اسلام میں جمعۃ المبارک کی چھٹی کا تصور اور قومِ سبت

(Akhtar Sardar Chaudhry, Kassowal)

گزشتہ چند دنوں سے ملک بھر میں یہ بات گردش کرتی چلی آرہی ہے کہ ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوا کرے گی ،تو ہمارے ہاں تین گروہ بن گئے ۔ایک وہ جو جمعہ کی چھٹی کے حق میں ہیں۔ دوسرے وہ جو اس کے مخالف ہیں اور تیسرا گروہ جو خاموش ہے کہ ہمیں کیا جس دن بھی چھٹی ہو۔ ہمیں چھٹی سے تعلق ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ چھٹی جمعہ کو ہونی چاہیے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔یہ ہمارا تشخص ہے۔ بے شک کہ یہ کام ہمارے اختیار میں نہیں ہے لیکن ہم جمعتہ المبارک کی چھٹی کے حق میں ہیں ۔
 


ہماراوہ طبقہ جو کہتا ہے کہ چھٹی اتوار کو ہی ہونی چاہیے جو سوالات اٹھاتا ہے ان میں سے ایک ہے کہ جمعہ کی چھٹی اسلام میں کہاں سے ہے؟ اگر جمعہ کی چھٹی اسلام میں نہیں ہے تو پھر اتوار کی چھٹی بھی اسلام میں نہیں ہے۔ اس لیے اتوار کو چھٹی بھی بند کی جائے اور چونکہ اسلام میں جمعہ کی نماز کے بعد تلاش معاش کا حکم ہے اس لیے جمعہ کی نماز سے پہلے چھٹی کی جائے۔ جس آیت مبارکہ کو جمعۃ المبارک کی چھٹی کے مخالف بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے بعد تلاش معاش میں نکل جاؤ اس آیت مبارک سے ہی جمعہ کی چھٹی کی دلیل موجود ہے ۔ جمعۃ المبارک سے قبل نہیں اِس کے برعکس قرآن میں جمعہ کی نماز کے بعد اﷲ کے فضل کی تلاش کرنے کا حکم ہے۔

جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اسلام میں اتوار کی چھٹی کا بھی تصور نہیں ہے تو وہ دلیل لاتے ہیں کہ پوری دنیا جمعۃ المبارک کو کام کرتی ہے ۔( تقریباً تمام مسلمان ممالک میں جمعۃ المبارک کی چھٹی ہوتی ہے )اگر ہم اس دن چھٹی کریں گے تو باقی دنیا سے کٹ جائیں گے، ہماری معیشت کا نقصان ہوگا۔ جب وہ ایسا کہتے ہیں تو مجھے قوم سبت یاد آ جاتی ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں ہے۔ اس قوم کا بھی یہ ہی خیال تھا کہ سبت دن کام نہ کریں تو ہمارا نقصان ہوگا۔ اس قوم میں بھی تین گروہ بن گئے تھے۔ قرآن کریم میں بہت سی قوموں کے ایسے واقعات بیان ہوئے ہیں جن میں ان کے غلط اعمال اور اﷲ تعالیٰ کے احکام وحدود سے تجاوز کی پاداش میں ان کو عذابِ الٰہی کا سامنا کرنا پڑا۔اس سلسلہ میں ایک مشہور اور عبرتناک واقعہ اصحاب سبت کا ہے۔ اﷲ نے ان کے لیے ہفتہ (سنیچر) کو عبادت کا دن مقرر کیا۔ اس دن ان کے لیے خرید و فروخت کو حرام قرار دیا اور اس دن کو صرف عبادت کے لیے مخصوص کردیا۔شریعت کے حکم کے ساتھ انہوں (قوم سبت )نے یہ مذاق کیا کہ اس حکم کی اصل روح کو مسخ کردیا۔

بالکل ایسے جیسے جمعۃ المبارک کے بعد اسلام میں کام کرنے کی اجازت ہے اس سے پہلے نہیں ۔ہمارے ہاں اس کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جمعۃ المبارک کے دن کی چھٹی کا اسلام میں تصور نہیں ہے۔ ان کے لیے یہ بات کافی ہے کہ جمعہ سے پہلے چھٹی کرنے کا تصور ہے یا بعد میں۔ اگر بعد میں ہے تو پہلے کیوں کی جاتی ہے ۔اور جب اتوار کے دن چھٹی کا تصور نہیں ہے تو آپ کیوں کرتے ہیں ۔یہ بالکل اصحاب سبت والی دلیلیں لاتے ہیں ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ سبت مخصوص تھا، اس قوم کے لیے اس کا اطلاق ہم پر نہیں ہے ۔ایسے سب افراد کے لیے عرض ہے کہ یہ واقعہ قرآن پاک میں موجود ہے ہماری نصیحت کے لیے عبرت کے لیے نشانی کے لیے ہمیں سمجھانے کے لیے اس لیے، اس واقعہ میں ہمارے لیے عبرت ہے سبق ہے۔ ﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں اس بستی کے بارے میں فرماتا ہے کہ ’’اور (اے نبیؐ) ان سے اس بستی کے بارے میں پوچھو جو سمندر کے کنارے آباد تھی، جہاں سبت (سنیچر) کے معاملہ میں لوگ حد سے باہر جاتے تھے۔ سبت کے دن ان کی مچھلیاں پانی پر تیرتی ہوئی ان کے سامنے آجاتیں اور جب سبت کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اس طرح ہم ان کی نافرمانی کی وجہ سے انہیں آزمائش میں ڈالتے تھے اور جب ان میں سے ایک گروہ نے (نصیحت کرنے والوں سے) کہا تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اﷲ یا تو ہلاک کرنے والا ہے یا سخت عذاب دینے والا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ اس لیے کہ تمہارے رب کے حضور معذرت کرسکیں اور اس لیے کہ یہ لوگ باز آجائیں۔
 


پھر جب وہ اس نصیحت کو بالکل بھلا بیٹھے جو انہیں کی گئی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو برائی سے روکتے تھے۔ مگر غلط کار لوگوں کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ پھر جب وہ اس کام کو جس سے انہیں منع کیا گیا تھا پوری ڈھٹائی کے ساتھ کرنے لگے تو ہم نے کہا، ذلیل بندر بن جاؤ‘‘۔ (الاعراف)اس بستی میں تین قسم کے لوگ موجود تھے۔ایک وہ جو احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ دوسرے وہ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کرتے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہے تھے ۔ تیسرے وہ جن کی غیرت ایمانی حدود اﷲ کی اس کھلم کھلا بے حرمتی کو برداشت نہ کرسکتی تھی ۔او روہ اس خیال سے نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے ۔اس صورتِ حال میں جب اس بستی پر اﷲ کا عذاب آیا تو قرآن مجید کہتا ہے کہ ان تینوں گروہوں میں سے صرف تیسرا گروہ ہی اس سے بچایا گیا۔ جمعہ بابرکت اور مسلمانوں کی عبادت کا دن ہے اور اِس طرح ہمارے بچے بھی نماز کی طرف راغب ہوں گے اور ہم اپنی نوجوان نسل کو مکمل اورپاکیزہ اسلامی ماحول مہیا کرسکیں گے۔

امت محمدیہ ملت ابراہیمی کی پیروی میں جمعہ کو تسلیم کرتی ہے، اس لیے اسلام نے جمعہ کے دن کاروبار کے معاملہ میں کسی طرح کی سختی نہیں رکھی ہے، البتہ صرف خطبہ و نماز جمعہ کے وقت میں معاش کمانے سے روک دیا ہے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد حلال روزی تلاش کرنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ اس کی ترغیب بھی دی ہے۔لیکن یہ جمعہ ادا کرنے کے بعد کی بات ہے جمعہ سے پہلے کام کرنے کا نہیں کہا گیا ۔ہمارے ہاں عجیب بے تکی بات کی جاتی ہے کہ جمعہ سے پہلے کام کرو اور عین جمعہ کے وقت چھٹی کرو۔حالانکہ جمعہ کو عید کا دن کہا گیا ہے، اس دن نہانا ،اچھے کپڑے پہننے کا حکم ہے ۔مسواک کرنا اور جمعہ کی نماز کے لیے جامع مسجد جانے کا حکم ہے ۔جامع مسجد شہر کی مسجد جہاں آبادی زیادہ ہو ۔یہ سب تب ممکن ہے جب وقت ہوگا ۔وقت تب ہوگا جب قبل از جمعہ چھٹی ہو گی ۔بعد از جمعہ نہیں ۔
 


حضرت ابو ہریرہ اور حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو ہم سے پہلے تھے، جمعہ کے دن سے محروم کردیا۔ یہود کا دن ہفتہ اور نصاری کا دن اتوار مقرر ہوا۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے ہم کو بھیجا اور جمعہ کے دن کے لیے ہم کو ہدایت دی۔ اس طرح جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے دن مقرر ہوئے اور اس ترتیب کے لحاظ سے وہ (یہود و نصاری) قیامت کے دن ہمارے پیچھے رہیں گے۔ دنیا میں ہم سب سے پیچھے ہیں مگر قیامت کے دن سب سے پہلے ہمارا فیصلہ ہوگا‘‘۔ (صحیح مسلم،کتاب الجمعۃحدیث نمبر ۶۵۸)

دوسری بات جب آپ نے چھٹی کرنا ہی ہے تو اتوار کی بجائے جمعہ کو کیوں نہیں کرتے۔اتوار کی چھٹی کا بھی اسلام میں حکم نہیں ہے ۔رہی کاروبار کی بات تو اس پر قوم سبت کا واقعہ کافی ہے جو اوپر گزر چکا ہے ۔مال و دولت ،کاروبار ، جمعۃ المبارک کو کام کرنے سے دوسری دنیا سے کٹ جانے کا ڈر یہ سب ہماری آزمائش ہے ۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ آج جن اسلامی ممالک میں جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے اِن ممالک کی معیشت مستحکم ہے اور اِن کا اقتصادی ڈھانچہ بھی مضبوط ہے، نہ تو اِن کی ترقی رکی ہے اور نہ ہی یہ ممالک کسی بھی ترقی یافتہ مُلک سے معاشی ترقی سے پیچھے ہیں ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2671 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

یہ پوسٹ لکھنے سے پہلے یہ تو سوچ لیتے ہمارا ملک اسلامی کیلنڈر کیوں استعمال نہیں کرتا۔
کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟
اگر سوچو گے تو معلوم ہو گا کہ اکثر عمل زندگی میں اسلامی کیلنڈر کا استعمال ممکن نہیں۔
مثال کے طور پر ایک کاشتکار کو فصل بونے کیلیے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا موسم کس تاریخ سے اور کس ماہ میں شروع ہوگا۔
اس طرح وہ پہلے سے فصل بونے کی تیاری کرسکتا ہے اور ٹھیک وقت پر اس کو بو سکتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
اب سوچو کہ ایسے کاشتکار کیلیے اسلامی کیلنڈر زیادہ مفید ہےیا کہ غیر اسلامی کیلینڈر جو پاکستان میں ہر کوئی استعمال کر رہا ہے۔
اسلامی کیلنڈر موسموں سے نہیں جڑا ہوا اسلیے کاشتکار کیلیے اسے استعمال کرنا مشکل ہے۔
دینا کے بڑے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک میں ایک ہی کیلنڈر اور ہفتے میں اتوار کو ہی چھٹی کا دن ہے۔
کیا اسلامی کیلینڈر جمعے کے دن سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا؟
اگر ہم اسلامی کیلینڈر کو چھوڑ سکتے ہیں تو جمعے کی چھٹی کو کیوں نہیں چھوڑ سکتے؟
By: Sultan, Multan on Mar, 09 2019
Reply Reply
0 Like
السلام علیکم و رحمتہ اللہ ۔ ماشا اللہ جمعہ کی چھٹی کے بارے میں اس تحریر میں جو باتیں تحریر کی گئی ہیں قابل غور ہیں اور قابل عمل ہیں۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما دے اور ہمارے حکمرانوں کو اس سلسلے میں حق راہ دکھا دے تا کہ اللہ کی خوشنودی کو حاصل کر سکیں۔ اور اللہ کی مدد شامل حال ہو جائے۔ آمین یا رب العالمین
By: Syed Mujahid Gilani, Quetta on Mar, 01 2019
Reply Reply
0 Like
The writer must read the complete second part of Surah Jumm'a. "O the people of faith, when adhan for Salat-al-Jumm'a is given, come for the zikr(dhikr) of Allah SWT and stop your trade(work), better are those who know that (have the knowledge of that). And when the Salah comes to an end, spread on the land of Allah SWT in search of the bounties of Allah SWT.
Where does the Friday has been declared as a holiday? It is the most important day, it is known as eid-e-asghar. But this Friday holiday issue is same as celebration of birth of our beloved Prophet PBUH. Non has been done either in the time of our Prophet or Sahaba. It is nothing but following the tradition of follower's of other religion. Please refrain from this.
By: Syed Jafry, Torrance on Feb, 27 2019
Reply Reply
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
Friday ir in Arabic JUMMAH literally means congregation. It is a day when GOD has told every beliver to pray in congregation. Our PROPHET MUHAMMAD (PEACEBE UPON HIM) said Friday is the best day. ... In Islam, Friday is given the most importance than any other days of the week.