موجودہ حکومت اور مولاناولی رحمانی کا کردار

(نظرعالم, India)

بقول امام غزالیؒ :
’’رعیت کی خرابی کا سبب سلاطین کی خرابی ہے اور سلاطین کی خرابی کا سبب علماء کی خرابی ہے اس لئے کہ اگر خدا ناترس قاضی اور علماء سوء نہ ہوتے تو سلاطین اس طرح نہ بگڑتے اور ان کو علماء کی روک ٹوک کا کھٹکا ہوتا‘‘
(احیاء علوم الدین، ج۔۲، ص۔۱۳۲)

ہند کے موجودہ حکمراں کی حالت ایسی ہے جس کا ذکر بار بار کرنا مناسب نہیں۔ اب ہمارے سامنے سوال یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار کون لوگ ہیں؟ زبان زد ہے: ’’ عوام جیسی ہوگی حکمراں ویسے ہونگے‘‘ مگر امام غزالیؒ کی مانیں تو عوام کی خرابی کی اصل وجہ حکمراں طبقہ کی خرابی اور حکمراں کی خرابی کا واحد سبب علماء کی خرابی ہے۔ ایک اور جگہ خود امام غزالیؒ نے علماء کو طبیب کہا ہے، لکھتے ہیں:۔
’’مریض موجود ہیں اور طبیب مفقود، طبیب علماء ہیں اور وہ خود اس زمانہ میں بری طرح بیمار ہیں اور علاج سے عاجز ہیں‘‘
(احیاء علوم الدین، ج۔۲، ص۔۱۳۲)

مذکورہ باتیں امام غزالیؒ کو کہے ہوئے لگ بھگ ہزار سال بیت گئے، مگر باتیں اس عالمی پیکر میں ڈھلی ہوئی ہیں جو وقت کے ساتھ نکھرتی ہی چلی جارہی ہیں۔ اسے موجودہ ہند کی حالت پر اگر تولیں تو پوری کی پوری کھڑی اُتریں گی۔ سن ۲۰۱۴ء سے قبل ملک کی صورت گرچہ اچھی نہیں اتنی بدترین بھی نہیں تھی۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ ہرملک ہرقوم کو عروج و زوال سے گزارا جاتا ہے مگر اس کے بھی کچھ عالمی قاعدے ہوا کرتے ہیں، بقول ایک داناؔ :
’’مسلمانوں سے زیادہ بیدار اس جہاں میں کون سی قوم ہوسکتی ہے جو اِس جہاں میں رہ کر بھی اُس جہاں کی خبر رکھتا ہے۔‘‘

افسوس صد افسوس کے آج مسلمانان عالم بالخصوص مسلمانانِ ہند کی حالت اس کے برعکس ہے اور اس کی واحد وجہ علماء سوء ہیں جو آج ہماری قوم میں ایک مہلک مرض کی طرح پھیل چکے ہیں۔ ۲۰۱۴ء کے انتخاب کے بعد مرکز میں بی جے پی کی حکومت بنی جو شروع سے ہی مسلمانوں کے خلاف رہی ہے، بلکہ یوں کہا جائے اس کی بنیاد ہی مسلم مخالفت پرقائم ہے۔ پر ہمیں اس سے کیا فرق پڑنا چاہئے تھا۔ اس احساس کو حالیؔ نے کیا ہی خوبصورت انداز میں کہی ہے:
حکومت نے تم سے کیا گر کنارا
تو اِس میں نہ تھا کچھ تمہارا اجارا
زمانہ کی گردش سے ہے کس کو چارا
کبھی یاں سکندر کبھی یہاں ہے دارا
نہیں بادشاہی کچھ آخر خدائی
جو ہے آج اپنی تو کل ہے پرائی

مگر ہم نے اپنے آپ کو اس احساس سے روسناش نہیں کیا، ہمارے علماء انتخاب سے قبل اور انتخاب کے بعد ذاتی مفاد کی خاطر میدان میں کود پڑے اور ہند کا کھیل ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔ تاریخ شاہد ہے سوائے مذہب اسلام کے کسی مذاہب نے اقلیت کے لئے کوئی صالح قدم نہیں اٹھایا، ہمیشہ اسے دبایا گیا، کچلاگیا اور جلاوطن کیا گیا۔ موجودہ دور میں برما اس کا جیتا جاگتا مثال ہے۔ ۲۰۱۴ء کے انتخاب کے بعد جو ایک چہرہ ہمیشہ مذہبی معاملوں کو لیکر سرخیوں میں رہا وہ نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، دُنیا اُنہیں ولی رحمانی کے نام سے جانتی ہے۔ مجھے کوئی ذاتی عناد اُن سے نہیں مگر حالات جب بدسے بدتر ہوچکے ہیں تب اُنہیں ایک خاص پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عوام کا بڑا طبقہ ہمیشہ سے ہی علماء کی تعظیم وتکریم کرنے کا خود کو مستحق مانتا رہا ہے۔ شاید اُس کی وجہ وہ اپنے لئے اسے راہِ نجات مانتے ہیں۔ جس کا سیدھا فائدہ اُن کی معصومیت سے علماء سوء نے اُٹھایا ہے۔

مولاناولی رحمانی صاحب ایک ماہرنفسیات اور سیاست داں ہیں اُنہیں پتہ ہے ایک خاص طبقہ کو اندھیرے میں رکھ کر حکومت کیسے کی جاتی ہے۔ مجھے معاف کیجئے اور کہہ لینے دیجئے جو بی جے پی کے رہنماؤں نے اپنے مذہب کے ساتھ کیا وہی مولانا رحمانی اپنے مذہب کے ساتھ کررہے ہیں۔ انسان کوئی خلا میں جنم نہیں لیا کرتا، وہ اپنے ماحول اور معاشرت سے ہی اپنی جسمانی اور روحانی غذا حاصل کرتا ہے۔ اس میں مولانا ولی رحمانی کا کوئی قصور نہیں۔ وہ اپنے مقاصد میں پورے کامیاب ہوتے ہوئے دِکھ رہے ہیں۔ اگر وقت رہتے ان کی رفتار پر روک نہ لگائی گئی تو اُمت اس سے بھی زیادہ بدترین دور کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوجائے۔ میری باتیں بغیر دلیل کے دعوے کے مترادف نہیں ہیں۔ آپ غور تو کریں قرآن کے بیشتر مضامین آپ کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں، مگر ہم بیزار بیٹھے ہیں۔

ہند کے آئین نے سب کو یہ حق دے رکھا ہے کہ اُس کی شخصی آزادی، اس کے بنیادی حقوق سے چھیڑچھاڑ نہ عدلیہ کرے گی نہ حکومت، پھر کس بنا پر تین طلاق کے مسئلے کو اِتنا اُچھالا گیا، دُنیا جانتی ہے بی جے پی حکومت مسلمانوں کو پریشان اور اس کے خلاف زہرافشانی کرنے ہی کے باعث حکومت حاصل کرتی ہیں۔ میرا سوال تو یہ ہے کہ ہند کا اکثریتی طبقہ بھی Majority کے ساتھ مودی حکومت کے خلاف کھڑا ہے، پھر ہمیں بلاوجہ صف آرائی کی کیا ضرورت پیش آئی۔ آپ دیکھیں گے طلاق ثلاثہ بل جو کہ ایوان میں پاس ہوجانے کے باوجود ایوان بالا میں پاس نہ ہوسکے گا، اگر مان لیں دونوں ایوانوں میں پاس بھی ہوجائے تو ہند کا آئین ہی اسے Reject کردے گا۔

ہرپہل کے پیچھے کچھ مقاصد پنہاں ہوا کرتے ہیں، کیا ولی رحمانی صاحب اس بات کو بتانے کی زحمت گوارہ کریں گے کہ پردوں کی امین مسلمان خواتین کو پورے ملک میں سڑکوں پر کیوں گھمایا گیا؟ دین پر ایسی کون سی آفت آن پڑی تھی کہ موصوف نے صرف اس پر بس نہیں کیابلکہ بہار کی راجدھانی میں ’’دین بچاؤ۔ دیش بچاؤ‘‘ کے نام سے ایک عظیم الشان جلسہ کربیٹھے۔ کیا آپ نے کبھی اس کے ردعمل پر بھی غور کیا ہے۔ ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے، سارے مذاہب کے لوگ آپس میں صدیوں سے مل جل کر رہتے ہیں، یہ بھی ٹھیک ہے کہ اکثریت کا ایک خاص طبقہ اس محبت میں زہرگھول رہا ہے، مجھے پورا یقین ہے ہند کی اکثریتی آبادی نے کبھی بھی اس زہر کو نہ قبول کیا ہے اور نہ ہی کرے گی۔ مگر یہ کیسی شرافت ہے کہ نفرت کا بدلہ نفرت سے دیا جائے۔ کیا کہوں ہمارے علماء کی حالت۔ بقول حالیؔ :
بڑھے جس سے نفرت وہ تقریر کرنی
جگر جس سے شق ہوں وہ تحریر کرنی
یہ ہے عالموں کا ہمارے طریقہ
یہ ہے ہادیوں کا ہمارے سلیقہ

علماء بگڑے، حکومت بگڑی، حکومت بگڑی اور عوام بے عقل ہوگئے۔ عوام نے ان کو رہنما مان لیا جنہیں خودرہنمائی کی ضرورت ہے۔ علماء نے خود اپنے حرکات سے شریعت کی شبیہ ایسی کردی کہ مسلمان بھی اسے مشکوک نظر سے دیکھنے لگے۔ تین طلاق پر امت میں اختلاف پہلی صدی ہجری سے ہی چلا آرہا ہے، پراختلاف تھا، جھگڑا نہیں تھا، اب اسے ولی رحمانی صاحب نے اُس موڑ پرلاکر چھوڑ دیا ہے جہاں مسلم نوجوان پھر ایک مودودی وقت کی راہ دیکھ رہے ہیں، یہ ولی رحمانی صاحب کا ایسا گناہ ہے جسے قیامت تک اس امت کے حساس افراد معاف نہیں کریں گے۔ شریعت کیا ہے اور اسے ولی رحمانی نے کیا بناکر پیش کردیا۔ مولانا حالیؔ سے سنئے:
شریعت کے احکام تھے وہ گوارا
کہ شیدا تھے ان پر یہود و نصاریٰ
گواہ ان کی نرمی کا قرآں ہے سارا
خود الدّین یسّر نبی ہے پکارا
مگر یاں کیا ایسا دُشوار اُن کو
کہ مومن سمجھنے لگے بار اُن کو
آخر میں مولاناولی رحمانی سے درخواست کی جاتی ہے کی اِس ملک میں لاحاصل جلسے جلوس کرکے ملک کی فضا کو مزیدمکدّر نہ کریں۔ موصوف کو اِس نکتہ پربھی غور کرنا چاہئے ۔۔۔ بقول مودودی ’’اگر تم قوم و ملت کو نفع نہیں پہنچاسکتے تو خاموشی اختیار کرو اور اگر تمہاری وجہ سے اُمت مسلمہ حیران و پریشان ہے تو خوبصورتی کے ساتھ اس مذہب کو چھوڑ دو، خدا دوسرے افراد کو کھڑے کردیں گے جو تم سے بہتر ہوں گے۔‘‘

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: نظرعالم

Read More Articles by نظرعالم: 2 Articles with 1119 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Jan, 2019 Views: 196

Comments

آپ کی رائے