بھارت نے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر پر پابندی لگا دی

(Mir Afsar Aman, Islamabad)

بھارت کی وزارت داخلہ کے حکم پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی۔یہ پابندی کشمیر میں بھارت کی نظر آتی شکست کا آئینہ دار ہے۔ اصل میں بھارت نے کشمیریوں کی نسل کشی شروع کی ہوئی ہے۔ بھارت نے جموں و کشمیرجماعت اسلامی کے بہادر اور نڈر رہنما سید علی گیلانی صاحب کو ۸۰ سال عمر کے آدھے حصہ یعنی تقریباً۴۰ سال تک قید میں بند رکھا۔ ابھی بھی آئے روز اس کو گھر میں نظر بند کر دیتے ہیں مگر یہ صوفی مشن بہادر شخص بھارت کی آٹھ لاکھ سفاک فوج کے سامنے سر نگوں نہیں ہوا۔بھارتی فوج کی کشمیریوں پر جنگیزی سفاک مظالم پر جماعت اسلامی کے ۸۰ سالہ بزرگ رہنما سید علی گیلانی صاحب پُر زور طریقے سے سیاسی رہنمائی کر تے رہے اور کر رہے ہیں۔یہ بات بھارت کو ایک نظر نہیں بھاتی۔ سید علی گیلانی متحدہ حریت کانفرنس کے رہنما ہیں۔ یہ کشمیریوں کی سیاسی لیڈر شپ، جس میں میر واعظ عمر فاروق،یاسین ملک، شبیر شاہ اور دوسرے لیڈر اور سیاسی پارٹیوں شامل ہیں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔دوسرے لفظوں میں جماعت اسلامی نے کشمیریوں کی سیاسی قوت کو ایک اتحاد کی لڑی میں پررویا ہوا ہے۔ حریت کانفرنس میں شامل ساری سیاسی پارٹیاں یک جان ہو کر کشمیر کے نوجوانوں کو بھارت کی آٹھ لاکھ فوج کی سفاکیت کے خلاف ڈٹ جانے، بھارت سے آزادی چاہنے، ہم کیا چاہتے، آزادی کے نعرے لگانے، قربانیاں دینے، اپنی جانوں پر کھیل جانے، پاکستان کے جھنڈے لہرانے ، ہر سال یوم پاکستان منانے، شہید ہو کر پاکستان کے جھنڈے میں لپبٹ کر مدفن ہونے،بھارت کے یوم پر ہڑتال کرنے،بھارتی جھنڈا جلانے ، پاکستانی جھنڈے کو سلامی پیش کرنے اورپاکستان میں شامل ہونے پر آمادہ کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سیکڑوں اسکولوں سے تعلیم یافتہ کشمیری نوجوان تحریک آزادی کشمیر کے لیے اپنے قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔

جماعت اسلامی ۱۹۴۱ء میں متحدہ ہندوستان کے زمانے میں لاہور میں قائم ہوئی تھی۔ جماعت اسلامی کا دستور پاکستان اور بلا آخر پوری دنیا میں حکومت الہیّا قائم کرنا ہے۔اس لیے جماعت اسلامی اسلام کی مبلغ ایک نظریاتی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان میں مدینہ کی اسلامی فلاحی اور جہادی ریاست قائم کرنے کی داعی ہے۔ اس طرح یہ قائد اعظم ؒکے دو قومی نظریہ اور اسلامی ریاست کے قیام ک وژن کی جان نشین ہے۔ یہ پاکستان کی زمینی اور نظریاتی سرحدوں کی نگہبان ہے۔ یہ انسانیت کو اسلام کے آفاقی ،فلاحی اورپُر امن دین کی طرف بلاتی ہے۔ اس لیے وہ ہر دشمن اسلام کی نظر میں کھٹکتی ہے۔جماعت اسلامی کادستور مسلمانوں کو یاد کراتا ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کی طرح صرف پوجا پاٹ کا مذہب نہیں۔ اسلام انسانیت کے لیے ایک پورا ضابطہ حیات ہے۔ اس کی تشریع کے لیے جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الاعلیٰ موددی ؒ نے ایک جاندار لٹریچر بھی تیار کیا ہے۔ یہ لٹریچر دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو گا ہے۔ پوری دنیا میں جماعت اسلامی کے دعوتی حلقے قائم ہیں۔ جو اﷲ کے بندوں کو اﷲ کے بندے بنانے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ پاکستان جب۱۹۴۷ء میں دنیا کے نقشے پر وجود میں آیا۔ تو جماعت اسلامی، پاکستان اور جماعت اسلامی بھارت میں تقسیم ہو گئی۔ اسکے بعد جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر اور جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر وجود میں آئی۔سری لنکا میں بھی جماعت اسلامی کام کر رہی ہے۔ جب بھارت نے غدار پاکستان شیخ مجیب کے ساتھ مل کر اپنی فوجی مداخلت کے بعد مشرقی پاکستان کو بنگالی قوم پرست بنگلہ دیش میں تبدیل کیا۔ تو جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش میں اسی نام سے کام کرنا شروع کیا۔ جماعت اسلامی کی یہ ساری شاخیں مرکزی جماعت کے دستور کی اساس اور اپنے اپنے ملکوں کے قانون و آئین کے داہرے میں رہ کر جمہوری اور پر امن طریقے عوام میں اسلام کا آفاقی پیغام پہنچاتی ہیں اور الیکشن میں بھی حصہ لیتی ہیں۔جماعت اسلامی نے شروع سے انبیاء کی جماعتوں کی طرح ایک ایک فرد تک اﷲ کا پیغام پہنچانے کا ذمہ اپنے سر لیا ہے ۔ جماعت اسلامی نے شروع سے یہ عہدکر رکھا ہے کہ اسی پُرامن پالیسی پر گامزن رہے گی۔ کسی بھی ملک کے دستور کے اندر رہ کر جمہوری طریقے سے لوگوں تک دین ِاسلام کا پیغام پہنچائے گی۔ کوئی بھی پُر تشدد یا انڈر گروئنڈطریقہ اختیار نہیں کرے گی۔ کوئی مانے نہ مانے کسی قسم کے اشتعال میں نہیں آئے گی۔

بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر ، بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی جماعت اسلامی اسی بنیادی اساسی پالیسیوں پرگامزن رہی ہے۔مشرقی پاکستان میں بھی جماعت اسلامی نے پاکستان کے آئین اوربین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق پر عمل کرتے ہوئے اپنے ملکِ پاکستان کو بچانے کے لیے اوربھارت کے حملے سے محفوظ رکھنے کے لیے پاکستان کی فوج کا ساتھ دیا تھا۔بنگلہ دیش اَکھنڈ بھارت منصوبہ کے مطابق اب بھارت کی کالونی بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، بنگلہ دیش کے وزیر اعظم شیخ مجیب اور بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے درمیان سہہ فریقی معاہدہ ہوا تھا۔ جس میں تمام تلخیاں بھلا دیں گئی تھیں۔ اس کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش الیکشنوں میں حصہ لیتی رہی۔ کئی حکومتوں میں بھی شامل رہی۔مگر ایک عرصہ بعد بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد بھارتی حکومت کی ایماء پرنام نہاد جعلی یوڈیشنل ٹریبونل بنا کر من پسند فیصلے کرا کے جماعت اسلامی کے نصف درجن سے زائد مرکزی رہنماؤں کو پھانسیوں پر چڑھا چکی ہے۔سیکڑوں کارکنوں کو جیلوں میں بند کر چکی ہے۔ مگر جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے تشد اور انڈر گراؤنڈ رہ کر کوئی بھی غیر قانونی حرکت نہیں کی۔ اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں بھی جماعت اسلامی نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔

صاحبو!کیا اقوم متحدہ کے منشور میں یہ شامل نہیں کہ ہر کوئی بھی اپنی بنیادی آزادی کے حق کے لیے جدو جہد کر سکتا؟ ۔کیا جماعت اسلامی بھارتی مقبوضہ کشمیر کے لوگ اگر بھارت سے آزادی چاہتے ہیں تو کوئی ان ہونی بات ہے؟۔کیا خود ہندوستان کے لوگوں نے انگریز سے آزادی حاصل کر دو آزاد ملک پاکستان اور بھارت حاصل نہیں کیے تھے؟کیا دنیا میں سیکڑوں قومیں استعمار سے آزاد نہیں ہوئیں؟۔ کیا برطانیہ سے آئر لینڈ کے لوگوں نے آزادی حاصل نہیں کی؟۔ کیا انڈونیشیا ء اور سوڈان کے عیسائی لوگوں نے اقوام متحدہ کے تحت آزادی نہیں؟۔ تو پھر بھارتی مقبوضہ کشمیر کی جماعت اسلامی اگر لوگوں کو بھارت سے آزاد کرانے کی جد و جہد کر رہی ہے تو کونسا جرم کیا ہے جوبھارت نے اس پر پابندی لگا دی ہے؟۔ کیا کسی نظریاتی جماعت پر ایسی پابندیاں لگا کر اسے ا س کے مشن سے رُوکا جا سکتا ہے؟۔ نہیں بلکل نہیں! بلکہ پابندی کے بعد جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کو پہلے سے بڑھ کر کشمیری عوام کی ہمدردیاں حاصل ہو جائیں گی اوربھارت منہ تکتا رہ جائے گا۔ اس سے قبل بھی بھارت مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی کے لوگوں کو قتل اورجیلوں میں ڈال چکا ہے۔ ان کے املاک ،زمینوں اور گھروں کو گن پاؤڈر سے خاکستر کر چکا ہے۔ ابھی تازی کاروائی میں جماعت اسلامی کے درجوں لیڈروں اور سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کر چکا ہے۔ جماعت اسلامی کے فلاحی اور تعلیمی اداروں کو سیل کر چکا ہے۔ حتہ کہ جماعت اسلامی کے لوگوں کے گھروں کو بھی سیل کر دیا ہے۔ بھارتی ظالموں یاد رکھو ۔ یہ اﷲ والے لوگ ہیں۔ ان کو صبر کرنا بھی آتا ہے اور وقت پر رد عمل بھی دینا آتا ہے۔ اگرظلم کو نہیں رو گے تو ایک نہ ایک وقت تمھیں اس ظلم کا جواب دینا پڑھے گا۔ ساحر لدھیانوی نے کیا خوب کہا ہے:۔
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

اﷲ جماعت اسلامی بھارتی مقبوضہ کشمیر کا حامی و مدد گار ہو۔ آمین۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 197 Print Article Print
About the Author: Mir Afsar Aman

Read More Articles by Mir Afsar Aman: 809 Articles with 346113 views »
born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More

Reviews & Comments

Language: