مولانا فضل الرحمن کی کشمیر کانفرنس

(Umar Farooq, )

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمن فرمارہے تھے کہ میں طویل عرصہ چیئرمین کشمیر کمیٹی رہا حکومتوں اور اداروں کے رویوں کو بطور چیئرمین بہت قریب سے دیکھا اس سے زیادہ مایوس کن دور پہلے نہیں آیا حکمران اور ریاستی اداروں کی کوتاہی کشمیریوں کیساتھ وفاداری نبھانے میں ناکامی ہے ہمارا فرض ہے کہ اداروں کو متنبہ کریں کہ اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں کشمیریوں کی مایوسی سے ایسے حالات ہو سکتے ہیں جو ہمارے مفاد میں نہیں نائن الیون کے بعد آزادی کی تحریکیں متاثر ہوئیں جدوجہد آزادی اور دہشتگردی کو کو مکس کر دیا گیاہماری حکومتیں اور سیاسی جماعتیں بھی اس صورتحال سے متاثر ہیں آج قرارداد کے ذریعے قوم، حکومت اور اداروں کو کہیں گے مسئلہ کشمیر پر کوتاہی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
مولانافضل الرحمن نے مسئلہ کشمیرکے حوالے سے کل جماعتی قومی مشاورت کااہتمام کیاتھا جس میں دودرجن سے زائدجماعتوں کے چالیس سے زائدرہنماؤں نے خطابات کیے،حیرت ہے کہ حریت کانفرنس کی اپیل پریہ کانفرنس منعقدکی گئی مگرغلام محمدصفی ،یوسف نسیم کے علاوہ دیگرحریت قیادت غائب تھی شایدان کی کچھ مجبوریاں تھیں۔ پاکستان تحریک انصاف کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی ،تحریک انصاف کودعوت نہ دینے کی بڑی وجہ تووہ تھی جومولانافضل الرحمن نے اپنے ابتدائی خطاب میں بیان کی اس کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف جب سے برسراقتدارآئی ہے تواس نے مسئلہ کشمیرپس پشت ڈالاہواہے حالانکہ گزشتہ چندماہ سے مقبوضہ کشمیراورکنٹرول لائن پربھارتی جارحیت میں اضافہ ہوچکاہے ،مقبوضہ کشمیرمیں پڑھے لکھے نوجوانوں کوٹارگٹ کرکے شہیدکیاجارہاہے،ایسے حالات میں جارحانہ کشمیرپالیسی کی ضرورت تھی لیکن ہمارے وزیراعظم نے مودی کے سامنے معذرت خواہانہ رویہ اپنایاہواہے۔ یہی تحریک انصاف جب اپوزیشن میں تھی توکلبھوشن کی پھانسی کی بھی فکرتھی اورکشمیرکمیٹی کی چیئرمین شپ کاغم بھی انہیں ہلکان کیے جارہاتھا مگرجوں ہی اقتدارمیں آئے توکنٹرول لائن کوبھول کرکرتارپورہ راہداری کھولنے میں مصروف ہوگئے ،اپنی حلف برداری کی تقریب میں علی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق کی بجائے نوجوت سدھوکومدعوکیا۔ حکومت نے ان پانچ ماہ میں کشمیری قیادت کواعتمادمیں نہیں لیا نہ ان سے مشاورت کااہتمام کیاہے ،وفاقی حکومت کی طرف سے کشمیریوں کویہ لولی پاپ دیاجارہاہے کہ بھارت میں اس سال الیکشن ہورہے ہیں اس لیے یہ ماحول مذاکرات کے لیے سازگارنہیں ہے۔ حتی کہ اس پانچ فروری کوآزادحکومت نے وزیراعظم پاکستان کوقانون سازاسمبلی کے اجلاس میں شرکت اورخطاب کی دعوت دی مگروزیراعظم شایدمسئلہ کشمیرسے بھی کسی اہم اوربڑے مسئلہ کو سلجھانے میں مصروف تھے ،یاپھروہ مظفرآبادمیں کھڑے ہوکرکشمیرپربات کرنامناسب نہیں سمجھتے ۔اس لیے کوہالہ پارجاناگوار ہ نہیں کیا۔

کانفرنس کی کامیابی میں مولاناعبدالغفورحیدری ،مولاناسعیدیوسف ،مولانافضل الرحمن خلیل ،مفتی ابرار،اسلم غوری ،مولاناامتیازعباسی ودیگرنے خصوصی محنت کی ، مولانافضل الرحمن نے نوابزادہ نصراﷲ ،بے نظیربھٹوشہیداورقاضی حسین احمدکی یادتازہ کرتے ہوئے بروقت مسئلہ کشمیرپرملک کی تمام سیاسی جماعتوں کواکٹھاکیا اوربارڈرکے آرپارسب کوپیغام دیاکہ مسئلہ کشمیرکسی نئے کھلواڑ،کوتاہی اورسردمہری کامتحمل نہیں ہوسکتا سابق صدرآصف علی زرداری نے کہاکہ کشمیر ہمارے ڈی این اے میں ہے،ہم کشمیر کو خودسے الگ نہیں کرسکتے،ہماری بنیاد ہی کشمیر ہے، پورے پاکستان کا کشمیرپر ایک موقف ہے۔ اختلافات کے باوجود تمام سیاسی جماعتیں کشمیر کے مسئلے پر اکٹھی ہیں، اﷲ نے چاہا تو اپنی زندگی میں ہی اس کو آزاد دیکھوں گا۔آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک دو سو سالہ پرانی ہے اور اس تحریک کی آبیاری انہوں نے اپنے مقدس خون سے کی ہے ۔ دنیا میں انسانی بحران مقبوضہ کشمیر میں ہے ہندوستان سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں کشمیری قربانیاں دینے سے نہیں تھکے وزیر اعظم آزادکشمیرراجہ محمد فاروق حیدر خان نے بڑامدلل اورجامع خطاب کیا انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر تحریک آزادی کشمیرکو اجاگر کرنے کیلئے آزادکشمیرحکومت اور حریت کانفرنس کے کردار کا تعین کیا جائے۔حکومت پاکستان کشمیری قیادت اور ساری قومی لیڈر شپ سے مشاورت کے بعد مشترکہ پالیسی تشکیل دے۔ جنرل (ر)مشرف کے فارمولے کو زندہ کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔حکومت پاکستان سیاسی ،اخلاقی اور سفارتی محاذ سے آگے بڑھ کر بات کرئے وزارت خارجہ 70سال پہلے لکھا ہوا بیان تبدیل کرے۔انہوں نے ان لوگوں کوبھی جواب دیاجوکشمیرکمیٹی کی رٹ لگاتے رہے ہیں یالگارہے ہیں اور کہا کہ پارلیمنٹ کی کشمیرکمیٹی وزارت خارجہ کو کنڑول نہیں کرتی یہ مشاورت دے سکتی ہے۔ جذباتی باتوں سے معاملات نہیں بنتے ۔وزیراعظم نے کہا کہ جہاں بھی ہم گئے اپنے طور پر گئے وزارت خارجہ کشمیریوں کی مدد کرئے میری بات کو غلط انداز میں نہ لیا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے گلگت بلتستان کے حوالے سے فیصلوں سے وہاں کی قانون ساز اسمبلی پر منفی اثر پڑا ہے۔

مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے کہاکہ زخم خوردہ کشمیریوں کی زبان میں مسئلہ کشمیر بیان کرنا زیادہ وزن دار ہے،میری تجویز ہے کہ اگلی کل جماعتی کانفرنس مظفرآباد میں کی جائے مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے قومی کشمیرپالیسی بناناہوگی ،ایم کیوایم کے سربراہ اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ جس طرح کشمیری عوام اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ہماری حمایت ان تک پہنچنی چایئے ،برہان وانی شہید جیسے کشمیری نوجوان ہماری جنگ لڑ رہے ہیں ،بلوچستان عوامی پارٹی (باپ )کے ترجمان سینیٹر انوارالحق کاکڑنے کہاکہ بلوچستان سے کشمیر کیلئے آواز بلند ہوتی رہے گی،جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاکہ اگر حکومت کی ترجیحات میں کشمیر شامل نہ ہو تو عوام کے ذہنوں میں شک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ،کرتاپور پر راہداری کھولیں اور کشمیر پر قدم نہ بڑھائیں تو اس سے شبہات ضرور جنم لیتے ہیں۔سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی نے کہا کہ کشمیریوں نے بھارت کو عملا شکست سے دوچار کر دیا ہے ،جس کا اعتراف یشوت سہنا نے کیا ہے کہ کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل چکااب محض وہاں فوجی قبضہ ہے ،،حکومت پاکستان فوری طور پر نائب وزیر خارجہ کا تقرر کرے جس کا کام مسئلہ کشمیر سے دنیا کو آگاہ کرنا ہو ، جس طرح وزیر اعظم عمران خان نے تمام ایشوز پر ٹاسک فورسز بنائی ہیں کشمیر پربھی ٹاسک فورس بنائیں۔

پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین کامران مرتضی ایڈوکیٹ نے کہاکہ حکومت نے سابق سپیکرفخرامام کوکشمیرکمیٹی کاچیئرمین بنانے کافیصلہ کیاہے جس پرشرکاء نے حیرت کااظہارکیا ۔ایم ایم اے کے سیکرٹری اطلاعات شاہ اویس نورانی نے کہا کہ فخر امام کو کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنانے کا فیصلہ ایک غیر سنجیدہ حکومت کی غیر سنجیدہ کشمیر پالیسی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ فخر امام کا مسئلہ کشمیر سے کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا نہ کبھی وہ کسی کشمیر کانفرنس میں نظر آئے۔پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے کہاکہ پاکستان میں آمروں کی حکومتوں نے کشمیر کے مسئلے کو بہت نقصان پہنچایاعلی امین گنڈا پور جیسے شخص کو وزیر امور کشمیر بنانا موجودہ حکومت کی غیرسنجیدگی ظاہر کرتی ہے اورکشمیرکمیٹی تاحال قائم نہ کرنے بھی حکومت کی سردمہری ظاہرکررہی ہے ،ایک موقع پرسٹیج سیکرٹری مولانامجدخان نے کہاکہ یہ حکومت شایدکشمیرکمیٹی نہ بنائے البتہ اسرائیل کمیٹی بنالے گی ، ایک موقع پرچوہدری لطیف اکبرنے کہاکہ افغانیوں کی حمایت کی وجہ سے ملک میں کرپشن ،دہشت گردی آئی جس کے جواب میں شاہ عبدالعزیزمجاہدنے کہاکہ طالبان کی حمایت کی وجہ سے آپ میں جوانمردی ،جرات اوراستقامت کیوں نہ آئی ؟

لبریشن لیگ کے صدرعبدالمجیدملک نے کہاکہ شملہ معاہدہ سے مسئلہ کشمیر کے حل میں بڑی الجھن ہے معاہدہ شملہ کو پاکستان فی الفور خیرآباد کہہ دے ،انصارالامہ پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہاکہ 70سال سے قراردادیں اور صرف احتجاج کررہے ہیں لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے، ہمیں عملی جہاد سے مسئلہ کشمیر حل کرانا ہوگا، ،علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ جن اداروں کو مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہیئے تھا انہوں نے اس جانب توجہ نہیں دی ہمیں مسئلہ کشمیر کو عوامی مسئلہ بنانے کی تحریک چلانا ہوگی ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 241 Print Article Print
About the Author: Umar Farooq

Read More Articles by Umar Farooq: 47 Articles with 13343 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: