ہند۔ پاک پانچویں جنگ۰۰۰؟

(Muhammad Abdul Rasheed Jundaid, India)

آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۰۰۰
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی۰۰۰ لیکن ابھی بھی وقت ہیکہ دونوں ممالک کے قائدین کا اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جائے اور اس میں دہشت گردوں کے خاتمہ کے لئے مذاکرات کی راہ لیں۔پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حامل تنظیموں کا صفایا کرنے کے لئے اہم اقدامات کریں تاکہ پڑوسی ملک ہندوستان میں دوبارہ پلوامہ جیسے خودکش حملے نہ کئے جاسکیں۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پلوامہ خودکش دہشت گردانہ حملے کے بعد تلخیوں میں اضافہ ہوگیا تھا اور آخر کار نوبت جنگ تک پہنچ گئی ۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس خودکش حملے کا جواب دینے کا تہہ کرلیا تھا اور انہو ں نے فوج کو مکمل اختیارات دے رکھے تھے۔ منگل کی طلوع آفتاب سے قبل ہندوستانی فضائیہ نے پاکستانی حدود میں داخل ہوکر جیش محمد کے ٹھکانوں پر حملہ کردیا ، ہندوستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حملے میں 350دہشت گردوں کی ہلاکت بتائی جارہی ہے۔ اس حملے کے بعد پاکستان نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی کرنے کا ہندوستانی فضائیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کرنے کا انتباہ دیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کے روز پاکستانی وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ سیاسی قائدین اور عہدیداروں کے درمیان بات چیت ہوئی ۔ ذرائع کے مطابق چہارشنبہ کی شام سے ہی ہندو پاک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر جنگ کے آثار منڈلانے لگے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں ممالک کے درمیان کئی مقامات پرفائرنگ اور پھر فضائی کارروائی کا آغاز ہوا۔ تفصیلات کے مطابق ہندوستان فضائیہ نے پاکستانی فضائیہ کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والے پاکستانی طیاروں کو واپسی پر مجبور کیا اور ایک پاکستانی طیارہ F-16کو مار گرانے کا ہندوستان نے دعویٰ کیا ہے۔ جبکہ پاکستان نے بھی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے کا ہندوستان پرالزام عائد کرتے ہوئے دو ہندوستانی طیاروں کو مارگرانے کا دعویٰ کیا تھا جس میں ایک جموں و کشمیر اور دوسرا پاکستانی کشمیر میں گرنے کی خبرتھی۔ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستانی طیاروں کے پائلٹس اس کی حراست میں ہیں۔ ہندوستانی عہدیدار نے بھی ایک ہندوستانی طیارہ MIG-21کے گرنے اور اس کے پائلٹ مسٹر ابھی نندن کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی ، ہندوستانی پائلٹ ابھینندن کو پاکستانی حکومت نے دوسرے دن رہا کردیا ۔پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ہندوستان سے خواہش کی ہے کہ وہ جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کریں اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہی بہتر حل ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق پاکستانی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہناتھا کہ ہندوستانی فضائیہ کے جن دو طیاروں کو گرایا گیا ہے ان میں سے ایک کا ملبہ پاکستانی حدود میں گرا اور دو پائلٹ گرفتار کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن دو پائلٹوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کے ساتھ جیسا ایک مہذب ملک سلوک کرتا ہے بالکل ویسا ہی سلوک کیا گیا ، ان میں سے ایک زخمی پائلٹ کو سی ایم ایچ ہاسپٹل منتقل کیا گیا اور انکا پورا خیال رکھے جانے کی اطلاع دی تھی ۔لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی پاکستان دو ہندوستانی پائلٹس کو گرفتار کیا تھا تو پھر وہ ایک پائلٹ جو زخمی تھے ان کے سلسلہ بعد میں خاموشی کیوں اختیار کی گئی ، کیا یہ خبر جھوٹ تھی ؟ خیر پاکستانی وزیر اعظم عمران نے ہندوستانی پائلٹ ابھینندن کو رہا کرکے ہندوپاک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی۔
ادھر ہندوستان میں منگل کے روز جس طرح کا ماحول تھا، مختلف ٹی وی چینلس کی جانب سے پاکستان کے خلاف کارروائی کئے جانے کی خوشیاں منائی جارہی تھی وہ دوسرے دن ماند پڑگئیں کیونکہ پاکستان نے ہمارے ملک کے دو طیارے مار گرائے یہی نہیں بلکہ ہمارے ملک کے پائلٹس انکے قبضے میں ہیں، یہ ہمارے لئے صدمہ سے کم نہیں۔ میڈیا کے نمائندے اور بعض جاہل قسم کے افراد چاہے وہ ہندوستان میں ہوں یا پاکستان میں انہیں خبر نہیں کہ ہماری فوج ہوں یا دشمن ملک کی فوج اور وہ عام شہری جو سرحدات پر ہیں انہیں جنگ کی وجہ سے کیا کچھ سہنا پڑتا ہے۔ سیاسی قائدین ہوں کہ میڈیا کے نمائندے جنہیں علم نہیں ہوتا کہ ایک فوجی کے بھی افرادِ خاندان ہوتے ہیں ، وہ بھی چاہتے ہیں کہ انکی زندگی بھی خوشحالی سے بھرپور ہو، سرحدات پر بسنے والے عام شہریوں کی بھی تمنا ہوتی ہے کہ وہ پرسکون زندگی گزاریں ۔ لیکن دونوں ممالک کے بعض سیاسی قائدین اور بعض میڈیا کے نمائندے انکی ان تمناؤں کا گلا گھوٹ دیتے ہیں۔ ہمارے پائلٹس جنہوں نے اپنے ملک کی حفاظت اور سلامتی کیلئے دشمن ملک پر حملہ کیا اور اس میں شہید یا زخمی ہوئے اور حراست میں لے لئے گئے انکے افرادِ خاندان کے دلوں پر کیا گزر رہی ہوگی۔ یہی میڈیا یا سیاسی قائدین کے ساتھ اس طرح کامعاملہ ہوتا تو ان پر کیا گزرتی ؟اس کا ادراک شاید انہیں نہیں۔منگل کے طلوع آفتاب سے قبل دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا ہمارا دعویٰ سچ پر مبنی ہو کیونکہ دہشت گردوں کا خاتمہ انسانیت کی سلامتی و بقاء کیلئے ضروری ہے اور اگر ہماری فضائیہ کے بہادر سپاہیوں نے یہ کارروائی انجام دی ہے اور اس میں انہیں کامیابی ملی ہے تو انہیں ہم تمام ہندوستانیوں کی جانب سے سلام۰۰۰

منگل کی رات ہندو پاک کی سرحدات پر فائرنگ اور فضائی کارروائی ہوتی رہی۔ سرحدات پر بسنے والے عوام کی نیندیں حرام ہوچکی تھیں، دوسرے دن چہارشنبہ کے روز ہندوستان اور پاکستان میں منگل کی رات ہونے والی کارروائیوں پر اعلیٰ سطحی اجلاس دونوں ممالک میں منعقد ہوئے اور کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ایک دوسرے کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کے شاید فیصلے کئے گئے ۔ یہ سب کارروائیاں کیوں ہورہی ہیں اس سلسلہ میں قارئین جانتے ہیں کہ ہندوستان میں14؍ فبروری کو پلوامہ میں خودکش حملہ دہشت گردانہ حملہ کیا گیا جس میں ہندوستانی نیم فوجی (سی آر پی ایف) کے40سے زائد عہدیداروں کی ہلاکت نے ملک کو دہلاکر رکھ دیا تھا۔ جیش محمد نامی پاکستانی دہشت گردتنظیم نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی جس کے جواب میں حکومت ہند نے پاکستان کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو وارننگ دی گئی تھی کہ وہ جب چاہے ، جہاں چاہے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا۔ جس کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے خودکش حملہ کی کارروائی میں ملوث دہشت گردوں کے تعلق سے ہندوستان کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کیلئے کہا اوریہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان ثبوت فراہم کرتا ہے تو پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف ضرور کارروائی کرے گا۔ اس کے علاوہ پاکستانی وزیر اعظم نے یہ بھی کہاتھا کہ اگر ہندوستان بغیر ثبوت فراہم کرے پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان بھی اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور آخر کار وہی ہوا جس کے تعلق سے ہندوستان نے پاکستان کو وارننگ دے رکھی تھی ۔ منگل کے روز طلوع آفتاب سے قبل ہندوستانی فضائیہ نے سرحد پار ایک تیز رفتار حملہ کرتے ہوئے پاکستان میں جیش محمد کے سب سے بڑے ٹریننگ کیمپ کو تباہ کردیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق جیش محمد کے جس کیمپ پر حملہ کیا گیا اس کے سربراہ مسعود اظہر کے برادرنسبتی یوسف اظہر کی زیر نگرانی چلایا جاتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بالاکوٹ میں فائیو اسٹار تفریح گاہ طرز کا کیمپ جو جنگلاتی علاقہ کی پہاڑی پر واقع ہے فضائیہ کیلئے آسان نشانہ بنا جہاں سینکڑوں فدائن اور ان کے تربیت یافتہ حملہ کے وقت موجود بتائے جاتے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بتایا جاتاہیکہ پاک مقبوضہ کشمیر سے تقریباً80کیلو میٹر دور بالا کوٹ کے مقام پر ہندوستانی فضائیہ کے 12میراج2000جٹ جنگی طیاروں نے یہ کارروائی انجام دی اور پہلے سے مقررہ نشانہ پر پہنچ کر ایک ہزار کلو گرام لیزر گائیڈیڈ بم جیش کے ٹھکانوں پر گراکر واپس لوٹ آئے اس طرح بتایا جاتا ہے کہ 1971ء کے بعد ہندوستان نے پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف فضائی طاقت کا استعمال کیا ہے ۔ پاکستان نے ہندوستان کی جانب سے کی گئی کارروائی کے خلاف جواب دینے کا اعلان کیا اور یہ بھی کہاکہ اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اور اس میں صرف ایک شخص زخمی ہوا ہے،سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی پاکستان کی یہ بات سچ ہے تو پھر پاکستان دوسرے روز جوابی کارروائی کیوں کی؟اس حملے کے بعد پاکستانی وزیر اعظم کی قیادت میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا اور منگل کی رات میں ہی پاکستانی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی جس کے جواب میں ہندوستانی فضائیہ متحرک ہوگیا اور پاکستانی فضائیہ کو واپس لوٹنا پڑا۔
 
ذرائع ابلاغ کے مطابق چہارشنبہ کے روز شمالی ہند کے 9ایئرپورٹس کو عام شہریوں کیلئے بند کردیا گیا ، دہلی کے شمالی ہوائے اڈے کو خالی کردیا گیا جبکہ خلیجی ممالک ، یورپ اور امریکہ جانے والی ہندوستانی پروازوں کو پاکستانی حدود سے گریز کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے۔ اسی روز ہندوستانی وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی نے اپنی رہائش گاہ پر گورنمنٹ کور گروپ کا اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ۔ اُدھر پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھی نیشنل کمانڈ اتھاریٹی کا اجلاس انکے آفس میں طلب کیا ۔ اس طرح دونوں ممالک کے وزرائے اعظم اپنے اپنے ملک کی حفاظت و سلامتی کیلئے اجلاس طلب کئے ہیں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دو پڑوسی ممالک صرف ان دہشت گردوں کیلئے اپنے عام شہریوں اور جانباز فوجیوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگادیں گے۔ عالمی قائدین کی جانب دونوں ممالک سے کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کا حل نکالیں کیونکہ جنگ دونوں ملکوں کے لئے ہی نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کیلئے نقصاندہ ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے چہارشنبہ کے روزدو ہندوستانی طیاروں کے مارگرائے جانے کی خبریں آنے کے بعد قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ’’ہم نے فوری طور پر گذشتہ صبح ایکشن اس لئے نہیں لیا کیونکہ ہمیں پوری طرح پتا نہیں تھا کہ کس طرح نقصان ہوا ہے اور اگر پتا نہ چلتا اور ایکشن لے لیتے تو اس کی وجہ سے جانی نقصان ہوتا جبکہ ہمارا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انکا کہنا تھا کہ ہماری ترجیح تھی کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو اور مقصد آپ کو یہ بتانا تھا کہ اگر آپ ہمارے ملک میں آسکتے ہیں تو ہم بھی آپ کے ملک میں جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بھارت کو آج یہ بتادیا کہ ہمارے پاس پوری صلاحیت موجود ہے ۔ اس جوابی کارروائی کے بعد عمران خان قوم کے خطاب کے دوران ہندوستان کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کی ہے ۔ اب دیکھنا ہے کہ ہماری حکومت پاکستانی وزیر اعظم کے خطاب کو کس نوعیت سے لیتی ہے ۔خیر ہندو پاک کے درمیان جنگ ہم تمام کیلئے نقصاندہ ہے ۔ ہمارے ان جانباز سپاہیوں کو جینے کا حق ہے ، اگر سیاسی قائدین اپنی سیاست سے بالاتر ہوکر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے پاکستانی حکومت کی جانب سے بات چیت کے لئے تیار ہوتے ہیں تو یہ دونوں ممالک کیلئے بہتر ہوتا ۔ عالمی طاقتیں بھی ہندو پاک کے درمیان جنگ نہیں چاہتے۔لیکن پھر ملک کی اعلیٰ قیادت بہتر جانتی ہیکہ ملک کی سلامتی اور حفاظت کیلئے کیا کرنا چاہیے اور ہم تمام اپنے ملک کی حفاظت اور سلامتی کیلئے فوجی طاقت کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۰۰۰

افغانستان کے فوجی بیس پر طالبان کا حملہ
افغانستان میں حالات بہتر ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں ایک مرتبہ پھر افغان فوج کے ملٹری بیس پر طالبان کی جانب سے حملہ کردیا گیا جس کے بعد دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ عمل میں آیا۔ افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی صوبہ ہلمند میں فوجی بیس کو نشانہ بنے کی گورنر آفس نے بھی تصدیق کی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق گورنر آفس نے اپنے بیان میں دعوی کیا کہ فوج نے حملہ پسپا کردیا جس کے بعد کلیئرنس آپریشن کئی گھنٹے تک جاری رہا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق27 حملہ آوروں نے جمعہ کی صبح 4 بجے فوجی بیس کو نشانہ بنایا جب کہ حملہ آوروں میں 7خودکش بمبار بھی شامل تھے۔ ہملند کے صوبائی حکام نے اس حملے کو ناکام بنا دینے کا دعوی کیا ہے۔ دوسری جانب طالبان کا کہنا تھا کئی گھنٹے تک طالبان کی کارروائی جاری رہی۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق متعدد افراد ہلاک اور زخمی بتائے جارہے ہیں۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس افغان فوجی مرکز پر امریکی فوجی اور مشیر بھی تعینات ہیں۔اب دیکھنا ہے کہ افغان فوجی بیس پر طالبان کے حملے کے بعد امریکہ ، قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کو مزید آگے بڑھانے میں کس قسم کا اظہار کرتا ہے اور افغان صدر طالبان کے ساتھ مذاکرات کو کس نظریہ سے دیکھتے ہیں ، واضح رہے کہ صدر اشرف غنی لون نے کئی مرتبہ حکومت اور طالبان کے درمیان جنگ کے خاتمہ کیلئے پہل کرچکے ہیں لیکن طالبان انکی حکومت کو کٹھ پتلی حکومت قرار دے کر اس مذاکرات کرنا نہیں چاہتی۰۰

***

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 286 Print Article Print
About the Author: Muhammad Abdul Rasheed Jundaid

Read More Articles by Muhammad Abdul Rasheed Jundaid: 200 Articles with 62896 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: