ایک در بند

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

کہتے ہیں کہ ایک در بند ہوتا ہے تو ۷۰ در کُھلتے ہیں اور میرا ایک در بند ہونے سے پہلے ہی 70 کھلنے لگے تھے اور اس میں سے کچھ کھل چکے تھے اور کچھ باقی تھے وہ اس طرح کہ شاعری اور نثر کا آغاز جس واٹس ایپ گروپ سے ہوا اس کے دروازے مجھ پر بند کر دیے گئے جیسا کہ ہوتا آیا ہے اور اس بول کے لب قید کر دیے گئے ایسی بنیاد پر جیسا کہ دباو میں عدالت کا فیصلہ کسی کے خلاف آجاتا ہے اور جواز ڈھونڈ لیا جاتا ہے اور
وہ بات جس کا فسانے میں زکر ہی نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

اور فیض صاحب کا دیا حوصلہ سوال کررہا تھا کہ

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے

اور لب کب آزاد ہیں تیرے

کی صدا آنے لگی مگر جو دروازے فیس بک کے ادبی گروپ میں کھل چکے تھے اور جس میں شائد فرشتے ہوتے ہیں جو نظر نہیں آتے اور ان کے لائک تسلی دیتے ہیں کہ کوی پڑھنے والا ہے اور تسلی دے رہا ہے اور اگر وہ انسان بھی تھے تو اس وقت میرے لیے فرشتے ثابت ہو رہے تھے لیکن ان کے بارے میں واضح نہیں ہوتا کہ نام اصلی ہے یا فرضی سوچ کیسی ہے عمر کیا ہے اور کوی عشقیہ شاعری کا جواب آتا ہے

جیتے رہیے
کہ سامنے شائد بزرگ نما ہو اور پھر شرمندگی بھی ہو مگر ساتھ دعا بھی مل جاتی ہے اور اصلاح بھی مفت

بہر حال اُس کوچے سے بڑے اعزاز کے ساتھ نکالے جانے پر یہ بھی نہ کہ سکے کہ

بڑے رُسوا ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے

اور اب آپ وہاں خاموشی سے سن سکتے تھے فرمابردار شوہر کی طرح بول کچھ نہیں سکتے اور آپ کے لب کی جگہ صرف کان آزاد تھے کسی آمرانہ دور کی مانند سانس ساکن تھی

بہت سے ان کہے لفظوں کی مانند سانس ساکن تھی

مگر دوسرےگروپ میں خاصی آکسیجن تھی اور سانس چل رہی اور سانس کی آواز بھی آرہی تھی اور کئ سانسوں کی مدھم آوازیں زندگی کا احساس دلا رہی تھیں اور لائک کرنے کی آواز میرے فون پر ایسی آتی ہے کہ جیسے بوند ٹپکی ہو کسی ساکن پانی پر اور ایک خوشی کی لہر سی اُٹھ کر تھم جاے
دل میں اک لہر سی اُٹھی ہے ابھی
کوی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

اور کوی خوبصورت کمنٹ ہو تو منظر کچھ یوں

راتیں تھیں چاندنی
جوبن پہ تھی بہار
باغوں میں پھول جھوم رہے تھے خوشی کے ساتھ
ہنستا تھا پات پات
اتنے میں ایک بھنورے کی پیاسی نگاہ نے
دیکھا جو دور سے
اک پھول جھوم جھوم کہ ہنستا تھا بار بار
جوبن پہ تھی بہار

اور اگر کمنٹ مخالف ہو تو
کچھ یوں

پہلے تو اس ستم پہ وہ حیران ہوگیا
صدمے سے رودیا
پھر بادلوں کی طرح پریشان ہوگیا
بے جان ہوگیا
یوں پھول کو جو دیکھا تو سسکی ہوا نے لی
ہر پتی کانپ اٹھی
تارے سے یہ نہ دیکھا گیا آنکھ موند لی
شبنم بھی رو پڑی
اب بھی چمن میں پھولوں پہ آتی ہے جب بہار
نغموں میں اپنے قصہ سناتی ہے یہ ہزار
جوبن پہ تھی بہار
راتیں تھیں چاندنی جوبن پہ تھی بہار۔
راز الہ آبادی
ایسا کمنٹ بھی قیمتی ہوتا ہے جو اصلاح کی جانب راغب کر دے یا کسی اور گروپ کی طرف راغب کر دے یا سب چھوڑ چھاڑ کر راہب کر دے

لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ
خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہو

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 254 Print Article Print
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 206 Articles with 48944 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: