سسٹم کی بربادی

(Amir jan haqqani, Gilgit)

سسٹم کی بربادی میں بہت سے عناصر کیساتھ یہ تین عناصر بھی برابر کے شریک ہیں۔

١۔ادارہ جاتی میٹنگز

٢۔ کنسلٹنسی

٣۔ کمیٹیاں

سسٹم کی بربادی میں بہت سے عناصر کیساتھ یہ تین عناصر بھی برابر کے شریک ہیں۔

*١۔ادارہ جاتی میٹنگز*

*٢۔ کنسلٹنسی*

*٣۔ کمیٹیاں*

*میٹنگز:* سرکاری اداروں میں چھوٹے چھوٹے امور کے لیے بھی اعلی سطحی میٹنگز ہوتی ہیں مگر ان کا ان پٹ ١٠ فیصد بھی نہیں نکلتا۔اسکا مشاہدہ ہر سطح پر عام أدمی بھی أسانی سے کرسکتا ہے۔

*کنسلٹنسی:* پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کو بین الاقوامی کنسلٹنٹوں نے کھوکھلا کردیا ہے۔تھوڑی دیر کے لیے جاٸزہ لیا جاٸے کہ انتہاٸی غیر معروف اور کم پروفیشنل انٹرنیشنل کنسلٹنٹوں نے کنسلٹنسی کے نام پر کتنا لوٹا ہے تو أنکھیں کھل جاٸیں گی۔ پاکستان کا ہر اچھا منصوبہ ان کنسلٹنٹوں کا شکار رہا ہے۔ ہماری کج فہمی دیکھیں، ہم ہر کام کے لیے بیرون دنیا سے کنسلٹنٹ ہاٸر کرتے ہیں ۔وہ أتے ہیں ڈالروں میں تنخواہ وصولتے ہیں اور ایک بےہودہ سی رپورٹ تھما کر چلے جاتے ہیں اور وہ منصوبہ ہمیشہ کے لیے کھٹاٸی میں چلا جاتا۔اس کی ایک وجہ ہے کہ ہم اپنے ماہرین پر اعتماد نہیں کرتے اور دوسروں سے لٌٹ جاتے ہیں۔بہت سے لطیفے بھی وجودمیں أچکے ہیں کہ جن بین الاقوامی کمپنیوں کے کنسلٹنٹوں کو ہم نے ڈالروں میں تنخواہ دے کر ہاٸر کیا تھا ان کنسلٹنٹوں کا چیرمین اس یونیورسٹی کا گریجویٹ نکلا کہ پاکستان میں جس منصوبے کا ڈی جی لگایا گیا تھا وہ اسی یونیورسٹی کا پی ایچ ڈی نکلا۔أج بھی پاکستان ہزاروں انٹرنیشنل کنسلٹنٹوں کے نرغے میں ہے۔

*کمیٹیاں:* ہر چھوٹے بڑے ادارہ والے اپنے کاموں کے لیے کمیٹیاں بناتے ہیں اور ان کمیٹیوں پر لاکھوں کروڈوں خرچ ہوتا مگر سالوں میں بھی ان کی فاٸنڈنگ سامنے نہیں أتی۔پارلیمنٹ کی درجنوں کمیٹیوں سے ہوتے ہوٸے وزارت داخلہ ،کورٹ،پولیس اور ایجوکیشن وغیرہ کی ہزاروں لاکھوں کمیٹیوں کا جاٸزہ لیا جاوے تو حیرت ہی ہوگی کہ بالأخر ان کے کیا نتاٸج نکلے۔بہری صورت ان چیزوں پر سنجیدگی سے سوچنی کی ضرورت ہے۔۔تو
احباب کیا کہتے ہیں؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 335 Articles with 181505 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More
06 Jan, 2019 Views: 250

Comments

آپ کی رائے