لاشوں کی متقاضی بے رحم سیاست

(Ramsha Tabasum, Lahore)

''خدا کے لوگوں نے میرے لوگوں کا خون پی کر نجات پائی'' (جون ایلیاء)
انڈین فلموں کا ایک مشہور ڈائیلاگ ہے کہ ''سیاست تو لاشوں پہ ہی ہوتی ہے'' سیاست میں نہ کوئی آپکا بھائی ہے نہ کوئی آپ کی ماں نہ کوئی آپکا بچہ صرف اور صرف ایک رشتہ ہے اور وہ رشتہ صرف ریاست کی طاقت یعنی اقتدارکی کرسی ہے ۔اس کرسی تک پہنچنے کے لئے چاہے کسی اپنے کا خون بہایا جائے یا کسی اپنے کی موت کا سہارا لے کر سیاست کی جائے چاہے کسی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے یا پھر کسی کی موت پہ واویلا مچا کر طاقت کی کرسی پر پہنچنے کی کوشش کی جائے موت کے کھیل میں ہاتھ میلے نہ بھی کئے جائیں مگر ہونے والی اموات پہ افسوس کی بجائے ان اموات کا سہارا لے کے تنقیدی رویہ اختیار کر کے کسی کو زیر اور خود کو بَرتر کر کے اقتدار کی طرف راستہ آسان کیا جاتا ہے۔کرسی کا نشہ دنیا کے مہنگے سے مہنگے نشے پہ بھاری ہے کوئی بھی دنیاوی نشہ آپ کو چند لمحے کے لئے مسرور کرتا ہے اور پھر نشہ اترنے کے بعد کچھ لمحے سکون رہتا ہے اور پھر نشے میں کمی کی شدت ہوتے ہی دوبارہ نشہ کر لیا جاتا ہے اور جب نشے کی لت بہت بڑھ جائے اور جسم کو لاغر کرنے لگے تو انسان سدھ بدھ کھو کر در بدر ٹھوکریں کھاتا ہے نہ کسی رشتے کی پرواہ نہ کسی غمی خوشی کا علم صرف اور صرف ایک چاہ تھوڑا نشہ اور کچھ سکون اور ایسے ہی دربدر ہوتے یہ لوگ ایک دن کسی سڑک کسی راہ پہ دم توڑ دیتے ہیں۔
سیاست کا بھی ایک نشہ ہے کرسی بھی ایک لت ہے دن بہ دن جیسے اسکا نشہ بڑھتا ہے انسان لاغر ہونے کی بجائے طاقت ور ہونے کے طریقے ڈھونڈتا ہے یہ نشہ صرف بڑھتا ہے اور بڑھتا ہی جاتا ہے اس میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، طاقت کا نشہ اس قدر ظالم ہے کہ یہ نشے میں مبتلا لوگ دربدر نہیں ہوتے نہ کسی سڑک پہ نشے کی تلاش میں دھکے کھاتے نظر آ تے ہیں اور نہ ہی سدھ بدھ کھو کر بدحال ہوتے ہیں، اس نشے میں مبتلا لوگ لاشیں نہیں بنتے بلکہ لاشوں پہ سیاست کرتے ہیں انکی سیاست کی دکان گرم رہنے کے لئے ہر وقت کسی نہ کسی لاش کا ہونا ضروری ہے انکی سیاست اور مردہ خانہ ایک برابر ہے مردہ خانہ میں لاشوں کو محفوظ کیا جاتا ہے انکو کچھ عرصے کے لئے گلنے سڑنے سے بچانے کے لئے کچھ اقدامات کئے جاتے ہیں اورسیاست میں بھی لاش کے وجود کو اس وقت تک زندہ رکھا جاتا ہے جب تک اپنی سیاست کی دکان کو اس لاش کے وجود سے فائدہ پہنچتا رہے اکثر یہ لاش کچھ زیادہ عرصے کے لئے فائدہ پہنچاتی ہے یا پھر نئی لاش پرانی لاش پہ حاوی ہو جاتی ہے اور اس طرح نئی لاش کو پسند کرتے ہوئے اس سے ہونے والا فائدہ زیادہ محسوس ہوتے ہوئے پرانی لاش پہ نہ صرف مٹی ڈال دی جاتی ہے بلکہ اسی مٹی پہ پاؤں رکھ کر اپنی نئی من پسند لاش کی طرف قدم بڑھا دیئے جاتے ہیں-

شاپنگ میں کپڑے جوتے پسند کئے جاتے ہیں اور ریٹ لگایا جاتا ہے مگر سیاست کی شاپنگ میں کسی ایک مکمل حادثہ یا بیک وقت ہونے والے حادثوں یا کسی حادثے کے ایک کردار کی لاش پسند کی جاتی ہے اسکی درجہ بندی کی جاتی ہے پھر کس لاش پہ کتنی سیاست ہو گی کونسی لاش یا کونسا حادثہ ہمیں ریاست کی کرسی تک پہنچا سکتا ہے کونسی لاش مخالفین کو زیر اور ہمیں مشہور کر سکتی ہے کونسی لاش پہ واویلا مچانے میں فائدہ ہے اور کونسی لاش پہ خاموشی اختیار کرنے میں بھلائی ہے مخالف سیاسی جماعت کی ساخت اور ساکھ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہیں سیاسی شکست دینے کہ لئے ریاست کی سیاست کرنے والے لاشوں کا انتخاب بخوبی اور بہت سوچ بچار سے کرتے ہیں، کوئی ایک غلط فیصلہ یا ایک غلط لاش انہیں زیر بھی کرسکتی ہے اس لیے موت تو برحق ہے مگر کسی کی موت پہ سیاست کے لئے من پسند لاش چننا اور نازک حالات میں بھی اس لاش کو تازہ رکھنا اور اس وقت تک تازہ رکھنا جب تک کوئی اس سے بھی زیادہ اہم اور زیادہ ریٹنگ والی لاش سامنے نہیں آتی سیاسی نشئی خوب جانتے ہیں
جون ایلیاء نے کیا خوب کہا ہے کہ
''سب خدا کے وکیل ہیں لیکن
آدمی کا کوئی وکیل نہیں''
(جون ایلیاء)

بعض لاشوں کا انتخاب فرقہ کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے کہ فرقہ واریت پہ سیاست کی جائے اور بض لاشوں کا انتخاب صوبوں کے لحاظ سے کیا جاتا ہے کہ مخالف پارٹی کے صوبے کی لاش کو کس طرح سے اپنے مفاد اور مخالف کے خلاف استعمال کیا جائے مختلف مواقع اور حالات کی نزاکت اور ضرورت کے تحت مختلف صوبوں, رنگ و نسل, مذہب, فرقہ, رتبہ, مرتبہ, امیری اور غریبی مختلف لاشوں کو استعمال کر کے سیاست کرنا بھی ایک سائنس ہے ۔کسی انتہائی نازک حادثے پر سیاست میں اگر عروج اور مخالف کو زوال مل سکتا ہے اس کے برعکس یہ بھی ممکن ہے کہ غلط موقع پہ غلط لاش کا انتخاب آپ کے ہی خلاف ہو کر آپکی تذلیل اور ناکامی کا باعث بن جائے لہذا انتہائی ’’سوچ وچار‘‘ اورمکمل منصوبہ بندی کر کے ہی سیاست میں لاشوں پہ سیاست کی جاتی ہے اسی وجہ سے کئی بار فوری طور پہ کسی حادثے کی صورت میں کسی بھی پارٹی کی طرف سے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا بلکہ کچھ وقت لیا جاتا ہے پھر سوچا جاتا ہے سمجھا جاتا ہے مکمل سوچ سمجھ کے بعد ہی طے کیا جاتا ہے کہ اس معاملے کو کس طرح کس پارٹی کیخلاف کیسے استعمال کرنا ہے اور کب تک اس معاملے میں گرم رہنا ہے اور اس عرصے میں کتنا زیادہ سوشل میڈیا استعمال کر کے لوگوں میں آگ لگانی ہے اور کتنی بار ٹی وی پہ نظر آ کر تیز و تند جملوں سے مخالف پارٹیوں کو آڑے ہاتھوں لینا ہے مکمل سکرپٹ رائٹنگ میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے لہذا پارٹیوں کی طرف سے بیان سامنے آنے میں کچھ تاخیر ہو جاتی ہے کیونکہ یہ دل کا نہیں لاشوں کا معاملہ ہے

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 141 Print Article Print
About the Author: Ramsha Tabasum

Read More Articles by Ramsha Tabasum: 2 Articles with 491 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: