جینے کے لیے مرنا ہوگا

(Sheraz Khokhar, Lahore)
اگر دشمن اپنے حواس کھو بیٹھے اور خونریزی کا جنون سر پر سوار ہو تو پاکستان کو اس عالم میں اپنے دفاع کے لیے لڑناتو پڑے گا گو کہ یہ لڑائی پاکستان کے مفاد میں نہیں لیکن جینے کے لیے مرنا تو پڑے گا۔۔۔۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ کشیدہ صورتحال اس اکھاڑے کی صور ت اختیار کرچکی ہے جس میں دو پہلوانوں کے درمیان دنگل ہونے جا رہا ہے جن میں سے ایک پہلوان اس کشتی میں بالکل دلچسپی نہیں لے رہا اور کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح یہ دنگل ٹل جائے ،اکھاڑے کے اردگرد تماشائیوں کا ہجوم ہے، ایک پہلوان کو قد وقامت اور جسامت کو لحاظ سے نسبتاً مظبوط تصور کیا جارہا ہے ، یہ پہلوان اپنی طاقت کے نشے میں سرمست اکھاڑے میں چھلانگیںلگاتاچکر کاٹ رہا ہے اور اپنی پھنکاروں سے تماشائیوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کر تا ہے ۔ اس اکھاڑے میں دوسرا مقابل پہلوان قدوقامت میں نسبتاً کئی گنا چھوٹاہے جوپر جوش ہجوم سے گھرے اس اکھاڑے کے درمیان کھڑا سارا منظر خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔ پھر دنگل شروع ہوتا ہے ،طاقتور پہلوان کا پہلا داﺅ ناکام جاتا ہے ،وہ واپس بھاگتا ہے اور پھر ایک اور داﺅ کے ساتھ پلٹتا ہے لیکن پھرتیلا پہلوان ایسی چست لگاتا ہے کہ پہلوان اکھاڑے کے عین وسط میںچاروں شانے چت پڑا نظر آتا ہے، تماشائی حیرانی سے انگلیاں منہ میں دبائے گرے ہوئے پہلوان کے اگلے خطرناک داﺅ کا انتظار کرتے ہیں۔ایسے میں جیتنے والا پہلوان شکست خوردہ پہلوان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے اور اسے مزید تماشا بننے سے روکنے کی تلقین کرتا ہے ۔اب یہ شکست خوردہ پہلوان کی مرضی ہے کہ وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے دوبارہ مقابلے پرآتا ہے یادوستی کے بڑھائے ہوئے ہاتھ کو چوم کر بڑے ہونے کا ثبوت دیتا ہے ۔بھارت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔بھارتی لڑاکا طیاروں نے پاکستانی حدودکی دوسری دفعہ خلاف ورزی کی ،کئیگنا چھوٹے ملک کی فضائیہ نے ایسا ردعمل دیا کہ بھارت کی ساری اچھل کود رک گئی ۔

یوں تو پاک بھارت کشیدہ تعلقات کی تاریخ تقسیم ہند کے اول روز سے ہی پائی جاتی ہے لیکن 1971ءکے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے تعلقات اس انتہائی نازک موڑ پرپہنچ چکے ہیں،مودی حکومت کی غیرذمہ دارانہ رویہ اور پالیسیوںنے نہ صرف بھارت بلکہ خطے کی ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے ۔جنگی جنون میں مبتلا مودی نے فقط انتخابات جیتنے کی خاطر پلوامہ حملے کی آڑ میں پاکستان کو مورود الزام ٹھہرایا،پاکستان نے شواہد مانگے لیکن جواب میں 8بھارتی لڑاکا طیارو ں کو سرجیکل سٹرائیک کے لیے بھیج دیا،پاکستان نے امن کی خاطر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور بھارتی طیاروں کی طرف سے فضائی حدود کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن نہ لیا بلکہ فقط بھگانے پر اکتفا کیا گیا ، پاکستان کی عوام حکومت کی اس بردباری پر قدرے مایوس ہوئی ،ڈی جی آئی ایس پی آرکی طر ف سے سرپرائز دیئے جانے کے وعدے کو مشکوک نظروں سے دیکھا گیا،اگلے ہی روز طاقت کے نشے میں سرمست پہلوان کی طرح ایک دفعہ پھر پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی گئی اور اس بار پاکستان نے بھارت کے دو طیاروں کو خاک برد کرتے ہوئے ایک پائلٹ ’ابھی نندن‘ کو زندہ گرفتار کر لیا جسے سنتِ ریاست ِ مدینہ پوری کرتے ہوئے گزشتہ روز واپس بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔پاکستان کے اس اقدام پر پوری دنیا تو حیرت زدہ ہے ہی خود پاکستان کے اندر سے مختلف آوازیں سننے کو مل رہی ہیںاور ایساہونا ایک فطری عمل بھی ہے اور جذبات بھی یہی مطالبہ کرتے ہیںکہ لاکھوں بے گناہ کشمیریوں کا قاتل دشمن ملک بھارت کاعسکری کارندہ پاکستان کے ہاتھ لگا تھاا سے توبیچ چوراہے کے اُلٹا لٹکانا چاہیے تھا تاکہ متکبر دشمن کو سبق حاصل ہو اور ہماری طاقت کا اندازہ ہو لیکن درست طور پر ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ موجودہ حکومت روم یا فارس کی سلطنت کے برعکسملک کو ریاست مدینہ کی طرز پر چلانے کا عزم رکھتی ہے جہاں دشمن قیدیوں سے حسن سلوک سے پیش آیا جاتا تھا اور دشمنوں کو جبرکی بجائے صبر اور امن کا درس دیاجاتا تھا ۔

اس کے علاوہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں بھی دیکھا جائے تو پاکستان کا یہ اقدام نہایت حکیمانہ اور دانشمندانہ ہے جسے سمجھنے کے لیے خطے کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان اور بھارت کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت غیر ملکی افواج 18مار چ تک افغان سرزمین چھوڑ جائیں گی ۔افغانستان میں قیام امن اور امریکی افوا ج کے انخلاءکے بعد پاکستان کی پشت پر موجود مغربی سرحد محفوظ ہو جائے گی یوں پاکستان کی تمام تر توجہ بلوچستان میں اپنے روائتی حریف کی شر پسندانہکارروائیوں اور ملک کے اندرونی استحکام کی طرف ہو گی ۔خطے کی دیگر ریاستیں چین ، روس ،وسط ایشیائی ریاستوں کے علاوہ سعودی عرب ، یو اے ای ، ملائشیا، سری لنکاسمیت کئی دیگر ریاستوںکے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایک نئی جہت اختیار کر چکے ہیں ۔افغانستان سے امریکہ کے انخلاءاور چین کے ون روڈ منصوبے کے تحت سی پیک منصوبہ کی وجہ سے پاکستان خطے میں نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔ ایک اوربڑی وجہ تیزی سے بدلنے والے عالمی سیاسی حالات بھی ہیں ۔ چین کے بعد سعودیہ، یواے ای، قطرپاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کا اعلان کر چکے ہیںجبکہ ترکی ، ملائشیا،روس سمیت کئی یورپی ممالک بھی سی پیک میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی رکھتے ہیں۔آج کا پاکستان کل کے پاکستان سے واضح طور پر بدلانظر آرہا ہے ۔دو دہائیوں پر محیط طویل جنگ میں مثالی عسکری کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد اب پاکستان معاشی کامیابیوں کے راستے پر گامزن ہے جو نفرت کی آگ میں پلنے والے بھارت کو ہضم نہیں ہو رہا ۔کچھ عرصہ قبل تک بھارت دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت نظرآرہی تھی جس کی وجہ سے بھارت جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا اور بھارت کی یہی کوشش رہی کہ پاکستان کو اندرونی معاملات میں الجھا کر خود کامیابیوں کے زینے عبور کیے جائیںلیکن آج منظر بالکل الٹ ہو چکا ہے ،بازی پلٹ چکی ہے ،قدرت نے پاک لہو کی قربانیوں کے عوض پاکستان کو معجزانہ طور پر مختصر ترین دور میںدنیا کے لیے اہم ترین ملک بنا دیا ہے ۔آج پاکستان دنیا میں معاشی طور مظبوط ریاست بننے جا رہا ہے جس کے لیے خطے میں قیام امن پہلی شرط ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں اور وہ بار بار پاکستان کوجنگ پر اکسا رہاہے ۔اس کے برعکس پاکستان مسلسل امن اور دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے جو نہ صرف خطے کی ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے بے حد ضروری ہے ۔پاکستان کی طرف سے مسلسل امن کی خواہش کا اظہارجبکہ بھارت کی طرف سے مسلسل دراندازی کی جارہی ہے ،خطے میں ایٹمی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں،گو کہ پاکستان اس جنگ کو مسلسل ٹالنے کی کوشش کر رہاہے لیکن اگر دشمن اپنے حواس کھو بیٹھے اور خونریزی کا جنون سر پر سوار ہو تو پاکستان کو اس عالم میں اپنے دفاع کے لیے لڑناتو پڑے گا گو کہ یہ لڑائی پاکستان کے مفاد میں نہیں لیکن جینے کے لیے مرنا تو پڑے گا۔۔۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 306 Print Article Print
About the Author: Sheraz Khokhar

Read More Articles by Sheraz Khokhar: 23 Articles with 4147 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: