لیڈرشپ اور مینجمنٹ کی تربیتی ورکشاپ

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

لیڈر شپ اور مینجمنٹ کے حوالے سے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ گورنمنٹ ڈگری کالج سکندر خیل بالا بنوں میں منعقد ہوئی جس میں کثیر تعداد میں اساتذہ اور طلباء نے شرکت کی۔ اس تربیتی ورکشاپ کو ہر لحاظ سے کامیاب ، بامقصد اور بامعنی کہا جاسکتا تھا کیوں کہ کالج انتظامیہ نے ضلع بھر کے تمام کالجوں کے حاضر سربراہان اور اسی کالج سے ریٹائرڈ سربراہان کو بھی مدعو کیا تھا۔ اس تربیتی ورکشاپ کے ریسورس پرسن پروفیسر فہد نواز ، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں تھے جنہوں نے ابتدائی سیشن کی ابتداء علامہ محمد اقبال ؒ کے ان اشعار سے کی۔
پابندیٔ تقدیر کہ پابندی ٔ احکام؟
یہ مسئلہ مشکل نہیں اے مردِ خردمند
اک آن میں سو بار بدل جاتی ہے تقدیر
ہے اس کا مقلد ابھی ناخوش ابھی خورسند
تقدیر کے پابند نباتات و جمادات
مومن فقط احکام الہٰی کا ہے پابند!

اُن کا کہنا تھا کہ آج ہم نے من حیث القوم ’’ بدقسمتی ‘‘ اور ’’ تقدیر ‘‘ دونوں الفاظ کو تکیہ کلام بنا لیا ہے۔ انہی کو ہر ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ طالب علم فیل ہوا ، وجہ پوچھی گئی تو بتلائے گا کہ بدقسمتی سے وہ پرچوں سے قبل بیمار ہو گیا تھا، اسی لئے فیل ہوگیا۔ حالاں کہ پڑھائی سارا سال جاری رہنے والا عمل ہے اور اگر طالب علم یہ عمل سارا سال جاری رکھتا ہے تو اُس کا بیماری کی وجہ سے چھوٹا موٹا ناغہ کوئی بڑا اور بُرا اثر نہیں ڈالے گا۔ اسی طرح اگر کوئی فرد کسی کام کو اپنی نااہلی اور کام چوری کی وجہ سے سرانجام نہیں دے پاتا ہے تو لفظ ’’تقدیر‘‘ کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔ پس یہ دو الفاظ ہماری نسوں میں رچ بَس گئے ہیں۔ انہوں نے ایکس اور وائی تھیوریوں کو اپنے ہاتھوں کے اشاروں سے سمجھاتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایکس کی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو بازؤں کے ساتھ باندھ رکھا ہے جب کہ ہمیں وائی ، یعنی قائدین اور منتظمین کی طرح اپنے ہاتھوں کو اونچا رکھنا ہوگا۔ ہمیں بھر پور محنت اور بہترین منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے ’’بدقسمتی ‘‘ کو مات دینا ہوگی۔ اُنہوں نے انسانی ضروریات ، رویوں ، محرکات ، ٹیم ورک اور ان سے متعلق تھیوریوں پر سیر حاصل بحث کی اور روزمرہ زندگی سے مثالیں دے کر آسان فہم بنایا۔ پروفیسر فہد نواز نے اپنے سیشن کے اختتام پر ورکشاپ کے شرکاء کی جانب سے کئے گئے سوالات کے جوابات دیئے اور لیڈرشپ اور مینجمنٹ کے حوالے سے رہی سہی کسر اور غلط فہمیوں کو دور کیا۔

معاشرے میں فرد کی اہمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے جو بیک وقت کئی سٹیٹس (منصب ) کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے ہر منصب کے ساتھ رول (کارِ منصب ) بھی جدا ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنے ہر منصب کے ساتھ منصفانہ برتاؤ رکھے گا ، یعنی وہ ہر منصب میں اپنی قائدانہ اور منتظمانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنے سے وابستہ توقعات پر پورا اُترے گا۔ مثال کے طور پر ایک فرد کمرہ ٔ جماعت میں استاد کے منصب پر فائز ہوتا ہے اور اس کا کارِ منصب بچوں کی تعلیم و تربیت کرنا ہوتی ہے۔ یہاں بحیثیت قائد بچوں کی رہنما ئی کر رہا ہوتا ہے۔ یہی فرد جب اپنے ساتھیوں کے ساتھ سٹاف روم میں بیٹھتا ہے تو اس کا منصب اور کارِ منصب تبدیل ہوجاتا ہے۔ ساتھیوں کے اس گروہ میں وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکتا ہے اور اپنے گروہ کے مسئلے کا حل تلاش کرسکتا ہے۔ گھر پہنچ کراسی فرد کا منصب تبدیل ہوجاتا ہے جہاں وہ بھائی ، شوہر ، بیٹا یا باپ ہوسکتا ہے اور اسی طرح اس کا کارِ منصب بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔ امتحانی ہال میں اسی فرد کا منصب اور کارِ منصب مختلف ہوتا ہے۔ پس ایک ہی فرد کے درجنوں منصب ہوسکتے ہیں اور بہترین کارِ منصب کا حصول لیڈرشپ اور مینجمنٹ کے تصورات کے عملی اطلاق سے ہوسکتا ہے۔ اس طرح فرد کی نہ صرف انفرادی زندگی سنورے گی بلکہ وہ اجتماعی طور پر معاشرے کا ایک نافع فرد بنے گا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 317 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 178 Articles with 86877 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: