سعودی عرب کے ولی عہد کا دورہ پاکستان میں سرمایہ کاری

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

پاکستان کادوروزہ دورہ مکمل کرنے کے بعدپاکستان سے روانگی سے قبل نورخان ایئربیس پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ہمرہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعودی ولی عہدمحمدبن سلمان نے کہا کہ پاکستان میں وہ اپنے گھرجیسامحسوس کررہے ہیں۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان معاہدے صرف شروعات ہیں پاکستان آئندہ سالوں میں بڑی معیشت بن کرابھرے گااورسال دوہزارتیس تک بڑی معیشت ہوگا۔پاکستان جیوسٹرٹیجک اعتبارسے اہم ملک ہے اورہم پاکستان کے شاندارمستقبل پریقین رکھتے ہیں ،پاکستان کوآگے بڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اوراس کی ترقی میں ہم بھی اپناحصہ ڈالناچاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اطراف میں دوبڑی معیشت ہیں ایک طرف چین ہے اورطرف بھارت ہے۔مجھے یقین ہے کہ پاکستان ان دونوں ہمسایؤں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتاہے ،سال دوہزاراٹھارہ میں پاکستان کی معیشت نے پانچ فیصدکی شرح سے ترقی کی ہے اس لیے ہمیںیقین ہے کہ پاکستان مستقبل کی اہم معیشت ہے،پاکستان کی قیادت، عوام اورپاکستان کے اتحادی ملک کوایک دن اہم معیشت بنائیں گے۔ترقی کے اس سفرمیں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ہوگا۔اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہاکہ جب میں نے اپنافون دیکھاتومجھے لگاکہ آپ اتنے مشہورہیں کہ اگرالیکشن لڑیں تومجھ سے زیادہ ووٹ لیں گے۔سعودی ولی عہدکاخودکوپاکستان کاسفیرکہنااعزازکی بات ہے اورامیدہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات مزیدمضبوط ہوں گے۔پاکستان سے روانگی کے لیے سعودی ولی عہدنورخان ایئربیس آئے توایوان صدرسے ایئربیس تک عمران خان نے خودہی ولی عہدکی گاڑی ڈرائیوکی۔نورخان ایئربیس پروزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ، وفاقی وزراء سمیت دیگراعلیٰ شخصیات نے سعودی ولی عہدکوالوداع کیا۔پاکستان سے واپسی کے موقع پرسعودی ولی عہدکافی خوشگوارموڈمیں نظرآئے۔صدرمملکت پاکستان عارف علوی نے سعودی ولی عہدمحمدبن سلمان کوپاکستان کااعلیٰ ترین سول اعزازنشان پاکستان عطاکردیا، اس ضمن میں ایوان صدرمیں تقریب ہوئی جس میں صدرمملکت نے معززمہمان کونشان پاکستان کے اعزازسے نوازا۔تقریب میں صدرمملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان،چیئرمین سینٹ، اسپیکرقومی اسمبلی اورکابینہ ارکان بھی شریک ہوئے ۔تقریب کاآغازتلاوت کلام پاک سے کیاگیااوردونوں ممالک کے ترانوں کی دھنیں بھی بجائی گئیں۔صدرمملکت نے سعودی ولی عہدکے اعزازمیں ظہرانہ بھی دیا۔ظہرانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت عارف علوی کاکہناہے کہ سعودی عرب اورپاکستان تاریخی رشتوں میں بندھے دوست ہیں ،سعودی ولی عہدکادورہ دونوں ممالک کی دوستی مزیدمضبوط کرے گا۔ڈاکٹرعارف علوی نے سعودی ولی عہدکے اعزازمیں ظہرانے کواپنے لیے اعزازقراردیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب دوستی مذہب اورثقافت پرمبنی ہے۔سعودی عرب کی محبت پاکستانیوں کے دلوں میں ہے ،پاکستان میں سیاحت کے بے پناہ مواقع ہیں پاک سعودی سپریم کونسل کاقیام انتہائی اہم ہے۔صدرمملکت نے خطاب کے آخرمیں پاکستان سعودی عرب دوستی زندہ بادکانعرہ لگایا۔تقریب میں مختصرخطاب کرتے ہوئے محمدبن سلمان کاکہناتھا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پرمحیط ہیں ،سعودی عرب کی ترقی میں پاکستانیوں نے اہم کرداراداکیا،دونوں ملکوں کے تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط ہورہے ہیں ،بیس لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں کام کررہے ہیں۔پاکستانیوں نے حرم اورمسجدنبوی کے منصوبوں میں بھی حصہ لیا۔سعودی ولی عہد کے دورے کے بعدجاری اعلامیے میں کہاگیاہے کہ محمدبن سلمان وزیراعظم عمران خان کی دعوت پرپاکستان تشریف لائے ،ان کادوروزہ دورہ انتہائی کامیاب رہا ۔جس میں پاک سعودی تعلقات کے نئے دورکی بنیادرکھی گئی۔دورے میں سیاسی، معاشی، تجارتی، سیکیورٹی اوردفاعی شعبوں میں ادارہ جاتی سطح پرتعاون بڑھانے پربات ہوئی۔دورے میں سپریم رابطہ کونسل کاپہلااجلاس بھی ہواجوبہت اہمیت کاحامل ہے ۔دورے میں تجارتی وسرمایہ کاری تعلقات کوبہت زیادہ اہمیت دی گئی ۔سعودی عرب نے بیس ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کااعلان کیا۔دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں کئی معاہدے اورمفاہمتی یادداشتوں پردستخط کیے۔سعودی قیادت نے وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش کوسراہا۔دونوں ممالک کااس بات پراتفا ق تھا کہ خطے میں امن واستحکام کے لیے مذاکرات کے ذریعہ ہی تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیرمیں کشمیریوں پرتشددکے حوالے سے ولی عہدکوبریف کیااورمسئلہ کشمیراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پرزوردیا۔دونوں ممالک نے دنیابھرمیں مسلمانوں پرمظالم کی مذمت کی۔وزیراعظم نے ولی عہدکومقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیرسلامتی کونسل کی قراردادوں اورکشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہوناچاہیے۔پاکستان اورسعودی عرب کا علاقائی، عالمی امن وسلامتی کے امور،دہشت گردی، امت مسلمہ کودرپیش چیلنجز، بین المذاہب ہم آہنگی پربھی یکساں موقف کااظہارکیاگیا۔مستقبل کی سیاسی ، سفارتی اوراقتصادی سمت کاتعین کرنے کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم ہے ۔عوامی رابطوں، دفاع ، سلامتی اورثقافتی پہلوؤں کی سمت متعین کی جائے گی۔سپریم کوآرڈی نیشن کونسل کاقیام دوطرفہ تعلقات میں نئی بلندیوں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتاہے۔کونسل مستقبل کے تعلقات کے تعین کے لیے اہم ہے۔وزیراعظم ہاؤس میںآرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سے ولی عہدمحمدبن سلمان نے ملاقات کی۔اس موقع پرڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفوراورسعودی شاہی خاندان کی اہم شخصیات بھی موجودتھیں۔دونوں راہنماؤں کے درمیان پاک سعودی تعلقات ،دفاعی تعاون، خطے کی سیکیورٹی صورت حال بالخصوص افغان طالبان مذاکرات بارے تبادلہ خیال کیااوراس عمل میں ہونے والی پیش رفت پراطمینان کااظہارکیا۔شہزادہ محمدبن سلمان نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اوردہشت گردی کے خلاف قربانیوں کوسراہا۔دونوں نے دفاعی وفوجی تعاون کومزیدمستحکم کرنے پراتفاق کیا۔سعودی ولی عہدکااس موقع پرکہناتھا کہ سعودی عرب اورپاکستان برادردوست ملک ہیں۔دونوں ممالک تمام مشکل حالات میں ہمیشہ ساتھ رہے اوررہیں گے۔وزارت خارجہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ سعودی ولی عہدنے پندرہ سال بعدپاکستان کادورہ کیا۔ اس سے ظاہرہوتاہے کہ سعودی عرب نے کس سطح پر پاکستان سے تعلقات بڑھانے کافیصلہ کیاہے ۔ہم نے سپریم کوآرڈی نیشن کونسل کے قیام کافیصلہ کیاجس کامقصدمفاہمت کی یادداشتوں پرعملدرآمدکویقینی بناناہے ،پاکستانیوں کادیرینہ مطالبہ تھا کہ ویزہ فیس پرنظرثانی ہونی چاہیے جس پرنظرثانی ہوچکی ہے اوریہ فیس کم کردی گئی ہے جس کامقصدلوگوں کوسہولت فراہم کرنا ہے ۔ اس موقع پرسعودی وزیرخارجہ عادل الجبیرنے کہا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے مابین تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں۔دونوں ممالک کوخطے میں کئی چیلنجزدرپیش ہیں۔تاریخی تعلقات کونئی جہتوں پرلے جارہے ہیں۔گوادرمیں پیٹروکیمیکل کمپلیکس ، آئل ریفائزری تعمیرکررہے ہیں۔توانائی کے لاتعدادمنصوبوں پرکام کررہے ہیں ۔اقتصادی ،معاشی اورسرمایہ کاری پرابھی آغازہے ۔سعودی وزیرخارجہ کاکہناتھا کہ اسلامی تعاون تنظیم سمیت بین الاقوامی سطح پرہماراموقف یکساں ہے ۔حالیہ مفاہمت کی یادداشتیں محظ آغازہیں ہم نے تعلقات کوتمام شعبوں میں آگے لیکرجانے کافیصلہ کیاہے ،ہم نے سرمایہ کاری، تجارت اورسیاسی مکالمے کوفروغ دینے پر اتفاق کیاہے۔ان کاکہناتھا کہ پاکستان، افغانستان، امریکااورمتحدہ عرب امارات کے ساتھ افغان امن کے لیے کام کررہے ہیں۔ہم افغانستان میں حکومت اور طالبان کے مابین مفاہمت چاہتے ہیں۔پاکستان اوربھارت کے مابین مسائل کادوطرفہ اندازمیں پرامن حل چاہتے ہیں۔ہم نے سرمایہ کاری کاارادہ ظاہر کیا جسے پاکستان نے قبول کیا۔اب تکنیکی ومالی شعبے کے ماہرین ان منصوبوں کوعملی جامہ پہنائیں گے۔ہم پاکستان کی معاشی ترقی میں کرداراداکرناچاہتے ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی تعاون موجودہے اورگہرے فوجی تعلقات ہیں ۔ہم پاکستان کوبھیک نہیں دے رہے بلکہ سرمایہ کاری کررہے ہیں جس میں دونوں ممالک کافائدہ ہے ،پاکستان پریقین نہ ہوتاتوکبھی سرمایہ کاری نہ کرتے۔سعودی عرب میں پندرہ لاکھ سے زیادہ پاکستانی محنت کش کام کررہے ہیں جوامن پسند لوگ ہیں ان کاکھلے دل سے خیرم مقدم کرتے ہیں ۔سعودی ولی عہدنے سعودی عرب میں قیددوہزارایک سوسات پاکستانیوں کورہاکرنے کااعلان کیاجس پر وزیراعظم عمران خان اوروزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے اظہارتشکرکیا۔اسلام آبادکے مقامی ہوٹل میں پاک سعودی عرب بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیرعبدالرزاق داؤدنے کہا کہ سعودی عرب خوش حالی کے سفرمیں پاکستان کاشراکت دارہے۔ سعودی سرمایہ کاروں کی طرف سے کان کنی اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری انتہائی اہم ہے۔سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات مختلف سمت میں اورمختلف سطح پرآگے بڑھ رہے ہیں۔پاکستان کے مختلف شعبوں میں سعودی عرب کی طرف سے بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کے اعلان سے ہماری معیشت میں بہتری آئے گی۔سعودی عرب کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کوان کے کاروباری منصوبوں میں ہرطرح کی ممکنہ سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔سعودی ولی عہدکے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پرآئل ریفاءئننگ، پیٹروکیمیکل سمیت مختلف شعبہ جات میں بیس ارب ڈالرسے زائدکی سرمایہ کاری کے لیے معاہدوں اورمفاہمت کی یادداشتوں پردونوں ممالک نے دستخط کیے ہیں۔جس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتمادمیں اضافہ ہوگا۔تجارت کے بارے میں سعودی عرب کے وزیر ماجد الکسابی نے اس موقع پرکہا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات ایک نئی اورمثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون کے فروغ سے معاشی ترقی کے اہداف کے حصول میں مددملے گی۔پاک سعودی عرب بزنس کانفرنس سے سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین وزیرمملکت ہارون شریف نے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے تجارتی وفدکو خوش آمدیدکہنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے دستیاب مواقع سے بھی آگاہ کیا۔سعودی ڈویلپمنٹ فنڈنے پاکستان کو۴۵ ارب آٹھ کروڑ روپے انفرانسٹرکچرکے لیے امداددینے کافیصلہ کیاہے ۔اس کے لیے پاکستان کے اقتصادی امور ڈویژن کے ساتھ یادداشت پردستخط ہوگئے ہیں۔یہ رقم سعودی ولی عہدکے حکم پرپاکستان میں ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، شاہراہوں، پلوں اوردوسرے انفراسٹرکچر پرخرچ کی جائے گی۔ذرائع نے یہ بھی بتایاہے کہ سعودی عرب نے بلوکی ایل این کی پاورپلانٹ اورحویلی بہادرشاہ ایل این جی پاورپلانٹ کی خریداری کااصولی فیصلہ کیاہے۔کمبائنڈسائیکل پاورپراجیکٹس سابقہ حکومت نے امریکی کمپنی جنرل الیکٹرکس کے تعاون سے بنائے لیکن موجودہ حکومت نے اسے پرائیویٹائزکرنے کااصولی فیصلہ کیا۔دونوں میں ہرایک پاورپراجیکٹ ایک ہزاردوسوچالیس میگاواٹ بجلی بنانے کی صلاحیت کاحامل ہے۔یہ پراجیکٹ دو، دوارب ڈالرزکے لگ بھگ رقم سے سعودی سرمایہ کارخریدنے والے ہیں۔یہ بھی بتایاگیا ہے کہ گوادرریفائنری جوتین سے پانچ سال میں پٹرولیم پراڈکٹس کمپلیکس سمیت بنے گی یہ چودہ اقسام کی پٹرولیم مصنوعات بنایاکرے گی۔اس کے لیے ساراخام تیل سعودی عرب فراہم کرے گاجویومیہ تین لاکھ بیرل ہواکرے گا۔پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری کے جن معاہدوں اورمفاہمت کی یادداشتوں پردستخط ہوئے ہیں ان کے علاوہ بھی سعودی عرب پاکستان میں پانچ ہائیڈروپاورپراجیکٹس کے لیے سرمایہ فراہم کرے گا۔جن میں پانچ ہزارپانچ سومیگاواٹ بجلی پیداکرنے والادیامربھاشاہائیڈروپاوراینڈواٹرپراجیکٹ، پندرہ سومیگاواٹ بجلی پیداکرنے والامہمندپاورپراجیکٹ اوردیگرپاورپراجیکٹس پرسعودی عرب اکیس ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان معاہدوں پر عملدرآمدکے لیے دس مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیے گئے ہیں ۔وزارتی سطح پرہرچھ ماہ بعدملاقات کاشیڈول بھی طے کیاگیاہے۔صدرامورمسجدحرام ومسجدنبوی شیخ ڈاکٹرعبدالرحمن بن عبدالعزیزالسدیس نے سعودی عرب کے ولی عہداورمملکت کے اول نائب وزیراعظم اوروزیردفاع شہزادہ محمدبن سلمان کے دورہ پاکستان کوسراہااورتعریف کی اوردعاکی کہ اللہ تعالیٰ ان کی تائیدفرمائے۔

سعودی عرب اورپاکستان کے تعلقات صرف سرمایہ کاری تک ہی محدودنہیں ہیں بلکہ یہ تعلقات عقیدت واحترام کے ساتھ بھی جڑے ہیں۔ سعودی ولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان کادورہ پاکستان میں سرمایہ کاری اورمعیشت میں ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ چین کی طرف سے سی پیک سرمایہ کاری کے بعدیہ دوسری بڑی سرمایہ کاری ہے جوسعودی عرب کی طرف سے کی جارہی ہے۔ سرمایہ کاری کے ان معاہدوں کے بعدپاکستان کوآئی ایم ایف سمیت اغیارکے مالیاتی اداروں سے قرض لینے کاپروگرام منسوخ کردیناچاہیے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 152 Print Article Print
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 296 Articles with 112816 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: