خیال کی پہچان

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

اس نازک سراپے سے جسمانی لگاؤ کہاں پر ختم اور محبت کہاں سے شروع ہوتی ہے اس سے حامد کا شعور بے خبر تھا اور لاشعور کو اس کا علم ہونے کے باوجود شعور کو اطلاع دینے میں کچھ دشواری محسوس کر رہا تھا ۔ لیکن دونو کیفیات کا باریک سا فرق ایک باریک سی ان دیکھی دیوار سے واضع ہوتا ہے جو کسی باریک بین کے مشاہدے میں آسکتا ہے یا لاشعور کی گہرائی میں جانے والی مشق سے ۔ دونوں احساس اپنی اپنی شکل میں برقرار رہتے ہیں ، جیسے قدرت کے بناے نظام کے تحت ، دودھ دینے والے جانور میں پاک اور مفید چیز اور ناپاک چیز ایک باریک فاصلے سے رواں دواں رہتے ہیں اور دونوں کا جاری رہنا حیات کے سفر میں اہم ہوتا ہے۔

جس طرح یہ معلوم کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا کہ کونسا خیال زہن کی طرف سے آیا ہے اور کونسا دل کی طرف سے جس کی وجہ سے کسی قسم کے استخارہ کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ لاشعور بھی کبھی کبھی اشارے دیتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ جو پہلا خیال آے وہ درست ہوتا ہے یا دل کی طرف سے ہوتا ہے اور دوسرا خیال وسوسہ ہو سکتا ہے ۔ اگر اس پر غور کیا جاے تو آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگتی ہے کہ کونسے دو کاموں کے خیال میں سے درست خیال کونسا ہے۔

سانولی اپنے کام میں مصروف ہے۔ پہلے سامان جمع کیا جاتا ہے ۔ تھوڑے دن میں کچھ چیزیں فالتو ہو جاتی ہیں ۔ جس کو سانولی چھانٹ رہی ہے ۔ اس کی ایک سہیلی ہے جو فالتو سامان ہی ڈھونڈتی ہے جس کو وہ کسی خوبصورت شکل دے کر اپنے فن کو نکھارتی ہے ۔ کچھ لوگ انسانوں کو ہنر سکھا کر ان کی شخصیت کو نکھارتے اور دوسروں کے لیے مفید بناتے ہیں ۔
حامد کے خیالوں سے بل کھاتا دھواں اٹھتا جارہا ہے اور طرح طرح کی شکلیں بناتا اور مٹاتا جا رہا ہے ۔ ان ہی میں سے کسی کارآمد خیال کو پہچان کر مستقل شکل دینا ہی ایک فن ہے اور خوشی براے من ہے ۔ یہی آپ کے اندر کی بیچینیوں کے لیے امن ، آسانی تن اور خرچ کرنے سے بھی نہ ختم ہونے والا دھن ہے ۔

ادھر خیالات کا دھواں اٹھ رہا ہے اُدھر خواہشات کا دھواں اٹھ رہا ہے ۔ محبت ان سب کو ایک سمت دے سکتی ہے۔ بکھرے خیالات سمٹ کر ایک خیال میں ضم ہو جاتے ہیں۔
سانولی اپنے پرانے اور نئے منگیتر کے بارے میں ، بل کھاتی سوچ اور خیالات کے بل کھاتے دھوئیں کی لپیٹ میں اپنے موبائل پر ایک غزل سن رہی ہے۔

دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 161 Print Article Print
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 207 Articles with 49679 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: