پلوامہ حملہ سے جموں دھماکہ تک

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 پاکستان اور بھارت تناؤ میں بظاہر کچھ کمی واقعہ ہوہی رہی تھی کہ جموں میں ایک ایسا خوفناک گرنیڈ دھماکہ ہوا جس نے ایک بار پھر عوام میں خوف اور سراسیمگی کی لہر پیدا کی۔ پلوامہفدائی حملے کے بعد یہ بہت بڑی کاروائی ہے لیکن اس میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ پلوامہ حملہ فورسز پر حملہ تھااور جموں حملہ نہتے شہریوں پر حملہ ہے۔ دھماکے کی کسی بھی مجاہد تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔پولیس کادعویٰ ہے کہ اس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس بیان کے مطابق جب دھماکہ ہوا اور لوگ خون میں لت پت زمین پر گرے تو ایک فرد نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی، پولیس نے اسے فوری طور پردبوچ لیا۔ جموں کاجنرل بس سٹینڈ ایک بھیڑ بھاڑ والا علاقہ ہے اور جس نے بھی دھماکہ کیا اسے یہ معلوم تھا کہ اس میں شہریوں کا ہی جانی نقصان ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دھماکہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے کیا گیا ۔ ایسی کاروائیوں میں بھارتی حکومت یا فورسز کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔جموں دھماکے سے بھی بھارتی فورسز اور بھارت کے بیانیہ کو فروغ ملا ہے۔ جس کا مقصد جموں میں مسلمانوں کے خلاف قدرے ماند پڑتی نفرت مہم کو دوبارہ شروع کرنا ہو سکتا ہے۔ ِایسے واقعات عام طور پر اس وقت رونما ہوتے ہیں جب حالات معمول پر آنے کی طرف لوٹ آنے کے آثار پیدا ہوتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی قوت یا قوتیں ہیں جو کشمیر میں حالات معمول پر آتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی۔ جب بھی حالات میں تبدیلی کا امکان پیدا ہوتا ہے، وہ حالات کو اسی موڑ پر پہنچا دیتے ہیں جہاں تبدیلی کے سارے امکانات ختم ہوں۔بھارت شہریوں پر حملوں کے فوائد سمیٹتا ہے۔ ان کا الزام مجاہدین پر لگا کر عالمی برداری اور اپنے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پچھلے کچھ دنوں سے یہ بات سامنے آنے لگی تھی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان درپرد ہ ڈپلومیسی کا سلسلہ تیز ہوچکا ہے اور اس بات کے آثار نظر آرہے ہیں کہ جلد یا بدیر ان دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت پیداہوگی اور مذاکرات کا وہ سلسلہ جو بہت عرصے سے معطل رہا ہے پھر سے شروع ہوجائے گا ،ایسے میں یہ واقعہ محض امن کی طرف جاتے ہوئے قدم روکنے کی ہی ایک کوشش ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ دونوں ممالک میں سفارتی سرد جنگ کے بعد حالات معمول پر آنے کا امکان تھا۔ پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود بھارت چلے گئے اور ان کے بھارتی ہم منصب اجے بساریہ بھی واپس پاکستان آگئے۔ 6 مارچ کو پاکستان نے امن کی جانب یکطرفہ طور پر ایک اور قدم بڑھاتے ہوئے اپنا ہائی کمشنر واپس بھارت بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ ہائی کمشنر کو مشاورت کے لیے واپس بلوانا، میزبان ملک کے سامنے سخت احتجاج کرنے کا ایک سفارتی طریقہ سمجھا جاتا ہے ۔14 فروری کو پلوامہ حملے میں 49 انڈین فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کی ۔اس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوگئے اور پاکستان نے بھارت میں تعینات اپنے ہائی کمشنر کو مشاورت اور خطے کی صورت حال پر بات چیت کے لیے اسلام آباد طلب کرلیا جبکہ ان کے بھارتی ہم منصب بھی پاکستان چھوڑ کر وطن لوٹ گئے۔ 26 فروری کو بھارتی فضائیہ نے بالاکوٹ میں حملے کے دورانجیش محمد کے نام نہاد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جس کی پاکستان نے تردید کی اور بھارت کو خبردار کیا کہ وہ جارحیت سے باز رہے، لیکن دوسرے ہی روز 27 فروری کو بھارتی فضائیہ نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی جس پر پاک فضائیہ نے ان کے 2 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔پاک فوج نے اس واقعے میں ایک بھارتی پائلٹ کو ابھی نندن کو بھی گرفتار کیا تھا لیکن بعد ازاں انہیں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیے جانے کے اعلان کے بعد واہگہ سرحد پر بھارتی حکام کے حوالے کردیا گیا۔جسے بھارت میں سراہنے کے بجائے کسی دباؤ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔اسرائیلی پائلٹ کی گرفتاری کے قصے بھی گردش کرنے لگے ، مگر دونوں ممالک نے اس ایشو پر جیسے اپنے لب سی لئے ہیں۔

بھارت کی جانب سے اس دوران ایک قدم کو سراہا گیا جب بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اہلکاروں نے غلطی سے سرحد پار کرنے والے 70 سالہ پاکستانی کو جذبہ خیر سگالی کے طور پر واپس بھیج دیا۔پنجاب رینجرز اور بی ایس ایف کے درمیان ظفر وال سیکٹر میں لہری پوسٹ پر ہونے والے اجلاس میں جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھارت نے کسان کو واپس کیا ظفر وال تحصیل کے گاؤں بھوئی وال کے رہائشی محمد اشرف اپنی بھینسوں کے لیے چارہ کاٹ رہے تھے کہ انہوں نے غلطی سے سرحد پار کی اور بھارت کے سامبا سیکٹر میں داخل ہوگئے۔جہاں، انہیں بی ایس ایف کے اہلکاروں نے حراست میں لے لیا تھا۔بزرگ کے اہل خانہ نے وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بوڑھے شخص کی بھارتی فورسز سے رہائی دلوانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

پاک فضائیہ کے بعد پاک بحریہ نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ ہر دم چوکنا رہتے ہوئے کامیابی سے بھارتی آبدوز کا سراغ لگا کر اُسے پاکستان کے پانیوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کی جنگ بندی لائن پر بھی کشیدگی ختم نہیں ہوئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جموں بس سٹینڈ پر دھماکے کے بعد جموں میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے خلاف آپریشن کیا جا رہا ہے۔ لا تعداد کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا اور مقبوضہ وادی میں بھی پکڑ دھکڑ میں ایک ہزار سے زیادہ افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔ حریت پسند رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے یا وہ نظر بند ہیں۔ انہیں از سر نو دہلی میں این آئی اے طلب کر رہی ہے۔ جن میں میر واعظ ڈاکٹر عمر فاروق بھی شامل ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان سرد جنگ اور تناؤ کشمیر کی وجہ سے رہا ہے۔ جنگیں بھی اسی وجہ سے ہوئیں۔ یہ مسلہ اب بھی زیرو پیش رفت کے ساتھ موجود ہے۔ امریکی اخبار نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کے خطرات کی موجودگی کا درست اور بروقت خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطرات اس وقت تک موجود رہیں گے جب تک دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کرتے ہیں۔ بھارت کا روس کے ساتھ 3ارب ڈالر کی ایٹمی آبدوز خریدنے کا معاہدہ بھی اسی کا شاخسانہ ہے۔ اس مسلہ کی موجودگی میں پلوامہ، جموں جیسے حملے اور دھماکے ، پاک بھارت کے درمیان بری، بحری اور فضائی جھڑپیں اس خطے کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 89 Print Article Print
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 468 Articles with 146045 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Reviews & Comments

Language: