تیرے بنا بھی کیا جینا.....

(Aslam Lodhi, Lahore)

شادی کی 41ویں سالگرہ کے موقع پر لکھی ہوئی ایک منفرد تحریر
مجھے یہ کہنے میں عار محسوس نہیں ہوتی کہ میری اہلیہ( عابدہ بیگم ) جہاں اولاد پر جان نچھاور کرتی ہے وہاں وہ ایک باوفا بیوی کا کردا ر بھی نہایت خوبصورتی سے گزشتہ 41سال سے نبھا رہی ہے ‘ وہ اپنی محبت اور چاہت کا اظہار لفظوں میں نہیں کرتی بلکہ اس کا ہر عمل محبت کے اظہار کا ذریعہ بن جاتا ہے‘ وہ صبح ہوتے ہی اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہوجاتی ہے۔ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد تسبیح کرنا اور ہم سب کے لئے دعا مانگنا اس کا معمول ہے۔ اس کی حتی المقدور یہ کوشش ہوتی ہے کہ ضرورت کی چیز میرے بیڈ کے نزدیک رکھے ہوئے میز پر آراستہ ہو۔ صبح تہجد کے وقت جب میں بیدار ہوکر نماز تہجد پڑھو ں تو مجھے کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔

ناشتے میں ‘میں نے کیا کھانا ہے ‘ بچوں کو ناشتے میں کیاکیا پسند ہے‘ ہر بات اسے از بر ہے۔ اب تو ماشاء اﷲ اس کے گھر میں دو وفا شعار بہوئیں بھی موجود ہیں جو اس کے اشارہ بھی سمجھتی ہیں۔ نماز اشراق پڑھنے کے بعد جب میں مسجد سے گھر واپس پہنچتا ہوں تو گرما گرم دودھ کا بھرا ہوا پیالہ میرا منتظر ہوتا ہے ‘ قریب ہی رکھاہوا رس کا پیکٹ مجھے اس لمحے بے حد اچھادکھائی دیتا ہے پونے چار بجے نیند سے بیدار ہونے کی بناپر مجھے بھوک کی تلخی محسوس ہوتی ہے ‘ بیگم اسی بھوک کو مٹانے کے لیے اہتمام کرتی ہے ۔ اس کی اس والہانہ محبت کو دیکھتے ہوئے میں یہی کہتا ہوں کہ کسی نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ بیوی بڑھاپے میں نرس کا روپ دھار لیتی ہے ‘ اسے دوائیوں سے لے کر کھانے پینے کی ہر چیز تک کا وقت اور طریقہ زبانی یاد ہے ۔ میری اس بات پر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ اٹھتی ہے پھر مہیب خاموشی چہرے پر عیاں ہوجاتی ہے ۔

میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ میں زندگی میں ہی اس کی خدمات کابرملا اظہار کروں لیکن وہ اس کاموقعہ ہی فراہم نہیں کرتی ۔جب کبھی موڈ میں ہوتی ہے تو یہ کہہ کر خاموش ہوجاتی ہے کہ آپ رائٹر ہیں اﷲ تعالی نے آپ کولکھنے اور بولنے کا فن دیا ہے ‘ جو آپ کو آتا وہ کریں اورجو مجھے آتا ہے میں وہ کرتی ہوں۔ اﷲ تعالی نے اپنے شوہر اور بچوں کی خدمت کا فریضہ مجھے سونپ رکھا ہے میری زندگی کا ہر لمحہ اپنے فرائض انجام دہی ہی مصروف رہتا ہے ۔ بیگم کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ شوہر سمیت ان کے بچوں کو ساگ ٗ ‘گوشت پالک ٗ آلو میتھی ٗ مونگرے قیمہ ٗ کڑھی پکوڑے بے حد پسند ہیں ‘ پکانے میں یہ تمام ڈشیں اس قدر مشکل اور تھکا دینی والی نگرانی کا تقاضا کرتی ہیں لیکن میں نے کبھی بیگم کے چہرے پر چیزیں پکاتے ہوئے تھکاوٹ کا احساس نہیں دیکھا ۔ابھی پچھلے ہفتے ہی کی بات ہے کہ میں نے دیکھا کہ وہ سرے شام ہی مونگرے توڑنے میں مصروف تھی دو کلو مونگروں کی تعداد ایک ہزار سے کم کیا ہوگی اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو توڑنے کی زحمت کئے بغیر ہی اصلی حالت میں پکا لیتا لیکن وہ میری فرماں برادری اور بچوں کی محبت میں ایک ہزار مونگروں کوتین گھنٹے تک مسلسل توڑتی رہی جب اس کام سے فارغ ہوئی تو میں نے دیکھاکہ تھکاوٹ سے اس کا جسم نڈھال تھا ۔ اعصابی تکلیف کے ساتھ جسم کی پوری توانائی خرچ ہوچکی تھی۔ گھٹنوں اور کہنیوں کے درد کی شدت اس کے چہرے سے عیاں تھی لیکن شکوے کا لفظ بھی زبان پر نہ تھا۔

41 سالہ رفاقت کے دوران کئی مواقعوں پر میں نے یہ صورت حال دیکھی لیکن بیگم کے ماتھے پر کبھی شکن نہیں آئی۔ اس کی تمام تر توجہ اپنے کام پر مرکوز رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاتھ کی پکی ہوئی مسور کی دال بھی مرغ مسلم سے زیادہ ذائقہ دار ہوتی ہے ۔ میں بینگن نہیں کھاتا‘ کوشش کے باوجود ماں مجھے بینگن نہیں کھلا سکی لیکن اس نے چیلنج قبول کرتے ہوئے پہلے بینگن کا براؤن چھلکا اتارا پھر اسے اس طرح لذیذ پکایا کہ میں بے ساختہ کھاتا چلا گیا۔ جب کھاچکا تو ازراہ محبت پوچھا کہ تم نے آج کیا پکایا تھا بیگم نے میرا دل رکھنے کے لئے کہا کہ آلو گوبھی پکائی تھی لیکن جب باورچی خانے کے نزدیک میں نے بینگن کی ڈنڈیاں دیکھیں تو پہچان گیا کہ بیگم نے مجھے بینگن ہی کھلا دیئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں یہ اس کی ماہرانہ سوچ کا نتیجہ ہے اور اظہار محبت بھی ۔

ایک دن حسب معمول جب بیگم نے مونگرے قیمہ پکایا تو بیٹا شاہد نے پلیٹ کو اوپر تک بھر لیا اس قدر زیادہ سالن دیکھ کر میں نے اسے کہا کہ اتنا ہی سالن لو جتنے کی ضرورت ہے‘ صبح بھی تو ہم نے کھانا ہے اور دفتر بھی تم نے یہی لے کرجانا ہے‘ ایسا نہ ہو کہ اگلی صبح ایک بار پھر تمہاری ماں کو نیا سالن پکانا پڑے ٗ میری بات کو سن کر پلیٹ سے سالن نکالنے کی بجائے اس نے مزید بھر لیا اور سر جھکا کر کھانے لگا۔ مجھے توقع تھی کہ بیٹے کی اس حرکت پر ماں اس کی سرزنش کرے گی لیکن اس لمحے ماں نے بیٹے کو ایک پیار بھری نظر سے دیکھا ٗ فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پر سجاکر اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ابھی قیمہ مونگروں کا ذائقہ زبان سے اتر ا ہی تھا کہ دوسرے دن میتھی کی پانچ گتھیاں لے کربیگم پکانے کے لیے تیارنظر آئی ۔میں نے از راہ محبت مشورہ دیا کہ تم بازار سے دال منگوا کر پکا لیتی جس پر تمہیں اتنی محنت نہ کرنی پڑتی ۔اس نے یہ کہتے ہوئے میری بات کو سنی ان سنی کردیا کہ مجھے وہی پکانے میں مزا آتا ہے جو میرے بچے اور شوہر شوق سے کھاتے ہیں۔

ماں بچوں کی خوشیاں پوری کرنے کے لئے ہی تو ہوتی ہے جبکہ خاوند کی خدمت تو ہر نیک سیرت عورت کا فرض بنتا ہے ۔بیگم کی یہ بات سن کر میرے دل میں اس کی عظمت ٗ محبت میں اور اضافہ ہوگیا ۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بالخصوص سردیوں کے دنوں میں ساگ ٗ آلو پالک ٗ قیمہ مونگرے اور میتھی آلو پکانا نہایت مشکل کام ہے جبکہ گھر گیس بھی نہ آتی ہو‘ وہ ان تمام مشکلوں کا سامنا ہم سب کی خوشی کے لئے کرتی ہے ۔

مجھے وہ لمحہ بھی نہیں بھولتا جب ایک رات اچانک میری پنڈلی کی وین ایک دوسرے پر چڑھ گئیں اس قدر تکلیف ہونے لگی کہ میری چیخیں نکل گئیں اس حالت میں گزرنے والا ہر پل تکلیف میں اضافہ کررہا تھا ‘میری چیخ جب بیگم کے کانوں تک پہنچی تو اس نے کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹانگ کو پکڑ کر آسمان کی طرف کردیا۔جس سے الجھی ہوئی وین ایک بار پھر اپنی جگہ پر آگئیں ۔ بیگم کی دانش مندی نے مجھے تکلیف کی شدت سے بچالیا۔ میں نے از راہ مذاق پوچھا کہ تم نے بغیر سوچے سمجھے میری ٹانگ کو پکڑ کر آسمان کی طرف کیوں کیا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میری چھ میں تین حسیں آپ کے لئے مخصوص رہتی ہیں۔ یہ خوبی اﷲ تعالی نے میری ذات میں ودیعت کررکھی ہے کہ آپ کے دکھ اور خوشی کا بخوبی احساس کرلیتی ہوں ۔ میں نے گزشتہ 41سالوں سے آپ کی شخصیت کو ایک طالب علم کی طرح نہ صرف پڑھا بلکہ آپ کے معمولات زندگی کو ازبر بھی کرلیا ہے میں گھر میں موجودنہ بھی ہوں پھر بھی مجھے اس بات کا شدت سے احسا س رہتاہے کہ آپ کو کس وقت ‘ کس چیزکی ضرورت ہوگی اس لئے میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر چیز طلب کرنے سے پہلے آپ کے سامنے موجود ہو ۔بیگم کا یہ عمل بھی اس کی عزت اوروقار میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

ایک شام اس قدر گرمی تھی کہ نماز پڑھنے کے لئے جونہی برآمدے میں مصلہ بچھایاتو گرمی کی شدت نے نڈھال کر دیا ۔ بمشکل ابھی فرض ہی پڑھے تھے کہ مصلہ اٹھا کرمجھے اس کمرے میں آنا پڑا جہاں ٹھنڈی ہوا کا گزر تھا۔میں نے گردن گھما کر دیکھا تو اسی برآمدے کے ایک حصے میں جہاں ہمارا باورچی خانہ ہوا کرتا تھا ‘بیگم گرمی کی شدت سے بے نیاز آگ کے شعلوں کے پاس بیٹھی ہوئی نہایت سکون کے ساتھ کھانا تیار کررہی تھی ۔پسینے کے قطرے شبنم کی طرح اس کے چہرے پر جگمگا رہے تھے ‘ وہ آبشار کی طرح بہنے والے پسینے کو خاطر میں لائے بغیر دوپٹے کے پلو سے صاف کرلیتی ‘ پھر اپنے کام میں مصروف ہوجاتی۔ میں نے جتنی بار بھی اسے گردن گھما کر دیکھا وہ مجھے گرمی کی شدت سے بے نیاز خانہ داری میں مصروف ئی دکھائی دی ۔یہ وہ لمحہ تھا جب میں اس کی عظمت کا حقیقی معنوں میں معترف ہوگیا ۔

حسن اتفاق سے اسی دن ماؤں کا عالمی دن بھی منایا جارہا تھا۔میں نے سوچا کہ شدیدگرمیوں میں ہی ماؤں کا عالمی دن کیوں منایاجاتاہے شایدایسا کرنے والے اولاد کے لئے ماں کی محبت ‘ ایثا ر اور قربانی کو جانچنا چاہتے ہیں۔ در حقیقت قدرت کا یہ نظام بہت ہی موثر اور افادیت والاہے کہ جب بچہ پیدا ہوتاہے تو اسے کوئی خبر نہیں ہوتی کہ بھوک لگے گی تو اسے کون کھلائے گا ٗ گرمی لگے گی تو اس کو ہوا کہاں سے میسر آئے گی‘ سردی لگے گی تو کون اپنی پیار بھری آغوش میں لے کر اسے سردی سے بچائے گا ۔ وہ کون ہوگا جو پیشاب زدہ جگہ پر خود سوئے گااور اپنے بچے کو خشک جگہ پر لیٹا ئے گا ۔حالانکہ اﷲ تعالی نے ہر انسان کو ماں کے پیٹ میں ہی سوچنے والا دماغ ٗ بولنے والی زبان اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی اہلیت دی ہوتی ہے لیکن دنیا میں آنے کے بعد فوری طور پر تو اس کی زبان نہیں چلتی اور جس آغوش میں قدرت اسے پروان چڑھاتی ہے وہ بغیر کہے اس کی منشا اور آرزو کو سمجھ لیتی ہے پھر جب قدرت اسے بولنے کی قوت عطاکردیتی ہے تو اس کا دماغ یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ جس ہستی کے دامن میں پیوست ہوکر سوتا رہا ہوں جس کی محبت بھری آغوش میں دودھ کی صورت میں دنیا کی طاقتور ترین غذا ملتی رہی ہے ‘ اسے ماں کہتے ہیں ۔

مجھے خوشی ہے کہ میرے آنگن میں ایک ایسی پاکباز عورت موجودہے جو ایک طرف باوفا بیوی ہونے کا قدم قدم پر اپنے بہترین رویے سے اظہار کرتی ہے تو دوسری جانب وہ ماں کی حیثیت سے اپنے بچوں کے لئے اپنا سکھ چین قربان کرنے کے لئے ہر لمحے تیار نظر آتی ہے ۔سردیوں کی شدید سرد راتیں ہوں یا گرمیوں کی آگ برساتی دوپہر وہ کسی بھی وقت اور کسی بھی لمحے اپنا ممتا بھری چاہت کا اظہارکرتی دکھائی دیتی ہے ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ماں کا لفظ اداکرتے ہی ذہن ٗ محبت ٗ شفقت ٗ ایثار اور اخلاص کے گہرے تصور میں ڈوب جاتا ہے اور انسان کچھ لمحوں کے لئے یہ تصور کرنے لگتا ہے کہ جیسے وہ لمبی تھکا دینے والی مسافت طے کرنے کے بعد ایک ایسے درخت کی ٹھنڈی اور گھنی چھاؤں میں آ بیٹھا ہو جہاں بے لوث محبت کا چشمہ فیض جاری و ساری ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی انسان اپنی ماں کی محبت کو سمندر کی گہرائی سے تشبیہ دیتا ہے تو کوئی بارش کے بعد آسمان پر ابھرنے والی دھنک قرار دیتا ہے جس کا ہر رنگ منفرد اور جاذب نظر ہوتا ہے کوئی شخص ماں کی محبت کو ایک ایسی غزل قرار دیتا ہے جو ہر سننے والے کے دل میں اتر جاتی ہے تو کوئی ماں کی محبت کو گلشن کا وہ پھول تصور کرتا ہے جس میں ہر لمحے خوبصورتی بھی ہے ہر لمحے تازگی بھی ہے ۔

ممتاز صحافی مجیب الرحمان شامی اکثر کہاکرتے ہیں کہ اسلم لودھی ان خوش نصیب لوگوں میں شمار ہوتا ہے جس کے گھر میں بیک وقت دو ماؤں کی محبت ٗ شفقت اور چاہت کے سرچشمے بہتے ہیں ایک اسلم لودھی کی ماں(جو 2007میں فوت ہوچکی ہیں ) تو دوسری شاہد لودھی کی والدہ -قدرت الہی نے ان دونوں ہستیوں کے خمیر میں چاند کی ٹھنڈک ٗ شبنم کے آنسو ٗ بلبل کے نغمے ٗ چکوری کی تڑپ ٗ گلاب کے رنگ ٗ پھولوں کی مہک ٗ کوئل کی کوک ٗ سمندر کی گہرائی ٗ دریاؤں کی روانی ٗ موجووں کا جوش ٗ کہکشاں کی رنگینی ٗ زمین کی چمک ٗ صبح کا نور اور آفتاب کی تمازت جمع کردی ہے۔

انہی چاہت بھرے لمحات میں زندگی گزارتے ہوئے ہمیں 41سال ہوچلے ہیں ‘ زندگی میں بے شمار مشکلات کا سامنا بھی رہا اور اﷲ تعالی نے اب زندگی میں آسانیاں بھی عطا کردی ہیں ‘ میرے دو نوں بیٹے (محمد شاہد لودھی اور محمد زاہد لودھی ) برسرروزگار ہیں۔ سب سے بڑی بیٹی تسلیم تاج اپنے گھر میں خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے ‘ میرے آنگن میں دونوں بیٹوں کے بچوں اور بچیوں کی شرارتیں زندگی کو اور بھی پر مسرت بنا رہی ہیں ۔ بنک سے ریٹائر ہونے کے بعد اب میرا زیادہ تر وقت گھر میں ہی گزرتا ہے تو پوتے پوتیوں کی ان خوشیوں کو قریب سے دیکھنے کا بہت لطف آرہا ہے کبھی شرمین شاہد اپنی والہانہ محبت کااحساس کرواتی ہے تو کبھی محمد عمر زاہد کا پیار مجھے ستانے لگتا ہے کبھی رماسہ شاہد اور محمد موسف شاہد مجھ سے فرمائشیں کرتے ہیں تو کبھی فریسہ زاہد چپکے سے آکر میری آغوش میں بیٹھ جاتی ہے ۔میرا وہ پوتا اور پوتی مجھے حد سے زیادہ یاد آتے ہیں جو مجھے چھوڑ کر اپنی نانی گھر ککڑ کھانے چلے جاتے ہیں‘انہیں وہاں کھانے کو ککڑ ملتا ہے کہ نہیں ۔میں ان کی عدم موجودگی میں بے حد اداس ہوجاتا ہوں ۔میرے لیے وہ عید کا دن ہوتا ہے جب وہ واپس آکر مجھے پیار سے گلے ملتے ہیں ۔

اﷲ تعالی نے 41سالوں میں مجھے زندگی کی ہر خوشی عطا کی ‘ اچھی اور باوفا بیوی ‘ فرماں بردار بیٹے ‘ جان سے بھی پیارے پوتے پوتیاں دیں ‘ بہوئیں بھی ایسی سگھڑ اور احترام اور عزت کرنے والی جیسی امراؤ جان ادا کی خوبیوں والی ہوں ۔ صحت تو بے شک قابل رشک نہیں رہی اور بیماریوں کی یلغار مسلسل بڑھتی جارہی ہے‘ گھٹنوں کا درد اور ہیرنگ پرابلم نے بے حال کررکھاہے لیکن میری اہلیہ اور گھر میں رہنے والے تمام چھوٹے بڑوں کی محبت مجھے زندہ رہنے کا حوصلہ دیتی ہیں ۔41سال گزرنے کے باوجود بھی بیگم کی جدائی برداشت نہیں ہوتی ‘ اگر کہیں شادی بیاہ میں جانا بھی پڑتا ہے تو میرے لیے اتنی آسانیاں پیدا کرکے روانہ ہوتی ہے کہ غیر موجودگی میں بھی اس کی اپنائیت کا احساس رہتا ہے ۔ ہماری بے مثال محبت کا اظہار اس بات سے ملتاہے کہ ہم نے والدین سے علیحدگی کے بعد شاید ہی کبھی جدا ہوئے ہوں ۔زندگی کی ہر مشکل اور ہر خوشی میں قدم سے قدم ملا کر ہم چلتے اور اب رینگتے دکھائی دیتے ہیں ۔اس کی موجودگی اور غیر موجودگی میں ‘میں اکثر یہ گانا گنگتا رہتاہوں جس کے بول درج ذیل ہیں-:
ساتھی رے تیرے بنا بھی کیا جینا
پھولوں میں کلیوں میں ‘دنیا کی گلیوں میں
تیرے بنا کچھ کہیں نا ...............
تیرے بنا بھی کیا جینا ................
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 172 Print Article Print
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 466 Articles with 194758 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: