل ہے اور ہم اس کو حاصل کرکے رہینگے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehr Basharat Siddiqui

Read More Articles by Mehr Basharat Siddiqui: 18 Articles with 5204 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jan, 2019 Views: 196

Comments

آپ کی رائے