پلوامہ حملہ مودی نے الیکشن جیتنے کے لئے کرایا!

(Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 ہندوستان ایک مرتبہ پھر الیکشن کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ہندوستان میں خاص طور پر مودی کی انتخابی مہم کی کامیابی کا محور مسلمان دشمنی ہی رہی ہے۔ خاص طور پر پاکستان دشمنی ہی ہوا کرتی ہے۔پچھلے دونوں انتخابات مودی نے پاکستان اور مسلمان دشمنی کے نام پر ہی جیتے تھے۔جس سے ہندوستان کا سیکولر چہرہ ساری دنیا دیکھ بھی چکی ہے۔
 


آج دنیا کے ہر ملک کے اپنے اپنے سیاسی اور معاشی مفادات ہیں جن کی وجہ سے کوئی بھی ملک ہندو جارحیت کے خلاف منہ کھولنے سے بچتا ہے۔اب پھر ہندوستان میں الیکشن ہوا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہندوستان کے سیکولرزم اور ہندو کا اصل چہرہ آسانی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ ہم اپنے پڑوسیوں سے کسی بھی قسم ک محاذ آرائی نہیں چاہتے ہیں۔پُر امن پڑوسی ہی پاکستان کے استحکام کا ذریعہ ہوسکتے ہیں۔ آج کا پاکستان جس قسم کی معاشی اور سیاسی بد حالی کا شکار ہمارے کارندوں نے بنا دیا ہے۔اس صورتحال میں ہم کسی بھی ملک اور خاص طور پر ہندوستان سے محاذ آرائی کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔

دراصل ایسے ماحول میں پلوامہ جیسی کار وائی کراوانے کا پاکستان تصور بھی اس وجہ سے نہیں کر سکتا کہ کشمیری 1995سے ابتک ہندوستان کی سات لاکھ سے زیادہ افواج کے ہاتھوں ایک لاکھ کے قریب جانوں کی قربانیاں دے کر اور ہزاروں کشمیریوں کی بینائی پیلٹ گنوں کے چھروں سے گنواں کر،اپنی جنگ جیتنے کے نزدیک پہنچ چکے ہیں اور ساری دنیا پر ہندوستان کا مصنوعی ،سیکولر اور مظالم سے آلودہ چہرہ ظاہر ہو چکا ہے۔

آج 14فروری 2019 کو ہندوستانی فوجی کارواں پرجموں و کشمیر نیشنل ہائی وے پر ایک کار کے ذریعے ایک کشمیری نوجوان نے خود کش حملہ کیا اورجس کے نتیجے میں 44 ہندوستانی فوجی موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ۔اس حملے کا الزام الزام جیشِ محمد پاکستان پر ہندوستان نے بغیر کسی تحقیق کے پلوامہ کے ایک نوجوان عادل ڈار پر لگا دیا گیا ہے ۔اور کہا جارہا ہے کہ ڈار کا تعلق جیشِ محمد پاکستان سے ہے۔ جبکہ پاکستان جیشِ محمد کو بہت پہلے ہی دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر سخت پابندیاں لگا چکا ہے۔جس کے سربراہ عادل ڈار بتائے گئے ہیں اور ان ہی کو اس حملے کا ذمہ دور ہندوستانی حکومت ٹہرا رہی ہے حالانکہ عادل ڈار ہندوستانی فوج کے قبضے میں بہت پہلے سے موجود تھا۔

اس کشمیری نوجوان عادل ڈار کو 10 ستمبر2017 کو شوپیاں کے علاقے میں ہندوستان فورسز کے ہاتھوں دو کشمیری فریڈم فائٹرز کو شہید کرنے کے بعد اس جھڑپ کے دوران ہی گرفتار کیا گیا تھا۔جو ہندوستان کی قابض فورسز کی کسٹڈی میں تھا۔ ایک ہندوستانی پولیس کے اعلیٰ عہدے پر بیٹھے پولیس آفیسر نے عادل ڈار کا تعلق حزب المجاہدین سے تو بتایا تھا جن کوپلوامہ حملے میں ویڈیو پیغام ریکارڈ کرنے والے حملہ آور نوجوان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ عادل ڈار کے ہندوستانی فوج کے حراست میں ہونے کا انکشاف پہلے ہی ہو چکا ہے۔ جس سے ایسا لگتا ہے یہ کاروائی چند فوجیوں کو مار کرمودی کی انتخابات میں کامیابی کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔کیونکہ نریندر مودی کو آنے والے انتخابات میں اپنی ناکامی واضح نظر آرہی ہے۔جس سے بچنے کے لئے مودی سرکار ہر کام کرنے پر تیار دکھائی دیتی ہے۔

پلوامہ حملے کے بعد ہندوستانی لیڈر شپ آپے سے باہر ہوئی جا رہی ہے اور مودی جی کی زبان تو دھمکیوں کے دوران ذرا بھی نہیں لڑ کھڑا رہی ہے۔ ہندوستان کے وزیرِ اعظم نے اپنی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں پلوامہ حملے سے متعلق کہا کہ پاکستان انڈیا کو تباہ کرنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔اس کو حملے کی قیمت چکانا ہوگی ،اور اگر پاکستان یہ سوچتا ہے کہ وہ انڈیا کو بد حال کر سکتا ہے تو اس کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ مودی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے پڑوسی نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ یقیناً تباہی کی طرف لے جائے گا لہٰذا ہم نے اپنے سفیر وجے بساریہ کو بھی پاکستان سے واپس بلوا لیا ہے۔ ہندوستان کے وزیرِ خارجہ راج ناتھ سنگھ نے اس ضمن میں کہا ہے کہ کچھ عناصر پاکستان کے رابطے میں ہیں ہندوستان نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو دفترِخارجہ میں طلب کر کے حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کاروئی کا مطالبہ کیا۔ مودی کی الزام تراشی پر قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ مودی کو پاکستان پر الزام تراشی سے پہلے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانیت سوز مظالم پر اظہارِ شرمندگی کرنا چاہئے تھا۔مودی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت ہندوستانی رویہ چوری اور سینہ زوری کا مظہر ہے۔سرجیکل اسٹرئیک کی باتیں حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہندوستانی قیادت عقل اورہوش کے ناخن لے ہماری بہادر مسلح افواج دشمن کی ہر کاروائی کا منہ توڑ جواب پہلے بھی دے چکی ہیں۔آئندہ انشاء اﷲ اس بھی مؤثر انداز میں جواد دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
 


حکومتِ پاکستان نے ہندوستان کی طرف سے تحقیقات کئے بغیر پاکستان پر کی جانیوالی الزام تراشیوں کو مسترد کر دیا ہے ۔پاکستان نے ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر گورو آلو والیا کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کے ساتھ ایک احتجاجی مراسلہ بھی سپرد کر دیا ۔جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان نے بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان پر الزام تراشی کی ہے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے وزیرِ اعظم کا پا کستان کو تنہا کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ہم جانی نقصان اور تشدد کے نا کل حامی تھے اور نہ آج ہیں۔پاکستان اپنی سر زمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

دوسری جانب پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں جیشِ محمد پر سخت پابندیاں ہیں۔ہندوستان کا بغیر تحقیقات کے الزام لگانا اس کا وطیرہ ہے۔ہندوستانی الزام تراشیاں اور جارحانہ روئیے خطے کے امن کے لئے نقصان دہ ہیں۔ہندوستان نے سوشل میڈیا پر آنے والی غیر مصدقہ ویڈیو کو سچ مان لیا ہے۔جان بوجھ کر پاکستان کے خلاف جذبات ابھارے جا رہے ہیں۔ ہندوستا ن کی طرف سے فورسز پر حملے کا الزام مضحکہ خیز ہے۔مگر کلبھوشن یا دیو نے واضح طور پر ذمہ داری کو قبول کر لی تھی، جسے جھٹلایا جا رہا ہے۔دوسری جانب ہم پاکستانی یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ مودی ایک مرتبہ پھر وزیرِ اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں جس کو حاصل کرنے کے لئے وہ ہر حد عبور کر سکتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ پلوامہ حملہ مودی جی نے الیکشن جیتنے کے لئے کرایا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1489 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

Language:    
The death of more than 40 Central Reserve Police Force (CRPF) jawans in the single deadliest attack on security forces in 30 years of militancy in Kashmir is not only a national but a human tragedy. The shock it has given to the country is understandable.