فسطائی حکومتیں اور ملک و قوم کی اضطرابی کیفیت

(Syed Anis Bukhari, )

کہتے ہیں کہ جو قومیں اضطراب، مایوسی، بے چینی ، پریشانیوں،بیماریوں، جہالت، لا قانونیت اور نا انصافی جیسے مسائل میں گھری ہوئی ہوتی ہیں وہ قومیں ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو پاتیں جبکہ انکے لیڈر اور حکمران یا پھر ایک طبقہ جسے ہم اشرافیہ کہتے ہیں وہ طبقہ ایسی قوموں کے تمام وسائل پر قبضہ کرکے حکمران طبقے سے گٹھ جوڑ کرلیتا ہے اور ملک اور قوم کیلئے ایسی پالیسیاں وضع کرتاہے جنکا مقصد قوم کو مختلف مسائل میں پھنسا کر اپنی حکمرانی کو طول دینا ہوتا ہے۔یہ طبقہ حکومت کے روزمرہ کی پیشہ وارانہ سرگرمیوں میں اپنے قریبی عزیز و اقارب ، رشتے داروں اور دوستوں کو حکومت کا حصہ بنا لیتے ہیں اور پھر ہر شعبے میں اپنی من مانیاں کرتے ہیں ۔ حکومت کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہوتا جہاں پر انکے اپنے قریبی لوگ برا جمان نہ ہوں اور وہ حکومت کے تمام کارہائے ساز ادا کرتے ہوئے اپنے ماتحت اور تابعین سے کام لیتے ہیں یہ ماتحت بھی انہیں کے گن گاتے ہیں کیونکہ انہیں بھی نوازا جاتا ہے تاکہ انکے منہ بند رہیں اور یہ انکی حرامکاریو ں کی پردہ پوشی کرتے رہیں۔

جن معاشروں میں دولت کی مساویانا تقسیم نہ ہو وہاں بے روزگاری، بھوک، ننگ اور غربت کا راج ہوتا ہے۔ ایک طاقتور طبقہ دوسرے کمزور طبقے کے وسائل پر قابض ہو کر ملک کے خزانے کو کھوکھلا کر دیتا ہے جبکہ کمزور طبقہ ہمیشہ طاقتورکے زیر نگیں ہوتا ہے اور انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اپنے ہی گھریلوبکھیڑوں میں لگا رہتا ہے اور یہ زندگی اسکے لیے ایک مکڑی کے جالے سے کم نہیں ہوتی۔ ایک خاص حکمت عملی کے ذریعے غریب اور نادار طبقے کو آہستہ آہستہ اتنا کمزور بنا دیا جاتا ہے کہ وہ دن رات اپنی پریشانیوں میں گھرا رہتا ہے اور اسکی تمام تر توجہ اپنے مسائل پر مرکوز رہتی ہے جبکہ دوسری طرف اسکی توجہ اشرافیہ اور حکمران طبقہ سے مکمل طور پر ہٹ جاتی ہے جو لوٹ مار کا بازار گرم کئے ہوتے ہیں جسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی اور قومی وسائل کو لوٹ کھسوٹ جاری رہتی ہے۔ ملک کے اثاثہ جات کو اپنے ہی من پسند طبقے لوگوں میں فروخت کر دیا جاتا ہے انہیں پرائیویٹ کرکے وہاں کے ملازمین کو بے روزگار کر دیا جاتا ہے ایسے ایسے اثاثہ جات جو منافع بخش ہوتے ہیں انہیں اپنے ہی عزیز و اقارب کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر ملک کی معیشت کو اربوں اور کھربوں روپے کا نقصاب پہنچایا جاتا ہے۔ ملک سے لوٹی ہوئی دولت کو بیرونی ممالک کے بینکوں میں غیر قانونی طور پر منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ ایسے ممالک جہاں پر آف شور کمپنیاں بنانے کی اجازت ہے ان میں قبرص، لاطینی امریکہ، ماریشس، برطانوی ممالک اور کئی ممالک ایسے ہیں جنکے ساحلوں سے دور جزائر میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول کیلئے ا ٓف شور کمپنیاں قائم کر لی جاتی ہیں ۔ ایسی کمپنیوں کے اصل مالکان پس پردہ رہتے ہیں جو ٹیکس کے قوائد و ضوابط اور دوسرے قوانین سے مستثناء ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ایسی کمپنیوں کے بارے میں باز پرس کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی حکومت اور احتسابی ادارے کسی بھی آف شور کمپنی بنانے والے سے اسکے سرمائے کے بارے میں پوچھ گچھ کر سکتی ہے کہ اسکے پاس یہ سرمایا کہاں سے آیا ۔ آیا کہ اسنے یہ سرمایہ جس سے بیریونی ممالک میں آف شور کمپنی بنائی ہے کیا یہ سرمایا پاکستان سے باہر قانون طور پر بھیجا گیا یا پھر غیر قانونی طور پر بھیجا گیا۔ نا جائز ذرائع سے کمائی جانے والی دولت خواہ وہ دہشت گردی کے ذرائع سے کمائی گئی ہو، ٹیکس چوری کرکے کمائی گئی ہو یا پھر لوٹ مار سے کمائی گئی ہو اسے ہم کالا دھن کہتے ہیں جو غیر قانونی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ہی وہ مسلۂ جس نے پوری قوم کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے کہ ہمارے حکمران ملک سے لوٹی ہوئی دولت کا حساب کیوں نہیں دے رہے۔ ہر طرف افرا تفری ہے، لوگ پریشان ہیں، کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ما ر دھاڑ ہے ، دہشت گردی سے روزانہ سینکڑوں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں مگر دہشت گردی ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ عوام انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہیں مگر حکومت ہمیشہ سب اچھا کر راگ الاپ رہی ہوتی ہے زمینی حقائق کچھ اور ہوتے ہیں جبکہ عوام کو اندھیرے میں رکھا جاتا ہے ہر وقت دودھ اور شہد کی نہریں کاغذوں کی حد تک بہائی جاتی ہیں اور اپنے آپکو اچھا ثابت کرنے کیلئے قوم سے جھوٹ بولا جاتا ہے، ایسی حکومتییں جو انتہائی جھوٹی ، مکار، فریبی، دروغ گو سیاستدانوں پر مشتمل ہوتی ہیں وہ صرف اپنے ذاتی مقاصد کیلئے ہی ملکی وسائل کی لوٹ کھسوٹ جاری رکھتے ہیں اور قوم کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے ایسے ایسے پراجیکٹس کی تعمیر کے خواب دکھاتے ہیں جو انہوں نے اپنی ذاتی منعفت کیلئے اپنے ہی من پسند لوگو ں کو دئے ہوتے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کا براہ راست اثر پوری قوم کے ایک ایسے طبقے پر پڑتا ہے جسے ہم پسا ہوا طبقہ کہتے ہیں۔ یہ طبقہ ہر قسم کی آسائشوں سے محروم ہوتا ہے انکے چہروں پر کرب، ماتھے پر سلوٹیں، مضطرب رہنا ، پریشان اور انتہائی تذبذب کا عالم جو ہمارے معاشرے کی توڑ پھوڑ اور غیر یقینی کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور ہم اس تمام تر حالت اور وہ کیفیت جو اس وقت ہمارے معاشرے پر چھائی ہوئی ہے اسکا ذمہ دار حکومت وقت کو ٹھہراتے ہیں۔ کیونکہ اگر نہر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا ہوگا یا تکلیف میں ہوگا تو اسکی ذمہ داری حاکم وقت پر عائد ہوتی ہے۔ ہم اپنے معاشرے کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ دور کا المیہ ہمارے معاشرے کا سب سے گھمبیر المیہ ہے جسے ہم اضطرابی کیفیت کا نام دے سکتے ہیں اور یہ اضطرابی کیفیت جو ہمارے حکمرانوں کی غیر انسانی پالیسیوں کی وجہ سے ہمارے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے ہماری عوام کیلئے انتہائی مشکلات کا باعث ہے اور عوام اس اضطرابی کیفیت کی وجہ سے پریشانیوں میں مبتلا ہیں یہ سب ہماری نا اہل ، لالچی اور جھوٹے حکمرانوں کی پیدا کردہ ہیں۔ سائلیوں کا عدالتوں اور تھانوں میں رذیلوں کی طرح صبح سے شام تک ہاتھوں میں عرضیاں اٹھاے پھرنا، دفاتر میں لوگوں کا کام بغیر رشوت کے نہ ہونا، اسپتالوں کے اندر اور باہر بے یار و مددگار لوگوں کا ہجوم اور موت کا کھیلا جانے والا کھیل، ہسپتالوں میں مریضوں سے غیر انسانی سلوک اور انہیں علاج و معالجے کے نام پر موت تقسیم کرنا، ہر روز روڈ ایکسیدنٹ میں سینکڑوں لوگوں کا مر جانا اور زخمی ہو جانا،عدم شنوائی ، ملاوٹ شدہ اشیائے خوردو نوش سے لوگوں کی اموات اور بیماریاں ۔ مسیحاؤں کے روپ میں ظالم اور قاتل ڈاکٹر یہ سب کچھ کیا ہے اور کس بات کی نشاندہی ہے ؟؟ کیا اچھے اور مثالی معاشروں میں ایسے ہی ہوا کرتا ہے؟ دوسری جانب وہ طبقہ جو تمام ملکی اور قومی وسائل پر قابض ہے۔ ہر طرف قہقہے ہیں، زرق برق لباس ہیں، انکے چہروں پر مسکراہٹیں ہیں، پیسے کی ریل پیل ہے، قانون اور انصاف انکے گھر کی لونڈی ہے، تعلیم انکے باپ کی میراث ہے اور صحت انکی غلام ہے۔ یہ لوگ انتہائی پر سکون ہیں، غم و اندوہ ان سے کوسوں دور ہیں، ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں، شادیانے اور نقارے بجائے جا رہے ہیں، نغموں کی بھرمار ہے، سازوں پر نچنیوں کے ناچ دیکھے جا رہے ہیں، انکے چہروں پر طمانیت ہے، ہر طرف گل چھرے اڑائے جا رہے ہیں، دنیا و مافیا کے تمام غموں سے آزاد ہیں۔ ہماری ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی دولت حکومت ووٹ کی خاطر مغربی دنیا کہ ہم پلہ میٹرو بس پر خرچ ہو رہی ہے۔ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم دنیا کے دکھوں اور غموں کے درمیان بیس یا تیس روپے کی چئیر لفٹ کی طرح کے جھولے میں بہت خوش ہو رہے ہوتے ہیں۔ ہم اس معاشرے کا وہ ناکارہ حصہ بن چکے ہیں جو گلا ہوا اور سڑا ہو اہے۔ جسکے حصے میں ناکامیاں، اضطرب، پریشانیاں اور دکھوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم ایک قوم کہلانے کے حق سے محروم کر دئے گئے ہیں۔ قوم حصوں میں بٹ کر چھوٹے اور بڑے کی تقسیم میں کھو چکی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے لمس سے محروم ہیں، ہم اپنے ہی لوگوں کو گلے لگانے کو تیار نہیں ہیں، ہم ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں، ہمارے دل اندر سے مر چکے ہیں۔ ہمارے بچے تعلیم صحت اور اپنے مستقبل کی فکر میں گھل گھل کر پریشان ہیں۔ انہیں کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ وہ بھٹکے پھر رہے ہیں، انکے جذبات دم توڑ چکے ہیں۔ وہ صبر کرنے کی قوت سے محروم ہو چکے ہیں، حالات ہیں کہ روز بروز دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں۔ اب ہمیں ایک ایسے مسیحا کی تلاش ہے جو ہمارے معاشرے میں ان متعدی امراض کی مانند پھیلی ہوئی بیماریوں کا مداوا کر سکے ۔ اگر کوئی مسیحا ہے بھی تو اس مسیحا کی کوئی سننے والا نہیں ہے۔ ظالم ، بربر، فرعون، شداد اور وقت کے یذید ان مسیحاؤں اور انکے پیچھے چلنے والوں کیلئے خونخوار جانوروں کا روپ دھار کر انہیں اپنے اقتدار کے لالچ اور نشے میں مارنے کے درپے ہیں،انکو خون میں نہلایا جا رہاہے، ملک اور قوم کے ان نحیف، کمزور اور نہتے عوام کو ہتھیاروں سے لیس ہو کر حکومتی مشینری کے ذریعے کچلا جا رہا ہے۔ اب ہمیں ایک ایسے نجات دہندہ کی ضرورت ہے جو ہماری قوم کو اس اضطرابی اور ہیجانی کیفیت سے نکال کر ہماری کشتی کو کسی مضبوط کنارے سے لگا دے کہ اب اسکے سوا ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 172 Print Article Print
About the Author: Syed Anis Bukhari

Read More Articles by Syed Anis Bukhari: 87 Articles with 50648 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: