مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکتیں،محرکات و عوامل !

(Athar Masood Wani, Rawalpindi)

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال بھارتی فوج کی کاروائیوں میں ریکارڈ تعداد میں کشمیری فریڈم فائٹرز اور کشمیری مظاہرین ہلاک کئے گئے۔اکثر کشمیری مجاہد یوں ہلاک کئے گئے کہ وہ کسی مکان میںموجود تھے اور بھارتی فوج نے اس علاقے اور مکان کا محاصرہ کرکے اس مکان کو ہی تباہ کر دیا۔ایسی ہی صورتحال پرکسی نے تبصرہ کیا کہ کشمیری مجاہد بطخوں کی طرح اپنی جگہوں پر ہی بیٹھے بیٹھے بھارتی فوج کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں۔اس عرصے میں کشمیریوں کے مظاہروں میں مزید شدت دیکھنے میں آئی۔بھارتی فوج جس علاقے میں مجاہدین کے خلاف آپریشن کرتی ہے،اس علاقے کے لوگ گھروں سے باہر نکل کر بھارتی فوجیوں کو پتھرائوکا نشانہ بناتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی اسی سنگین صورتحال کے حوالے سے ہی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ادارے کے کمشنر کی رپورٹ میں عالمی سطح پر بھارت کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

جمعرات کوجموں سے سرینگر جانے والے بھارتی فوج کے ستر گاڑیوں کے ایک قافلے کواونتی پورہ کے قریب بارود سے بھری ایک گاڑی سے نشانہ بنایا گیا جس سے کم از کم49بھارتی فوجی ہلاک اور بڑی تعداد میں شدید زخمی ہوئے۔گزشتہ تیس سال میں یہ پہلا حملہ ہے جس میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کے خود کش حملے میں بھارتی فوج کو اتنی بڑی تعداد میں جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔بھارتی حکام کی طرف سے اس واقعہ کے حوالے سے پاکستان کے خلاف الزامات بھی لگائے گئے۔ پاکستان نے ایک بیان میں اس حملے کی مذمت کی ہے اور بھارت کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔بھارتی میڈیا نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے کشمیر کی کنٹرول لائین پہ چوکسی میں اضافہ کیا ہے ۔بھارتی فوج گزشتہ سال سے مقبوضہ کشمیر میں آپریشن آل آئوٹ کے نام سے کشمیریوں کے ہلاک کرنے کا آپریشن چلا رہی ہے تاہم اب کار بم دھماکے سے بھارتی فوج کے ایک قافلے کو نشانہ بنانے سے مقبوضہ کشمیر میں ایک نئی قسم کی جنگی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔کشمیری فریڈم فائٹرز کے پاس اس طرح کے تکنیکی اور حساس حملے کی اہلیت نہ ہونا واضح ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کو سخت کاروائی کی دھمکی دی ہے جس میں '' لمیٹڈ وار'' کے علاوہ پاکستان کی ناکہ بندی کرنا بھی شامل ہے۔بھارتی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر پابندیوں کی کوششیں تیز کی جائیں گی۔انڈیا نے تجارتی حوالے سے پاکستان کے لئے موسٹ فیورڈ نیشن کا سٹیٹس واپس لے لیا ہے اور بھارتی وزیر اعظم مودی نے کہا کہ فوج کوٍدہشت گردوں کے خلاف حملہ کرنے کے لئے وقت اور جگہ چننے کی آزادی ہے۔بھارت میں پاکستان کے خلاف 'سرجیکل سٹرائک' کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔جمعہ کوجموں ،احمد آباد،ممبئی اور چند دوسرے شہروں میں مظاہرے ہوئے جبکہ چھتیس گڑھ میں کشمیری طلبہ پر حملہ کرتے ہوئے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے چار کشمیری طلبہ زخمی ہوئے۔جموں میں ہندو مظاہرین نے کشمیر کی نمبر پلیٹ والی متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی اور ایک مسلم آبادی گوجر نگر پر شدید پتھرائو کیا گیا اور وہاں بھی گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔یوں بھارت میں الیکشن سے عین پہلے پاکستان کے خلاف جنگی جنون کو ہوا دی جا رہی ہے۔

جنوبی ایشیا ان دنوں مختلف تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔افغانستان میں طویل جنگ کے بعدامریکہ طالبان سے مزاکرات کرتے ہوئے معاملات طے کر رہا ہے،اسلامی ممالک کے ذریعے ہی امریکہ ایران کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور پاکستان انتظامیہ اپنا ''نیا علاقائی کردار ''قبول کرتے ہوئے خود کو اقتصادی بحران سے نکالنے کی فکر میں ہے۔اس صورتحال کے تناظر میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ انڈیا کی انٹیلی جنس ایجنسیاں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی قافلے پر حملے کے ذریعے پاکستان کے خلاف عالمی اور علاقائی دبائو بڑہانے کی کوششیں شروع کر چکی ہیں۔اس حوالے سے یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا پاکستان کو اپنے نئے '' علاقائی کردار'' پر پابند رکھنے کے لئے پاکستان کے خلاف بھارتی دبائو کا ہتھکنڈا اپنا یاجا رہا ہے؟

گزشتہ چند ماہ سے خود بھارت میں مختلف حلقوں کا یہ کہا جا رہا ہے کہ ' بی جے پی' کی مودی حکومت دو ماہ بعد ہونے والے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے فرقہ وارانہ کشیدگی اور پاکستان سے کشیدگی و لڑائی کی صورتحال پیدا کرتے ہوئے سیاسی فائدے اٹھانے کے اقدامات کر سکتی ہے۔بھارتی فوج پر ہونے والے اس حملے کے بعد بھارت کے ہی کئی اپوزیشن رہنمائوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طویل خون خرابا اور تباہی کا سلسلہ ختم کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مزاکرات کئے جائیں۔انڈیا کے جنرل الیکشن سے دو ماہ قبل ہونے والے اس حملے سے مودی کو سیاسی فائدہ ہونا واضح طورپر ظاہر ہے۔ بھارت کے چند رہنمائوں اور تجزئیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر میں مودی حکومت کی سخت گیر پالیسی ناکام ہو چکی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیری نوجوان بھارت کی اس پالیسی کے ردعمل میں تیزی سے مسلح مزاحمتی تحریک میں شامل ہو رہے ہیں اوریہ حملہ بھی ایک کشمیری نوجوان نے کیا ہے،اس حوالے سے پاکستان پر الزام دھرنے کے بجائے بھارت کو اپنی سخت گیر انتہا پسندانہ پالیسی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس حملے کے ذریعے بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔یہ بات ایک کھلی حقیقت ہے کہ جب بھارتی حکومت کشمیر کا مسئلہ پرامن طور پر مزاکرات سے حل کرنے کے بجائے کشمیریوں کو اپنی فوجی طاقت کے ظالمانہ استعمال سے کچلنے کی پالیسی پر مصر رہے تو اس کا نتیجہ دوطرفہ ہلاکتوں اور تباہی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔جنوبی ایشیا میں ایک طرف اقتصادی ترقی کے راستے ہموار کئے جا رہے ہیں اور دوسری طرف خطے کے دو بڑے ملکوں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان لڑائیوں اور تباہی کے لوازمات بھی پورے کئے جا رہے ہیں۔یوں خطے میں ترقی اور تباہی کے منصوبوں پر بیک وقت کام جاری ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 480 Print Article Print
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 550 Articles with 235751 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More

Reviews & Comments

Language: