2025 ء میں پانی کا شدید بحران اورہمارا طرزعمل

(Aamir Farooq Anjm, )

ایک روز بادشا ہ نے کہا کہ " میں نے خواب دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اوراناج کی سات بالیں ہری ہیں اوردوسری سات بالیں خشک ہیں ، اے اہل دربارمجھے اس خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے ہو؟"لوگوں نے کہا یہ تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں اورہم اس طرح کے خوابو ں کا مطلب نہیں جانتے ۔ان دو قیدیوں میں سے جو شخص بچ گیا تھااور اسے مدت دراز کے بعد اب بات یاد آئی،اس نے کہا " میں آپ حضرات کو اس کی تاویل بتا تا ہوں مجھے ذرا قیدخانے میں (یوسف علیہ السلام کے پاس) بھیج دیجئے ۔اس نے جاکر کہا " یوسف ،اے سراپا راستی ! مجھے اس خواب کا مطلب بتا ۔ پھر اس نے بادشاہ کا خواب بیان کیا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس کو تعبیر بتائی اوربادشاہ کے خواب کی صرف تعبیر بتانے پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ خوشحالی کے ابتدائی سات برسوں میں ،آنے والے قحط کے لئے کیا پیش بندی کی جائے۔اورغلہ کو محفوظ رکھنے کا کیا بندوبست کیا جائے ۔پھر آپ نے قحط کے بعد اچھے دن آنے کی خوشخبری بھی دے دی جس کا ذکربادشاہ کے خواب میں نہ تھا ۔(سورہ یوسف)

قارئین کرام ! پاکستان کے ماہرین آب وارضیات2025 ء میں پاکستان میں پانی کی شدید قلت کا خطرہ ظاہر کررہے ہیں ۔ان میں نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی دنیا کے ماہرین بھی شامل ہیں ۔اور اسی پیشین گوئی کے پیش نظر سپریم کورٹ نے پاکستان میں ڈیم بنانے کی مہم شروع کی ،جس کے نتیجے میں عوام الناس نے بھی بڑھ چڑھ کر فنڈریزنگ مہم میں حصہ لیا اور مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔

لیکن پانی وہ نعمت ہے کہ اگر اس کو زندگی سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا ،کیونکہ دنیا میں پائی جانے والی تمام جاندارمخلوقات کی تخلیق پانی سے کی گئی ہے ۔قرآن عظیم الشان میں اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ " وجعلنامن الماء کل شئی حئی " یعنی " ہم نے ہر زندہ چیز کی پیدائش پانی سے کی " ۔

پانی ہی ہے جس کی فراہمی سے تمام مخلوقات کی زندگی کی بقا کا انحصا ر ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ رسول پاک حضرت محمد ﷺ نے ایک بار ارشاد فرمایاکہ " اگر تم دریا کے کنارے بھی بیٹھے ہوتو پانی ضائع نہ کرو۔

مگر ہم دعویدارہیں مسلمان ہونے کے اوراپنے آپ کو عاشق رسول بھی سمجھتے ہیں ،اور" مسلم" کا مطلب ہے مطیع فرمان اورفرمانبردار۔یعنی دین اسلام نے جو حکم دیا ہو وہ کیا جائے اورجس سے منع کرے اس سے رک جایا جائے ۔رسول پاک ﷺ نے پانی ضائع کرنے سے منع فرمایا مگر مسلم ہی پانی ضائع کرتے نظرآتے ہیں ۔کہیں کسی گھڑے یا واٹر کولر میں پینے کا ٹھنڈا پانی رکھا ہو اورساتھ پینے کا برتن بھی ہوجیسے گلاس ،کٹوراوغیرہ تو ہم باوجود وہ برتن صاف ہونے کے اسے ہم ضرورکھنگالتے ہیں اوراس ٹھنڈے پانی کو ضائع کردیتے ہیں ۔اورہرفرد یہی مشق دہراتا ہے ۔جس سے خاصا پانی ضائع ہوجاتا ہے ۔اسی طرح کئی لوگ پانی کا گلاس پینے کے لئے بھر تو لیتے ہیں مگر پورا گلا س پینے کی بجائے کچھ پانی پینے کے بعد باقی زمین پر پھینک دیتے ہیں ۔ وضو کرتے ،نہاتے ،دانت برش کرتے ،شیو کرتے ،گھر وں میں کپڑے برتن دھوتے ،یادیگر معمولات کو انجام دیتے ہوئے پانی کو بے دردی سے ضائع کیا جاتا ہے اورصاف پانی گندی نالی میں چلاجاتاہے۔ کئی لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ موٹربائک یا گاڑی کو ہر ہفتے دس دن بعد سروس ضرورکراتے ہیں ،دکان یا بیٹھک کے سامنے پانی خواہ مخواہ بھی چھڑکا جاتا ہے ۔کئی لوگ پانی بھرنے کے لئے بالٹی پانی کے نل کے سامنے رکھتے ہیں اورپھر بھول جاتے ہیں ،اوربالٹی بھرنے کے بعد بھی نل کا پانی بالٹی سے باہر بہتا رہتا ہے اوریوں یہ صاف پانی جو کئی طرح کے استعمال میں آسکتا ہے ،ضائع ہوجاتاہے ۔

قارئین کرام ! پینتیس چالیس پہلے جب میں سکول داخل ہونے گیا تو میں نے سورج مکھی کا ایک پھول توڑ لیا ،ابونے کہا کہ بیٹا ایسے پھول نہیں توڑا کرتے کیونکہ اس طرح پھول ضائع ہوجاتاہے ،اسی طرح مجھے یاد ہے کہ جب میری عمر شاید ۴ سال کی تھی توہم کچھ ماہ کے لئے کراچی میں رہائش پذیر تھے تو وہاں پانی کی قلت کی بناء پر کبھی کبھی ہم سرکاری نل سے پانی بھرنے جاتے تھے ۔یہ اوراسی طرح بچپن کی بے شمار باتیں یوں یاد آتی ہیں گویا کل کی بات ہے ۔سوچیں جب پینتیس چالیس سال پہلے کی باتیں کل کی طرح محسوس ہوتی ہیں تو 6 سال تو پلک جھپکتے ہی گزرجائیں گے ،اورہم پانی کی شدید قلت سے دوچار ہوجائیں گے ۔اوراسکے نتیجے میں شدید قسم کے دیگر نقصانات کا خدشہ بھی ہے کیونکہ ہرطرح کے پھل سبزیاں ،فصلیں پانی سے ہی کاشت ہوتی ہیں ،جب پانی نہیں ہوگا تو غذائی بحران بھی آئے گا اوربجلی کا شدید بحران بھی پیدا ہوگا ،اوربجلی نہ ہونے سے صنعت کا پہیہ بھی رک جائے گا۔اسی طرح کے کئی اورشدیدمسائل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔غورکریں اورتصورکی آنکھ سے ذرا مستقبل میں جھانک کر دیکھیں تو اس سب کچھ سے زندگی کتنی دشوار نظرآتی ہے ۔

قارئین محترم ! شروع میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کا یہ حصہ میں نے اسی لئے درج کیا ہے کہ جب کسی آئندہ مصیبت یا آفت کا پتہ چل جائے تو پھر اس سے نمٹنے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے کیسا شاندار منصوبہ تشکیل دیا کہ خوشحالی کے بعد جب شدید قحط کا دورآیا تو ان کے زیرانتظام ملک میں نہ صرف ملک کی اپنی ضرورت کا غلہ وافر موجود تھا بلکہ اردگردکے ممالک سے بھی لوگ غلہ لینے آتے رہے ۔اسی طرح ہمیں بھی اپنی آئندہ پریشانی کا معلوم ہوجانے کے بعد پیش بندی کرنا ہوگی ،پانی کے بڑے بڑ ے ذخیرے قائم کرنے ،ذیم تعمیرکرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ تمام قسم کے ضیاع آب کو روکنا ہوگا۔

آئیے قارئین مکرم ! ہم سچے مسلم بن کر آپ ﷺ کے فرامین پر عمل درآمد کریں اور اپنے حصہ کافریضہ اداکرتے ہوئے نہ صرف اپنے لئے بلکہ ملک وقوم اورآئندہ نسلوں کے لئے بھی پانی بچالیں ۔ اوراپنے محبوب رسول پاک حضرت محمد ﷺ کی اتباع کا ثواب بھی حاصل کریں ۔
# # #
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 69 Print Article Print
About the Author: Aamir Farooq Anjm

Read More Articles by Aamir Farooq Anjm: 7 Articles with 1893 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: