’رشحاتِ قلم‘ ۔ ایک تعارف

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

رشحاتِ قلم میرے ان کالموں کا مجموعہ ہے جو اردو اخبار روزنامہ ’جناح‘ میں یکم اکتوبر 2015 ء تا 5مارچ2016ء کے درمیان شائع ہوئے ۔ان کالموں میں زیادہ تر وہ کالم ہیں جن کا موضوع عالمی و پاکستان کی سیاست، معاشرت، معاشرے کے مسائل و مشکلات، کرنٹ ایشوز ہیں، شخصیات میرا پسندیدہ موضوع ہیں میرے لکھنے کا آغاز ہی1978ء میں شخصی مضمون سے ہوا تھا۔ اس حوالے اس دوران جو شخصیات اﷲ کو پیاری ہوئیں ،ان میں جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال، معروف شاعر و دانشورجمیل الدین عالیؔ، افسانہ نگار انتظار حسین، معروف لکھاری فاطمہ ثریا بجیا پر لکھے گئے کالم بھی شامل ہیں، ان کے علاوہ حکیم محمد شہید کی برسی کے موقع کالم تین قسطوں میں شائع ہوئے۔ عالمی دنوں کی اپنی جگہ اہمیت ہے میں عام طور پر ان دنوں کے مناسبت سے لکھتا رہا ہوں، اس حوالے سے ’ویلنٹائن ڈے ہماری روایت نہیں‘ ، معذوروں کا عالمی دن اور کتاب کا عالمی دن کے موضوع پر کالم شامل ہیں۔ دہشت گردی ہمارے ملک کا ہی نہیں بلکہ عالمی برادری کا اہم مسئلہ ہوکر رہ گیا ہے۔ دنیا کے بے شمار ممالک دہشت گردی سے دوچار ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے اس قدر سنگین اور دردناک واقعات ہوئے ہیں کہ ان واقعات پر مشتمل کالموں کی ایک الگ سے کتاب مرتب کی جاسکتی ہے۔ آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا دل خراش واقعہ کو کیسے بھلا یا جاسکتا ہے۔ اس سانحۂ پر کئی کالم تحریر ہوئے لیکن اس مجموعے میں میرا کالم ’سولہ دسمبر پھولوں کے جنازوں کا دن‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ پیرس شہر میں ہونے والی دہشت گردی کا عنوان ہے’ خوشبو ؤ ں کا شہر پیرس لہو لہان‘ ۔ باچا خان یونیورسٹی میں ہونے والی دہشت گردی کو قلم بند کیا گیا ہے۔ میڈیا کی آزادی کے حوالے سے کالم ’الیکٹرونک میڈیا اور شتر بے مہا آزادی‘ کے عنوان سے کالم ہے۔ منشیات کے حوالے سے دو کالم ہیں جن میں سے ایک شیشہ کیفے کی بندش ‘ کے حوالے سے ہے، کتاب اور کتاب میلوں کا ذکر بھی کالموں میں ہے۔ میری ہمیشہ کوشش یہ ہوتی ہے کسی بھی پرابلم پر مبنی موضوع کو اپنے کالم کا موضوع بناؤں اور مسائل کے ساتھ ساتھ اس کے حل کی تجاویز بھی شامل کروں۔
 

 
سیاسی موضوعات میں میری بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ میں بالکل غیر جانب دار رہتے ہوئے تجزیہ پیش کروں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے کولموں میں میرا جھکاؤ کسی ایک سیاسی جماعت کی جانب نہیں ہوتا،میری ذاتی رائے میں کالم نگار اور تجزیہ نگار کو غیر جانب ہونا چاہیے۔اگر تجزیہ نگار کی سوچ و فکر کسی ایک جانب ہوگی تو وہ نہ تو کالم نگار ہوگا اور نہ ہی تجزیہ نگار بلکہ جس جانب جھکاؤ ہوگا وہ اس کا ترجمان کہلائے گا ۔ اچھا کام خواہ کسی کا بھی ہو اس کی تعریف اور غلط بات ، غلط کام کو غلط ہی کہا جانا چاہیے ۔ میں کالم نگار جناب عرفان صدیقی کی اس بات سے اختلاف کرتا ہوں کہ کالم نگا ر یا لکھاری کی سیاسی وابستگی ہر صورت میں ہوتی ہے۔ وہ غیر جانب دار نہیں ہوسکتا۔ ان کی بات میں وزن تو ہے، اکثر لکھنے والوں کی تحریریں سیاسی جھکاؤ کا پتا دیتی ہیں، جیسے ابصار عالم، عطا ء الحق قاسمی کی تحریروں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جھکاؤ کس جانب ہے۔تینوں کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں کو ان کی کاوش کا صلاح ملا ہوا ہے۔ لیکن ایسا سو فیصد نہیں سچ کو سچ اور غلط کو غلط کہنے والے ڈاکٹر صفدر محمود حیسے کالم نگار اور تجزیہ نگار ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ لکھاری کو تو سچ اور حق کا علم بر دار ہونا چاہیے ۔سیاسی وابستگی کے ساتھ جو لکھے گا وہ لکھاری نہیں کسی کا نمائندہ بن جائے گا۔

میں کالم نگاری کی جانب بہت بعد میں آیا البتہ میرے لکھنے اور چھپنے کا دورانیہ چار دہائیوں کے سمندر کو عبور کر چکا ہے گویا پانچویں دیہائی ہے قلم و قرطاس سے عشق کی ۔ اس طویل عرصہ میں میرے موضوعات مختلف قسم کے رہے ۔ علم وادب سے تعلق اور لگاؤ ورثہ میں ملا تھا۔ خاندان کے اکثر احباب صاحب دیوان شاعر گزرے ہیں۔ چنانچہ میں علمی و ادبی موضوعات پر لکھتا رہا اور چھپتا رہا۔ موضوعات اپنی ذات کے حوالے سے بھی آتے رہے ۔ ان میں خوشی اور غمی دونوں قسم کے موضوعات شامل تھے۔ شخصیات میراخاص موضوع رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔ میری تصانیف’یادوں کی مالا‘ اور ’جھولی میں ہیرے اور موتی‘ شخصی مضامین اور خاکوں پر مشتمل ہیں۔ اپنے حوالے سے بھی مختلف مضامین لکھے یعنی اپنا خاکہ ’’اپنی تلاش‘‘ کے عنوان سے قلم بندکیا، اپنی والدہ مرحومہ کا خاکہ، اپنے والد صاحب پر مضمون اور دیگر سوانحی مضامین لکھتا رہا جو مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے رہے۔علاوہ ازیں تدریسی ضروریات اور طلبہ کی نصابی ضروریات کے لیے بھی لکھا۔

’’ہماری ویب ‘‘نے مجھے کالم نویس بنا دیا، ایک وجہ سیاسیات میں ایم اے کرنا بھی ہے ِکچھ کچھ اثرات ماحول کے بھی رہے، سیاسی موضوعات میں دلچسپی اس وقت بڑھ گئی جب میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوگیا، 2013 میں اردو کی ایک معروف ویب ’’ہماری ویب‘‘ سے تعلق قائم ہوگیا ۔ اب مضامین کا آن لائن ہونا مشکل نہیں رہا تھا۔ دوسرے جانب میں جس پروفیشنل جرنل اور ادارے سے منسلک تھا، ان کے ذمہ داران سے کھٹ پٹ ہوگئی اور چالیس سالوں پر محیط تعلق کچے دھاگے کی مانند ایسے ٹوٹ گیا جیسے تعلق کبھی تھا ہی نہیں۔ جس طرح ہوا اور پانی اپنا راستہ خود بہ خود بناتے ہیں اسی طرح لکھاری کے لیے لکھنا اور چھپنا خود بہ خود نئی راہیں کھول دیتا ہے، یہی ہواکہ میرے قلم کی روانی میں طغیا نی آگئی اور میرے رشحات قلم سے علمی ، ادبی اور کالموں کی گویا برسات ہونے لگی، میرا قلم زیادہ تیز رفتاری سے منزلیں عبور کرتا رہا ۔ علمی وادبی موضوعات کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی، علمی و ادبی اور حالات حاضرہ کے موضوعات پر کالم نگاری کا سلسلہ تیزہوگیا ، بلکہ اس شعبہ میں مجھے زیادہ لطف آنے لگا۔

ابتدائی طور پر میں نے صرف روزنامہ جناح میں شائع ہونے والے کالموں پر مشتمل مجموعے کی تدوین کا اہتمام کیا ہے ۔ مجموعی طور پر میرے کالموں کی تعداد 560 سے زیادہ ہوچکی ہے جو ہماری ویب پر آن لائن ہیں ساتھ ہی سوشل میڈیا کی دیگر ویب سائیٹس پر بھی موجود ہیں ۔زیر نظر کالموں کے مجموعے پر مختلف کرم فرماؤں نے اپنی رائے کا اظہار کیا جس کے لیے میں ان تمام کا بے حد شکر گزار ہوں۔ یہ احباب وہی ہیں جو علمی ، ادبی اور صحافتی خاص طور پر کالم نگاری کے سفر میں میرے ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ کالموں کا مجموعہ ہے اور کوئی کالم نگار ہی صحیح معنوں میں اس مجموعے کے بارے میں جچی تلی رائے دے سکتا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے جس بھی مہربان سے درخواست کی اس سے مجھے مایوسی نہیں ہوئی۔ کتاب میں ان ادیبوں، صحافیوں اور کالم نگاروں کی تفصیلی رائے درج ہے یہاں اختصار سے ان کی رائے نقل کی جارہی ہے۔

چودھری محمدبشیر شادؔ
( شاعر، کالم نگار، افسانہ نگار، کہانی نویس ، فیچر رائیٹر، ایتھنز ، یونان)
یونان کے شہر ایتھنز کے باسی میرے ادبی دوست چودھری محمدبشیر شادؔ، معروف شاعر، کالم نگار، افسانہ نگار، کہانی نویس ، فیچر رائٹر اور انٹر ویو لینے کے ماہر بھی ہیں ، یہ جتنا اچھا لکھتے ہیں اس سے اچھا بولتے بھی ہیں ، ریڈیوں کے پروڈیوسر بھی رہے ٹی وی اینکر بھی۔ ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں اور خوبیوں کا کوئی حساب نہیں۔ بے شمار کتابیں تخلیق کر چکے ہیں۔ بنیادی طور پر تو پاکستانی ہیں لیکن ہزاروں میل دور ’یونان ‘ کے شہر ایتھنزکو عرصہ دراز سے اپنا مسکن بنایا ہوا ہے۔
ثلاثی
ادبی دوست کے نام من بشیر شادؔ
نظر آتی ہیں جس میں تخلیقات ِ ادب
وہ رشحاتِ قلم ، موضوع بنی ہیں

عشرت معین سیما
( شعبہ لسانی و سماجی علوم ۔ فریئی یونیورسٹی(Freie Universitat Berlin) ، برلن ، جرمنی)
عشرت معین سیما نے ’رشحاتِ قلم ‘ پر اپنے خیالات کا اظہار خوبصورت انداز میں کیا جرمنی کے معروف شعرا ٰ میں ان کا شمار ہوتا ہے، ان کی شاعری میں اپنے وطن کی مٹی کا خمیرنمایاں محسوس ہوتا ہے۔ شاعری میں رنگِ تغزل ہے وہ بھی اوروں سے جدا اور منفرد۔ ان کا مجموعہ کلام’ جنگل میں قندیل‘ شائع ہوچکا ہے، انہوں نے سفر نامہ بھی لکھا’ اٹلی کی جانب گامزن ‘ان کا سفر نامہ ہے، افسانہ نگار بھی ہیں ’گرداب اور کنارے ‘ ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ان کی تحریر میں ادب کی چاشنی کے علاوہ کراچی کی بھینی بھینی خوشبو کا احساس ہوتا ہے شاید اس لیے کہ انہوں نے کراچی سے جرمنی پرواز کی اور پھر وہیں کی ہورہیں۔ ازراہ عنایت انہوں نے اپنے خیالات ارسال کیا ۔ ان کا بہت شکریہ۔عشرت معین سیما کے مطابق ’’ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی نے جن موضوعات کو سپر قلم کیا ہے وہ آج کی دنیا میں نہایت اہم ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے دہشت گردی کو ایک عالمگیر فتنہ قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ فی الوقت تمام عالم اس فتنے سے بچاؤ کی ترکیب و عمل میں منہمک ہے پاکستان کو اس وقت دہشت گردی سمیت کئی مسائل کا سامنا ہے ۔انہوں نے اپنے اس کالم میں ان تمام مسائل کی نہ صرف نشاندھی کی ہے بلکہ مسائل کے حل کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک کالم نویس اپنے مطالعے اور مشاہدے کو اتنا وسیع رکھے کہ وہ صرف مسائل کی جانب ہی توجہ نہ دلائے بلکہ اس کا حل بھی پیش کرے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی تاریخ ساز شخصیتوں اور یادگار دنوں کو بھی اپنے کالمز میں موضوع بنایا ہے اور خاطر خواہ معلومات اور ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے جوکہ ان کی وسیع النظری اور علمیت کا ثبوت ہیں‘‘۔

ثمینہ رشید
(صحافی، ادیب، کالم نگارچیف ایڈیٹر:’شہکار ‘ ویب، لندن)
ثمینہ رشید نے ’رشحاتِ قلم ‘ پر ’’ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی ۔ا یک ہمہ گیر شخصیت ہمہ جہت لکھاری‘‘ کے عنوان سے اظہار خیال کیا ۔انہوں نے لکھا ’’کچھ لوگوں کی شخصیت کسی دلچسپ کتاب کی مانند ہوتی ہے۔ قاری جیسے صرف چند پیراگرام پڑھ کر ہی کسی کتاب کے سحر میں گرفتار ہوجاتا ہے اسی طرح ان شخصیات کے سحر سے بچ نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کا شمار بھی اسی طرح کے لوگوں میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صمدانی سے میرے تعارف کو بہت زیادہ عرصہ نہ ہونے کے باوجود میں ایک قاری کے طور پر آپ کی ہمہ گیرشخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی۔ڈاکٹر صاحب کے کالمز ان کی ہمہ گیر شخصیت کا آئینہ دار ہیں۔ آپ نے جس موضوع پر بھی قلم ٹھایا وہ چاہے قومی یا عالمی سیاست ہو، حالات حاضرہ، سماجی مسائل ہوں یا شخصیت، آپ نے ہمیشہ اس موضوع کا حق خوش اسلوبی سے ادا کیا۔ ایک جانب اگر آپ تکنیکی طور پہ اپنے کالم میں کوئی کسر نہیں رکھتے تو دوسری جانب آپ کی علمیت، تجزیہ کی صلاحیت،الفاظ اور بر محل مثال و اشعار کی انتخاب آپ کے لکھے گئے کالمز کا چارچاند لگا دیتا ہے‘‘۔

ڈاکٹر شاہ محمد تبریزی
(صحافی،ادیب،کالم نگار، مضمون نگار(روزنامہ جنگ)
ڈاکٹر شاہ محمد تبریزی نے لکھ ’’لاشک ّ فیہ کہ پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی ـ’’رشحاتِ قلم ‘‘ ہیں، اسی لیے انہوں نے اپنے شائع شدہ کالموں کے مجموعے کا نام ’’رشحاتِ قلم ‘‘ رکھا ہے۔ انہوں نے سیاسی، سماجی، معاشرتی، ادبی، اصلاحی، رفاہی، عالمی، علاقائی اور حیاتِ انسانی سے متعلق دیگر پہلوؤں ، معاملات و مسائل اور حالت و واقعات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ چھوٹے چھوٹے موضوعات اور بڑے بڑے مسائل کی نشان دہی کی ہے۔ انہوں نے مختصر اور جامع الفاظ میں معانی و مطالب سے پرُ الفاظ اور جملوں کے ذریعے دریا کو کوزے اور سمندر کو قطرے میں سمیٹنے کا کام کیا ہے۔ آپ نے انتہائی خوبصورتی ، شائستگی اور دانش مندی سے صاف و شفاف، کھلے ڈھلے اور عام فہم انداز میں ان کالموں میں ملکی و عوامی مسائل کا حل اور واقعات کی تفصیل پیش کی ہے۔ڈاکٹر صمدانی کی کالم نگاری کئی خصوصیات کا مرقع ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بہت کم عرصہ میں خود کو ایک کامیاب ، سلجھا ہوا ور غیر جانب دار کالم نگار کے طور پر منوایا ہے اور ان کی تحریر کی جامعیت کو دیکھتے ہوئے ملک کے بڑے بڑے اخبار ات و جرائد ان کے کالم کی اشاعت کو اعزاز کا باعث سمجھتے ہیں۔ ان کے کالم انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی متعدد ویب سائٹ کا بھی حصہ ہوتی ہیں اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کی اشاعت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر رئیس صمدانی نے کالم نگاری میں جس ندرت ِ فکر کو متعارد کرایا ہے ، وہ ان کا ہی خاصہّ ہے ۔ وہ آج بھی کالم لکھتے ہیں اور ملک کے کئی اخبارات کی زینت بنتے ہیں، یہی ان کی اور ان کے کالموں کی سب اہم اور بڑی خوبی ہے کہ وہ ایک ’’سدا بہار ‘‘ کالم نگار ہیں۔

عطا محمد تبسم
(صحافی، ادیب ، کالم نگار)
ڈاکٹر رئیس صمدانی کا جاننا پیاز کی پھرت کی طرح ہے،ہر چھلکہ اترنے پر ایک نئی شخصیت سامنے آتی ہے۔ وہ کئی جہتوں کے حامل ہیں، علمی، ادبی، سماجی، تحقیقی ،سوشل میڈیا، اور سیاست سب ہی شعبوں میں ان کا عمل دخل ہے۔ نئے لکھاریوں کو منظم کرنے اور انھیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے حوالے سے ہماری ویب رائیٹرز کلب کی تاسیس سے لے کر اسے ایک موثر فورم بنانے میں بھی ان کی مساعی قابل تحسین ہیں۔وہ بہت ذمہ داری کے ساتھ اپنے حصے کا کام کرتے ہیں۔ لائبریری و انفارمیشن سائنس ان کا خاص شعبہ ہے۔ انھوں نے کئی جامعات میں خدمات انجام دی ہیں اور ان کے شاگردوں کی تعداد بھی بہت دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صمدانی کی نفاست ،ہمدردی ،اخلاص، شائستگی اور دھیما لہجہ ان کی شخصیت کی پہچان ہی نہیں بلکہ ہر ملنے والے کو اپنا گرویدہ بنالیتا ہے۔ ان سے ملتے ہوئے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ علمی خدمات انجام دینے والی ایک بھاری بھرکم شخصیت ہمارے درمیاں موجود ہے۔ اس میں ان کی سادگی اور شرافت کا دخل بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے قلم و قرطاس سے اپنے آپ کو مستقل طور پر وابستہ کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر صمدانی کے کالموں کے موضوعات بڑی حد تک عوامی ہیں۔ لیکن ان میں علمیت ،معلومات اور دلیل کا عنصر بہت اہم ہے۔ڈاکٹر صمدانی نوجوان ادیبوں اور لکھنے والوں کی بھی خوب حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔
میر افسر امان
(ادیب وکالم نگار۔ اسلام آباد)
ڈاکٹررئیس صمدانی کو میں نے ایک کم گو اور عظیم شخص پایا ۔ یقینا! عظیم شخص کے قلم سے لکھے گئے مضامین و کالموں کامجموعہ ’’ رشحاتِ قلم‘‘ کے مضامین وکالم بھی ویسے ہی ہیں۔وہ حالات اور واقعات کو قلمبند کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ان کی تحریر میں زبان کی صحت اس لیے بھی ملتی ہے کہ وہ اہل زبان ہیں۔شعری و ادبی ذوق خاندانی ہے۔ وہ حالات حاضرہ، روزمرہ کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی مسائل کا تجزیہ ہلکے پھلکے انداز اور مہذب طریقے سے کرتے ہیں۔ انہوں نے ادب سے صحافت کی جانب سفر کیا یہی وجہ ہے کہ ان کے کالموں سے ادبی شعور کی عکاسی ہوتی ہے۔ ادب میں شخصیات ان کا خاص موضوع ہیں۔ انہوں نے بے شمار علمی و ادبی شخصیات کو اپنا موضوع بنا یا۔ ڈاکٹر صاحب گزشتہ چار دیہائیوں سے لکھ رہے ہیں۔ ان کے دامن میں 34تصانیف و تالیفات اور چھ سو سے زیادہ مضامین و کالموں کی دولت ہے ابھی بھی بطور لکھاری بلند ہمت ہیں۔ کسی بھی لکھاری کی عمر سِن و سال سے نہیں بلکہ اس کی رشحات قلم سے روشن ہونے والی تحریر سے ناپی جاتی ہے۔ اﷲ ڈاکٹر رئیس صمدانی کے رشحاتِ قلم کو نظر بد سے محفوظ رکھے۔

محمد اعظم عظیم اعظم
(ادیب وکالم نگار۔کراچی)
اس میں کوئی شک اور دورائے نہیں کہ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی صاحب اپنے نام اور کام کے لحاظ سے بھی ایک عظیم شخصیت کے حامل انسان ہیں، اپنے سینئر کا احترام کرتے ہیں اور اپنے جونیئرز سے شفقت سے پیش آتے ہیں خاص طور پر ان سے ملاقات کے بعد یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ایک صاحبِ احترام شخصیت کے ساتھ حسین لمحات گزارے ہیں۔ ان سے ملا قات اور ان سے فون پر بات کرنے کے بعد مجھے ہربار یہی محسوس ہوا کہ میں ایک شفیق اور محبت کرنے والی صاحب ِ علم و فراست عظیم شخصیت سے ملاہوں اور حضرت سے کچھ سیکھا ہے، اوردل و دماغ اِس پر متفق ہوئے بغیر نہیں رہ سکے ہیں کہ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی اِس دورِ پر آشوب میں ایک ہمہ صفت اِنسان ہیں اور مزید یہ کہ کئی حوالوں سے ڈاکٹر رئیس احمدصمدانی کی شخصیت بیشک ایک ہمہ جہت خصوصیات کی حامل ہے۔

محمد ارشد قریشی
(کالم نگار، صحافی، بلاگر، شاعر۔کراچی)
انسان کی زندگی میں کئی شخصیات آتی ہیں جن سے وہ متاثر ہوتا ہے ان میں سے اکثر ایسی شخصیات ہوتی ہیں جنہیں وہ اپنا آئیڈیل بنا لیتا ہے گویا پھر اس کی زندگی میں اپنے آئیڈیل کی جھلک نظر آنے لگتی ہے مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق جنون کی حد تک تھا۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو اس وقت تک کئی ادبی شخصیات کو پڑھ چکا تھا جن میں ایک نام ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی صاحب کابھی تھا۔ میں نے صمدانی صاحب کے بہت سے کالم پڑھے جن میں زیادہ تر کی تعدادہماری ویب اور روزنامہ جناح سے تھی ۔ بہت عمدہ لفظوں کا چناؤ صمدانی صاحب کی تحریر میں نظر آتا ہے۔ میں نے صمدانی صاحب کی زیادہ تر ان تحریروں کا مطالعہ کیا جس میں کالمز کے علاوہ شخصی خاکے اور مکالمے بھی شامل ہیں۔ جوں
جوں صمدانی صاحب کی نئی شائع ہونے والی تحریر پڑھتا تھا ان کی شخصیت کو جاننے کے بارے میں تجسس بڑھتا جاتا تھا ۔ میری بدقسمتی تھی کہ میں شہر کراچی میں رہتے ہوئے کبھی ان سے ملاقات نہ کرسکا تھا۔

میری بحیثیت لکھاری پہلی درسگاہ ہماری ویب ہے جہاں میری تحریروں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا ہمارے ویب میں لکھنے والوں کا ایک ’رائیٹرز کلب ‘بنام’ ہماری ویب رائیٹرز کلب ‘بنا میرے لیے یہ بات نہایت پر مسرت تھی کہ کلب کے صدر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی تھے ۔ رائیٹرزکلب کے زیر اہتمام ایک اجلاس میں پہلی بار مجھے صمدانی صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا ان سے پہلی ملاقات میں ہی مجھے ان کی شخصیت کے بارے میں کافی اندازہ ہوگیا تھا ۔ میں نے ان کے انداز تحریر سے ان کے بارے میں جو ذہن میں خاکہ بنایا تھا وہ بلکل اس کے مطابق ہی مجھے نظر آئے ۔ تحمل مزاج، نرم ، شائستہ اور دھیمہ لہجے میں گفتگو کرنے والے صمدانی صاحب نہایت شفیق انسان جن سے ملکر طبیعت سیر ہوجاتی ہے۔صمدانی صاحب نے ہر موضوع پر اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں۔ حالات حاضرہ، سیاست، معیشت اور معاشرے پر ان کی تحریروں کا مطالعہ کیا جائے تو وہ سب منصفانہ نظر آتی ہیں۔ سیاست پر ان کے تحریر کردہ کالمز کو پڑھنے سے کھبی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ان کا کسی سیاسی جماعت کی جانب جھکاؤ ہے بلکہ ان کی تحریروں میں واضح حب الوطنی اور پاکستانیت جھلکتی ہے۔

ربیعہ علی فریدی
( شاعرہ، افسانہ نگار ، کہانی نویس)
دور حاضر میں جب ہم علم و ادب کے شعبے سے وابستہ شاعروں اور ادیبوں کی کاوشوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک نام ’اپنی نفیس شخصیت، دھیمہ لہجہ اور شائستگی کے ساتھ ہمارے ذہن میں آتا ہے اور وہ ہے ڈاکٹررئیس احمد صمدانی کا ، جو اپنی شخصیت میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ آپ اور آپ کا قلم کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ انہوں نے گزشتہ چار دہائیوں سے محفلِ قلم و قرطاس سجائی ہوئی ہے۔ پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے ضمن میں ان کی خدمات اظہر من الشمس ہیں۔ان کے کرشماتِ قلم سے اب تک تیس سے زیادہ تصانیف و تالیفات اور چھ سو سے زیادہ مضامین منظر عام پر آچکے ہیں۔تحقیقی مضامین کے علاوہ ادب کی مختلف اصناف سوانح نگاری، خاکہ نگاری،کالم نگاری، کہانی نویسی، سفر نامہ ، رپوتاژ،افسانہ ، مکالمہ ،آپ بیتی کے علاوہ شاعری کا ذوق بھی رکھتے ہیں۔ ان کے تحریر کردہ خاکے شخصیت کی مکمل تصویر کشی کرتے نظر آتے ہیں، وہ شخصیت کا خاکہ لکھتے ہیں خاکہ اڑاتے نہیں، خاکہ میں شخصیت کی مثبت باتوں کو بیان کرنے کے قائل ہیں۔ان کے سفرناموں میں تصویر کشی ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ متعلقہ جگہ اور مقام کے بارے میں بنیادی اور اہم معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔ان کے کالموں میں سیاسی، سماجی، معاشرتی ، ادبی، اصلاحی ، رفاہی ، علاقائی، عالمی اور حالات حاضرہ کی حقیقی تصویر کشی ہوتی ہے۔مسائل کی نشاندھی کے ساتھ ساتھ تجاویز بھی کالم کا حصہ ہوتی ہیں۔

ان کا انداز ِبیان سیدھا سادھا اور عام فہم ہے،مشکل الفاظ اور دقیق و پیچیدہ جملوں سے احتراز کرتے ہیں۔ لفظوں کا انتخاب اور کتابوں کے منفرد عنوانات سے آپ کے اعلیٰ ذوق ہونے کی صحیح تفسیر نظر آتی ہے’یادوں کی مالا‘ اور’جھولی میں ہیرے اور موتی‘اپنے ناموں کی طرح اپنے اندر خوبصورت و دلکش تحاریر کا بیش بہا خزانہ سمیٹے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو یہ کمال بھی حاصل ہے کہ کسی بھی موضوع میں اتر کر اس کا تجزیہ کر کے اسے صحیح معنوں میں پڑھنے والے تک پہنچاتے ہیں۔ ادب میں آپ کا جو بھی حصہ رہا قابل قدر اور قابلِ ستائش رہا۔ وہ اہل زبان ہیں اس لیے ان کی زبان تو ہونی ہی تھی صاف ستھری ، جہاں تک ڈاکٹر صمدانی کا شعر وادب سے پرِیت کا تعلق ہے،ادب تو ان کا پرِیتَم ہے۔ ادب سے محبت اور عشق انہیں ورثہ میں ملا ہے، وہ ایک ایسے خاندان کے چشم و چراغ ہیں جس میں متعدد احباب نہ صرف شاعر و ادیب بلکہ صاحب دیوان شاعر گزرے ہیں۔ ڈاکٹر صمدانی سادہ طبیعت ہیں، بناوٹ پسند نہیں کرتے ، انسان دوست ہیں اور دوستی کے تعلق کوخوب نبھانا جانتے ہیں۔

کتاب کی قیمت:
 350 روپے

ملنے کا پتہ:
فضلی بک سپر مارکیٹ: اردو بازار٬ کراچی
کتاب سرائے: فرسٹ فلور٬ الحمد مارکیٹ٬ غزنی اسٹریٹ٬ لاہور
سلسلہ پبلی کیشنز٬ گلشن اقبال٬ کراچی٬ پاکستان
یونائیٹڈ پبلشرز٬ ایتھنز٬ یونان

ای میل ایڈرس: [email protected]

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 395 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 667 Articles with 507676 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: