بھارتی جنگی جنون

(Muhammad Saad Ifrahim, Karachi)
ہمیں یہ بات سمجھ جانی چاہئیے کہ پلوامہ کا ڈرامہ مودی سرکار کی الیکشن مہم کا ایک خاص حصہ ہے

جنگ کوئی نہیں چاہتا، امن سب چاہتے ہیں

تاریخ گواہ ہے پاکستان کا استحکام بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھاتا لہذا پلوامہ جیسے ڈرامے رچائے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھ جانی چاہئیے کہ پلوامہ کا ڈرامہ مودی سرکار کی الیکشن مہم کا ایک خاص حصہ ہے۔جیساکہ نفرت کی سیاست، شدت پسندی اور مسلم دشمنی نریندر مودی کی خاص پہچان ہے لہذا اب ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے موصوف خطے کے امن کو داؤ پر لگانا چاہتے ہیں۔

چلیں صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ پلوامہ حملہ ہوا۔ الزام پاکستان پر دھرا گیا۔وزیراعظم پاکستان نے بمعہ ثبوت تحقیقات کی دعوت دی۔ دعوت کو مسترد کیا گیا۔ لائین آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہماری حدود میں رہنے کی کوشش کی گئ (بمشکل تین منٹ جوکہ انڈین پروپیگنڈے کے مطابق اکیس منٹ بنتے ہیں) اور پاکستان کے شاہینوں کو دیکھتے ہی بھاگتے بنے۔ پھر ۲۷ فروری کی صبح دوبارا خلاف ورزی رپورٹ ہوتی ہے چنانچہ پاکستان نے اپنا دفاعی حق استعمال کرتے ہوئے طیارے مار گرائے جن کے پائلٹس زیرحراست ہیں۔ اب اس پورے منظرنامے میں جارحیت بھارت کی جانب سے تھی یا پاکستان کی جانب سے؟ بھارتی میڈیا بھارتی جارحیت کا دفاع کچھ اس طرح کرتا ہے کہ پاک سرزمین بھارت کا اختیار ہو جیسے۔
اوقات نہیں آنکھ سے آنکھ ملانے کی
لوگ نام مٹانے کی بات کرتے ہیں

حقیقت تو بس اتنی ہے کہ معملات کشیدہ ہیں۔ لیکن اس حقیقت کہ باواجود ہم امن کہ خواہاں ہیں جبکہ بھارتی سرکار اور بھارتی سرکار کے پالتو میڈیا کو جنگ کی خواہش ہے۔ کیا یہ جنگ کی تعریف بھی جانتے ہیں؟ چلو میں مثال سے سمجھتا ہوں ایک ٹین کا ڈبہ لو اور اسے پتھر سے کچل ڈالو۔ کیا تم واپس اسے اس کی اصل حالت میں لاسکتے ہو؟ ہاں یہ ناممکن ہے اور یہی حال جنگ میں دونوں قوموں کا ہوتا ہے۔ دونوں قوموں کے زخم کبھی بھر نہیں پائینگے۔ لاکھوں بے گھر ہونگے، بے سہارا ہونگے، بچے یتیم ہونگے اور عورتیں بیواہ ہونگیں۔ قومیں کئ سو سال پیچھے چلی جائنگیں پھر غربت ہوگی، بھوک ہوگی اور جہالت ہوگی۔ چونکہ یہ سب باتیں ایک مہذب قوم ہی سوچھتی ہے لہذا پاکستان ہی امن کی پہل کرتا ہے۔ کاش بھارتی سرکار امن کا مثبت جواب دے۔ کاش اس خطے کا امن قائم و دائم رہے۔
پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 294 Print Article Print
About the Author: Muhammad Saad Ifrahim

Read More Articles by Muhammad Saad Ifrahim: 7 Articles with 3321 views »
Civil Engineer. Researcher. Optimistic.
.. View More

Reviews & Comments

Language: