مسئلہ کشمیر کا حل کیسے ممکن؟

(Maryam Arif, Karachi)

مقبوضہ کشمیر دنیا کا مظلوم ترین علاقہ کہلاتا ہے۔ بھارتی جبری قبضے کے بعد سے کشمیریوں کے بے رحمانہ اور اندھا دھند قتل عام کی آواز پوری دنیا میں گونج کر انسانیت کے ناتے تمام انسانوں سے توجہ کی درخواست کرتی ہے۔ ریاست جموں و کشمیر (ڈوگرا راج) 1846ء سے 1947ء تک ہندوستان میں ایک ریاست کی حیثیت سے جو 1846ء میں پہلی انگریز سکھ جنگ کے بعد تشکیل دی گئی جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے کشمیر پر قبضہ کر لیا اور فوری طور پر امرتسر معاہدے کے تحت جموں کے ڈوگرا حکمران کو فروخت کر دیا۔
برصغیر کی تقسیم کے بعد جب بھارت اور پاکستان کے نام سے دو الگ الگ مملکتیں معرض وجود میں آئیں تو ان ریاستوں نے اس اصول کے مطابق بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر لیا اگر ان میں سے کسی ریاست نے اپنے مستقبل کا فیصلہ ان اصولوں سے ہٹ کر کرنے کی کوشش کی تو اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ مثلاً ریاست حیدرآباد جو ہندو اکثریت کی ریاست تھی جس کا حکمران نظام حیدرآباد مسلمان تھا اس نے اس ریاست کو تقسیم برصغیر کے فارمولے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود مختار قرار دینے کا فیصلہ کیا لیکن بھارت نے اس کے اس فیصلے کو برصغیر کی تقسیم کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے ماننے سے انکار کردیا او رحیدرآباد پر زبردستی قبضہ کر لیا۔

اسی طرح ہندو اکثریت کی ریاست جوناگڑھ کے مسلمان حکمران نے جب اپنی ریاست کا الحاق پاکستان سے کرنے کی کوشش کی تو بھارتی حکمرانوں نے اسے اس بنیاد پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ غالب ہندو اکثریت کی اس ریاست کا الحاق تقسیم برصغیر کے اصولوں کی رو سے بھارت کے ساتھ ہونا چاہیے نہ کہ پاکستان کے ساتھ اور اس کے ساتھ ہی اس نے ریاست جونا گڑھ کے خلاف فوجی کارروائی کرکے اسے اپنے ساتھ شامل کر لیا لیکن اس کے برعکس یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ مسلم اکثریت کی ریاست جموں و کشمیر کے معاملے میں بھارت کے یہ پیمانے بدل گئے اور اس نے ریاست کے ہندو حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے نام سے ایک جعلی دستاویزالحاق تیار کی اور اسے بنیاد بنا کر 27 اکتوبر 1947ء کو اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دیں۔ حالانکہ یہ بات اس کو معلوم تھی کہ ریاستی عوام کی غالب مسلم اکثریت کی واحد نمائندہ جماعت مسلم کانفرنس اس سے کئی ماہ پہلے 19 جولائی 1947 کو کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کر چکی ہے۔

الحاق کے اس ڈرامے کے غیرآئینی و غیر قانونی ہونے کا خود بھارتی حکمرانوں کو بھی احساس تھا جس کا اندازہ بھارت کے انگریز گورنرجنرل لارڈ ماونٹ بیٹن کے اس خط سے بھی ہوتا ہے جو اس نے مہاراجہ ہری سنگھ کے نام سے پیش کردہ الحاق کی جعلی درخواست کی منظوری دیتے ہوئے اس کے نام لکھا تھا۔ اس میں انہوں نے کہا تھا، ’’ہماری اس پالیسی کے پیش نظر کہ جس ریاست کا الحاق کا مسئلہ متنازعہ ہو، اس کے الحاق کا فیصلہ وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے، میری حکومت یہ چاہتی ہے کہ ریاست میں نظم ونسق کی بحالی اور ریاست کو حملہ آوروں سے خالی کرنے کے بعد الحاق کا مسئلہ عوام کی آرزو اور رائے کے مطابق طے کیا جائے‘‘۔ یہی یقین دہانی بھارت کے بانی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی طرف سے وزیراعظم پاکستان کے نام اپنے ایک ٹیلی گرام مورخہ31 اکتوبر 1947ء میں بھی کروائی گئی تھی ملاحظہ ہو،
’’ہمارا یہ وعدہ کہ امن وامان قائم ہوتے ہی ہم اپنی افواج کو واپس بلالیں گے اور ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ریاستی عوام کی آزادانہ مرضی پر چھوڑ دیا جائے گا۔ صرف آپ ہی کے سامنے نہیں بلکہ ریاست کے عوام اور پوری دنیا کے سامنے بھی ہے‘‘۔ بہر حال بھارتی حکمرانوں کی ان تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود ریاستی عوام کی غالب مسلم اکثریت نے بھارتی سامراج کے اس غاصبانہ تسلط کو ایک لمحے کے لیے بھی تسلیم نہیں کیا اور اس کے خلاف جہاد جاری رکھا اور ریاست کے ایک تہائی سے زیادہ حصے کو بھارتی تسلط سے آزاد کرا لیا۔ چنانچہ جہاد آزادی کی پے در پے کامیابیوں سے بھارت کو صاف طور پر دکھائی دینے لگا کہ اگر جہاد کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتیجے میں ریاست کا باقی ماندہ حصہ بھی بہت جلد اس کے تسلط سے نکل جائے گا اور یوں وہ مملکت خداداد پاکستان کی اس شہ رگ پر اپنا غاصبانہ تسلط برقرار رکھ کر پاکستان کے وجود و سا لمیت کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا بیس کیمپ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ چنانچہ ممتاز برطانوی مصنف لارڈ برڈوڈ کے مطابق دسمبر 1947ء میں کشمیر میں بھارتی فوجیں سخت مشکلات سے دوچار تھیں لہٰذا بھارت نے کشمیر میں اپنے متوقع انجام کو دیکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا اور یوں یہ مسئلہ یکم جنوری 1948ء کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ (35) کے تحت سلامتی کونسل میں پیش کر دیا گیا۔

سلامتی کونسل نے اس مسئلے پر طویل بحث و تمحیص کے بعد 21 اپریل 1948ء کو اس کے حل کے لیے 5 ممبروں پر مشتمل اقوام متحدہ کاکمیشن برائے ہندوپاک قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیشن نے جو 7 مئی 1948ء کو معرض وجودمیں آیا تھا۔ اس سلسلے میں اپنی ابتدائی قرارداد 13 اگست 1948ء کو منظور کی لیکن پھر اسے کئی پہلوؤں سے ناقص، غیر واضح اور نامکمل قرار دیتے ہوئے 5 جنوری 1949ء کو ایک دوسری قرارداد منظور کی جس میں مبہم اور غیر واضح امور کو واضح کیا گیا تھا۔ یوں اس قرارداد کی حیثیت 13 اگست 1948ء کی قرارداد کے تکملہ کی تھی اس قرارداد میں خصوصیت سے واضح طور پر بیان کیا گیا۔

اول: 13 اگست والی قرار داد میں یہ کہا گیا تھا کہ استصواب سے پہلے پاکستان تو اپنی افواج کے ریاست سے مکمل انخلا کا پابند ہوگا جب کہ بھارت صرف اپنی بیشتر افواج کو نکالنے کا پابند ہو گا اور اس کی افواج کی ایک خاص تعداد امن وامان بحال رکھنے کے لیے بدستورریاست میں موجود رہے گی لیکن 5 جنوری 1949ء کی قرارداد کی دفعات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ریاست میں پرامن حالات قائم ہونے کے بعد ناظم رائے شماری بھارتی حکومت کے ساتھ مشورہ کر کے بھارت اور کشمیر کی افواج کے حتمی انخلاء کا فیصلہ کرے گا۔ جس میں ریاست میں امن و امان کے تحفظ اور استصواب کی آزادانہ انعقاد کو پوری طرح یقینی بنایا جائے گا۔

دوم: 13 اگست کی قرارداد میں استصواب کے طریقہ کار کو غیرواضح چھوڑ دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ دونوں حکومتیں قراررداد کے باقی حصے پر عملدرآمد کے بعد کمیشن سے اس بارے میں مذاکرات کریں گی جب کہ 5 جنوری 1949ء کی قرارداد کی دفعہ1 میں استصواب کے معاملے کو تقسیم برصغیر کے اصولوں کے مطابق واضح طور پر متعین کر دیا گیا اور کہا گیا کہ ریاست کے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا مسئلہ آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے طے کیاجائے گا۔ آج اس قرارداد کو منظور ہوئے ستر سال بیت چکے ہیں مگر دنیا کا طاقت ور ترین کہلایا جانے والا ادارہ اپنی اس قرارداد پر عمل درآمد کروانے سے قاصر دکھائی دے رہا ہے۔ کشمیری اپنی جنگ اپنی مدد آپ کے تحت خود لڑنے پر مجبور ہیں۔

لاکھوں کشمیری اپنی تحریک آزادی میں اپنا لہو بہا چکے ہیں۔ جنوری 1989ء سے لے کر 31 دسمبر 2018ء تک سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 95 ہزار سے زائد کشمیری بھارتی فوج کے ظلم و تشددکا نشانہ بن کرشہید ہو چکے ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں پھینکا جا چکا ہے جن میں سے ہزاروں بے نام موت کے تاریک سائے میں گھوم ہو چکے ہیں۔ ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد گھروں کو مسمار کرکے لاکھوں کشمیریوں کو چھت کے سائے سے بھی محروم کر دیا گیا۔ ایک لاکھ دس ہزار سے بچے اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہو کر یتیمی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی کے نتیجے میں 25 ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں جب کہ بھارتی فوج نے 15 ہزار سے زائد خواتین کی عزتوں کی پامالی کی۔ ان سارے اعداد و شمار کو دیکھ کر مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف بڑھیں تو مسئلہ کشمیر کا حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہی حل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مشرقی تیمور کی طرح دنیا میں انسانی حقوق کے دعویدار تنظیمیں بھارت پر دباؤ ڈال اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کروائیں اگر بھارت ابھی بھی کشمیریوں کو حق دینے سے انکار کرتا ہے تو اقوام متحدہ اپنے امن مشن کی فوج کو مقبوضہ کشمیر میں داخل کرکے بھارتی فوج کو پسپائی اختیار کروا کر کشمیریوں کو ان کی امنگوں کے مطابق فیصلہ کرنے کی آزادی دلوائے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 120 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1115 Articles with 346618 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: