بھارتی جارحیت ،سیاسی منظر نامہ اور حقائق

(Moosa Ghani, )

جہاں دنیا آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہے وہیں حقیقت یہ بھی ہے کہ جنگوں اور وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں معصوم جانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے جنگیں شروع کرنا تو آسان ہے مگر خاتمہ ناممکن یہی حال اس وقت برصغیر کی دوبڑی طاقتوں کا ہے جو محاذ پر ڈٹ چکی ہیں ،گزشتہ روز بھارت کی جانب سے پاکستان میں گھس کر بمباری کا ایسا بھونڈا مزاخ کیا جو کسی بھی ملک کی فوج کے شایان شان نہیں ہوتا مگر بزدل دشمن کہوں یا طاقتور جوابی کارروائی سمجھ سے باہر ہے ،بھارت کی جانب سے پاکستان میں بمباری کے نتیجے میں 10درخت شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں جو وزیراعظم کے بلین ٹری سونامی کا حصہ ہے۔

اب کچھ نظر بھارت کے بیانئے پر بھارتی میڈیا اور یہ بات یہ یہاں واضح کرتا چلوں کہ میڈیا بھارت کا ہو اور اس کا سر پیر ہو تو یہ بات اپنے آپ میں خود ایک ایسا چٹکلا ہے جو صرف پاکستان ہی سمجھ سکتا ہے تو کہانی یہ ہے کہ بھارت نے مظفر آباد سیکٹرسے اپنے فائٹر طیارے داخل کییجوبمشکل سرحد کے ہی قریبی علاقے باجوڑ تک جاسکے جس میں ان کو تقریبا ۴ منٹ لگے یہاں یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ ایک جنگی طیارے کی اوسط اسپیڈ 400ایرو ناٹیکل میل ہوتی ہے یعنی بھارتی فوج پاکستان کا امتحان لینے کی غرص اور سیاسی منظر نامے کے تحت الیکشن کارڈ کھیلنے اور سرحدی خلاف ورزی کرکے پاکستان کو ڈرانا چاہتی تھی ۔آج سے دس دن قبل بھارت کی زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلومہ میں ایک کار بم دھماکے میں 44فوجی ہلاک ہوئے تھے جس کا سارا ملبہ بھارت نے ایک گھنٹے کے دوران پاکستان پر ڈال کرراہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی تھی مگر جو الٹا پھنس گیابھارت کی اقوام عالم میں رسوائی ہوئی اور اندرونی چپقلش قدر عروج پر پہنچ گئی کہ بھارتی سرکار پر عوامی دباؤ بنا کہ پاکستان سے بدلہ لیا جائے الیکشن قریب ہیں اور سوچی سمجھی سازش کے تحت بھارتی فوج جو مودی جیسے انتہاٗ پسندوں کی غلام ہے کارروائی کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہے اور "جیش محمد " کالعدم تنظیم کے300سے زائد دہشت گرد مار دیتی ہے جو موقف ہے بھارتی فضائیہ ،میڈیا اور رہنماؤں کا جبکہ پاکستانی فوج االٹے پاؤں لوٹنے والے جنگی طیاروں کے بم دیکھاتی ہے جو فرار ہونے کی کوشش میں گرا گئے تھے اور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ لاشیں دیکھائی جائیں جو مارے گئے ہیں جس پربھارت کی جانب سے ایک اورویڈیو جاری کردی جاتی ہے اور انکشاف یہ ہوتا ہے کہ بھارت نے ایک سماجی ویب سائٹ یوٹیوب سے پاکستان کے کرتب کرتے طیارے دیکھائے جو فلائی پاس یا جنگی مشق کررہے تھے اور ویڈیو 2017کا معلوم ہوتا ہے یوں بھارت سوشل میڈیا اور جنگی میدان دونوں میں شکست خوردہ ہے مگر اس وقت بھارت میں دیوالی کا سماء ہے کیونکہ دشمن کی جانب سے اپنی ناکامی پر جشن منایا جارہا ہے ۔

سیاسی منظر نامے پر اگر آپ سرسری نگاہ دوڑائیں تو اپکو احساس ہوگا بھارت میں الیکشن کا موقع، مودی مسلمان مخالف جذبات ،کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں اور غیر قانونی قانون پر عمل درآمد ،پاکستان میں پی ایس ایل سمیت غیر ملکی کھلاڑیوں کی واپسی یہ وہ چیزیں ہیں جو پاکستان کے بھارت مخالف بیانئے کو تقویت دیتی ہیں جو بھارت مخالف جذبات رکھتے ہیں اور حقائق پر نظر ڈالیں تو موجودہ دور میں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا آپ کا ہتھیار بھی ہیں اور ذہن سازی کاذریعہ بھی، بھارت مسلسل پاکستان مخالف جذبات بھڑکا کر خطے کے امن اور اپنی ہی نام نہاد ڈیموکریسی کا پول کھول رہا ہے ۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی 8لاکھ فوج اس بات کا ثبوت ہے بھارت کشمیریوں کے مدمقابل زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا ہے جذبہ حریت اور ایک لاکھ نوجوانوں کے خون کی ہولی کا جواب بھارت پاکستان پر الزام ڈال کر نہیں ٹال سکتا ہے بزرگ حریت قیادت کے رہمناؤں کو پھانسی اور اذیتیں دے کر بھارت اب صرف کشمیریوں کی شہ دبانا چاہتا ہے جس پر عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ کی نام نہاد تنظیمیں خاموشی کی وہ ڈھال بنی ہوئیں ہیں جو ماضی قریب اور بعید میں دیکھنے کو نہیں ملتیں ،بھارت میں کشمیر مخالف نظریہ اب پورے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے خواہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہو یا الہ ٰ آباد میں پاکستان کے حق میں نعرے یہ اس بات کا مظہر ہیں کہ پاکستان کا میابی کی طرف گامزن ہے۔

پاکستان کی طرف ہرمیلی اٹھنے والی نظر کو پاکستانیوں نے شکست دی ہے اس لیے یہ وقت سیاست،فرقہ واریت اور اختلافات سے بڑھ کر ملک و قوم کے مفاد میں فیصلہ کرنا ہے تاکہ دشمن کو شکست دے سکیں۔فوج جانب سے بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت کو ہر پاکستانی خیرمقدم کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ ملک وقوم کے محافظ ہر محاذ پر کامیاب و کامران رہیں ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 269 Print Article Print
About the Author: Moosa Ghani

Read More Articles by Moosa Ghani: 22 Articles with 7048 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: