توازن ضروری ہے

(فاطمہ قریشی, Hyderabad)

یاد رہے کہ یہ میرا ذاتی خیال ہے!

عورت مارچ ایک بہترین کانسیپٹ تھا اور اس کا استعمال بہت بہترین طریقہ سے کیا جاسکتا تھا لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ چند بدصورت عناصر اور غیر ذمدارانہ اپروچ کی وجہ سے اس مارچ کا پیغام صحیح طور پر واضع انداز میں نہیں پہنچ سکا،

(اور اس سارے چکر میں ہم سب کا نشانہ بن گئی '' عورت " کون بری بنی؟ صرف عورت ہم نے اپنی ساری توپوں کا رخ صرف عورت کی طرف کردیا اور ان عناصر کو کامیاب کر وا دیا جو اس مارچ کے اصل مقصد کو فوت کر نا چاہتے تھے. (ظاہر ہے یہ چند پلے کارڈز کی بنیاد پر ہم مجموعی طور پر عورت جیسی مقدس اور پاکیزہ ذات کی کسی صورت کردار کشی نہیں کرسکتے،

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحیح طور پر واضح انداز میں پیغام کیوں نہیں پہنچ سکا؟؟؟

بہت ساری وجوہات شامل ہیں!

سب سے پہلے تو فیمینیزم کی بات کروں گی،بد قسمتی سے ہمارے ملک میں باقی اصطلاحوں کی طرح لفظ فیمینیزم کا جنازہ ہی نکلا ہر طبقہ چاہیے پڑھا لکھا ہو یاان پڑھ اس سے نا بلد ہی دکھائ دیتا ہے، فیمینیزم ایک ایسا نظریہ ہے جو بات کرتا ہے کہ عورت کو برابری کی بنیاد پر سوشل، ایکانمک اور پولیٹیکل رائٹس حاصل ہوں،

فیمینیزم کی کئی اقسام ہیں جن میں اہم درج زیل ہیں،

Radical Feminism
Marxist Feminism
Cultural Feminism
Liberal Feminism,

بدقسمتی سے فیمینیزم کے نام پر 8 مارچ کے دن نکالی جانے والی ریلی (ریڈیکل فیمینیزم) کی نمائندگی کر رہی تھی جو فیمینیزم کی شدت پسند قسم ہے

(Extremist Form Of Feminism), Radical Feminism is all about Men hating and Men Bashing)

معیوب نظر آنے والے پلے کارڈز بھی دراصل ریڈیکل فیمینیزم کی نمایندگی کر رہے تھے، یاد رہے کہ ریڈیکل فیمینیزم اب فینیزم ایک ناپید نظریہ ہے جس کی اب کوئی حقیقت نہیں کیونکہ یہ فطرت کے خلاف تھا، اس کا نظریہ مجموعی طور پر مردوں کے خلاف نفرت پھیلانے پر مبنی تھا. (Radical Feminism is an unnatural notion, which has nothing to do with the balanced approach to feminism)

اس ریڈیکل نظریہ کے تحت وہ سارے پلے کارڈز ایک طرف رہ گے جن میں تلخ حقائق کو بیان اور جائز حقوق کی ڈیمانڈ کی گئ تھی، مگر وہ مشہور کہاوت ہے نہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے وہ ہی حال اس ریلی کا ہوگیا کہ ان چند پلے کارڈز کے چکر میں میڈیا کی طرف سے ملنے والی بے جا پروجیکشن نے اس ریلی کا اصل مقصد فوت کر دیا. اگر میڈیا اس ریلی کے مثبت پہلو کو اجاگر کرتا اور Radical sight کو نظرانداز کرتا اور ریلی کو لیڈ کرنے والے ذرا زمداری کا ثبوت دیتے (یعنی اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا کے کس قسم کے پلے کارڈز منظر عام پر آئیں گے اور، اور ان کے کیا نتائج ہوسکتتے ہیں، یا بچوں کی ذہنی صحت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتتے ہیں؟؟ کیا سوچا گیا تھا اس بارے میں؟؟)

بہت سے معیوب پلے کارڈز تھے جن کا میں ذکر بھی نہیں کر سکتی ایک کا ذکر کرنا چاہوں گی"" مجھے شادی نہیں آزادی چاہیئے '' اس پلے کارڈ سے کسی نو عمر لڑکی کی ذہنی صحت پر کیا اثر پر سکتا ہے؟؟؟؟

یعنی شادی کرنا غلامی ہے؟ سنت پر چلنا (نعوذبااللہ) ٹھیک نہیں؟

ہاں یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ شادی کے نام پر عورت کا اصتحصال کیا جاتا ہے اسے غلام بنایا جاتا ہے اس پر ظلم ڈھایا جاتا ہے، ایسے میں اس کے شوہر کو یا اس پر ظلم کرنے والے کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے اسے سلاخوں کے پیچھے ڈالنا چایے، لیکن آپ اس معاملے میں شادی جیسے پاکیزہ بندھن کی توہین نہیں کر سکتے،

پھر ایک اور پلے کارڈ تھا جس میں کچھ نازیبا قسم کے اشارے (Sign \Symbols) چھپے ہوئے تھے جس میں ایک عورت کے ہاتھ میں سگریٹ تھی، یعنی عورت اپنی خوشی اور مرضی سے سگریٹ نوشی کر کر اپنی صحت تباہ کرے؟؟کیا سگریٹ پینا باعثِ فخــــر ہے؟ کیاتمباکو نوشی کرنا عقلمندی ہے؟؟ مانا کے ہمارے معاشرے کا منافقانہ رویہ ہے کے مرد سگریٹ ہاتھ لگاے تو کو بات نہیں لیکن اگر عورت لگاے تو کردار خراب، لیکن میرے خیال سے عورت اسے اپنی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے اپنی صحت کی پروا کرے.

گھریلو تشدد، کاروکاری، ونی، کم اجرت یا بلا معاوضہ کام، جنسی یا نفسیاتی طور پر ہراساں کرنا، کم عمری میں شادی یا پھر زبردستی کی شادی حصول عمل میں رکاوٹیں، جبری محنت اور , نام نہاد غیرت پر قتل ہو جانے والی حوا کی بیٹی جیسے حساس اور تلخ ترین حقائق اور موضوعات کو کوریج ہی نہیں مل سکی ، بھولا بھٹکا پلے کارڈ نظر آگیا تو آگیا ورنہ ان موضوعات کو کوئی میڈیا کی طرف سے پروجیکشن یا اٹینشن نہیں مل سکی.

لیکن خوش آئند پہلو یہ ہے کہ پاکستانی عورت کو اب شعور آگیا ہے، پر اسے اس کا استعمال بہت سمجھداری، ذمداری اور عقلمندی سے کرنا ہے،

ہاں ہم عورتوں کو اپنے حقوق کا دفاع کرنا یے، ان سب کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے جن کی وجہ سے آج عورت کا یہ حال ہوا ہے، ہمیں اس سوچ اور اس نظام کے خلاف کھڑے ہونا یے جو سوچ عورت پر جبر کرنا چاہتی ہے،

لیکن ہمارا ٹارگٹ کوئی خاص جینڈر نہیں ہو نی چاہیے، ہر جینڈر میں اچھے اور برے لوگ موجود ہیں،

ہمیں اس '' میل شاونزم '' پر مبنی سوچ، رویہ اور اس سے جڑے لوگوں کے خلاف بیلنسڈ اپروچ اپناتے ہوے آواز اٹھانی ہے،

Gender Equality begins at home جیسے قول پر عمل کرتے ہوئے والدین کو چاہیے بیٹا اور. بیٹی کو ایک جیسا پیار دیں

معاشرے میں تبدیلی تب تک نہیں آے گی جب تک ہم ایک Balanced Approach نہیں اپنائیں گے،
مائیں بیٹوں کو سکھائیں اور انہیں تلقین کریں کے وہ اپنی بہن کے ساتھ اور آنے والی بیوی کے ساتھ کیسا سلوک کریں، راستے میں آگر کوئی عورت نظر آجائے تو اس کا احترام کریں،

قانون کی سخت سے سخت عملدرآمد ہو تاکہ نہ کو نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کر سکے نہ جائیداد کے حق سے عورت کو محروم رکھ سکے، اور نہ اپنی دقیانوس سوچ کے تحت کسی بچی کو اسکول جانے سے روک سکے،

معذرت کے ساتھ!
دین ویسے چار شادیوں کے معاملے میں ہمیں یاد رہتا ہے، لیکن دین میں عورت کے کیا حقوق ہیں ان کا بھی یمیں پتہ ہونا چاہیے اور ان پر عمل کرنا چاہیے،(اگر دین میں عورت کے حقوق پڑھ لیں گےاور ان پر عمل کریں گے تو کوئی کھبی یہ نہیں کہے گا کہ جیسا بھی ہے تمھارا شوہر ہے اسے برداشت کرلو، یا اپنا جائیداد کا حصہ مت لو جیسی تلقین عورت کو نہیں کی جائے گی.) (بیشک دین میں عورت اور مرد کا رشتہ توازن کی بنیاد پر ہی قائم ہے)

بلاشبہ دنیا میں بڑے سے بڑے مسئلے کا حل ایک توازن قائم رکھ کر ہی ہو تا ہے کوئی بھی مسئلہ شدت پسندانہ سوچ یا حکمت عملی کے ساتھ حل نہیں ہو سکتا ہے،بلاشبہ توازن قائم رکھنا بہت ضروری ہے، جس دن مرد اور عورت کے درمیان ایک توازن قائم ہو گا معاشرے میں خوشنما تبدیلی ضرور رونما ہو گی.

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 501 Print Article Print
About the Author: فاطمہ قریشی

Read More Articles by فاطمہ قریشی: 3 Articles with 1156 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: