آزاد کشمیر اسمبلی اور تحریک کو خطرات

(Tahir Ahmed Farooqi, Muzaffarabad)
آزادکشمیراسمبلی اور تحریک کو خطرات

دنیا کے تمام ممالک قوموں ‘ اداروں کا وقار ‘ ترقی ‘ خوشحالی کا راز خود احتسابی اور جواب دہی ہے ‘ہمارے وطن پاکستان میں ہمیشہ سے احتساب ‘ جواب دہی کی بات ہوتی ہے تو ملک اور جمہوریت خطرے میں پڑے جانے کا شور اُٹھ جاناتا ہے مگر مِلت پاکستان نے اس بار کڑوہ گھونٹ پیتے ہوئے کرپشن کے خلاف احتساب کے آغاز پر اس واویلے پر نفرت کا اظہار توجہ نہ دیکرکیا ہے ‘ یہاں آزادکشمیر میں احتساب کے مطالبے کی آواز کو دبانے کیلئے ڈھول باجے بجنا شروع ہو گئے ہیں اور تحریک و تشخص اسمبلی کو خطرا ت کے ماہیے پڑھے جا رہے ہیں تاکہ احتساب شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی آواز دبا دی جائے جس کے لیے مختلف نعرے ‘ ایشوز اور معاملات یاد آ گئے ہیں جو پہلے بھولے ہوئے تھے یہ کتنے عجیب غریب بلکہ ظالم حسینہ کی طرح خوبصورت اتفاقات ہیں ‘ میاں نواز شریف سے خاقان عباسی کی پانچ سالہ حکومت میں عالمی سطح پر کشمیر کی آواز کیلئے آزاد حکومت کا کردار یاد نہیں آیا ‘ خارجہ اُمور کا کردار بھی بھولے رہے ‘ تشخص بھی علیل تھا ‘ نیلم جہلم کوہالہ ایشوز بھی گونگے ‘ بہرے ‘ اندھے تھے ‘ سیاسی کارکن کی توقیر اہمیت نیند کے مزے میں رہی ‘ تعمیر نو پوشیدہ رہی مگر نیب پاکستان کے یہاں کے آئین کے مطابق یہاں آنے اور لانے کے مطالبے تجویز پر غم و غصہ حتیٰ کہ دھمکیاں گونجنے لگتی ہیں جبکہ کھلی آنکھوں سے مسلسل تجربات حقائق کو دیکھا جائے تو شیشہ کی طرح ثابت ہے پورے ملک کے مقابلے میں آبادی ‘ علاقے ‘ وسائل ‘ انتظام ‘ اسباب کے حساب سے یہاں مسائل مشکلات کے سیلاب کے بجائے فلاحی نظام ہونا چاہیے تھا مگر کیا کریں زیادہ نہیں چند جیتی جاگتی مثالیں کافی ہیں ‘ اسمبلی عمارت کا بجٹ آ جانے کے باوجود کام شروع نہیں ہو سکا ‘ میڈیکل کالج کی اپنی عمارت کیلئے اراضی کے معاوضے دینے کے باوجود بجٹ ہوتے ہوئے تعمیر کی پہلی اینٹ نہیں رکھی جا سکی ہے ‘ تین سال سے رامپورہ گرڈ اسٹیشن کا انتظام نہیں سنبھالا جا سکا ہے ‘ امبور ہسپتال میں 6 ماہ سے ڈائیلاسسز مشینیں مردہ پڑی ہیں ‘ احتساب بیورو قائمقامی میں مفلوج ڈھانچہ ہے ‘ ہسپتالوں میں مریضوں سے پوچھا جاتا ہے اچھی دوائی لکھیں جس کا مطلب باہر سے خریدیں ‘ کابینہ کے سینئر وزیر کی سربراہی میں محکموں میں اصلاحات لانے کی کمیٹی کا تین سال میں نتیجہ نہ نکلنا اور بلدیاتی انتخابات کا نہ ہونا ‘ ایک کلو میٹر اولڈ سیکرٹریٹ ‘بینک روڈشاہراہ پر شاہ سلطان برج لگا کر ٹریفک کا رش کنٹرول کرنے اور سیز فائر لائن پر متاثرہ عوام کے پاس جا کر ان کے گھروں میں سارے دِن رات تو کیا ایک گھنٹہ کیلئے ان جیسی زندگی گزشتہ 13 سالوں سے اقتدار اختیار والوں کو رہنے سے محروم ہونا یہ سب کچھ عمران خان ‘ سلطان محمود ‘ علی امین کی جادوائی سحر سے نہیں ہو رہا ہے اور جب خالد ابراہیم تن تنہا اسمبلی کے اختیار کی بات کر رہے تھے تو سب سے آسان کام حکومت جماعتوں کا عدالت جا کر کیس میں فریق بننے سے بھی خلاقی مخلوق نے روکا ہوا تھا ‘ خالد ابراہیم کے چلے جانے کے بعد ان کے بیٹے کے مقابلے میں طاقت دکھانے کے باوجود ان کے جیت جانے کے بعد عدالتوں میں سرکاری اراضی پر قبضوں کیخلاف درخواستوں پر احکامات آ جانے پر اسمبلی کے وقار ‘ اختیار کا درد اُٹھ گیا ہے حتیٰ کہ یہ کہا جا رہا ہے باہر سے کوئی یہاں نہیں آ سکتا جیسے دشمن ملک سے کوئی خطرہ ہے کل کہیں گے فوج باہر سے آئی ہے فلاں بھی باہر سے آیا ہے ‘ ہاں وہاں سے قومی جماعتیں لا کر اقتدار مل جائے ‘ اپنے لیے جو مانگیں مل جائے تو سب کچھ عین عبادت ہے ‘ بات کارکردگی حساب کی آ جائے تو تحریک کشمیر تشخص اسمبلی نظام کو فالج ہونے کا خطرہ درپیش ہو جاتا ہے یعنی کشمیر کونسل سے سکیمیں دی جائیں تو کرپشن ہے اور سترہ سالہ تاریخ کی سب سے زیادہ سکیمیں بلدیات سے لیکر سب کو کرپٹ بنا دیا جائے تو خدمت ہے ‘ درحقیقت یہاں کے عوام مِلت پاکستان کی طرح ان نعروں ‘ خدمت سے بے زار ہو چکے ہیں اور اب صرف اور صرف احتساب چاہتے ہیں ‘ کرپشن فری سسٹم کے خواہش مند ہیں جس کی سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پاکستان یعنی ریاست پاکستان پر ہوتی ہے کہ اقوام متحدہ ‘ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے زیر انتظام آزادکشمیر میں گڈ گورننس ‘ انصاف ‘ میرٹ ‘ فلاحی نظام کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرے یہ وہ کلمات ہیں جو گزشتہ انتخابات میں ن لیگ کی قیادت کے فرمان تھے ؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 204 Articles with 68358 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jan, 2019 Views: 281

Comments

آپ کی رائے