حقوقِ نسواں،اسلام اور ہمارا معاشرہ

(Sana Ghori, Karachi)

 کیا آ پ اپنی بیٹی بہن کو تعلیم دلوانے کے حق میں ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ اسے صحت کا حق دیا جائے کیا، آپ چاہتے ہیں کہ اس کی زندگی کے فیصلوں میں اس کی مرضی شامل ہو، کیا آپ ایسا سوچتے ہیں کہ حکومتی ایوانوں میں خواتین کی نمائندگی ضروری ہے ۔کیا آپ کے خیال میں خواتین کا جنسی استحصال ظلم ہے۔کیا آپ اس بات کے حق میں ہیں کہ برسرِروزگارخواتین کو مردوں کے مساوی معاوضہ ملنا چاہیے۔اگر آپ اس سوچ کے حامی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی حقوق نسواں کے علمبردار ہیں۔مگر شومئی نصیب ہمارے معاشرے میں یہ اصطلاح اوراس کا تصورمنفی معنوں میں مروج ہے۔ہمارے ہاں اچھے بھلے تعلیم یافتہ اور باشعور افراد بھی اسے آزادی کے مفہوم پر محمول کردیتے ہیں۔آزادی بے شک بنیادی حق ہی سہی،لیکن احساس ذمہ داری سے عاری آزادی جنگل کے جانوروں کی خودمختاری کے مترادف ہوتی ہے۔سو یہ بات تو ثابت ہوئی کہ آزادی اور ذمہ داری لازم و ملزوم ہیں۔جب تذکرہ ہو انسانوں کا،تواس میں مرد و زن دونوں ہی شامل ہیں۔عورت ضمیمہ مرد نہیں بلکہ مرد کی مانند ایک مستقل حیثیت کی حامل ہوتی ہے۔نظریہ حقوق نسواں کا ایک مذہبی پہلو بھی ہے۔پاکستان میں اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ سو ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ حقوق نسواں کا تصور مذہب سے متصادم ہے۔حالانکہ دونوں ایک دوسرے کے باہم متقابل نہیں۔ایک پختہ یقین کا نام ہے اور دوسرا محض ایک خیال۔تبدیلی مذہب ایک کٹھن عمل،لیکن نظریہ میں تغیر وتبدل ممکن ۔ازروئے نفسیات مرور ایام کے ساتھ نظریات پر یقین میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے اور پرانے نظریات کی جگہ نئے تصورات لے سکتے ہیں۔حقوق نسواں کے بارے میں اسلام کا تصور کیا ہے۔اس کی تفصیل او ر بار یکیوں سے قطع نظر صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اسلام نے اسے ایک جامع شکل میں پیش کیا ہے۔لیکن ہمارے ہاں اس تصور کو بھی مسخ کرنے کی سعی کی جارہی ہے۔حقوق نسواں کے حو الے سے اسلام کا تصور محدود نہیں،محدود ہمارے اذہان ہیں۔اسلام کو اس سوچ نے محدود کیاجسے ملایت کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ہم چونکہ برصغیر پاک و ہند میں بسنے والی قوم ہیں سو حقوق نسواں سے متعلق بہت سے نظریات جوجڑ پکڑکر تناور درخت بن گئے اور ہماری نسلوں کو منتقل ہوئے وہ محض تاریخ کا جبر تو ہوسکتے ہیں اسلام کا تصور نہیں۔مدعا فقط اتنا ہے کہ خواتین کے حوالے سے ہمارا ذہن کتنا کھلا ہے۔ ہمارے قول و فعل میں تضاد ایک عام معاشرتی رویہ ہے اور یہ رویہ صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین بھی دوسری خواتین کے ساتھ روا رکھتی ہیں۔ قولاً تو ہم دعویٰ اسلام اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کا کرتے ہیں،لیکن عملاً ان تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں جو محسن انسانیت نے خواتین کے ساتھ حسن سلوک کے حوالے سے دیں ۔ہم قاعدہ جبر پر عمل پیرا ہوکر خواتین کے بنیادی حقوق سلب کرلیتے ہیں اورپھر اسے جامہ مذہب اوڑھاکر اپنے لیے بھی طمانیت کا سامان پید کرلیتے ہیں۔قدیم یونان میں عورت کا عنان گیر اس کا والد ہوتا تھا۔عورت اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کے حق سے محروم تھی۔شادی میں باپ کی مرضی لازمی شرط تھی۔اس قاعدہ و قانون کی پامالی کی سزا زیست در دشت تنہائی تھی یا کلیسا میں فریضہ رہبانیت،یورپ نے حلقہ پاپائیت سے نکل سے اس ظلم سے چھٹکارا پایا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں روشن خیالی کی گنجائش ہے۔دین فطرت نے مردو عورت کو شریک حیات کے انتخاب میں پسندو ناپسند کا یکساں اختیار دے رکھا ہے۔اسلام خواتین کے تعلیم و تعلم،کسب وہنر اور وسیلہ معاش پر قدغن نہیں لگاتا۔لیکن وہ مغربی معاشرے کی بے حیائی، بے راہ روی اور بے لگام آزادی کی تائید نہیں کرتا۔ آغوش مادربچے کی اولین درسگاہ ہوتی ہے جہاں سے وہ مذہب و اخلاق کا پہلا درس لیتا ہے اگر ماں ہی غیر تعلیم یافتہ اور محدود سوچ کی حامل ہو تو وہ کس طرح اپنی اولاد کے شعور کی پرورش کرسکے گی ۔مگر حیف کہ ہم چشم کشائی کیلئے تیار ہیں نہ ہی تبدیلی روش کیلئے۔ہم کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ مرد کو عورت پر فوقیت حاصل ہے اور پھر اسی تصورکو خواتین کے ساتھ روا ہر ظلم اور ناانصافی میں دلیل اور سندجواز بناکر پیش کیا جاتا ہے۔اگر رب کریم نے مرد کوعورت کا محافظ بنایاتو اس کے پیچھے بھی محفوظ زندگی کا راز پوشیدہ ہے۔ ایک عورت نو ماہ اپنے وجود میں بچے کی پرورش کرتی ہے۔ولادت کی تکلیف سہتی ہے،بچے کو دودھ پلاتی ہے،ایک خاندان کی بنا رکھتی ہے مرد کا گھر سنبھالتی ہے ۔اس محنت شاقہ کے صلے میں عورت کیلئے مرد کی مخافظت اﷲ تعالیٰ کا انعام ہے۔اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ذہنی استعدادو قابلیت میں مرد سے کمتر ہے۔ یہ ایک حقیت ہے کہ عورت نفسیاتی طور پر بہت مضبوط ہوتی ہے وہ کبھی عجلت میں فیصلے نہیں کرتی خواہ حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں وہ آخری لمحے تک امید کی کیفیت میں رہتی ہے۔ طلاق جیسے معاملے میں مرد جہاں تعجیل سے کام لیتا ہے عورت اتنی ہی تاخیر کرتی ہے۔عورت ذہنی نہیں جسمانی طور پر کمزور ہوتی ہے اسی لئے اسلام نے عورت کے معاشی استحکام اور نان نفقہ کی ذمہ داری مر د کو دے رکھی ہے۔اوراسے مہر کی ادائیگی کا بھی پابند بنایا ہے۔ مرد کے پاس زورِبازو ہے جب اس کے پاس دلیل ختم ہوجاتی ہے تو وہ ہاتھ اٹھاتا ہے۔عورت سہتی ہے اور چپ رہتی ہے۔ فطرت نے عورت کو نسوانیت اور مرد کو مردانگی کے سانچے میں ڈھالا ہے۔دنیاکی خوبصورتی یہی ہے کہ دونوں عزت و احترام کے ساتھ دونوں نظام زندگی چلائیں۔ اسلام نے عورت کو ایک جانب بیٹی، بہن، بیوی جیسے حسین رشتہ پر فائز کیا،تودوسری جانب جنت جیسی نعمت الکبری ماں کے قدموں کے نیچے رکھی۔اسلام نے عورت کی تمام ضروریات کا بوجھ مرد کے کاندھوں پر ڈالا ہے۔لیکن فی زمانہ مہنگائی کے عفریت اور معاشی مسائل نے بڑی تعداد میں خواتین کو کسب معاش کی خاطر گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔
ہماری جان پر دہرا عذاب ہے محسن
کے مصداق خواتین کوگھریلو مشکلات کا بھی سامنا ہے اور سماجی مسائل کابھی۔۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ نے اور سوشل میڈیا کی مقبولیت سے بھی خواتین کی مشکلات بڑھیں-

ان کا حل خواتین پرانٹرنیٹ، موبائل فون اور سوشل میڈیاکے استعمال پر پابندی نہیں بلکہ انھیں آن لائن دنیا میں تحفظ فراہم کرنا ہے، وقت کی رفتار کے ساتھ پاکستانی خواتین کے مصائب و مشکلات میں اضافہ ہوا، لیکن عصری تبدیلیوں کا ادراک کرکے ان مسائل کی تفہیم اور حل کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ تعلیم نسواں کو فروغ دیا جائے،خواتین پر تشدد کو روکا جائے،ان کی عزت نفس بحال کی جائے انہیں عزت و احترام دیا جائے۔یہ کام کوئی اور نہیں صرف مرد ہی کرسکتا ہے۔ آپ اپنی بیٹوں کے ذہنوں کو اس سوچ سے مہکائیں۔گھر گھر کی سطح پر یہ منصوبہ شروع ہواتو کسی حکومتی منصوبے کے بغیر بھی خواتین کے مسائل حل ہونے لگیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مردو عورت کو زندگی کا سفر ساتھ کرنا ہے تو پھر امتیازی سلوک کیسا۔ عورت وہ پھول ہے جو تصویرِ کائنات کو محبت کی خوشبو سے مہکا دیتی ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 478 Print Article Print
About the Author: Sana Ghori

Read More Articles by Sana Ghori: 301 Articles with 152389 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Assalam alikum madam sana masha ALLAH apke articles ka likhne ka treqa or points bohot achy hote hen jo k easily hr koi smjh skta hai lakin mazrat k sath is article k bare m apsy kuch khna chahunga agr m ghlt hun tw mjhy ap zaroor smjhaiye ga k apki baat azadi ki bilkul durust hai k orat k usko hukook diye jaye lakin kiya iska matlab ye hai k wo parda na kare or jahan dil kare ghume or orat ko jitni izzat hai utni tw mardon k liye bhe nahi hoti hai orat ak maa hai ak biwi hai ak behen hai ak beti hai ak baap apni olad m sb s ziyada maan jo rkhta khayal jo rkhta hai wo beton s ziyada beti s rkhta hai is dour m hr lrki or lrka dono hi pasand ki shadi kar rahe hen ak or mard hazrat apni biwi bachon k liye hi rozgar k talash m nklta hai or jb wo thak haar kar apni mehnat mazdoori kar k ata hai tw uski thakan apni biwi bachon ki khushi dekh k hi khtm hojati hai ak mard ka akele ka kharcha hi kitna hota hai lakin wo mehnat mazdoori krta hai srf apni biwi bachon ki zroriyat puri karne k liye khud saal m ak dafa naye kapre banwata hai lakin apni biwi ko khush rakhne k liye taqreeban har taqreeb k liye alag alag suit dilwata hai ab ap hi btaen k ab biwi ka bhe farz banta hai k wo apny shohar ki bt mane or uski khidmat kare jo islam m hai hukook.e ajdawajen m or bat behen ki ati hai tw ak bhai apni behen ka khayal rkhta uspy skhti zroor karta k wo kisi ghlt hathon m na par jaye uske 7 koi bura na ho jesy k ak bhai behen ka khayal rkhne wala uski izzat bachane wala hota or yahan HAZRAT ALI ka qoul bhe hai k behtreen sadqa apni behnon pr kharch karna hai or rahi baat maa ki tw maa ki tw shaan hi alag hai is m kaha ja skta hai k aj kl ki olad apni maa k hukook nahi puri karti hai or maa tw maa hai unke liye jitna kren km hi hai uska hisab olad kbhi bhe braber nahi kar skti
By: Ali, Karachi on Mar, 18 2019
Reply Reply
0 Like
Language: