قیدی نمبر 27981 ٬ پلوامہ کا واقعہ اور کشمیر

(Prof Khursheed Akhtar, Islamabad)

پاکستان فضائیہ نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ماضی میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں محدود طیاروں اور کمزور قوت کے باوجود ایم ایم عالم نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ اسی طرح ائیر مارشل اصغر خان ،نور خان جیسے ہیرو پاکستان کے بطن نے جنم دیئے ہیں ۔حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں رات کے اندھیرے میں بھارتی طیارے بالاکوٹ میں آئے تو پاک فضائیہ نے بغیر کارروائی کے بھاگنے پر مجبورکیا اور ایک خوبصورت حکمت عملی کے طور پر حکومت اورفوج نے فوری جواب نہیں دیا بلکہ دن کی روشنی میں بھارتی مگ 21 طیاروں کو گرا کر دنیا میں اپنی دھاک بٹھالی۔اس کارروائی نے پاک فضائیہ نے 1965ء کی یاد تازہ کردی۔ نہ صرف بھارتی طیارے مار گرائے بلکہ ابھی نندن جی کو گرفتار کر کے چائے بھی پلائی۔ اس کے بعد تو انڈیا کی خاموشی تلملاہٹ اور بے تابی دیدنی تھی۔ دنیا پر ایک سکتہ طاری تھا کہ یہ کیا ہوگیا۔اب کئی دنوں بعد انڈیا ایک جہاز کا ٹکڑا دکھا کر نفسیاتی اور اعصابی دباؤ سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے۔ بھارتی میڈیا نے جس آگ کو ہوا دی تھی وہ خود اپنا راستہ تلاش کرتی ہوئی ان کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے سیاستدانوں اور عوام نے بھی اتحاد اور امن کا پیغام دے کر عمران خان کی نئی سوچ اور خطے کی فلاح کو مقدم رکھا۔مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم پاکستان نے اچانک بھارتی فضائیہ کے قیدی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کرکے ،دنیااورخصوصاً بھارت کوحیران کردیا۔بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے تو کھل کرعمران خان کے خیرسگالی جذبے،امن کی کوششوں اورنندن کی رہائی کوخراج تحسین پیش کیا۔مودی حکومت اپنی اپوزیشن اورعوام کے شدیددباؤمیں آچکی ہے۔البتہ پائیلٹ کی رہائی پرپاکستان میں کچھ لوگ اچھانہیں خیال کررہے۔کچھ کا خیال ہے کہ بالکل رہانہیں کرناچاہیے تھا۔کچھ کشمیرمیں مظالم بندکروانے کامطالبہ اورشرائط پیش کرتے ہیں اورکچھ کے خیال میں بین الاقوامی پریشرمیں ایساکیاگیاکاالزام لگاتے ہیں مگرپھربھی تقریباً 80فیصد عوام حکومت کے اس فیصلے کوامن،خیرسگالی اوردلیرانہ اقدام قراردیتے ہیں۔مخالفین کی توجیہات اپنی جگہ ،ایک جذبہ تورکھتی ہیں مگراتناسوچیے کہ جب بھارت،دنیاسے مل کرایک کمپین کرتااورواویلاکیاجاتاکہ پائیلٹ کورہاکریں توکیا اس سے بہتریہ نہیں تھاکہ خودہی کسی کوموقع دئیے بغیرخیرسگالی کوموقع دیاجائے۔
 


دوسری اہم بات ابھی جنگ کامیدان نہیں سجا۔جس جنگ اورمحبت میں سب جائز ہوتاہے اس کی نوبت نہیں آئی ۔ابھی دوطرفہ باقاعدہ جنگ کااعلان بھی نہیں ہوا۔توپھرقیدی کواپنے پاس رکھنے کا کیاجوازبنتاہے؟ آپ کی اتنی فتح کافی نہیں کہ اس کوگرفتارکرکے واضع کامیابی کاثوبت دیاگیا ۔باقی اب وہ کسی کام کاویسے بھی نہیں رہا۔انڈیااس کوبت بنا کرپوجے بھی توعبادت مشکوک قرارپائے گی۔مودی اسے لینے اوراستقبال کرنے بھی آتے تونام پاکستان کاآئے گا اوردنیاامن اورخیرسگالی اورانڈیااپنے قیدی کو واپس لانے کاموقف توپیش کرے گی ! اس سے فرق نہیں پڑے گا۔کئی ڈاکومینٹس اورشایدکچھ اورنندن بھی ہمارے پاس ہی ہیں ۔جووقت آنے پرپیش کیے جاسکتے ہیں۔
 


اصل بات کشمیرکے مظالم کی ہے اب بھارت سے حتی کہ بھارت کے مضبوط کشمیری اوراتحادی رہنمافاروق عبداللہ،عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی جیسے لوگ عمران خان کے کردار اورعمل کوبڑاپن کہہ رہے ہیں ۔پاکستان کوایک قیدی رہاکرنے پربھارتی پنجاب،اور اہل حل وعقد، کشمیری قیادت اوردنیا سے بھرپورحمایت مل رہی ہے ۔اورمسئلہ کشمیرایک مرتبہ پھر مرکزی حیثیت اختیارکرگیا بلکہ ایک مضبوط پوزیشن میں زیربحث آئے گا ۔ایسے حالات میں امریکہ،اقوام متحدہ اوردیگرکئی ممالک تمام مسائل پرپاک بھارت مذاکرات کادباؤبڑھارہے ہیں ۔چندنئی خارجہ حکمت عملیوں سے اس سوچ کو مضبوط بنایاجاسکتاہے۔ایک بات دوستوں کواکثرواضع کرتارہتاہوں کہ پاکستان کی صلاحیتوں اورایٹمی پاورکی وجہ سے کوئی ملک ہماراحمایتی نہیں بن رہاپڑوسی کیادوروالے بھی خوف زدہ ہیں اب ان حالات میں جارحانہ سفارت کاری بڑی کام کرتی ہے اگرچہ انڈیانے ہمارے قیدی کوکچل کرماردیا۔ وہ کشمیرمیں ظلم کرتاہے ان سب باتوں کے باوجودجنگی حالات اورقوانین نندن پرلاگونہیں ہوتے ۔اس سے جو ملاوہی کافی ہے اورایک مضبوط ثبوت ہے ۔یہ جنگ اورسفارت کاری اب میڈیاکے محاذپرہے وہاں جیتنے کے لیے نفسیاتی برتری آپ کو حاصل ہے اورمزید بھی ہوگی آگے آگے دیکھیں کیاہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان نے قیدی نمبر27981کو باعزت واہگہ بارڈر پار کیا مگرآپ نے ہمیں شاکراللہ کی نعش سے نوازا ہے ۔ انڈین میڈیاکا رویہ سارے بیانیے کو بدل کر نئی نئی کہانیاں تراش رہا ہے۔ اسی رویے کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ صرف ایک قیدی کی رہائی اورڈوزدینے سے مودی کوفائدہ حاصل نہیں ہوگا۔پلوامہ کاواقعہ بھارتی ظلم،کشمیریوں کی بینائیاں چھپنے کانتیجہ ہے۔پاکستان کوجن خطرات کاسامناہے ان میں اندرونی اوربیرونی کئی عوام شامل ہیں ۔جن کی نظرصرف اس پر ہے کہ یہ ملک ایٹمی قوت اورپیشہ وارصلاحیت کیوں رکھتاہے ؟ چھپے وسائل اس کی سرزمین کاحصہ ہیں ۔اس لیے فوج اوردیگرقوتوں کی پسپائیہ دشمنوں کی نظرمیں رہتی ہے ۔اسامہ بن لادن کے واقعہ بھی اسی لیے تراشاگیا۔دہشتگردی کا بت اسی لیے بنایاگیا مگراب یہ تودیکھیے کہ پاک فوج ان بتوں کوکس طرح ایک طویل جنگ سے پاش پاش کیاہے ۔نہ آپ کاملک عراق بنا،نہ شام کا واقع وقوع پذیرہوا۔دہشتگردی پر بھی ہاتھ ڈالا ،بھارتی حربوں اور افغانستان کی بے وفاہی سے بھی بڑااورپھربین الاقوامی دباؤکابھی سامنا کیااتنے محاذوں پر کون سی حکومت اورفوج لڑتی ہے ۔ذراغورکیجیے اورفیصلہ کیجیے ۔کہ ایک قیدی کو چائے پلاکرچائے والے کے حوالے کر دیا گیا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1871 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

Language: