تیری رہبری کا سوال ہے۔۔۔۔۔

(Tanveer Ahmed, Islamabad)

ام حسان کراچی
پاکستان میں قانون ہمیشہ طاقتور کے لئے ڈھال رہا ہے،ہمیشہ ملزموں اور مجرموں کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ نکل آتا ہے،پاکستان میں پولیس کا نظام ہی اگر بہتر کر لیا جائے تو سو فیصد جرائم پہ قابو پایا جاسکتا ہے۔

6فروری بروز بدھ بھینس کالونی موڑ پہ پیش آنے والا واقعہ ابھی تک اک مستقل تناؤ کا باعث ہے،جہاں علاقے کی بااثر شخصیت یو سی ناظم رحیم شاہ نے اپنے دفاع میں گولی چلائی جس کے نتیجے میں ارشاد رانجھانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا،رحیم شاہ بینک سے رقم نکلوا کر گھر کی طرف جارہے تھے کہ راستے میں یہ واقعہ پیش آیا،اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ رحیم شاہ کو حکومت تحفظ دیتی اور کچھ نہیں تو انھیں سراہا جاتا،لیکن اس وقت حکومتی دباؤ کے نتیجے میں رحیم شاہ کو پولیس گرفتار کر چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!۔

باوجود اس کے کہ ارشاد رانجھانی ایک کریمنل ریکارڈ رکھتا ہے،اس پہ ایف آئی آر درج ہے لیکن اس کے باوجود اسے مظلوم بنا کر پیش کیا جارہا ہے،قوم پرستی کو ہوا دی جارہی ہے اور ارشاد رانجھانی کے ورثاء کو باقاعدہ حکومتی سر پرستی حاصل ہے۔

مراد علی شاہ نے اسمبلی فلور پہ ارشاد رانجھانی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کئے،جہاں کبھی بھی مسائل کی چکی میں پستے ہوئے عوام کا ذکر نہ ہوا لیکن ایک انتہاء الجھا ہوا معاملہ اسمبلی میں ڈسکس کیا گیا،اب اگر رحیم شاہ لٹ جاتا تو ساری زندگی نہ لٹی ہوئی دولت واپس ملتی اور نہ لوٹنے والے گرفتار ہوتے،اور اگر خدا نخواستہ رحیم شاہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ہلاک ہو جاتے تو کون قاتل اور کون مقتول؟؟؟؟سب فائلوں میں بند ہو جاتا، اس وقت اگر پولیس کا نظام مضبوط اور منظم ہوتا تو سب کچھ سامنے آجاتا،شکوک و شبہات جنم نہ لیتے،میڈیا اور احتجاج کرنے والوں کو ہر گز موقع نہ ملتا،ارشاد رانجھانی مجرم تھا اور زخمی ہو گیا تھا تو جائے واردات پہ عام شہری نہی جاسکتا زخمی کو اٹھانا اور ہسپتال پہنچانا پولیس کی ذمہ داری تھی اس بات کو میڈیا بہت اچھال رہا ہے کہ وہ تڑپتا رہا لیکن کسی کو آگے آنے کی اجازت نہیں تھی یہ واقعی زیادتی کی بات ہے اور انسانی حق تھا ارشاد رانجھانی کا کہ اسے طبی امداد دی جاتی،اب اس چیز کو باقاعدہ قومیت کے پیرائے میں اچھالا جا رہا ہے،جو نہیں ہونا چاہیئے اس طرح حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں،میری حکومت سے گزارش ہے کہ شہریوں کو دفاع کا حق حاصل ہے خدارا انصاف کے لئے در بدر عوام کو مزید نہ الجھائیں،پولیس کو وہ تربیت یافتہ افرادی قوت مہیا کریں اور پولیس کا نظام اتنا مربوط کر دیں کہ جائے وقوعہ سے لے کر کمرہ عدالت تک لوگ پولیس پہ اعتماد کریں،صرف پولیس کو منظم کرنے سے ہی فوری انصاف کی راہ ہموار ہو جائے گی،اور عوام سے میری یہ گزارش ہے کہ جہاں کہیں بھی کوئی بھی واقعہ ہو تو خدارا بے حسی کا مظاہرہ نہ کریں تڑپتی زندگی ہو یا دم توڑتی لاش ویڈیو نہ بنائی جائے بلکہ عوام کو وہاں سے ہٹ جانا چاہیئے تاکہ پولیس اور امدادی ٹیمیں اپنا کام بغیر کسی رکاوٹ کے کر سکیں،کئی جانیں صرف اور صرف لوگوں کے ہجوم میں راستہ نہ ملنے کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں،اور آخر میں وزیر اعلی صاحب سے صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ آپ کو اﷲ پاک نے بہت بڑی ذمہ داری سونپی ہے اور اﷲ پاک ہمیشہ مضبوط اعصاب اور مضبوط کندھوں پہ ہی بوجھ ڈالتے ہیں،آپ خود کو اہل ثابت کیجئے انصاف کے تقاضے پورے کیجئے آپ رہبر ہیں چاہے ارشاد رانجھانی ہو یا رحیم شاہ،شفاف تحقیقات شرط ہیں،اور آئندہ ایسے حالات پیدا ہی نہ ہوں کہ سوالات اٹھیں کہ رہبر کون ہے اور راہزن کون ہے.....؟
اور آخر میں اپنے ہم وطنوں کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لئے حیات جرم نہ ہو ،زندگی وبال نہ ہو
آمین ثم آمین

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 154 Print Article Print
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 199 Articles with 105003 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More

Reviews & Comments

Language: