احساس برتری ، احساس کمتری یا کچھ اور

(Tanvir Sadiq, Lahore)

بھول جانا ایک بیماری ہے جسے الزمر (Alzheimer)کہتے ہیں یہ بیماری عام طور پر پینسٹھ (65) سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔بوڑھوں میں پائے جانے والی یہ بیماری ایک دماغی بیماری ہے جس سے انسان آہستہ آہستہ اپنی یاد داشت کھونے لگتا ہے ، اس کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بتدریج کم ہونے لگتی ہے ۔ ڈاکٹر حضرات اس بیماری کو سات درجات میں تقسیم کرتے ہیں۔ ساتویں اور آخری درجے میں ا نسان ہلنے جلنے کی صلاحیت بھی کھو دیتا ہے اوراس درجہ پر پہنچنے والا شخص زیادہ زندہ نہیں رہ سکتااور یہ درجہ اس کی موت پر ختم ہوتا ہے۔

بوڑھوں کا بھول جانااور ان کی عمر میں یہ بیماری تو سمجھ آتی ہے مگر نوجوان ایسا ظاہر کریں تو اسے کیا نام دیا جائے مگر ایسا بھی ہوتا ہے ، معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ بعض لوگوں کو اوقات بھول جاتی ہے بنیادی طور پر ان کا تعلق میرے جیسی کسی عام اور کم آمدن والی فیملی سے ہوتا ہے ۔ یکا یک تعلیم یا کسی مالی آسودگی کے نتیجے میں انہیں یکدم ایک بہتر مرتبہ مل جاتا ہے مگر وہ اس مرتبے سے انصاف کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اور اپنی اسی خامی کے سبب وہ اپنے عام اور پرانے واقفوں اور جاننے والوں کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ ان بے چارے احمقوں کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اپنے اس رویے سے وہ اپنا وقار اور اپنی عزت کم کر رہے ہیں۔انہی لوگوں کوجب پتہ چلتا ہے کہ نظر انداز کئے جانے والا تو بہت با اثر اور ان سے بہتر حیثیت کا حامل ہے تو یہ لوگ گھٹیا حد تک چاپلوسی پر مائل ہوجاتے ہیں۔

خان میرا کلاس فیلو اور بہت اچھا دوست ہے ۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں ہم سیاسی طور پر ایک دوسرے کے مخالف تھے مگر ذاتی دوستی پر ہم نے اس مخالفت کی کبھی کوئی چھاپ نہیں پڑنے دی۔چند دن ہوئے خان لاہور آیا۔ مجھ سے رابطہ کیا۔ میں سب کام چھوڑ کر اس کے پاس پہنچ گیا اس لئے کہ سنا ہے ہم دم دیرینہ کا ملنا ملاقات مسیحا اور خضر سے بہتر ہوتا ہے اور پھر سارا دن ہم ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر اپنے پرانے دوستوں کو ملتے رہے۔یہ لمحے اتنے خوبصورت تھے کہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جوانی اور طالب علمی کے اس خوشگوار دور کی یادوں کو تازہ کرنے سے زیادہ پر مسرت لمحے ہو ہی نہیں سکتے۔ ہم دونوں نے وہ دن بڑا بھرپور اور انجانی مسرتوں سے سرشار گزارا۔

اسلام آباد یونیوسٹی (موجودہ قائد اعظم یونیورسٹی) کے ہمارے دو کلاس فیلو وہیں لیکچرر مقرر ہوئے۔ ان میں ایک صاحب راولپنڈی کے محلہ وارث خان کے رہائشی تھے۔ کبھی محلہ وارث خان جانا تو گلی کی سیڑھیاں اتر کر چند قدم پر ایک کلاس فیلو اور کچھ آگے اسلام آباد یونیورسٹی کے ان لیکچرر،جو بعد میں پروفیسر ہوئے ،کا گھر تھا۔ان کے گھر ہم لوگوں کا بہت آنا جانا تھا۔ اس کے والد، والدہ، بہن بھائی سب واقف تھے۔ مجھے آج بھی ان میں کچھ کے نام یاد ہیں۔ میں دو سال اسلام آباد یونیورسٹی یونین میں صدر اور نائب صدر رہا ہوں۔میری یہ لیڈری میرے ان چند دوستوں کی مرہون منت تھی جو ہر وقت میرے ساتھ ہوتے تھے۔ وہ پروفیسر صاحب بھی انہی میں سے ایک تھے۔ کسی نے ان کے بارے پوچھنا تو جواب ملنا کہ تنویر کے ساتھ جو گروپ ہوتا ہے اس میں اس حلئیے کے صاحب ۔

یادوں میں ان پروفیسر صاحب کا بھی ذکر چلا تو خان صاحب بولے کہ یار وہ عجب آدمی ہے۔ ایک دفعہ مجھے یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی میں کام تھا۔ میں نے سوچااس سے مدد لوں ۔وہ کوریڈور میں نظر آیا۔ میں جھٹ سے اس کے پاس تھا۔ بڑے روکھے انداز میں ملا جیسے مجھے جانتا ہی نہیں۔ میری بات کا جواب دینے کی بجائے وہاں کچھ لڑکیاں تھیں ان سے بات کرنے لگا، پھر ایک دم غائب ہو گیا۔تمہارا توبہت اچھا دوست تھا، اسے کیا ہوا ہے۔میں ہنس دیا اور کہا ’’خان صاحب اب میری بھی سنیں۔یونیورسٹی چھوڑے دس بارہ سال ہوئے تھے ۔ میں پاکستان سے کہیں باہر جانے کے لئے ائیر پورٹ لاؤنج میں بیٹھا تھا کہ میری نظر پروفیسر صاحب پر پڑی۔ ہمارے ایک سینئر ان کے ہمراہ تھے۔ میں بائیں پھیلائے ان کی طرف لپکا۔ سینئر دوست نے مجھے دیکھا تو تیزی سے آگے بڑھا اور میری طرح بائیں پھیلا کر گلے ملا۔ اسی انداز ہی میں ہم نے ایک دوسرے کی خیریت جانی ، حال احوال پوچھا،پتہ چلا کہ پروفیسر صاحب اور ہمارے سینئر دونوں سعودیہ کی کسی یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔چند دن چھٹیوں پر آئے تھے، اب واپس جا رہے ہیں‘‘۔

ہماری اس گفتگو کے دوران پروفیسر صاحب دوسری طرف منہ کئے کھڑے رہے۔ میں نے ان کا نام لے کر آواز دی، مڑے اور کہنے لگے، ’’جی آپ کون ، میں نے پہچانا نہیں‘‘۔ مجھے ہنسی آ گئی، میں نے بڑے مودبانہ انداز میں عرض کیا، ’’پروفیسر صاحب، آج کل اپنے ابا جی کو بھی پہچانتے ہیں کہ نہیں‘‘۔ سینئر کو پتہ تھا کہ یونیورسٹی میں جب بھی کسی سے اس قدر مودبانہ انداز میں عرض کرتا تھا تو اگلے لمحے وہ جسم کا کوئی حصہ سہلا رہا ہوتا تھا۔ سینئرنے تیزی سے مجھے کھینچا اور ایک طرف لے جا کر کہا۔’’پلیز وہ پاگل ہے، لیکن تم کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ ائیر پورٹ پر ہی بیٹھے رہیں‘‘۔ یہ واقعہ سن کر خان صاحب ہنس دئیے کہ اگر تمہارے ساتھ یہ ہوا ہے جس کے ساتھ اس کے بہت زیادہ تعلقات تھے تو میرے ساتھ تو معمولی بات ہے۔

ایک اور واقعہ مجھے یاد آیا۔ میرے چھٹی سے دسویں تک کے دو کلاس فیلو ایک ہی مکان کے مکین تھے۔پرانے وقتوں کی الاٹ شدہ بہت بڑی کوٹھی تھی جو ایک دوست اور کلاس فیلو کے والد کی ملکیت تھی۔ پیچھے کھلے کھلے بڑے سائز کے سرونٹ کواٹر تھے جو انہوں نے کرایے پر دیے ہوئے تھے۔ ایک کلاس فیلو اس میں رہتا تھا۔ سرونٹ کوارٹر میں رہنے والے کی کمزور مالی حا لت کے سبب سارے دوست اس کی مدد کے خواہاں ہوتے۔ پانچ سال ہم لوگ ہر لمحہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے ۔ سرونٹ کوارٹر میں مکین ہمارے دوست نے میٹرک کیا تو اسی وقت اس کا بڑا بھائی ایف اے کرکے کسی بنک میں ملازم ہو گیا اور اسے اس کا کوئی عزیز مزدوری کے لئے اپنے ساتھ جرمنی لے گیا۔ اس کے بعد اس سے ہم دوستوں کا کوئی رابطہ نہ رہا ۔ کوئی دس سال بعد میں ایک شادی میں شریک تھا کہ ایک صاحب نے مسکراتے ہوئے نعرہ لگایا، ’’تنویر ! کیا حال ہے۔ کبھی نظر ہی نہیں آئے۔کیا کر رہے ہو‘‘۔ میں نے دیکھا میرے جرمنی جانے والے دوست کے بڑے بھائی تھے۔ میں اٹھ کر بڑے احترام سے ملا۔ بڑے خوش تھے۔ میں نے کہا کہ بھائی دس بارہ سال بعد بھی آپ نے مجھے آسانی سے پہچان لیا۔بولے،’’کیسے بھول سکتا ہوں۔ تمہارے ہم پر بڑے احسان ہیں‘‘۔ میں نے جواب میں کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ کا بھائی میرا دوست ہے اور دوستوں کا کام ہی ایک دوسرے کے کام آنا ہے۔ کہنے لگے ، ٹھیک کہتے ہو لیکن یہ چیزیں یاد تو رہتی ہیں۔ ہاں خوشی کی بات کہ آج عرصے بعد تم ملے ہو تو تمہارا دوست بھی آیا ہوا ہے۔ وہ پرے بیٹھا ہے میں بلا کر لاتا ہوں۔ میں کھڑا ہو گیا کہ نہیں آپ کیوں تکلیف کریں ،میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ سامنے میز پر میرا دوست بڑے کروفر سے انتہائی سنجیدگی کے علم میں یوں لوگوں میں گھرا بیٹھا تھا جیسے اندھوں میں کاناراجہ ہو۔ اس کے بھائی نے اس کا نام لے کر نعرہ لگایا، دیکھو تمہارا دوست۔ میرے کلاس فیلو نے حیران سی نظروں سے پہلے مجھے دیکھا پھر بھائی کی طرف منہ کرکے سر یوں ہلایا جیسے پوچھ رہا ہو کون سا دوست۔

بڑے بھائی نے پہلے میرا نام بتایا ، پھر مجھ سے جڑے کچھ واقعات اور باتیں دھرائیں۔ مگرمیرے پرانے دوست اور کلاس فیلو نے ہر بار کہا کہ اسے کچھ یاد نہیں۔ میں واپس پلٹا۔ اس کا بھائی معذرت کرتا مجھے چھوڑنے میری جگہ تک واپس میرے ساتھ آیا۔ وہ بہت شرمندہ محسوس کر رہا تھا۔ میں نے اسے حوصلہ دیا کہ ایسا ہو جاتا ہے شاید وہ بھول گیا ہے مگر وہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا۔ اس کے بھائی کے جانے کے بعد میں سوچنے لگا کہ میرا پرانا دوست کانا راجہ نہیں پوری طرح اندھا راجہ ہے۔ اندھے راجہ پن کی یہ بیماری کیا چیز ہے اور اس کو کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ تو احساس برتری اور احساس کمتری سے بھی بہت بڑھ کر کوئی شے ہے جس کا تعلق احساس اوقات سے ہے جو ہر صورت لاعلاج بھی ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 200 Print Article Print
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 388 Articles with 171409 views »
Teaching for the last 45 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More

Reviews & Comments

Language: