کیا ہماری حساس ایجنسیاں کچھ نہیں جانتی ؟

(ch tayyab, Sialkot)


گزشتہ دن عورت آزاری مارچ کے نام سے پاکستان میں خاندانی نظام کی جگہ عورت راج قائم کرنے کی سازش مکمل منظر عام پر آگئی ۔ اور پاکستان عوام نے ان عورت مارچ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔
ہمارے ٹی وی چینلوں ڈراموں کی آر میں عورت راج قائم کرنے کی غرض سے لاکھوں بلکہ اربوں ڈالرز کی مہم چلائی گئی پھر مارنگ شو کی آڑ میں عورت راج کو فروغ دیا گیا۔ اور اس کے نتائج آپ نے کل لاہور ۔ اسلام آباد اور کراچی کی سڑکوں پر سیکولر طبقہ نے جو تماشہ لگایا آپ کے سامنے ہے۔
یہ بلکل ممکن نہیں کہ ہمارے حساس ادارے آئی ایس آئی ان کی اس سازش اور ناپاک ارادوں کو نہیں جانتی یقیناً  باخوبی اور بہت دور تک مکمل انفارمیشن کی اطلاعات ہوتی ہیں کہ آگئے کیا ہونے جارہا ہے اور اس کے نتائج کیا ہوں گے ۔
آپ کو پہلے بھی بتایا کیا ہے اب وہ دور نہیں رہا اب ڈسک جنریشن وار سے ہی جواب دیا جائے گا ۔ اب کارروائی کرنے سے پہلے عوام کے سامنے ان کو ننگا کیا۔جائے گا اور تب  تک کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گئی جب تک عوام میں ان کی کارستانیوں کے ماسٹر مائنڈ سامنے نہیں آجاتے اور عوام حد سب کچھ نہیں جان جاتی۔
ففتھ جنریشن وار کے سولجرز دن رات ان ایجنٹوں کے دیوتاؤں کو بھی سامنے لا رہے ہیں جن میں را ۔ موساد ۔ سی آئی اے۔ اور شیطانی طاقتیں فری میشن ۔ ایلومینائٹی شامل نہیں جن کا کام پاکستان (اسلام) کو ختم کرنا ۔ ون ورلڈ آڈر کو قائم کرنا اور بے خیائی کو ہر طرح سے فروغ دے کر دین اور جذبہ اسلامی سے دور کرنا شامل ہے۔ ان شیطانی ناپاک تنظیموں نے نسل در نسل کو ذہنی طور پر مفلوج اور اپاہج بنانے کی سال ہا سالوں سے تیاری کر دکھی ہے۔
الحمداللہ تقریباً ایک سال سے پاکستان میں شیطانی تنظیموں کا نٹورک ٹوٹ چکا ہے اور مزید آئندہ چند سالوں میں مکمل ختم ہو جائے گا۔
کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان صدارتی نظام یا خلافتی نظام کی طرف جا رہا ہے ۔ ہمارے پیارے نبی پاک ﷺ کی احادیثِ مبارکہ مکمل ہو رہی ہیں ۔ الله کے نیک لوگوں کی پیشنگوئیاں سچی ثابت ہورہی ہیں ۔ غزوہ ہند کا آغاز ہونے جارہا ہے کیونکہ یہ ٹل حقیقت ہے ۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 589 Print Article Print
About the Author: ch tayyab

Read More Articles by ch tayyab: 18 Articles with 10936 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: