پاک بھارت کشیدگی ۔۔۔جنگ یا امن!

(Prof. Khurshid Akhtar, Islamabad)

جنگیں تاریخ بناتی اورانسانیت مٹاتی ہیں ۔ اگرچہ وہ تاریخ کے اوراق ہمیشہ سیاہ رہتے ہیں۔ انہی جنگوں کی بنیاد انتہا پسندی،شدت اورمتصبانہ رویے بنتے ہیں ۔بدقسمتی سے پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کے میڈیا اور حکومت نے اسی رویے کورواج دیا ہے اس کی بڑی وجہ نریندرمودی کاپس منظراورانتہاپسندہندوؤں کی حمایت ہے ۔جس کوبرقراررکھنے اور اس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے مودی بلکہ بی جے پی نے ہمیشہ استعمال کیاہے۔پاکستان اوربھارت کی حالیہ کشیدگی پربھارت کی21جماعتوں نے کانفرنس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں کہاگیاکہ مودی حکومت فوج کی قربانیوں کواپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے اس وقت دنیابھرکے میڈیا،پاکستان کی سیاست اورپالیسی سازاداروں میں بھی مودی کی سیاست اورکشیدگی کوالیکشن مہم کاحصہ قراردیاہے۔یہ وہی مودی ہے جس پردنیانے اپنے دروازے بندکردیئے تھے اورانسانیت کاقاتل قراردیاتھا۔آج دنیااپنے مفادات کے گرداس طرح گھوم رہی ہے کہ مودی کوجپھے ڈالے جاتے ہیں ۔ان کے پیچھے وہ مادیت زدہ سوچ کارفرماہے ۔جسے وہ مستقبل کے آئینے میں دیکھتے ہیں ۔راہول گاندھی کی قیادت میں21جماعتوں کے اعلامیے میں مودی کوبے نقاب کرکے بھارتی عوام میں ایک نئی سوچ پیداکرنے کی کوشش کی ہے ۔یہاں عمران خان نے بھی امن اورنئی سوچ کی دعوت دے کر دنیاکوپیغام دیاہے ۔مگرعالم پہ سکوت طاری ہے اوریہی بدقسمتی کسی بڑے خطرےکو جنم دے سکتی ہے امریکہ نے امن کا یقین دلایا ھے ۔ایک دوسرے زاویے سے عالمی منظرنامے کامشاہدہ کیاجائے تو وہ ایک قوم پرست قیادت کارجحان زیادہ غالب نظرآرہاہے ۔امریکی صدرٹرمپ ہوں ،روس میں پیوٹن کی قیادت ہو ،ترکی میں اردگان کی سوچ ہو،بھارت میں مودی ہو ں اورپاکستان میں عمران خان ان میں نیشنل ازم کا مادہ مختلف انداز میں موجود ہے ٹرمپ اورمودی میں قدرے پاگل پن ہے ۔ٹرمپ منفی طرزعمل سے امریکنیت کوہوادے رہے ہیں تومودی اس کے ہم پلہ ہندوتاکے جنونی نشے میں مبتلا ہیں ۔محمدبن سلمان ،اردگان،پیوٹن اور عمران خان کانظریہ قومیت مختلف اوردوررس نوعیت کا ہے ۔جس کامحورعزت وقار کے ساتھ ترقی ہے ۔اگرآپ ماضی میں دیکھیں توشاہ فیصل،ذوالفقارعلی بھٹو،کرنل قذافی ،یاسرعرفان اورصدام حسین بھی اسی نیشنل ازم کاشکارہوئے ۔یہ بائیں بازو کے،نیشنل ازم کے بانی تھے۔صدام حسین ،قذافی یاسرعرفات،شاہ فیصل،بھٹو،امریکہ کے قریب ہوکربھی کمزورکرکے ماردیئے گئے کیونکہ ان کے اندرنیشنل ازم تھا۔امریکہ کوایسی تمام سیاسی قیادت جس میں کوئی ازم پھلناپھولناشروع ہوتاہے۔اسے راستے سے ہٹادیتے ہیں ۔اب صدام جیساکمزورترین ہدف،قذافی کی لاچاری ومجبوری ان کی زندگی نہیں بچاسکی کیونکہ ان کے اندرعرب نیشنل ازم ایک دوسری انتہاپرفائزتھا۔کسی بھی متعصب فکروسوچ سے کوئی نہ کوئی بربادی ضرورپھوٹتی ہے یاترقی کی کوئی منزل ملتی ہے۔بدقسمتی سے ٹرمپ اورمودی جیسے حکمرانوں سے دنیائے امن کوشدیدخطرات لاحق ہیں ۔اگرچہ کانگریس پاکستان مخالفت میں کئی آگے ہے مگرصرف اس کارڈپرسیاست اس کی فکرکاحصہ نہیں رہی۔مودی اس وقت اعصابی ،نفسیاستی اورسیاسی اعتبارسے سخت پسپائی کاشکارہیں۔اس لیے وہ پاکستان مخالف پراپیگنڈے سے برتری حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔گزشتہ دنوں بھارتی عوام میں بھی جنگ مخالف رجحان سوشل میڈیا پرنمایاں دکھائی دیا۔لیکن اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ مودی اپنی آخری کوشش کے طورپرخطے کوجنگ میں نہ دھکیل دیں۔اس سارے تناظرمیں اقوام متحدہ کاکرداربھی بے معنی نظرآتاہے ۔وہ اتنی غیرموثرہوچکی ہے کہ آج تک کوئی جنگ نہیں رکواسکی۔مفادات کے گردگھومتی عالمی طاقتیں خاموشی کوترجیح دے رہی ہیں ۔ان حالات میں پاکستانی اوربھارتی عوام کوکوئی فیصلہ کرناہوگا۔

امن کی ایک نئی سوچ پیداکرنے کیلئے میڈیاکاکرداراہم ہے۔انڈین میڈیا نےاپوزیشن کااعلامیہ پاکستان کے لیے خوش خبری قرار دیا ۔اس سے اندازہ کیاجاسکتاہے کہ اس وقت بھارتی ذرائع ابلاغ مودی کی سوچ کوپروان چڑھانے میں کتنا ممدومعاون ہے ۔اس کے مقابلے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ امن ،اتحاد کے حق میںاورانتہاپسندی کے خلاف موثرحکمت عملی پرکام کرتانظرآئے گا۔جنگ کے عالم میں بھی امن کی بات کرنا ،ہمارے میڈیاکافخرہے ۔ہم آسمانی نہیں ،زمینی مخلوق ہیں اور زمینی حالات کودیکھ کر ہی تجزیہ کرناچاہیے ۔جس سے مضبوط معاشرہ وجودمیں آتاہے ۔اس سے دوقدم آگے ہمارے ہاں لکھنے اوربولنے والوں کاایک طبقہ ایسابھی موجودہے جو پاک فوج ،حکومت اورایسی تمام قوتوں کوخوب تنقیدکانشانہ بناتاہے۔اس کے باوجود معاشرہ اورہمارے ادارے اسے برداشت کرلیتے ہیں ۔بھارتی انتہاپسندی جنون اورپاگل پن کوایک باذوق ہندی معاشرہ کیسے برداشت کرلیتاہے ۔یاکیوں خاموش ہے ؟پاکستان اوربھارت کے اندرسوچ کاایک واضع فرق ہے ۔وقتی ابال مستقبل کی کئی تصویریں دھندلی کردیتاہے۔بھارتی پالیسی سازاداروں کو،صحافیوں کواورحکومت کو اس کاتجزیہ کرناہوگا۔بات نکلے گی توپھردورتک جائے گی۔نیشنل ازم کی اہمیت اپنی جگہ مگرپاگل پن کاتوعلاج ڈھونڈناچاہیے۔یہ دیوانگی انسانیت کوتباہ کردے گی۔عمران خان نے ماضی کی جنگوں کاحوالہ دے کردنیاکوباورکرایاکہ امن کے لئےکرداراداکریں۔دوسری صورت میں جنگوں کے اندازے ہمیشہ غلط ثابت ہوئے ہیں ۔اس میں کامیابی ہیروشیما،ناگاساکی سے پوچھیں ،شام اورعراق سے معلوم کریں ۔جنگ فطرت کوبھی بے وزن کرتی ہے ۔ایک لمحہ وہ بھی آتاہے کہ پھرفطرت اس کا بھرپوربدلہ لیتی ہے ۔جسے جنگ یادفاع سے روکانہیں جاسکتابھارتی اپوزیشن نے مودی کی سوچ پرکاری ضرب لگاکردانشمندانہ سیاست کاثبوت دیاہے۔کب تک انڈیااپنے سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان مخالف کارڈ استعمال کرتارہے گا۔اس جدید دنیامیں ،کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی میں،نسل انسانی کامستقبل محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔مذاکرات کی میز بہت کچھ بدل دیتی ہے۔مکالمہ کتھارسزکے ذریعہ بن جاتاہے ۔

دہشتگردی ،مسئلہ کشمیراوردیگر باہمی تنازعات کو امن سے حل کریں گے توانسانوں کابھلاہوگا۔ایک لاکھ سے زائدکشمیرمیں انسان مارکرآپ نے مسئلہ کشمیرکوکتنا دبالیاہے۔اس کاتجزیہ توکیجیے ۔الزام اورجنگ کاکوئی مثبت اورانتہائی گول نہیں ہوتا۔پاکستان نے امن کے پیغام کے لیے گرفتار پائیلٹ کو بھی رہا کر نے کا فیصلہ کیا دنیاآپ کے ساتھ نہیں توآپ اپنے لوگوں کے ساتھ ہوجائیں۔صبح نوآجائے گی!

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 224 Print Article Print
About the Author: Prof. Khurshid Akhtar

Read More Articles by Prof. Khurshid Akhtar: 40 Articles with 10035 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: