پر جوش

(Ali Hassan Joya, Islamabad)

پچھلے کچھ دنوں سے ہر طرف پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہونے کی باتیں چل رہی ہیں۔ ہندوستان کے عوام کا مجھے نہیں پتا مگر پاکستانی عوام میں یہ بحث بہت مقبول ہے۔ ہر چھوٹا بڑا امیر غریب جنگ کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ جہاں دونوں ہی ممالک کی تقریبا آدھی عوام بے روزگار ہے کیا وہاں پر جنگ کو ترجیح دینی چاہیے یا بے روزگار لوگوں کو روٹی دینے پر؟ کیا لڑائی جھگڑا بھی کبھی کسی بات کا حل ہوا ہے۔ اور بہت سے پاکستانی تو جنگ کے لئے اتنے خوش ہیں جیسے انہوں نے جنگ بھارت جو ترقی میں پاکستان سے دن بدن آگے بڑھ رہا ہے اس سے نہیں بلکہ کسی ایک چھوٹے سے گاؤں کی آبادی سے کرنی ہے۔ چلو اس بات کو الگ کر کے ہم یہ تصور کر لیتے ہیں کہ پاکستان جنگ میں بھارت کو مات دے سکتا ہے۔ مگر ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنا ہے کہ اگر گھر میں آگ لگتی ہے تو صرف دیواریں اور چھتیں نہیں ٹوٹتی وہ آگ دیواروں کے ساتھ گھر کے سامان کو بھی جلا دیتی ہے۔ تو اس جنگ میں پاکستان کو جیتنے کے بعد بھی بہت نقصان ہو گا۔ دونوں ملکوں کے حکمرانوں کو چاہئے کہ پہلے اپنے ملک کی بیروزگار عوام کو روزگار دیں پہلے اپنے ملک کو خوشحال کریں نہ کہ دشمنیوں میں اضافہ کرکے کے غریب عوام کو بھوکا مار دیں۔ مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری پرجوش عوام میں یہ بحث بہت مقبول ہے ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر جنگ ہوتی بھی ہے تو امیر طبقہ اور یہ تمام حکمران اس وقت کہاں ہوں گے؟ کیا یہ اس وقت بھی پاکستان میں رک کر غریب عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟ نہیں بالکل بھی نہیں۔ ایک شخص جس کے دو الگ الگ ملکوں میں گھر ہیں کیا ایک ملک میں آگ لگنے کی صورت میں وہ شخص دوسرے ملک اپنے دوسرے گھر نہیں جائے گا؟ کیا جان سے بھی پیاری کوئی چیز ہوتی ہے خداراغریب اور پرجوش عوام اپنے جذبات پر قابو رکھ کر یہ سوچیں کہ یہ حکمران اور امیر لوگ تو اس مشکل وقت میں اپنے دوسرے گھر چلے جائیں گے مگر ہم غریب لوگ کیا کریں گے۔ میرا ماننا ہے کہ دنیا میں سب سے اچھا کاروبار جذبات کا ہے اور یہ حکمران صرف ہمارے یعنی غریب عوام کے جذبات سے کھیل کر اپنی زندگیاں تو ان بچالیں گے مگر ہم غریب عوام کہاں جائیں گے۔ ٹھیک ہے اگر کسی نے ہمیں دھمکی دی اور ہمارے حکمران نے جواباً جواب دے دیا تو وہ اس کا کام ہے مگر جنگ کا ایسے خوشی سے انتظار کرنا صرف بیوقوفی ہے۔ چلیں میری سوچ کو چھوڑیں میں آپ سب سے یہ سوال پوچھتا ہوں کہ اگر خدا نخواستہ جنگ ہوتی ہے تو کیا یہ امیر اور حکمران اس جنگ کے دوران پاکستان میں رہ کر غریب عوام کے شانہ بشانہ لڑیں گے یا اپنے دوسرے گھروں میں بھاگ جائیں گے؟

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 195 Print Article Print
About the Author: Ali Hassan Joya

Read More Articles by Ali Hassan Joya: 7 Articles with 1348 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: