بوجھ (اوٹ پاٹانگ)

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

کسی زمانے میں تعلیم صرف اور صرف اُمرا اور شرفا کے بچوں تک محدود تھی۔ غریبوں کے بچوں کو تعلیم کی سختیاں برداشت نہیں کرنا پڑتی تھیں۔ بچپن خوب کھیل کود اور جوانی خوب دوڑ دھوپ میں بسر ہوتی تھی۔ پیشے اور ملازمت کی فکریں ابھی پیدا نہیں ہوئی تھیں ۔ ہر شخص نے اپنے آباؤ اجدا کا پیشہ ہی اختیار کرنا ہوتا تھا اور اسی پیشے میں اپنی زندگی بسرکر دینا ہوتی تھی۔ اس طرح اُس دور میں ذاتیں آج کل کے سرکاری ، نیم سرکاری و غیر سرکاری محکموں کی شکل اختیار کر چکی تھیں۔ آج کل کسی ایک محکمے میں کام کرنے والے لوگ آپس میں ’پیٹی بھائی‘ یا پنجابی زبان میں ’ پیٹی بھرا‘کہلا تے ہیں۔ ان محکوں کو ہم موجودہ دور کی ذاتیں بھی کہہ سکتے ہیں۔ بچے کھیلتے کھیلتے تھوڑے سے باشعور ہوتے تو ان کی شادیاں کر دی جاتیں اور وہ بہت سی برائیوں اور بیماریوں سے بچنے کے ساتھ ساتھ زندگی کو انجوائے بھی کرتے اور بہت ساری جسمانی، ذہنی، معاشی اور سماجی مصیببتوں اور زمینی ، سماوی اور محلے داری یا رشتہ داری کی آفتوں سے محفوظ بھی رہتے۔

آج کل بچوں کے وزن سے زیادہ بھاری ان کی کتابوں اور کاپیوں کے بیگ ہیں جو ان کے والدین کو اٹھانے پڑتے ہیں۔ ان کے ذہنی لیول سے کہیں اونچی کتابیں ہیں جو ان کے والدین کو پڑھنی اور پڑھانی پڑتی ہیں۔ سکول میں آدھے سے زیادہ دن گزارنے کے بعد باقی ماندہ تھکا ماندہ دن وہ اکیڈمی کی دہلیز پر ماتھا رگڑنے میں گزار دیتے ہیں اور واپس گھر آ کر کارٹون دیکھ کر سو جاتے ہیں۔ اور پھر وہ خود بھی کارٹونوں کی سی حرکتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب کہ معاشرہ انہیں انسان بنانے میں ناکامی کی وجوہات سوچتا رہ جاتا ہے کہ ان کو کیا ہو گیا ہے۔ اور ان کی ذہنی، جسمانی و معاشرتی نشو نما کے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں تاکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بات کرنے کا موقع مل سکے۔ اور وہ الجھے ہوئے ذہنوں کو مزید الجھاؤ کا شکار بنا سکیں۔

آج کل گنجا پن بڑی شدو مد سے سر اٹھانے لگا ہے۔ یورپ تو قریبا ً قریباً سارے کا سارا گنجا ہو گیا ہے۔ اور اب یہ گنجا پن مشرقی سر سبزو شاداب علاقوں پر بھی اپنا نو آبادیانہ اور سفاکانہ وار کرنے پہ تلا ہوا ہے ،بلکہ آئی ایم ایف سے قرضہ بھی لے چکا ہے۔ اس گنجے پن کی وجوہات میں سے ایک تو اتنی لمبی پڑھائی ہے جو انسان کی پیدائش سے پہلے شروع ہو جاتی ہے اور اس کے مر جانے کے بعد تک جاری رہتی ہے۔ اس پڑھائی نے اس کی کھوپڑی کو لکھنے کی پارچمنٹ بنا دیا ہے۔ جس پر کوئی بھی خطاط بہت شاندار خطاطی کر سکتا ہے۔ یورپ والے تو کھوپڑیوں پر طرح طرح کے ڈیزائن بنواتے ہیں لیکن اہلِ مشرق نے ابھی اس سر زمین کے متعلق زیادہ سوچ بچار نہیں کی کہ ان نئے دریافت ہونے والے جزائر شرق و جنوب و شمال کا کیا کرنا ہے۔

درختوں کے پتے بھی جب زیادہ بھاری ہو جاتے ہیں تو درخت ان کو گرا دیتے ہیں اور پھر ان کی جگہ نئے نئے ،پیارے پیارے ننھے ننھے پتے اگا لیتے ہیں اور ان کے ساتھ خوشیاں منانے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور پرانے پتوں کو یکسر بھول جاتے ہیں بلکہ ہوا سے کہہ دیتے ہیں کہ’ ان پرانے پتوں کو اڑا کر کہیں دور لے جا ئے اور وہاں ان کو دفن کر دے، ہم ان ’نا ہنجاروں ‘کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہمارا ان سے کوئی تعلق واسطہ یا رشتہ نہیں۔ ہم ان کے لئے مر گئے اور وہ ہمارے لئے ۔ ان کو ہمارے پاس کبھی نہ لانا ورنہ ہم تمھیں اپنے ننھے ننھے ،نئے نئے پتوں کے گال چھونے نہیں دیں گے‘۔ ہوا بچاری کیاکرے اس نے ان پرانے پتوں کے ساتھ بھی اچھے دن گزارے ہوتے ہیں، اور اسے یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ ان نئے پتوں کا حشر بھی اگلی رُت میں انہی پرانے پتوں جیسا ہی ہو گا۔ لیکن اسے ننھے ننھے پتوں کے گال چھونے کی بڑی حسرت ہوتی ہے اس لئے اسے درختوں کی یہ بات ماننی پڑتی ہے۔

پرانی کتابیں خریدنے کا شوق غربت میں زیادہ ہوتا ہے لیکن امارت میں بھی باقی رہتا بلکہ مزید پروان چڑھتا ہے۔کتابوں پر پیسے خرچ کرتے ہوئے اکثر لوگ یک دم غریب جب کہ بازار سے دوسری چیزیں خریدتے وقت وہ یک دم امیر ہو جاتے ہیں ۔اس بات کی ساری عمر سمجھ نہیں آتی کہ آخر کتابیں اتنی مہنگی کیوں ہوتی ہیں کہ لوگ زیادہ تر پرانی خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں اور پیسے بچاتے ہیں۔ یا یہ بات ہے کہ ہم ان کو ’مہنگا‘ سمجھ لیتے ہیں کیوں کہ ہماری علم حاصل کرنے کی خواہش ہی اتنی محدود ہے کہ ہم اس پر اپنا تھوڑا سا سرمایہ بھی’ اجاڑنا‘ نہیں چاہتے۔ لوگ، شادی کے ممممممممممممممممموقع کے لئے دلہن کا لہنگا جو کہ ایک دن یا ایک رات کے لئے پہننا ہوتا ہے، ہزاروں بلکہ لاکھوں کا بھی افورڈ کر لیتے ہیں لیکن چند سو کی کتاب ،جو کہ ساری عمر بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے ، خریدنا افورڈ نہیں ہوتی۔ ہمارے لوگ کتاب خریدنے میں کفایت شعاری کا مظاہر ضرور کرتے ہیں ۔ اور یہی بات ہمارے تمام مسائل کی اصل جڑ ہے۔

دوسروں کو ستانے میں جو مزا ہے وہ کسی اور مزے میں کہاں!اگر انسان کسی وجہ سے بور ہو رہا ہو تو اسے چاہیئے کہ کسی نہ کسی تو ستانا شروع کر دے۔ اس کی بوریت مفت کے مزے میں ڈھل جائے گی۔ اس بات کا احساس رکھنا بہت ضروری ہے کہ کون ستائے جانے کے اہل ہے اور کون نہیں ۔وہ شخص ستائے جانے کے اہل ہے جسے منانا آسان ہو ، اور جسے منانا مشکل یا ناممکن ہو اسے ستانے کی کبھی کوشش نہ کریں ورنہ جوئے شیر بھی لانا بھی کسی کام نہیں آئے گا۔ اور یوں لینے کے کئی گنا زیادہ دینے بھی پڑ سکتے ہیں۔ ستانا بھی ایک مہارت ہے جو ہر کسی کو نہیں آتی اور جس کو آتی ہے وہ بہت مزے میں رہتا ہے۔اور بہت کم بورہوتا ہے۔لیکن کوشش کریں کہ کسی کو نہ ہی ستائیں۔ آج ہم ستائیں گے تو کل کو کوئی ہمیں ستائے گا کیوں کہ دنیا مکافاتِ عمل ہے یہاں جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ، لیکن زیادہ سنجیدہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں ، کیوں کہ زیادہ سنجیدگی انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ادھار ایک خطرناک چیز ہے اس کے دونوں پہلوؤں سے احتراز ہی کرنا چاہیئے۔ یعنی نہ ادھار لینا اچھا ہے اور نہ ادھار دینا اچھا ہے۔ دونوں صورتوں میں تعلقات خرابی کی طرف جاتے ہیں۔ ادھار دینے والے بہت سے سخی کنگال بھی ہو جاتے ہیں اور بہت سے جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ کیوں کہ ادھار دینے سے کہیں زیادہ صبر اور تدبر کا مظاہرہ ادھار واپس لیتے وقت کرنا پڑتا ہے جو کہ اکثر ادھار دینے والوں سے نہیں ہوتا کیوں کہ اگر ان کے پاس تدبر ہوتا تو وہ ادھار دیتے ہی کیوں۔ جناب، ادھار واپس کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں ۔ ادھار واپس کرنا بعض لوگوں کے نزدیک ادھار دینے والے پر احسانِ عظیم کرنے کے مترادف ہے جسے کرنا ان کی شان کے خلاف یا ان کے ظرف کی گنجائش سے ماوریٰ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ادھار واپس کرنے کا تو وعدہ ہی بعض انسانوں کا سکون چھین لیتا ہے۔ اس لئے ادھار کی قینچی سے اپنے تعلقات کو بچا کر رکھنا ہی اصل دانائی ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 279 Print Article Print
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 158 Articles with 141689 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More

Reviews & Comments

Language: