امریکی انخلاء ....پاک افغان اسٹرٹیجی

(Sami Ullah Malik, )

آج سے ٹھیک تین دہائی قبل غیورافغانوں نے اپنے ملک پردنیاکی سپرطاقت اور پڑوسی ملک کی بے پناہ یلغار کوروکنے کیلئے توڑے داربندوقوں سے جہادکا آغازکرکے بالآخرآنجہانی سوویت یونین کوجنیوامعاہدے کی آڑمیں اپنے ماتھے پر شکست وپسپائی کاذلت آمیزداغ اپنے ماتھے پرسجاکرنہ صرف ناکام ونامراد لوٹناپڑابلکہ 78سال قبل جن مسلمان ریاستوں پرجبری قبضہ کرکے خودمیں شامل کرلیاتھا،ان سے بھی دستبردارہوناپڑااور اپنی جارحیت جیسے جرم عظیم کی اس طرح بھاری قیمت چکائی کہ یہی افغانستان، سوویت یونین کا قبرستان بن گیااوراب یہ دوبارہ ''روس''کے نام پراپنی باقی ماندہ سرزمین کوبچاسکا اور اس طرح اس جارح سپرطاقت کاعالمی وقاربھی خاک میں مل گیااوراب یہی حال دنیاکی اکلوتی سپرپاورامریکاکاہونے جا رہاہے جس کیلئے وہی فرعونی تکبرچکناچورہوکرآج انہیں افغانوں سے پرامن انخلاء کی بھیک مانگ رہاہے اورجاری تصویرمیں ان امریکیوں کے سامنے وہی افغان مجاہدملاضعیف اپنے وفدکی قیادت کررہاہے جس کوصرف چندبرس قبل اسلام آبادکے ہوائی اڈے پرننگاگھسیٹ کر گوانتاناموبے کے عقوبت خانے میں پھینک کرتشددکاہر حربہ آزمایاگیا .....اللہ اکبر.....بے شک میرارب بہت ہی بڑاہے اور تکبرکرنے والوں کاانتہائی ناپسند کرتا ہے.... جہالت کے زمانے میں بھی دشمن ممالک کے سفارت کاروں کے ساتھ بھی ایسانارواسلوک نہیں کیا گیاجواس بدنماتہذیب یافتہ ٹولے نے پاکستان میںافغانستان کے سفیرملاضعیف سے کیاگیا اورامریکا کے تمام اتحادی اورکٹھ پتلی حکمران احتجاج کی بجائے ایک کورس کی شکل میں قصر سفید کے فرعون کی تعریف وتوصیف میں مگن تھے۔۔۔۔
لگاکرآگ شہرکویہ بادشاہ نے کہا
اٹھاہے دل میں تماشے کاآج شوق بہت
جھکاکرسرکوسبھی شاہ پرست بول اٹھے
حضورکاشوق سلامت رہے،شہراوربہت

سوویت یونین کی مسلط کردہ جنگ کے ہولناک اثرات سے ابھی افغانستان گزررہاتھاکہ امریکانے اپنے دنیابھرسے اپنے یورپی اورغیریورپی اتحادیوں کے ہمراہ اٹھارہ سال توپ وتفنگ آزمائے،بدترین ڈیزی کٹربم استعمال کیے ،ٹرمپ نے توتمام غیرجوہری بموں کی ''ماں''جیسا ہولناک بم برساکر بھی اپنے ظلم کی انتہاء کردی اوریہ سلسلہ باوجود مذاکرات کی میزپرامن کی بھیک مانگنے تک جاری وساری ہے لیکن یہ ضرورہواہے کہ ویتنام سے رسواہوکرواپسی اورپسپائی پرمجبورہونے والے امریکانے اب آنجہانی سوویت یونین کے نقشِ پاپربوسے دینے شروع کردیئے ہیں۔اس سلسلے میں امریکاکافی عرصے سے طالبان کے ساتھ مذاکرات ممکن بنانے کیلئے پاکستان سے مددمانگتارہا.....اوراب بالآخررواں ماہ کے دوران طالبان کے ساتھ امریکاکے مذاکرات کااب تک اہم ترین ردّ ِ عمل ہوا،اورقطرمیں چھ روزتک جاری رہنے والے طویل ترین مذاکرات میں امریکاکے گیارہ رکنی وفد نے شرکت کی،اس امریکی وفدکی قیادت زلمے خلیل زادنے کی جنہیں افغان نژادامریکی ہونے کے ساتھ ساتھ افغان امورکے ماہرین میں شمارکیا جاتاہے۔

ان طویل مذاکرات کے ذریعے امریکاایک بارپھرایک ایسے معاہدے کیلئے سرگرم ہے جوجنیوا معاہدے کے بہت ہی قریب ہواورامریکاکواس سے محفوظ پسپائی کاموقع بھی میسرآ جائے ،نیز افغانستان میں 18برس تک ہونے والی امریکی رسوائیوں کانکتہ عروج بھی ظاہرنہ ہو۔اگررسوائی اور پسپائی کے باوجودامریکایہ ثابت کرنے کیلئے جھوٹے سچے دلائل جمع کر سکے کہ افغانستان میں بھی ویتنام کی طرح امریکارسوانہیں ہوالیکن18برس تک نیٹوممالک کی پوری مددوحمائت کے باوجودطالبان کوشکست نہ دے سکنابجائے خودامریکی شکست کاکھلااعلان ہے کہ دنیامیں امریکی ومغربی ممالک کی حکومتوں ،سفارتی مہارتوں ،شہری ابلاغی ومسائل اورغیرمعمولی مالی وسائل کے استعمال کے باوجودطالبان کوختم نہ کرسکنے میں امریکااور اس کے اتحادی بری طرح ناکام رہے۔اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ جن طالبان کوامریکااوراس کے چھوٹے بڑے سب اتحادیوں نے دہشتگردی کی علامت بناکرپیش کرنے کی کوشش سالہاسال تک کی،اب انہی طالبان کے ساتھ دنیاکی واحدسپرپاوررہنے والے امریکااوراس کے نیٹوممالک ایسے اتحادی اور نان نیٹواتحادی طاقتوں کی درخواست اوراصرارپرطالبان ایک بڑی طاقت کے طورپرقطرمیں سجنے والی مذاکراتی میزپر براجمان ہوئے ، اس لئے یہ کہنے میں کوئی خوف نہیں ہے کہ قطرمیں طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات کامیابی کے اعلان پرمنتج نہیں ہوئے بلکہ ان مذاکرات کے بعد عالمی مؤرخ آج بھی یاکچھ عرصے کے بعدامریکی پسپائی کواس کے مقدرکے طورپردیکھاجائے گا۔

افغانستان میں امریکااوراس کی مفرورقیادت نے یہ شرمناک رسوائی وپسپائی امریکی سرکاری اعدادوشمارکے مطابق2001ء سے لیکر8نومبر 2018ء تک چھ ٹریلین ڈالرسے زائد اور27جولائی 2018ء تک 2372امریکی فوجی ہلاک،20320امریکی شدیدزخمی جن میں نصف سے زائدعمر بھر کیلئے معذوراور1720سویلین کنٹریکٹراس جنگ کارزق بن گئے۔ایک اورامریکی سروے کے مطابق مرنے والے اورزخمی امریکی فوجیوں کی پنشن اورمعذورفوجیوں کے علاج معالجے کیلئے سالانہ 562ملین امریکی ڈالرزامریکی خزانے پر مستقل بوجھ امریکی معیشت کوگھن کی طرح چاٹتا رہے گااوراس پرمستزادیہ کہ طالبان اورافغان عوام کوشکست دینے کی آرزومیں امریکی سیاست زوال کے اس نہج پرپہنچ گئی جہاں ٹرمپ جیسالاابالی اوراخلاق باختہ فردامریکی صدارت پرفائز ہونے میں کامیاب ہوگیاجبکہ معاشی اورمالی اعتبارسے یہ عالم ہوگیاہے کہ سابق صدراوباماکوملکی معیشت کوبیل آؤٹ کرانے کیلئے غیرمعمولی جتن کرنے پڑے تھے لیکن باوجودیہ کہ اب امریکی صدرٹرمپ کے دورمیں امریکی معیشت کی کشتی پہلے سے زیادہ ڈانواڈول ہے اوربعض امریکی ریاستوں کی طرف سے فیڈریشن سے الگ ہونے کی باتیں بھی شروع ہوگئی ہیں جس کی طرف آج سے چھ سال پہلے میں نے اپنے ایک تفصیلی آرٹیکل میں کچھ عالمی معاشی ماہرین کی آراء کی روشنی میں 2025ء تک امریکاکے ٹوٹنے کی پیش گوئی کی تھی جواب ان حالات میں مزیدواضح اوردرست نظرآناشروع ہوگئی ہے۔

معاشی اعتبارسے بدحال امریکاکاصدربننے کے بعدٹرمپ کی بوکھلاہٹ میں مزیداضافہ ہوچکاہے۔ امریکی صدرکے آئے روزسامنے آنے والے بیانات ،ٹویٹس اورپالیسیاں اسی بوکھلاہٹ کی آئینہ دار ہیں۔یوں ایک جانب افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں امریکی ہزیمت،پسپائی اوررسوائی نوشتۂ دیوار ہے تودوسری جانب افغانستان کے پہاڑصفت طالبان سے ٹکرانے کی وجہ سے امریکی معیشت بھی پاش پاش ہورہی ہے۔عالمی سطح پرامریکاکو چین کے اب معاشی جن کاہی سامنانہیں ،چین کے حوالے سے عالمی سطح پرسیاسی چیلنجزکابھی سامناہے کیونکہ جس تیزی سے چین سی پیک اور ون روڈ،ون بیلٹ کے منصوبوں کے ذریعے عالمی معاشی منڈیوں میں واضح برتری حاصل کرنے جارہاہے وہاں چین اپنے دفاعی نظام کوجدیدخطوط پر استوارکرنے کی پالیسیوں پرتیزی سے عملدر آمدکررہاہے کیونکہ اسے علم ہے کہ امریکاچین کے اس معاشی طوفان کے خلاف عسکری سازشوں میں بھی مصروف ہے اورمغرب کے بعض ممالک کواپناہمنوابنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

قطرمیں چھ دن تک جاری رہنے والے امریکاطالبان مذاکرات میں طالبان کی فراست،جرأت و استدلال نے غیرمعمولی طورپرامریکی وفدکے ارکان کوجہاںورطۂ حیرت میں ڈال دیاوہاں انتہائی متاثربھی کیا۔امریکاکی طرف سے بگرام ائیربیس کواپنے پاس فوجی انخلاء کے بعدبھی ایک اڈے کے طور پربرقراررکھنے کے امریکی آرزؤں کوایسے آڑے ہاتھوں لیاکہ امریکی مذاکراتی وفد ششدررہ گیاکہ طالبان کے یہ سیدھے سادھے نمائندے امریکی سفارتکاروں اورماہرمذاکرات کاروں کویوں چپ کراسکتے ہیں کہ جتنے اورجن شرائط پرامریکا افغانستان میں اڈے چاہتاہے،

انہی شرائط پرامریکااپنے اندرافغانوں کواڈے مہیاکردے.... .! ''گویاہم آدمی ہیں تمہارے جیسے،جوتم کروگے وہ ہم کریں گے ''۔ چھ روزتک طالبان کے آہنی عزائم اور استدلال سے ٹکریں مارنے والے امریکی وفدکوابھی تک طالبان سے کچھ حاصل نہیں ہوسکاالبتہ امریکی وفدکی قیادت کرنے والے زلمے خلیل زاد نے امریکی عوام اورعالمی برادری سے امریکی دل شکستگی چھپائے رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیاہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے جبکہ طالبان امریکی فوج کے انخلاء سے قبل کسی پیش رفت کوتسلیم کرنے کیلئے تیارہی نہیں۔ طالبان رہنماء جنگی میدان کی طرح سفارتی اورمذاکراتی محاذپربھی پوری مضبوطی کے ساتھ اپنے مؤقف پرقائم ہیں کہ امریکی فوج کوپہلے افغانستان سے مکمل انخلاء کرناہوگا،تمام امریکی فوجی اڈے خالی اور ختم ہوں گے،امریکی اسلحے کامکمل خاتمہ ہوگا،اس اسلحے کوقطعی طورپراشرف غنی یاکسی اورملیشیا کے حوالے نہیں کیاجائے گااورطالبان امریکی کٹھ پتلی حکومت سے کبھی بھی مذاکرات نہیں کریں گے۔

طالبان کے وفدنے تویہاں تک امریکی وفدکوبھی اس بے اختیاری اوربارباراپنے دارلحکومت سے رابطہ کرنے پرباورکرایاکہ امریکی وفدکوفیصلے کا اختیارنہیں ہے اس کے مقابلے میں طالبان کی مذاکراتی ٹیم فیصلہ کن اختیارات کی حامل ہے۔طالبان نے اس مضبوط اورتوقف کے بعدافغانستان میں امریکی آشیربادسے قائم اشرف غنی حکومت کواپنامستقبل اب مزیدمخدوش نظرآنے لگاہے کہ انہی مذاکرات میں اشرف غنی حکومت کے بارے میں اصولی مؤقف پرپوری طرح قائم رہتے ہوئے امریکی مذاکراتی ٹیم کواشرف غنی کی حکومت کی جان کیری اندازمیں تشکیل کابھی احوال بیان کرکے اس حکومت کاکچاچٹھاکھول کررکھ دیا۔

اشرف غنی حکومت کوطالبان کے مؤقف کی مضبوطی اوراشرف غنی حکومت کے بارے میں امریکی اپروچ کے کسی بھی وقت کسی بھی حدتک تبدیل ہو جانے کاخدشہ بھی کھائے جارہاہے جبکہ اس کٹھ پتلی اندازمیں تشکیل پانے والی حکومت کویہ بھی صاف نظرآنے لگاہے کہ امریکااپنی بچی کھچی عزت اورطاقت کویکجابچاکرجس سرعت کے ساتھ افغانستان سے راہِ فرار اختیارکرنے کے راستے تلاش کررہاہے تاکہ ایک جانب ہولناک جنگی اخراجات اور دوسری جانب ذلت آمیز شکست وپسپائی کی انتہاء سے بچ سکے اورتیسری جانب عالمی سطح پربالعموم اورافغانستان کے ہمسایوں میں ابھرنے والے چیلنجوں کیلئے خودکوفارغ کرسکے۔اس کے بعداشرف غنی کی حکومت کی جگہ بھی افغانستان کے اصل وارث قوتوں کے غالب آنے کوروکناکسی طور پر بھی ممکن نہیں رہے گا۔

امریکاجسے ماضی میں افغانستان اپنے لئے سب سے بڑاچیلنج سمجھتاتھا،اب طالبان کے ساتھ معاہدے کیلئے کوشاں اوربے چین ہے تاکہ اپنی عالمی سطح پرداغدارہوجانے والی حیثیت کوکسی حدتک بچاسکتاہے توبچالے لیکن واقعہ یہ ہے کہ قلعہ کتنابھی بڑاہواسے بالآخرشکستہ ہوناپڑتاہے جس طرح انسانوں کے درمیان اللہ نے دنوں کاالٹ پھیرایک فطری چیزبنادیاہے ،اسی طرح اقوام وتہذیبوں کے درمیان بھی دنوں کاالٹ پھیر ایک تاریخی حقیقت کے طورپر عوامی تاریخ کے صفحات پرجابجادیکھنے کوملتاہے۔اس ماحول میں دراصل امریکاکوبھی احساس ہوچکاہے کہ'' آخر بکرے(امریکا) کی ماں کب تک خیر منائے گی،بالآخرطالبان کی چھری کے نیچے ہی آئے گی''۔ امریکی فطری اتحاداورمغربی ممالک بھی امریکی دائرہ اثرسے نکلنا شروع ہوچکے ہیں ۔یورپی ممالک کواپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔ٹرمپ کے آنے کے بعدصرف امریکاہی نہیں پورے یورپ اور پوری دنیامیں کمال، لازوال کے محاورے کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔

ایسے میں افغانستان میں امریکی کشتی پرسوارہوکرآنے والے بھارت کی بھی مشکلات فطری طور پربڑھ جائیں گی۔امریکاکی سرپرستی حاصل کرنے کیلئے بھارت اورافغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کا مغربی سرحدسے بھی گھیراتنگ کرنے کے خواب دیکھنے والابھارت کاافغانستان میں لگایاگیا خطیرسرمایہ تیزی سے ڈوبنے کی راہ پرہے۔ہندوبنئے کیلئے سرمائے کا ڈوبناجان لیوابھی ثابت ہو جاتاہے اورطالبان کاایک سرخرواورفتح مندہونے والی قوت کے طورپرابھرکرسامنے آنابھی ہندو بنئے کیلئے سوہانِ روح بن رہاہے۔ یہ بجاکہ ابھی تک امریکااورطالبان کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے پرنہیں پہنچے لیکن گزشتہ کم وبیش ایک ہفتے تک مذاکرات کاجاری رہنا اوراس کے اختتام پرامریکی نمائندے کو زلمے خلیل زاد کاپیش رفت کی نوید سنانا،جس کوسن کراشرف غنی کاتڑپ تڑپ جانا،اس طرح کااظہارہے کہ معاہدہ کتناہی دورہوامریکاکاافغانستان میں طویل قیام اب ممکن نہیں رہاجس کی وجہ سے اشرف غنی کامربی بھارتی مکاربنیاء مودی بھی انگاروں پرلوٹ رہاہے اوروہ اس و قت پوری کوشش کررہاہے کہ ممکنہ صدارتی انتخاب میں اشرف غنی یاعبداللہ عبداللہ کامیاب ہوجائیں تاکہ نئے سرے سے سازشوں کاجال بچھاکرطالبان کاراستہ روکاجاسکے لیکن اس سانپ کاکیاعلاج کیاجائے جو مرنے کیلئے مصروف شاہراہ کے درمیان آن بیٹھے۔ امریکا اپنی پوری فرعونی طاقت اوراپنے تمام اتحادیوں سمیت طالبان کے سامنے سرنگوں ہونے پرمجبور ہوگیاوہاں اشرف غنی یااس کے حواری بھارت کی کشتی کوکیسے بچاپائیں گے؟

اس حوالے سے ٹرمپ کاپینٹاگون کوافغانستان سے اپریل کے مہینے تک نصف امریکی فوج کے انخلاء(سات ہزارفوجی)کااوربقیہ تمام امریکی فوج کے مکمل انخلاء کاٹائم ٹیبل تیارکرنے کاحکم جاری کرنے سے افغانستان سے امریکی سرعت کااندازہ ہورہاہے۔مجموعی طورپرفوجی انخلاء کیلئے امریکاکی جانب سے اب تک یہ اطلاعات ہیں کہ امریکا18ماہ میں اپنافوجی انخلاء مکمل کرنے کاخواہاں ہے گویاامریکاکے اگلے صدارتی انتخاب سے قبل امریکی انتظامیہ عوام کے سامنے اپنے فوجی اوربچی کھچی عزت بچاکرواپس امریکالانے کاارادہ رکھتی ہے....اسے اس مقصدکیلئے پاکستان سے بڑی آس ہے لیکن پاکستان کی سول وفوجی قیادت کیلئے بھی یہ لمحۂ امتحان ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھرایک سپرطاقت کے افغانستان سے انخلاء کے بعدخطے میں کس قسم کے حالات اپنے ملک وقوم کے تخلیق کرناچاہتی ہے۔طالبان نے جنگی میدان اورمذاکرات کی میزپراپنے مؤقف اورعزم کی مضبوطی ظاہرکردی ہے،پاکستانی قیادت کوبھی فراست و دانشمندی کامظاہرہ کرناہوگا،بصورت دیگراپنے لئے آنے والے دنوں میں مشکلات بڑھادینے کاامکان نظر انداز نہیں کرسکے گا۔

امریکی انخلاء کے بعدخطے میں کیامنظرپیداہوسکتاہے یاپیداکئے جانے کی سازش اورکوششیں ہو سکتی ہیں،اس سے قبل ازوقت اوربات کرنے اور اس کیلئے بہترحکمت عملی اختیارکرنا پاکستان کی فوجی وسیاسی قیادت پرلازم ہے۔تیس سال پہلے جس طرح کے معاہدے کے بعد پاکستان کو افغانستان میں جس طرح کی خانہ جنگی کامنظردیکھناپڑاتھا،اب ایساتجربہ دوبارہ دہرانے کی قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہئے ورنہ پاکستان میں''سی پیک''کے راستے آنے والی خوشحالی کاخواب بھی تشنہ رہ سکتاہی اوریہی دشمن کی سب سے بڑی چال ہے جس کوسمجھنے کی فوری ضرورت ہے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 208 Print Article Print
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 261 Articles with 58411 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: